×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جی ٹی روڈ تے بریکا ںلگیاں…
Dated: 08-Aug-2017
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں گورنمٹ ہائی سکول میترانوالی میں پڑھتا تھا اور ہمارے میٹرک کے امتحان جاری تھے۔ میرا ایک کلاس فیلو نقل میں اس قدر ماہر تھا کہ وہ بیس میٹر دور کمرۂ امتحان کسی بھی لائق کلاس فیلوکو ہاتھ سے لکھتا دیکھ کر نقل کر لیتا تھا۔ امتحانات کا آخری دن تھاکہ ایک ایگزیمنر نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور کمرۂ امتحان سے باہر نکالتے ہوئے کہا کہ جتنی محنت سے تم نے نقل کی پریکٹس کی ہے اگر اس سے آدھی بھی نصاب پر توجہ دیتے تو آج آپ کو کمرۂ امتحان سے بے دخل نہ کیا جاتا تو شرمندہ ہونے کی بجائے جواباً اس طالب علم نے کہا ’’سر جی باقی گلاں چھڈو میری عقل تے باکمال اے۔‘‘ قارئین! آجکل ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا انتشار ہماری دہلیزوں پر ہے۔ دو بار وزیراعلیٰ اور تین بار وزیراعظم رہنے والے شخص کو ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے پہلی بار اقتدار سے برطرف کیا ہے جبکہ اس سے پہلے بھی دو بار وہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بے دخلی کا مزہ لے چکے ہیں۔ محترم میاں نوازشریف صاحب اور ان کے رفقاء کو یہ زعم ہے کہ وہ ڈیڑھ کروڑ ووٹ لے کر جمہوری طریقے سے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور اب ان کو سیاست سے آئوٹ کرنے کے لیے مخالفت میں دو کروڑ ووٹوں کا ہونا ضروری ہے۔ آج میاں صاحب اور ان کے دانشور ساتھی ایک دفعہ پھر جی ٹی روڈ کو تختہ مشق بنانا چاہتے ہیں۔ شریف برادران اس سے پہلے بھی 2008ء میں ججوں کی بحالی کی تحریک میں جی ٹی روڈ کی سیاست کر چکے ہیں۔موجودہ صورت پہ ایک سیاسی دوست گنگنا رہا تھا کہ جی روڈ تے بریکاں لگیاں بلو تیری ٹور ویکھ کے ستم ظریفی دیکھئے کہ تب وہ سڑکوں پر آئے تھے تو وہ ججوں کو بچانے کے لیے گھر سے نکلے تھے مگر آج وہ خود کو ججوں سے بچانے کے لیے اسلام آباد سے لاہور کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تب وہ ماڈل ٹائون سے نکلے تھے تو اسلام آباد منزل تھی مگر ابھی وہ گوجرانوالہ ہی پہنچے تھے کہ پانسہ پلٹ گیا اور اب وہ اسلام آباد سے ماڈل ٹائون کے لیے نکلیں گے تو گوجرانوالہ پہنچنے تک سیاسی پانسے کے پلٹنے کے منتظر ہوں گے مگر ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر میاں صاحب اپنے گذشتہ دورِ حکومت میں اپنے ووٹرز کا تقدس رکھتے اور خوشامدیوں کا ٹولہ اپنے قریب نہ پھٹکنے دیتے تو آج بھی ملک کے اور دلوں کے وزیراعظم ہوتے مگر چاپلوسوں اور خوشامدیوں کے ٹولے نے ان کو اپنے حصار میں لے لیا اور انہیں باور کروایا جاتا رہا کہ کوئی بھی ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا اور آج بھی ان کے اردگرد مصاحبین کا وہ ٹولہ ہے جو انہیں قومی اداروں سے لڑا کر اپنے مذموم ارادوں کی تکمیل چاہتا ہے۔ قارئین! ایک اطلاع کے مطابق سابق وزیراعظم کی معزولی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے سگنل دیا گیا تھا مگر جب شہباز شریف کے دیرینہ دوست چوہدری نثار مسلم لیگ ن کی اندرونی کشمکش کے سبب اقتدار سے دستبردار ہوئے اور خاندان کے اندر سے ہی وزیراعلیٰ پنجاب کو مشکلات کا سامنا نظر آنے لگا تو انہوں نے بظاہر وزارتِ عظمیٰ میں عدم دلچسپی ظاہر کر دی کیونکہ میاں شہبازشریف جیسا مدبر سیاست دان یہ جانتا ہے کہ وہ تین دفعہ پنجاب کی وزارت عُلیہ پر براجمان رہے اور اپنی اس بنی ہوئی ساکھ کو وہ چند دنوں کی وزارتِ عظمیٰ پر قربان نہیں کر سکتے۔ کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب حدیبیہ پیپر مِل کے نیب ریفرینسزشروع ہونے سے صورتِ حال کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں۔ جھوراجہاز کہہ رہا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں ملکی سیاست میں ایک بھونچال آنے والا ہے اور سکینڈلز کا آتش فشاں کسی لمحے بھی پھٹ سکتا ہے۔ بقول جھورا جہاز: اے داورِ محشر مت پوچھ میرا نامۂ اعمال اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں قارئین! بدھ کے روز جی ٹی روڈ پر جب میاں نوازشریف ایک عظیم الشان ریلی کی قیادت کرتے ہوئے بیسیوں مقامات پر رکتے ہوئے تخت لاہور پر چڑھائی کررہے ہوں گے تو اس سے ان کا مقصود کیا ہوگا؟ کیونکہ مرکز میں ان کا اپنا نامزد کردہ مسلم لیگ ن کا متوالا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہے جبکہ پنجاب میں ان کا اپنا چھوٹا بھائی وزیراعلیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو میاں صاحب کس کے خلاف جلوس نکالیں گے کس کو گالیاں دیں گے یہ سیاسی دنیا کی تاریخ میں پچھلے ہزار سال میں پہلا موقع ہوگا کہ ایک حکمران خانوادہ اپنی ہی حکمرانی کے خلاف ریلیاں اور جلوس نکال رہا ہوگا۔ خدانخواستہ اگر ان ریلیوں کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو گیا تو کیا اس سے مرکز میں اور پنجاب میں صاحب اقتدار طبقہ متاثر نہیں ہوگا؟قارئین! موجودہ وفاقی کابینہ میں چوہدری نثار کا ڈراپ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور جنرل (ر) عبدالقیوم کو شامل نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ نوازشریف صاحب اور ان کے ہمنوا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جنگی موڈ میں ہیں۔ دوسری طرف میاں نوازشریف صاحب کے عاقبت نااندیش ساتھیوں نے شیشے کے گھر میں بیٹھ کر مخالفین پر سنگ باری شروع کر دی ہے اور جواباً سنگ باری سے ان کا اپنا شیش محل چکناچور ہو سکتاہے۔ قارئین!اس سے قبل بھی حسین حقانی جو اس وقت میاں صاحب کے مشیر تھے نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق خاتونِ اول بیگم نصرت بھٹو کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر انتخابی مہم کے دوران جہازوں کے ذریعے گرائیں اور اب بھی عمران خاں سے سیاسی مخاصمت اور لڑائی کو ذاتیات تک لے آئے ہیں۔ پہلے بھی عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان پر نہ صرف سمگلنگ کے مقدمات درج کروائے بلکہ مسلمان ہو جانے کے باوجود بھی ان پر یہودی لابی کی تہمت لگائی گئی جبکہ دھرنے کے دوران ریحام خان کو انجیکٹ کیا گیا اور بعدازاں اس کے ذریعے عمران خان کو سیاسی موت مارنے کی متعدد کاوشیں کی گئیں مگر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کو سبق سکھانے کے لیے پی ٹی آئی کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی عائشہ گلالئی کو اس کے لالچی باپ کے ذریعے خریدا گیا تاکہ یومِ تشکر پر عمران خان کے جلسے اور پروگرام کو سبوتاژ کیا جا سکے۔عائشہ گلالئی کے غیر ضروری اصرار کے باوجود اسے یومِ تشکر کے جلسے میں خطاب کی اجازت نہ ملی وگرنہ یہ ڈرامہ اسی روز سمجھ میں آ جاتا اور ابھی کل ہی مشرف دور کی ایک ایم پی اے سمیل کامران نے بھی یہ الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما راجہ بشارت نے سابقہ ایم پی اے کے ساتھ فراڈ کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور ڈاکٹر یاسمین راشد 2010ء کے پرانے سکینڈل یعنی عائشہ احد کو میڈیا میں لے آئی ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر نکاح اور بیٹی کو قبول نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ قارئین! ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے میرا دماغ مائوف ہو کر رہ گیا ہے کہ جس ملک کی سیاست میں ذاتیات ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگے اس مملکت کی اخلاقی اقدار کیاہوں گی؟ آج اوورسیز میں بسنے والے کروڑوں پاکستانی دنیا بھر میں دوسری اقوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے کہ بائیس کروڑ نفوس کے ساتھ دنیا کا چھٹا بڑا ملک اور دنیا کی ساتویں نیوکلیئر قوت آج اخلاقی گراوٹ کی ان گہرائیوں تک جا پہنچی ہے کہ جہاں وہ ایک قوم کہلانے کے بھی قابل نہیں رہے۔ قارئین ذرا تصور کیجیے کہ ایک طرف مردِ صحافت مجید نظامی(مرحوم) کی شخصیت جنہوں نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ٹرسٹ اورنظریہ پاکستان ٹرسٹ کی نگہبانی کی۔ مجید نظامی(مرحوم) مادرِ ملت فاطمہ جناں کی حرمت کے لیے ڈکٹیٹر ایوب خان کے سامنے سینہ سپر ہو گئے تھے اور دوسری طرف بھارت کو مشرقی پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دینے والے شخص کی بیٹی جو کبھی بھی میاں برادران کی حمایتی نہیں رہیں ،آج میاں صاحبان کے کندھے پر بندوق رکھ کر نظریۂ پاکستان کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ 8اگست2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus