×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وڈی عید اور لازوال قربانیاں
Dated: 02-Sep-2017
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب عید کے تہوار کا چاند دیکھنے کے لیے لوگ شام کو گھر کی چھت پر چڑھ کر چاند نظر آنے کا انتظار کرتے اور پھر قصبہ کی بڑی جامع مسجد میں نوبت کا بجنا عید کی آمد کا اعلان ہوتا تھا۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح ہمارے گھر میں بھی عید سے ایک دن پہلے میرے بڑے بھائی فاروق وڑائچ جو اُن دنوں پاک فوج میں تھے، عید منانے گھر آتے تھے اور جب وہ شام تک نہ آتے تو ہم بہن بھائی ان کی راہ دیکھنے گائوں کے پاس سے گزرنے والی نہر تک جا پہنچتے اور پھر جیسے ہی وہ تانگے پر آتے دکھائی دیتے ہماری چاند رات شروع ہو جاتی اور ہمیں یقین ہو چلتا کہ اب ہمیں عیدی بھی ملے گی ۔ گھر میں قربانی بھی ہو گی اور نئے ملبوسات پہن کر عید کی نماز پڑھنے بھی جائیں گے۔ عید کے دن عیدی کا بھتہ وصول پانے کے بعد عیدی کی رقم کو کہیں خرچ کرنا بھی ضروری ہوتا تھا۔ اب ہم انتظار کرتے قریبی دوستوں اور کلاس فیلوز کا اور ان کے آنے کے بعد بڑے ناز سے بھائی کی طرف سے ملا ہوا تحفہ بڑے اہتمام سے سب کو دکھایا جاتا، نئے جوتے ، نئے کپڑے اور گہرے سرخ اور پیلے رنگ والے چشموں کی نمائش ہوتی ۔ بعد ازاں سب دوست قصبہ کے مین بازار کا رخ کرتے اور آج عید کے دن جگہ جگہ پر خوانچہ فروشوں سے آلوچنے کی چاٹ، دہی بھلے، رنگ برنگے لچھے، سمومے پکوڑے جو کہ اس موقع پر خصوصی طور پر تیار کی گئی آلو بخارے کی چٹنی کے ساتھ دستیاب ہوتے ۔ قصبہ کی مٹھائی کی دکانوں پر عجب میلے کا ساسماں ہوتا تھا۔ عید پر اتنا خوبصورت اہتمام اور تیاری میں نے کہیں نہ دیکھی ، پھر چاچا بشیر ماچھی کی کُرکُری جلیبیاں جو تقریباً لائن میں لگ کر خریدنا پڑتی تھیں۔ مولوی فتح محمد کی مشہور اور لذیذ برفی خریدنے کے بعد ہماری جیب خالی ہو جاتی تھی۔ عید کے دن ہمارے قصبے کے دو سیاسی مخالف گروپ آپس میں ضرور لڑتے تھے۔ اس طرح وہ اپنی سیاسی موجودگی کا احساس دلاتے وہ لڑائی بھی بڑی مزے دار ہوتی تھی۔ قصبہ کے ویگنوں کے اڈے پر دونوں گروپ اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے سے چالیس پچاس گز کی دوری پر آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے پھر دونوں طرف سے اونچی آواز میں گالیوں کا تبادلہ ہوتا اور پھر سنگ باری ہوتی ،چند ہی منٹوں بعد گائوں کے بزرگ آ جاتے اور لڑائی لڑائی معاف کرو کی صدائیں بلند ہوتی اور بقیہ لڑائی اگلی عید تک مؤخر ہو جاتی۔ قارئین! میں ان حالات کو آج کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو دل خوف سے دھل جاتا ہے اب عید کی نماز کے بعد رسماً گلے ملتے ہیں تو جپھی لگاتے ہی مقابل کی کمر کے پیچھے آتشیں ہتھیار چھپا ملتا ہے اور ہر دوسرے شخص کی بغل میں گن یا ریوالور کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ خاص طور پر افغان مہاجرین کی آمد کے بعد کلاشنکوف اور ہیروئن نے ہمارے دیسی سماج کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمارے یہاں دیہی علاقوں میں عید قربان کو ہم لوگ ’’وڈی عید‘‘ کہتے ہیں اور وڈی عید پر گائے، بچھڑے اور بکرے کی قربانی سنتِ ابراہیمی ہے جبکہ کہیں کہیں اونٹ بھی قربان کیے جاتے ہیں۔ قربانی دینے کے لیے مولوی صاحبان اور قصائی کو پہلے سے ہی بُک کر لیا جاتا ہے جبکہ عید الضحیٰ پر کسی قصائی کا بروقت دستیاب ہونا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا او راسی طرح عید پر دو مختلف قسم کے قصائی نظر آتے ہیں۔ پروفیشنل قصائیوں کا ریٹ زیادہ ہوتاہے جبکہ عید کے موقع پر معرضِ وجود میں آنے والے جزوقتی قصائیوں کا ریٹ نسبتاً کم ہوتا ہے مگر ان کا تیا رکیا ہوا گوشت باقاعدہ طریقے سے نہیں بنتا ۔ سنت ابراہیمی کے مطابق گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے مگر آج کل کے دور میں فریج اور فریزر آ جانے کے بعد قربانی کے گوشت کا بڑا حصہ سٹور کر لیا جاتا ہے۔ عید کے روز ہم بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ قریبی سکول کی گرائونڈ میں پینگیں جھولنے کا مزہ بھی لیتے تھے اور سہ پہر کو قصبہ کے پلے گرائونڈز میں ہاکی، والی بال ،کرکٹ اور کبڈی کے میچ پہلے سے شیڈولڈ ہوتے تھے۔ اس طرح شام تک ہماری عیدی بھی ختم ہو جاتی اور عید بھی۔ قارئین! حقیقت تو یہ ہے کہ جب سے بڑے ہوئے ہیں عید کا وہ مزہ جو پہلے آتا تھا اب نہیں آتا کیونکہ پہلے ہمیں عیدی ملا کرتی تھی اور اب ہمیں عیدی دینا پڑتی ہے۔ حصول تعلیم کے لیے بعدازاں جب ہم شہر شفٹ ہوئے اور پھر یورپ میں جانا پڑ گیا تو پھر کبھی بھی ان عیدوں جیسے مزہ نہ آیا جن کو ہم نے بچپن میں دیکھاتھا۔ اب میں کبھی کبھی اپنی آبائی عید گاہ عید کی نماز پڑھنے جاتا ہوں تو باوجود اس کے کہ سب لوگ مجھے پہچانتے ہیں میں خود کو اجنبی محسوس کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ گلے ملنے کا مزہ جو تب آتا تھا اب نہیں آتا، یہ شاید مادیت پرستی کی وجہ ہے کہ خلوص دلوں سے ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ نفسانفسی کا عالم ہے ، دولت کے انبار اکٹھے کرنے کی ایک دوڑ لگ چکی ہے او رپیسہ ہماری معاشرتی اقدار پر حاوی ہو گیا ہے۔ قارئین! ایک دفعہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ان کے نیویارک والے اپارٹمنٹ میں بیٹھاتھا اور اس دوران یہ بحث چھڑ گئی اور آصف علی زرداری محترمہ سے یہ کہنے لگے کہ اگر ہمیں پنجاب میں نوازشریف کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں اس جتنی دولت اکٹھی کرنا ہو گی وگرنہ ہم اقتدار میں نہیں آ سکتے اور یہی وجہ ہے کہ آج ایک محتاط اندازے کے مطابق نوازشریف تیس ارب ڈالرز اور آصف علی زرداری ساٹھ ارب ڈالرز مالیت کے اثاثہ جات کے مالک ہیں اور دونوں نے ایک باہمی رضامندی سے ’’اتفاق‘‘کر لیا ہوا ہے کہ قربانی ہو گی تو اکیس کروڑ عوام ہی قربانیاں دیں گے جبکہ ایک پرسنٹ سی بھی کم اشرافیہ صرف بالائی کھانے کے لیے دستیاب ہو گی۔ قارئین! غریب عوام نے پچھلے ستر سالوں میں لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کی ہیں اور اپنے ایک فیصد آقائوں کو خوش کرنے کے لیے وطن کے اندر دھماکے ،بارود کی فضائیں اور درختوں سے لٹکے ہوئے گوشت کے چیتھڑے پیش کرکے اس اشرافیہ کو اس قدر مضبوط کر دیا ہے کہ آج ہمارے وطن عزیز میں ہماری عدلیہ اسٹیبلشمنٹ، پولیس اور انتظامی و مالیاتی ادارے ان مافیا خاندانوں کے باہمی گٹھ جوڑ سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ خوفزدہ بھی ہیں۔ میاں نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید شیخ صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جس کے بعد جے آئی ٹی کے چھ اراکین کو دھمکیوں اور زندگی کی ضمانت نہ ملنے پر ان کے خاندانوں کو ملک سے باہر نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا اور گذشتہ روز پانامہ کیس کے ایک بہت ہی معزز اور بہادر کن جج محترم آصف سعید کھوسہ صاحب کو بھی ہارٹ اٹیک ہوا ہے جبکہ اس سے پہلے پاک فوج کے ان سروس آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ نوازشریف سے اختلافات کی بنا پر شدید ذہنی دبائو میں تھے اور ان کی بھی ہارٹ اٹیک سے رحلت ہو گئی جبکہ ایک دوسرے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو جبراً فارغ کرکے سسلی کی اس مافیا فیملی نے اپنے عزائم کی تکمیل کی۔خود راقم کو بھی 2011ء میں ان دونوں مافیا خاندانوں سے چپقلش کے بعد برین ہیمبرج کا شدید حملہ ہوا۔ قارئین! پاکستانی فوج ، عدلیہ اور جمہوریت کے متوالوں نے پاکستان کی سالمیت کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ہمارا عزم اورعہد ہے کہ خون کے آخری قطرے تک پاکستان کے تحفظ کے لیے کوئی کسر اورقربانی اٹھا نہ رکھیں گے۔ عیدِ قربان کے اس موقع پر میں ضربِ عضب، ردالفساد اور خیبر فور کے شہداء کے لواحقین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ آج ان کی قربانی کی وجہ سے ہم اپنے وطن میں گائے اور بچھڑے قربان کر رہے ہیں۔ 2ستمبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus