×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
الیکشن، سالمیت، ملی مسلم لیگ کو مبارک باد
Dated: 19-Sep-2017
نااہل قرار پانے کے بعد میاں محمد نوازشریف کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی الیکشن ہو رہا تھا۔ بیگم کلثوم نواز شریف خاندان کی نمائندگی کر رہی تھیں جبکہ تحریکِ انصاف کی طرف سے ان کی آزمائی ہوئی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشدتھیں جبکہ پی پی پی کے فیصل میر، جماعت اسلامی کے ضیاء الدین انصاری اور نوزائیدہ تشکیل پانے والی سیاسی پارٹی ملی مسلم لیگ کے محمد یعقوب شیخ اور پی پی پی ورکرز پارٹی کی ساجدہ میر سمیت تقریباً چوالیس امیدواران میدان میں تھے۔ اس دوران کاغذات نامزدگی جمع کرنے کے فوراً بعد بیگم کلثوم نواز جو کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہیں بغرضِ علاج لندن روانہ ہو گئیں جبکہ ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین پہلے ہی لندن سدھار چکے تھے۔ بیگم صاحبہ کے لندن پہنچتے ہی میاں نوازشریف ان کی عیادت کے لیے لندن چلے گئے جہاں سے انہوں نے حمزہ شہباز شریف کو اس کیمپین کی نمائندگی سے ہٹا کر ملک پرویز اور محترمہ مریم نواز شریف کو اس الیکشن کیمپین کا انچارج بنا دیا۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے میاں نوازشریف کو دوسری بار نااہل قرار دے کر مہر ثبت کر دی۔ بس کچھ عجیب سے حالات میں یہ ساری الیکشن کیمپین ہوئی جس میں مریم نوازکی خواہش پر میاں شہبازشریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو الیکشن مہم سے دور رکھنے کے لیے یہ طے پایا کہ پہلے میاں شہباز شریف لندن بھابھی کی عیادت کے لیے چلے گئے اور ان کے ساتھ حمزہ شہباز نیویارک کی سٹریس پر مٹرگشت کرتے نظر آئے جبکہ الیکشن سے صرف دو دن پہلے میاں شہبازشریف الصبح وطن واپس پہنچے اور اسی روز سلمان شہباز کو ساتھ لے کر ترکی جا پہنچے اور تادمِ تحریر ان کی واپسی کی اطلاع نہیں ملی۔ یقینا اس الیکشن کیمپین میں محترمہ مریم نوازشریف کو صوبائی اور وفاقی محکموں، اداروںاور رولنگ پارٹی کی بھرپور حمایت اور سپورٹ حاصل تھی۔ الیکشن سے تین روز قبل سواتین لاکھ ووٹرز کے اس حلقہ میں آخری اطلاعات آنے تک پانچ ہزار سے پچیس ہزار فی ووٹ ادا کیا گیا۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق پاکستان کے مشہور رئیل اسٹیٹ آئیکون ملک ریاض جو ان دنوں لندن میں میاں نوازشریف صاحب کی الطاف حسین، آصف علی زرداری اور متحدہ عرب امارات سے صلح کروانے کے لیے جتن کر رہے ہیں اور دوسری طرف بحریہ ٹائون کے بانی کی خواہش ہے کہ وہ کسی بھی طرح فوج ،عدلیہ اور شریف برادران کے درمیان ایک ٹرائینگل بنوا کر ایک این آر او کروا دے۔ ملک ریاض اور میاں منشا سمیت درجن بھرا امراء نے این اے 120کے لیے اپنی تجوریوں کے منہ کھول رکھے تھے جبکہ دوسری طرف ڈاکٹر یاسمین راشد صرف اپنے حلقے کے عوام سے ذاتی میل ملاپ اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے سینتالیس ہزار ایک سو ووٹ لے کر رنراپ رہیں جبکہ ایک محتاط سروے کے مطابق مسلم لیگ ن نے اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے ڈیڑھ ارب روپیہ کیش کی صورت میں بانٹا ، پانچ ہزار نوجوان بے روزگاروں کو پچھلے پینتالیس دنوں میں صوبائی اور وفاقی سرکاری ملازمتوں سے نوازا گیا جبکہ حلقہ کے ترقیاتی کاموں پر اس دوران ایک ارب سے زائد کے فنڈز استعمال کیے گئے اور اکسٹھ ہزار سات سو پینتایس ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح محترمہ مریم نواز شریف تقریباً پانچ ہزار روپے فی کس ووٹ دے کر موجودہ نتائج حاصل کر پائیں۔ قارئین! اس الیکشن کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت سینیٹ میں اکثریت بمعہ چیئرمین سینیٹ اور سندھ میں مکمل اقتدار میں ہے۔ اس ضمنی الیکشن میں امیدوار محترم فیصل میر جو کہ مشہور صحافی حامد میر اورعامر میر کے بھائی ہیں۔صرف پچیس سو چودہ ووٹ لے کر پانچویں نمبر پر جبکہ جماعت اسلامی کے لاہور سے دو ایم این ایز لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ منتخب ہوئے تھے۔ اپنی غیر مقبول پالیسیوں کی وجہ سے اور غیر اعلانیہ طور پر مسلم لیگ ن میں ضم ہو جانے کی وجہ سے ان کے امیدوار ضیاء الدین انصاری صرف تیرہ سو ووٹ حاصل کر کے چھٹے نمبر رہے۔جبکہ ایک آزاد امیداور شیخ اظہرحسین رضوی کے ووٹوں کی تعداد پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ تھی ۔ قارئین! ضمنی الیکشن 2017کی سب سے خوبصورت خبر یہ ہے کہ ابھی چند دن پہلے تشکیل پانے والی نئی سیاسی جماعت ملی مسلم لیگ کے امیدوار شیخ محمد یعقوب نے پانچ ہزار آٹھ سو بائیس ووٹ حاصل کرکے نہ صرف نتائج کی دوڑ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ ملی مسلم لیگ مستقبل میں پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی نمائندہ جماعت بن جائے گی۔ دراصل ملی مسلم لیگ کی طرف عوامی جھکائو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے عوام پاکستان کے حکمرانوں کی بھارت سے اور خصوصاً نریندر مودی سے ہاتھ ملانے کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔قارئین! ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے میری یہ پیشین گوئی ہے کہ اگر حافظ محمد سعید اور ان کے رفقاء کشمیر کو واقعی پاکستان کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ اور ان کے ساتھی سیاسی کارواں میں شامل ہو کر اپنے سفر کی منازل اور سمت طے کریں۔ سیف اللہ خالد صاحب اور حافظ سعید احمد صاحب ملی مسلم لیگ بنا کر پاکستان کے سیاسی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں اور ایک جمہوری جدوجہد کے ذریعے منزل تک پہنچنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ اس وقت پاکستان کی آٹھ کروڑ یوتھ کو ملی مسلم لیگ جیسی ویژن رکھنے والی سیاسی جماعت کی اشد ضرورت ہے جو بین الاقوامی محاذ پر کشمیر کاز کا ایشو لے کر آگے بڑھے۔ قارئین! گذشتہ روز چوہدری نثار نے اپنے انٹرویو میں جنرل راحیل شریف کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ کا ذکر کیا ہے جس میں ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے گئے تھے کہ اس وقت پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہو چکے تھے۔ چوہدری صاحب نے جس میٹنگ کے حوالے سے یہ بیان دیا اس کی کہانی مصدقہ اطلاعات کے مطابق کچھ یوں ہے کہ یہ میٹنگ 2015ء کے اوائل میں منعقد ہوئی تھی جس میں آرمی چیف، نوازشریف ،ڈی جی آئی ایس آئی، چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی اور چوہدری نثار شریک ہوئے معاملے کی حساسیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ منہ پھٹ ہونے کی وجہ سے وزیر دفاع خواجہ آصف کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونے دی گئی۔ میٹنگ کے شرکا کے سامنے جنرل راحیل شریف نے کچھ دستاویزات ،ویڈیو کلپس رکھے جن کے مطابق 2015کے وسط یا آخری دنوں میں ایران، انڈیا اور افغانستان کی فوجیں مل کر پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ بنا رہی تھیں اور ان اسٹرائیکس کے شروع ہوتے ہی پاک فوج کی پوری توجہ ادھر مبذول ہو جاتی اور ملک کے اندر دہشت گردوں کی مدد سے سانحہ پشاور کی طرز پر واقعات شروع کروا دیئے جاتے اور پھر جنرل اسمبلی کے ذریعے ایک قرارداد منظور کروا کے پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور نیوکلیئر اثاثوں کی حفاظت کے نام پر عالمی محافظوں کا کہوٹہ پر قبضہ کروا دیا جاتا۔ اس دستے کی سر براہی امریکہ یا برطانیہ کی بجائے کسی مسلمان ملک کے جنرل کے ہاتھ میں دی جانی تھی اور یہ ملک مصر یا اردن ہو سکتا تھا اور اس طرح انٹرنیشنل دستے کی ڈپلائمنٹ ہمارے حساس مقامات پر ہونا تھی اور معاہدے کی عملداری کرتے ہوئے ہمیں اپنی تمام تنصیبات کے نقشے ان کے حوالے کرنا پڑنے تھے۔ قارئین! ایران ،انڈیا اور افغانستان کی تکون پاکستان کو ایک لمحے کے لیے بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف اور سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد شہزادہ سلیمان نے اس گٹھ جوڑ کے خلاف عالمی اسلامی پلاک بنا کر دشمن کے منصوبوں کو شرمندئہ تعبیر نہ ہونے دیا اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے پر یہ قوتیں ایک بار پھر تلملائیں اور پروفیسر سینیٹر ساجد میر کے ذریعے جنرل باجوہ پر تہمت لگائی گئی کہ وہ قادیانی ہیں۔ مقصد اس بات کا صرف یہ تھا کہ پاک فوج اور آرمی چیف کو عوام کی نظروں میں نیچا دکھایا جا سکے۔پاکستان پائندہ باد! 19ستمبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus