×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مقتل گاہ عشق۔ بلوچستان
Dated: 21-Nov-2017
نوے کی دہائی میں میری امریکہ میں اکبر بگٹی کے ساتھ طویل ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں،ان دنوں مجھے بلوچ لیڈر کو قریب سے دیکھنے اور جانچنے کا موقع ملا۔نواب اکبر بگٹی مرحوم نے اُن دنوں خود پر اردو بولنے کی پابندگی لگا رکھی تھی لیکن میرا ان کے ساتھ بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی جیسا تعلق تھا یہی وجہ ہے کہ جب وہ جاں بحق تو میں اورسینیٹر ڈاکٹر جہانگیر بدر مرحوم ان کے بیٹوں سے تعزیت کے لیے کوئٹہ اُن کے گھر گئے۔ ان کے علاوہ بھی میری بلوچستان کے کئی بلوچ لیڈروں سے دوستی ہے۔ میں بہت سے ایسے لیڈروں کو بھی جانتا ہوں جو بلوچستان کے حقوق کی بات کرتے ہیں، محرومیوں کا گلہ کرتے ہیں۔بلوچستان کے ہی سردار فتح محمد حسنی ،صادق عمرانی اور نواب لشکری رائیسانی نہ صرف میرے اچھے دوست ہیں بلکہ ان کا شمار دردِ دل پاکستانیوں میں ہوتا ہے۔ پسماندگی میں کوئی علاقہ بہت پست اور کوئی کم پست ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کوئی ترقی یافتہ ملک نہیں ہے۔ ابھی پسماندگی اور ترقی پذیری کے دوراہے پر ہے۔ پنجاب جس کو یکساں طور پر دوسرے صوبوں سے گالی پڑتی ہے، اس کے اکثر علاقے کسی بھی صوبے کے پسماندہ علاقوں کی طرح پسماندہ ہیں۔ اگر کہیں خوشحالی ہے تو وہ بھی ملک کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان کو قومی اسمبلی کے 272حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے کوئی ایک حلقہ بتا دیں جہاں سے تعلق رکھنے والے ایم این اے، ایم پی اے اور میئر وغیرہ کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور گھر نہ ہوں۔ محرومیوں اور ماتم کی طرح شہنائیاں اور تبسم بھی پورے ملک میں ہے البتہ یہ کہیں کم اور کہیں زیادہ ہے۔محرومیوں اور پسماندگی کا گلہ اگر بنتا ہے تو ان لوگوں سے بنتا ہے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ کسی علاقے کی درماندگی کا ذمہ دار کوئی دوسرا علاقہ نہیں ہے۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کی بات کی جاتی ہے اس علاقے سے کتنے صدر رہے۔ وزیراعظم، وزراعلیٰ اور گورنر رہے۔ ان لوگوں نے علاقے کو غربت و افلاس سے نکالنے کے بجائے خود کوان علاقوں سے نکال کر بڑے شہروں میں ایڈجسٹ کرکے اپنا مسکن بنا لیا۔اور آج بھی لاہور کے پوش علاقوں میں ستر فیصد مکین افراد کا تعلق جنوبی پنجاب کے لغاریوں،مزاریوں ،دولتانوں، مخدوموں،دریشکوں،ہراج خاندانوں سے ہے۔ تاہم ووٹ حاصل کرنے کے لیے برائے نام رہائش ان علاقوں میں ضرور رکھی ہوئی ہے۔ بلوچستان اور سندھ کے وڈیروں اور نوابوں کی بھی یہی روش ہے۔ اپنے علاقوں کی پسماندگی و محرومیوں اور حقوق کی بات کروڑوں کی گاڑی سے اتر کرکی جاتی ہے۔مفلسوں کے ان نمائندوں کے شہر شہر محلات ایسے کہ تاج محل کو بھی مات دے دیں۔ بلوچستان کے علیحدہ پسند کوئی لندن میں بیٹھا ہے، کوئی سوئٹزرلینڈ اور کوئی بھارت میں۔ ان کے اخراجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں؟ پاکستان میں ان کی جائیدادیں ہیں۔یہ قدرتی وسائل کی رائلٹی لیتے ہیںاور بغاوت بھی کرتے ہیں۔اور آج بھی سوئی گیس جو سوئی کے مقام پر نکلی اس کی رائلٹی سالانہ کروڑوں کے حساب سے اکبر بگٹی فیملی کو ادا کی جاتی ہے۔ بلوچوں کے حقوق کے نام پر عام شہریوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ وڈیروں نے صوبے میں تعلیم کو عام آدمی کے لیے شجرِ ممنوعہ بنا دیا ہوا ہے۔ مبادا پڑھ لکھ کر باشعور ہو کر اپنی محرومیوں کے ذمہ داروں کا گریبان پکڑ لیں۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ وسائل کے مطابق اسے امیر ترین اور خوشحال ترین ہونا چاہیے مگر بدعنوانی اور کرپشن انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ جن کا بس چلتا ہے وہ پانی والی ٹینکیوں کو نوٹوں سے بھر لیتے ہیں مگر چرب زبانی سے محرومیوں کا الزام پنجاب پر لگا دیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال کوئٹہ میں ایک سیکرٹری لیول کے بیوروکریٹ مشتاق رائیسانی اور ان کے ساتھیوں کے گھروں سے اربوں روپے کی نقدی اور غیر ملکی کرنسی، سونے اور جواہرات کے ڈھیر برآمد ہوئے جبکہ چند مہینے پہلے اسلام آباد میں نواب اسلم رائیسانی کے گھر سے بھی دولت کا ایک ذخیرہ برآمد ہوا۔ پنجاب کے خلاف بات کرنافیشن بن گیا ہے۔ پنجاب ایک حقیقت اور ملک کی سب سے بڑی اکائی ہے۔ کسی بھی اکائی کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہے۔ پنجاب بڑا بھائی ہے اور بڑے بھائی کا کردار بھی ادا کرتارہا ہے جس کی زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں مگر اس کے خلاف کہیں سے نفرت کی آواز اٹھے تو افسوسناک ہے۔ بلوچستان میں صرف علیحدگی پسند ہی پنجاب کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کرتے دوسرے بھی کئی دوست کے بھیس میں بھیڑیئے ہیں۔ جو یکساں طور پر سندھ اور کے پی کے میں بھی پائے جاتے ہیں مگر بلوچستان سے پنجاب میں اکثر اور کبھی کبھی سندھ میں لاشیں بھجوائی جاتی ہیں۔مارے جانے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو صوبے کی ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں اور انہیں کما کے کھلاتے ہیں۔ آپ تعلیم حاصل کریں پروفیشنل بنیں تو دوسرے صوبوں کے لوگوں کے لیے وہاں گنجائش ہی نہ چھوڑیں تو کوئی وہاں کیوں جائے گا۔اگر بلوچستان اپنے نائی، حجام،مستری، ترکھان، موچی اور دیگر چھوٹے موٹے کام بھی خود نہ کر سکیں اور پنجاب سے مزدور طبقہ وہاں جا کر ان کی خدمت کرے اور پھر اسی مزدور طبقے کو دہشت گردی بھینٹ چڑھا کر وہاں سے لاشیں بھجوائی جائیں تو ہم اُف بھی نہ کریں؟ اب تو ایسی گِری ہوئی ذہنیت سامنے آئی کہ مسافروں کو بھی تہہ تیغ کیا جانے لگا ہے۔ تربت میں چار روز میں 20نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ کہاں مہمانوں کے تحفظ کی روایت مسافروں کے سفر میں آسانی پیدا کرنے کا کلچر، کہاں ان غریب الوطنوں کو بے دردی سے قتل کر دینا۔ حالات اس نہج پر لائے جا رہے ہیں کہ جو اب اسی طرح دیا جائے۔ پنجاب کا کسان ہل چلا سکتا ہے تو بندوق بھی اٹھا سکتا ہے۔ بلوچستان مقتل گاہ بنے گا تو پنجابی کو بندوق اٹھانی پڑے گی مگر کس کے خلاف؟ بلوچوں کے خلاف ہرگز نہیں، ان لوگوں اور اس ذہنیت کے خلاف جو بلوچوں کی بدنامی کا بھی باعث ہیں جو ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کو شرم آنی چاہیے یہ پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں جس نے بلوچستان کا استحصال نہیں کیا اس کی جغرافیائی سرحدوں میں توسیع کی ہے۔ گوادر بلوچستان کا حصہ نہیں تھا یہ صدر ایوب خان نے مسقط سے خرید کر بلوچستان میں شامل کرایا تھا۔ 20نوجوانوں کے قتل پر سیاستدانوں کی طرف سے بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ میاں نوازشریف خاموش ہیں، جس پارٹی کا پورا خاندان اقتدار میں ہے اس کی طرف سے بھی افسوس کے چند کلمات ادا نہیں کیے گئے۔ کچھ شیطان صفت لوگ بلوچستان سے پنجابیوں کی لاشیں اٹھنے پر خوش ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ جہاں سے غریب بلوچوں کو نکالنے کی کوشش ہو رہی ہے تو آج پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والوں کے قتل پر شیطان کی طرح قہقہے لگانے والوں کو بھی کل دربدری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان کے گریٹرافغانستان کے خواب اور ارمان بھی خون میں ڈوب سکتے ہیں۔ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنائیں مقتل گاہ نہ بنائیں۔قارئین کو بخوبی یاد ہوگا کہ جنوبی پنجاب کے بیشتر اضلاع بلوچ نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور پنجاب نے اُن کو اپنے اندر ضم کر لیا ہوا ہے اور یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ پنجاب کشادہ دل ہے ملک کے ہر کونے سے آنے والوں کو عزت اور تکریم دیتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ اُس کو بھی اس کی محبتوں کا جواب محبتوں سے دیا جائے۔ 21نومبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus