×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکمرانوں کی نیت میں فتور تو نہیں؟
Dated: 08-May-2010
بادشاہ سلامت اپنے لائولشکر کے ساتھ گزر رہے تھے راستے میں ایک جگہ اناروں کا باغ نظر آیا۔بادشاہ سلامت نے دیکھا تو ٹھہر گئے باغ کے مالک نے بادشاہ سلامت کے سامنے تازہ انار اتار کر بادشاہ سلامت کے لیے جوس نکالا بادشاہ سلامت نے اتنے تازہ سرخ انار کا جوس پہلے نہ پیا تھا اور صرف ایک نار سے گلاس بھر گیا تھا وہاں سے چلنے کے بعد بادشاہ سلامت کے ذہن میں آیا کہ اتنا رس بھرا جوس دینے والے باغ کیوں نہ واپسی پر قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ بادشاہ سلامت جنگی مہم سے واپسی پر اُسی باغ کے قریب سے گزر رہے تھے کہ بادشاہ سلامت نے ایک دفعہ پھر انار کے جوس کے پینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ باغبان سے بادشاہ کے سامنے ایک انکار کے بعد دوسرا پھر تیسرا اور چوتھا انار اتار کر نچوڑا اور گلاس بھر کر بادشاہ سلامت کو پیش کیا بادشاہ سلامت نے باغبان سے پوچھامیں پچھلی دفعہ یہاں سے گزر کر جا رہا تھا تو صر ف ایک انار سے تم نے گلاس بھر کر جوس بنا دیا تھا جبکہ آج چار پانچ اناروں سے بمشکل گلاس بھرا جا سکا۔ باغبان نے عرض کیا بادشاہ سلامت وجہ اس کی یہ ہے تب جب ایک انار سے گلاس بھرا تو دونوں طرف خلوص تھا مگر آج بادشاہ سلامت کی نیت میں فتور اور لالچ شامل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے میرے باغ کے پھل کی کوالٹی متاثر ہوئی۔ میں آج ڈسکہ اور نواح میں اپنے آبائی قصبہ گیا ہوا تھا میری اپنے علاقے کے کسانوں اور مزارعوں سے گفتگو ہو رہی تھی۔ سبھی بہت پریشان تھے اس دفعہ گندم کا جھاڑ بہت کم پڑا ہے اور ایک ایکڑ جہاں پچھلے برس 42سے 50من گندم کا جھاڑ تھا اس دفعہ 20سے 22 من صرف گندم اٹھائی جا سکی ہے ایک تو اس دفعہ مارچ کے مہینے میں جب بارشیں نہیں ہوئی اور مارچ کے مہینے میں جب گندم کے خوشے گرمی کی آگ میں جل رہے تھے اور گندم کے دانے کے اندر دانے کا دودھ سوکھ گیا یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ گندم کے دانے پہلے کی طرح صحت مند نہ تھے۔ شاید یہ قدرت کا ہم سے ہمارے اعمالوں پہ انتقام ہے یا پھر اس پنجاب کے اس دیس کے حکمرانوں کی نیتوں میں کوئی فتور آ گیا ہے کہ پچھلے سال گندم کی اس قدر فراوانی تھی کہ اب تک پچھلے سال کی خریدی گئی گندم کو سنبھالا نہیں جا سکا اور لاکھوں ٹن گندم کھلے آسمان تلے ترپالیں اوڑھ کر رکھی گئی ہے اور ملک بھر میں سرکاری وغیرسرکاری اناج ذخیرہ کرنے والے گودام لبالب بھرے پڑے ہیں جب کہ ہمارے حکمران 2روپے کی روٹی کی مد میں اربوں روپے صرف سبٹڈی کی مد میں ضائع کر چکے ہیں جبکہ اس سال گندم پچھلے سال کے مقابلہ میں آدھی سے کم پیدا ہوئی ہے۔ ہمارے کسان جسے 900 روپے من گندم خریدنے کی نوید دی گئی تھی وہ پریشان ہے کیونکہ سرکاری خریداری مرکزوں پر ٹرکوں ٹرالیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی ہیں اور کسان اپنے گندم خریدارز کے ہاتھوں 600 روپے سے 700 روپے من فروخت کرنے پر مجبور ہیں ان حالات میں جبکہ عالمی کسادبازاری اور خطے کے حالات کی بنا پر کسان آئندہ گندم اور مونجی اگانا بند کر دیں گے اور یہ وطن عزیز جس کے وزیرخارجہ پہلے ہی جس کے دریائوں کا پانی بھارت کو بیچ چکے ہیں اور ایوب ثانی کا خطاب حاصل کر چکے ہیں ان خشک دریائوں کی موجودگی میں حکومت کیا توقع رکھتی ہے؟ کیا مستقبل کا پاکستان ہرا بھرا پنجاب کے بجائے صومالیہ اور سوڈان کا نقشہ پیش کر رہا ہوگا۔ دوسری طرف حکومت نے ملک کے تاجر اور ٹریڈر کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جس کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے جہاں ملک کی 60 فیصد صنعتیں اور کارخانے بند پڑے ہیں۔ باقی ماندہ لوگ سسک سسک کر اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش میں مبتلا ہیں۔ خصوصاً تجارت پیشہ طبقہ، مارکٹیں8بجے بند کرنے پر ناراض اور مشتعل نظر آتا ہے۔ حکومت نے 8بجے کاروبار بند کراکے کونسا تیر مار لیا ہے لوڈشیڈنگ پہلے سے بھی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ کیا حکمران چند وزیروں مشیروں اور مصاحب کو خوش دیکھ کر یہ تو محسوس نہیں کر رہے کہ اس مک میں سب اچھا ہے، دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا بھر میں سبسٹڈی اور آئی ایم ایف کے قرضوں پر چلنے والے ممالک کی کمر کبھی سیدھی نہیں ہوتی۔ ملک میں پچھلے 26ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں 13دفعہ اضافہ کیا گیا جبکہ صرف 4دفعہ بمعہ سپریم کورٹ کے سوموٹو ایکشن کی بنا پر 4روپے سے بھی کم کی کمی کی گئی ایک بار تو یہ مذاق بھی ہوا کہ فی لیٹر 60پیسے کمی کی گئی۔ کیا میرے وطن کے خوش فہم حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ مہنگائی کی اس آگ پر مزید تیل چھڑکنے سے یہ آگ بجھ جائے گی۔ میرا رب کائنات کی ذات پر مکمل یقین اوراعتماد ہے اس بنا پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ معجزہ ہی ہے جس کی وجہ سے سات ہزار روپے مزدوری لینے والے افراد کے گھر کا چولہا ابھی تک جل رہا ہے۔ مجھے راجہ پرویز اشرف،خورشیدہ شاہ، قمرالزمان کائرہ، سلمان تاثیر، مخدوم امین فہیم، رحمن ملک اور بابر اعوان سات ہزار روپے میں ایک دن گزار کر دکھا دیں تو میں ان سب کو اپنا مخدوم ماننے کو تیار ہوں۔ یا پھر مذکورہ حضرات اپنے کسی ذاتی ملازم کے ہاں ایک ماہ تجربے کے طور پر گزار کر دکھا دیں اور ان 30دنوں کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچیں اس کے مطابق پاکستان کا اگلے سال کا بجٹ تشکیل دیں اور اس میں اپنے تجربے کی روشنی میں تعین کر دیں کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ یا پھر نچوڑے ہوئے انار کی طرح اس ملک کے غریبوں کے جسموں سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ کر اپنے محلات کے قمقمے روشن کر یں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو یہ اقتدار خیرات میں نہیں بلکہ سینکڑوں کارکنوں کی پھانسیوں، کوڑوں، قیدوبند کی صعوبتوں اور ہماری عظیم قائد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خون کے صدقے ملا ہے۔ اگر ہمارے حکمرانوں کی قوم سے اسی طرح دوری رہی اور ہم عوام کے مسائل کو حل نہ کر پائے تو صدر مملکت کے وہ ساتھی جو اس وقت اقتدار کی بھول بھلیوں میں مست ہیں ان کی للچائی نظریں اپنے آئندہ اقتدار کے لیے ایک نئی قربانی کے لیے آصف علی زرداری کی طرف اٹھیں گی۔ میری رائے میں حکمران طبقہ اگر اپنی نشستیں درست کر لے تو انار کی طرح نہ صرف گندم کے دانوں میں برکت لوٹ آئے گی بلکہ اس ملک کا غریب مزور کسان خوشحال ہو گا اور سکھ کا سانس لے سکے گا۔ وگرنہ باغ نہ رہا تو باغبان کی کیا ضرورت۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کے نام اپنے آخری خط میں لکھا تھا ’’خدا کی جنت ماں کے قدموں تلے اور سیاست کی جنت عوام کے قدموں تلے ہے۔‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus