×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جل پری کی سالگرہ
Dated: 21-Jun-2010
1988ء میں ساڑھے 11سالہ دورِ آمریت کے بعد پیپلز پارٹی کو جزوی اقتدار منتقل ہوا تو یہ وہ دور تھا جب روس سے وسطیٰ ایشیائی ریاستوں کو تازہ تازہ آزادی ملی تھی۔ یہ ریاستیں ترقی کے ارتقائی مراحل میں تھیں۔ اسی دوران کرغزستان کی طرف سے وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو دورے کی دعوت ملی۔ محترمہ اپنے جیالے وزراء اور ساتھیوں کو لے کر دورے پر گئیں۔ بشکیک یونیورسٹی کی طرف سے محترمہ کو اعزازی ڈگری دی جانے کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو کرغزستان کا روایتی لباس پہنایا گیا۔ وہ سٹیج پر آئیں تو انہیں دیکھ کر یونیورسٹی کے چانسلر نے بے اختیار کہا ’’یہ تو جھیل اسق قول کی جل پری ہے‘‘ یاد رہے اسق قول جھیل کرغزستان میں بشکیک کے قریب دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ایک ہے۔ جس میں پریوں کے بسیرے کی داستانیں عام ہیں۔ محترمہ کے ساتھ جانے والے لوگوں کا بھی کہنا ہے کہ کرغزستان کے روایتی لباس میں محترمہ کوئی آسمانی مخلوق لگ رہی تھیں۔ 2001ء میں نیویارک میں میرے گھر جب محترمہ شہید بے نظیر بھٹو تشریف لائیں تو میری 8سالہ بیٹی ماہ نور اور میرے ایک دوست کی بیٹی سعدیہ نے محترمہ کو گلدستے پیش کیے۔ چونکہ ہمارے گھروں میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور خود محترمہ کے بارے میں کثرت سے باتیں ہوتی تھیں۔ بچوں کو تجسس تھا کہ وہ کون سی ہستی ہے جن کا ذکر ماما اور پاپا اکثر کرتے ہیں یقینا اسی بنا پر میری بیٹی اور اس کی سہیلی نے جیسے ہی محترمہ تشریف فرما ہوئیں ان سے پہلا سوال کیا کہ کیا آپ ’’سُپر گرل‘‘ ہو۔ بی بی نے ایک لمحے کے لیے ماہ نور کو دیکھا اور اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ہاں میں سُپرگرل ہوں۔ بچیوں نے دوسرا سوال کیا اگر آپ سُپرگرل ہیں تو پھر آپ اڑنا بھی جانتی ہوں گی۔ محترمہ کا جواب تھا۔ ہاں۔ اس پر بچیوں کا تیسرا سوال تھا کہ آپ کے تو’’ پَر‘‘ نہیں ہیں پھر آپ کیسے اڑتی ہیں؟ اس کا محترمہ نے کمال جواب دیا کہ میں آنکھیں بند کرکے اپنے خیالات میں اُڑتی ہوں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بیک وقت عظیم لیڈر،بہترین سیاستدان، فرمانبردار بیٹی، وفاشعار بیوی اور مشفق ماں تھیں۔ایک مرتبہ نیویارک سے واشنگٹن کے بائی روڈ سفر کے دوران انہوں نے گاڑی میں کیک رکھوایا راستے میں بتایا کہ آج سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی سالگرہ ہے چنانچہ دورانِ سفر کیک کاٹا گیا۔ مصروفیت کے باعث محترمہ کو ذاتی معاملات تک کی نگرانی کا وقت کم کم ملتا تھا لیکن وہ اپنے بچوں کی سالگرہ منانا نہیں بھولتی تھیں ایک اور دفعہ ہم سفر کے دوران تھے اور ہم نے محترمہ کو تھوڑا افسردہ پایا توپوچھنے پر محترمہ نے بتایا کہ آج آصفہ کی سالگرہ ہے مجھے اس کے پاس ہونا چاہیے تھا تو محترمہ نے راستے میں آنے والی ایک بیکری سے کیک خریدا اور ہم نے اس چھوٹے سے کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر آصفہ کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔ آج ہم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہیں ہم سے بچھڑے ہوئے اڑھائی سال بیت گئے۔ کاروبار زندگی پھر سے معمول کے مطابق چل رہا ہے۔ پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری نے محترمہ کی سالگرہ کا کارکنوں کو جو تحفہ دیا ہے وہ فلم ’’بھٹو‘‘ ہے۔ جو بالی وڈ کے تجربہ کار پروڈیوسرز نے تیار کی ہے۔ جس کا پریمیئر شو لاہور کے ایک سینما گھر میں انعقاد پذیر ہوا۔ اس پریمیئرشو کا افتتاح وزیراطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ نے کیا۔ شرکاء اورنگ زیب برکی، حفیظ الرحمن ملک، ڈاکٹر فخرالدین، چودھری اصغر گجر، افنان بٹ، نوید چودھری، راشد خواجہ، سمیع اللہ خان، ملک عثمان،سہیل افضل، عزیز الرحمن چن اور دیگر جیالے پریمیئر شو کے دوران جئے بھٹو کے نعرے لگاتے ہوئے آنسو بھی بہا رہے تھے۔ میں نے 75 سالہ بوڑھے محترمہ کے ساتھی ملک حفیظ کو زاروقطار روتے دیکھا ہر وقت حالت مزاح میں رکھنے والے اورنگ زیب برکی کی آنکھوں میں آنسوئوں کی لڑیاں دیکھیں۔ہال میں کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو پرنم نہیں تھی۔ ہال میں فائزہ ملک،عظمیٰ بخاری اور دیگر پارٹی کی اور عام خواتین بھی موجود تھیں ان کی آنکھوں سے آنسوئوں کی مسلسل جھڑی لگی رہی۔ یہ فلم واقعی پاکستانیوں خصوصاًنوجوانوں کے لیے ایک تحفہ ہے جس سے پاکستان کی تاریخ کی عکاسی ہوتی ہے۔ آمریت کے دور میں تو بھٹو کی چھوٹی سی تصویر شائع کرنے پر بھی پابندی تھی آج فلم کی صورت میں ایک پوری تاریخ موجود ہے۔جب کہانی یو این اومیں بھٹو کی طرف سے نوٹس پھاڑنے پر پہنچی تو ناظرین نے نعرے لگا کر اور تالیاں بجا کر ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ گذشتہ دنوں حکومت پاکستان کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کے تشکیل دیئے گئے کمیشن نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات پر ایک جامع رپورٹ کئی ماہ کی تحقیقات کے بعد پیش کی۔ رپورٹ پیش کرنے سے قبل پارٹی کے تمام اہم رہنمائوں کے علاوہ عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے۔ عالمی ادارے کی اس تحقیقات پر مٹھی بھر عناصر نے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا کہ تحقیقات پر سرکاری خزانے سے کیا گیا خرچ ایک بوجھ ہے۔ میرا ایسے لوگوں سے سوال ہے کہ جب آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خلاف سول و ملٹری ادوار میں بنائے گئے تقریباً ڈیڑھ درجن بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات پر اربوں روپے اڑا دیئے گئے جس کا نتیجہ صفر سے بھی نیچے مائنس رہا تو پھر اس ملک کے صدر اور وزیراعظم کی بیٹی، ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی قائد اور اسلامی دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم جو دو مرتبہ اس منصب پر فائز ہوئیں جس نے اپنی 51سالہ زندگی میں سے کم از کم 36سال جس میں 15سالہ جلاوطنی بھی شامل ہے وطن کو دے دیئے تھے اور ملک کی دوسری بڑی جماعت سے مل کر میثاقِ جمہوریت کے معاہدے کو یقینی بنایا جو 73ء کے آئین کے بعد سب سے اہم دستاویز ہے۔ ایسی عظیم لیڈر کے بہیمانہ قتل جو دراصل قوم کے مستقبل کو قتل کرنے کی سازش تھی۔ اس قتل کے محرکات جاننے اور قاتلوں کی نشاندہی کے لیے کوئی رقم خرچ کی جاتی ہے تو اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دینا احمقانہ سوچ ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو پر ڈیڑھ درجن مقدمقات تھے۔ یہ مقدمات ان کی مخالف حکومت نے درج کرائے۔ تحقیقات اور مقدمات کی سماعت بھی مخالفانہ دور میں ہوتی رہی۔ مشرف تو محترمہ اور نوازشریف کو سیاست سے بھی آئوٹ کرنا چاہتے تھے۔ ان سب نامساعد حالات کے باوجود بھی محترمہ کو کسی ایک کیس میں بھی سزا نہ دلوائی جا سکی۔ جبکہ دو روز قبل میری ملاقات ایسے شخص سے ہوئی جو شہید محترمہ کے دونوں ادوار میں وزیراعظم ہائوس کا باورچی تھا۔ یہ دوسرے وزرائے اعظم کا بھی باورچی رہا اس نے بتایا کہ جتنے میری آنکھوں کے سامنے جتنے وزرائے اعظم آئے سوائے محترمہ کے ادوار کے ہر دور میں کچن کا بے دریغانہ استعمال ہوا۔ محترمہ کے ادوار میں مہمانوں کی تواضع پکوڑوں اور چائے سے کی جاتی تھی۔ اس نے بتایا کہ محترمہ کی سرکاری خزانے کی بچت کا احوال یہ تھا کہ ایک مرتبہ غیرملکی مہمانوں کے لیے سلاد تیار کیا گیا تو فرنچ ڈریسنگ کی ایک بوتل بازار سے منگوائی گئی ایک ہفتہ بعد ایک اور وفد وزیراعظم ہائوس آیا اسے بھی فرنچ ڈریسنگ سلاد پیش کیا جانا تھا۔ محترمہ کے سامنے سامان کی لسٹ پیش کی گئی تو اس میں فرنچ ڈریسنگ سلاد کی خریداری بھی موجود تھی اس پر محترمہ نے کہا پچھلے ہفتے جو بوتل منگوائی گئی تھی وہ کہاں ہے؟ایک دفعہ جب ہم کافی دنوں تک مسلسل سفرمیں رہے اور اور محترمہ نے محسوس کیا تو انہوں نے کہا آج میں آپ کو ٹریٹ دوں گی، پھر ایک آئس کریم پارلرکے سامنے گاڑی رکوائی محترمہ خود اتریں اور تین ’’مِنٹ‘‘ آئس کریم خرید لائیں۔ جن لوگوں نے اربوں کی لوٹ مار کی ہو وہ محتاط انداز میں خرچ نہیں کرتے۔ میں گذشتہ سال محترمہ کی برسی پر گڑھی خدابخش گیا وہاں محترمہ کے ذاتی مزارع سے ملاقات ہوئی وہ مجھے اپنے گائوں لے گیا۔ اس نے ایک ناقابل یقین واقعہ سنایا۔اس نے کہا۔ محترمہ نے ایک بار مجھے کہا تمہیں کوئی نوکری دلا دیں ؟ میں نے کہا نہیں آپ صرف میرے سرکے اوپر ہاتھ پھیر دیں۔ محترمہ نے تجسس سے پوچھا اس سے کیا ہوگا؟ میں نے کہا آپ علم کا خزانہ ہیں آپ کا میرے سر پر ہاتھ پھیرنے سے میں بھی ذہین ہو جائوں گا۔ محترمہ نے سر پر ہاتھ پھیر دیا اور واقعی علم کا ایک خزانہ میرے اندر بھی منتقل ہو گیا۔ اس کے بعد سے لوگ مجھے مسٹر کمپیوٹر کہتے ہیں۔ میں نے اسے ٹیسٹ کرنے کے لیے اس سے پاکستان اور پاکستان کی سیاست کے بارے میں سوالات کیے جس کے اس نے فر فر جواب دیئے اور میں حیران ہوا کہ ایک عام سا نوجوان جو دیکھنے میں بالکل دیہاتی سا لگ رہا تھا محترمہ کے دست شفقت رکھنے سے اس وقت کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز اور ذہین ہو چکا تھا۔ محترمہ واقعی علم کا سمندر تھیں جس سے دوسرے ممالک کی بڑی یونیورسٹیوں کے طلبہ ان کے لیکچرز کے ذریعے مستفید ہوتے رہے۔ لیکن بدقسمتی سے اب جبکہ وہ میچور اور مکمل سیاستدان بن چکی تھیں ظالموں نے ان کو شہید کر دیا۔ آیئے آج ان کی سالگرہ اس عہد کے ساتھ منائیں کہ ان کے مشن کی تکمیل کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اللہ ان کو کروٹ کروٹ اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمائے۔ ہیپی برتھ ٹو یو۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو جل پری۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus