×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان کی سیاسی قیادت اور معاہدوں کا احترام
Dated: 18-Jul-2010
ستمبر1939ء کو لندن ایئرپورٹ پر ایک ہجوم موجود تھا۔ برطانوی وزیراعظم ’’نیول چیمبرلین‘‘ میونخ میں ایڈولف ہٹلر سے ایک معاہدہ کرکے وطن لوٹ رہے تھے۔ وزیراعظم چیمبرلین نے استقبالیہ ہجوم کے سامنے معاہدے کا کاغذ لہراتے ہوئے اعلان کیا ’’ہم آج دنیا کے لیے امن کی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔‘‘ ہجوم فرطِ جذبات سے بے قابو ہونے لگا۔ یہ یورپ میں سخت اضطراب کا زمانہ تھا۔ اٹلی میں فسطائی آمر مسولینی اور جرمنی میں ہٹلر کی نازی پارٹی اقتدار میں تھی۔ سپین میں خانہ جنگی جاری تھی۔ اس وقت یورپ کے آمر اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے مزید خطوں اور زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کی نظر میں کسی قوم کی عظمت کا راز زیادہ سے زیادہ جغرافیائی رقبے پر قبضہ کرنے میں پوشیدہ تھا۔ ہٹلر آسٹریا پر قبضہ کرنے کے بعد چیکوسلواکیہ پر قبضہ کرنے کے موڈ میں تھا۔ چیمبرلین نے مذاکرات میں ہٹلر کو چیکوسلواکیہ پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ چیمبرلین سمجھتے تھے کہ پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر ورسائی میں جرمنی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ردعمل تھا چنانچہ ہٹلر کے مطالبات مان کر فسطائیت کی تالیف قلب کی جا سکتی ہے، چیمبرلین غلطی پر تھے۔ فسطائیت کو مراعات دے کر امن قائم نہیں کیا جا سکتا تھا۔اپنے مطالبات کو قدم قدم پر بڑھاتے جانا فسطائی فلسفے کا داخلی تقاضا ہے۔ معمول کے حالات غیر جمہوری اور انتہا پسند سیاست کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔ اسے اپنی نفرت پر مبنی متشدد سیاست کے لیے غیرمعمولی حالات کا جواز درکار ہوتا ہے۔ چیمبرلین نے ہٹلر کو چیکوسلواکیہ کی بھینٹ دے کر بزعم خود جو امن خریدا تھا وہ ایک برس بھی برقرار نہ رہ سکا۔ 3ستمبر1939ء کو نازی جرمن فوجوں نے پولینڈ کی سرحد عبور کر لی تھی اور ان کی نظریں فرانس اور لندن کی طرف اٹھ چکی تھیں۔ دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ اسی طرح فوج سے برسرپیکار مسلح جنونیت پسند جو کہ شمالی وزیرستان وانا،سوات میں اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں ایک بے دست و پا صوبائی حکومت جو کہ مخلوط بھی ہے کے ساتھ طالبان ایسا معاہدہ کیوں کریں گے جس میں انہیں اپنے حقیقی نصب العین سے پیچھے ہٹانا پڑے۔ حکومت اور طالبان کے ساتھ معاہدے ایک طرف مذہبی تشدد کی زد میں آئی ہوئی حکومت کی طرف سے کس قدر وقفہ حاصل کرنے کی کوشش تھی تو دوسری طرف پاکستان کی اس دیرینہ روایت کا تسلسل بھی جس میں مذہب کی آڑ میں سیاسی اقتدار پر قبضے کے خواہش مند کو چھوٹی چھوٹی مراعات و رعایات دے کر سمجھا جاتا ہے کہ عفریت کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ دراصل ایسا کرنے سے مذہب کا سیاسی استحصال کرنے والی قوموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اور ملک کی کتاب قانون میں چند مہمل اصلاحات کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور سیاسی انتظام مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب خیبرایجنسی میں فوجی کاروائی شروع ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا اور فریقین میں کسی حقیقی تصادم کی خبر نہیں آئی تھی اور بظاہر شرپسند محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہو چکے تھے چنانچہ توپوں،ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کے جلو میں طمطراق سے شروع ہونے والی کاروائی ایک انتظامی اور رسمی مشق بن کر رہ گئی تھی، حکومت کو طالبان سے معاہدوں کے احترام کا علم تھا۔مولانا صوفی محمد اور ان کے داماد فضل اللہ کا بار بار معاہدوں کو سپوتاژ کرنا کوئی نئی روایت نہ تھی قبائلی علاقوں میں شورش کے حامیوں کی ایک پسندیدہ تاویل یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ’’پرائی جنگ‘ ‘ہے اور پاکستان کا حکمران طبقہ اس لڑائی میں اپنے ذاتی مفادات کے لیے اپنے ہی شہریوں کے خلاف مذاکرات کا راستہ اپنانے کی بجائے طاقت کی زبان استعمال کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ پرائی جنگ ہے تو اسے لڑنے والے پاکستان کی سرزمین پر کیا کر رہے ہیں؟ پاکستان کے شہری و فوجی کیوں مارے جا رہے ہیں؟ پاکستانی بچوں کے سکول کیوں جلائے جا رہے ہیں؟ پاکستان کے شہروں میں بم کیوں پھٹ رہے ہیں اور پاکستانی اداروں کو کس لیے تباہ کیا جا رہا ہے؟ یہ بات واضح ہے کہ مذہب کی آڑ میں دہشت گرد اپنے سیاسی مقاصد کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔ اصل مقصد پاکستان پر قبضہ کرنا ہے پاکستان میں ریاستی عملداری کمزور ہے، عوام غریب ہیں، تاریخی شعور اور جمہوری ثقافت کی جڑیں کمزور ہیں۔ عشروں کی غیر جمہوری حکمرانی سے عوام اور ریاست میں اعتماد کا فقدان ہے اور مختلف مذہبی، لسانی اور طبقاتی گروہوں میں قومی یک جہتی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اہم ترین بات یہ کہ یہاں نیوکلیائی ہتھیار موجود ہیں جن پر قبضہ کرکے دہشت پسند وہ مفروضہ لڑائی لڑنا چاہتے ہیں جس کے اختتام پر عالمی غلبے کا خواب دیکھا جا رہا ہے۔ درحقیقت اس سب مشق کا نتیجہ پاکستان کی دنیا بھر سے بیگانگی اور مکمل داخلی ٹوٹ پھوٹ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ لڑائی کے ابتدائی مرحلے میں بھی درجنوں شرپسند گروہوں میں تمیز کرنا مشکل ہے کہ کون کس کی کمان کے زیراثر ہے اور کس سے لڑ رہا ہے۔ افغانستان ابھی تک ایسی خانہ جنگی کے اثرات سے باہر نکل نہیں پایا۔تاریخی، معاشرتی، سیاسی، ثقافتی اور معاشی اعتبار سے پاکستان اور افغانستان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدانخواستہ پاکستان میں ایسی صورت احوال پیدا ہوئی تو تباہی کا دائرہ بے حد وسیع ہوگا۔ مذاکرات کی دہائی دینے والے اس طرف اشارہ کرنے کی زحمت نہیں کرتے کہ پاکستان کے اپنے شہریوں نے ریاست کی بیس ہزار مربع کلومیٹر زمین پر متوازی حکومت قائم کر لی ہے اور وہاں بسنے والے پاکستانی شہریوں پر نہ صرف یہ کہ اپنی نیم پختہ مذہبی فہم مسلط کرنا چاہتے ہیں، یہ لوگ آئین پاکستان سے بھی منحرف ہیں۔ پاکستانی قیادت کی بار بار تنبیہ کے باوجود یہ لوگ بین الاقوامی سرحدوں کی پامالی پر مصر ہیں۔ ان کی کارستانیوں کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر خفت اٹھانا پڑ رہی ہے بلکہ کچھ بعید نہیں عالمی برادری پاکستان کو ان افعال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ہمارا معاشی اور سیاسی ناطقہ بند کر دے۔ان خدائی خدمت گاروں نے ماضی میں کیے گئے امن معاہدوں کو اپنی مرضی سے پامال کیا۔ پاکستان کے شہروں میں سینکڑوں خودکش دھماکے کیے،4000سے زائد سول شہری ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، سینکڑوں سکول تباہ کیے گئے،منشیات کی تجارت سے لے کر اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔ یہ لوگ تعلیم، معیشت، صحت عامہ، تجارت، عوامی خدمت کے اداروں، ثقافت اور تہذیبی آثار غرض یہ کہ تمدن کی ہر نشانی کے دشمن ہیں۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے کبھی بھی سیاسی مصلحت کی بناء پر طالبان کی سیاسی فکر اور ان کے عملی نتائج کو عوام کے سامنے بیان نہیں کیا۔ ان کے افعال غیر آئینی ہیں، ان کی پاکستان میں موجودگی غیرآئینی ہے، ان کے جرائم انسانیت کے خلاف جرائم کا درجہ رکھتے ہیں تو پھر آخر ان سے کس ایجنڈے پر بات کی جائے۔ کیا ان شرپسندوں کو حکومت پاکستان کے کچھ حصے دے دیئے جائیں؟ کیا ریاست اپنے اختیارات سے جزوی طور پر دست بردار ہونا پسند کرے گی؟ کیا پاکستان کے پُرامن اور قانون پسند شہریوں کو ان مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے؟ کیا ہم پاکستان کی سرزمین پر ان کی متوازی حکومت تسلیم کر لیں؟ کیا ہم پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دخل اندازی پسند کریں گے؟ اگر مغربی ممالک سے تعلقات استوار کرنے سے پاکستان کی خودمختاری پر حرف آتا ہے تو ان ملکی اور غیرملکی جتھوں کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ آور کیوں نہ سمجھا جائے؟ جنہوں نے پاکستان کی سرزمین پر قبضہ کرکے متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ اگر کسی حلقے میں واقعی یہ تاثر موجود ہے کہ مذاکرات و معاہدات سے اس عفریت پر قابو پایا جا سکتا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اپنی عملداری میں اس قسم کی مداخلت برداشت کرنے والی ریاست کی بقاء خطرے میں ہوتی ہے۔ اگر واقعی پاکستان کی سیاسی قیادت اس ملک میں امن کے خواہاں ہیں تو میثاقِ جمہوریت کی صورت میں 73کے آئین کے بعد سب سے عمدہ و خوبصورت معاہدہ موجود ہے، بس جس کی پاسداری اک واحد شرط ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے علاوہ اے آرڈی میں شامل جماعتوں کے دستخط ثبت ہیں۔ اس معاہدے کے ثمرات حاصل کیے بغیر پاکستان میں حقیقی امن کی خواہش بس دیوانے کی بڑ ہے۔ بس میثاقِ جمہوریت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک مضبوط ضمانت کی ضرورت ہے اور یہ کام نظریہ پاکستان کے محافظ اور مجاہد جناب مجید نظامی صاحب بخوبی احسن انجام دے سکتے ہیں۔ مجید نظامی صاحب ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلائیں اور پاکستان میں ایک پُرامن سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھیں۔ یہی آخری حربہ ہے وگرنہ ہمارا ذکر بھی نہ ہوگا داستانوں میں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus