×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان اور خطے کی سیاست۔۔۔ بین الاقوامی سازشوں کی لپیٹ میں
Dated: 17-Oct-2010
سونے کی چڑیا کی پھرپھراہٹ اب اس کے آنگن ہی نہیں دور یورپ تک بھی سنائی دے رہی تھی۔ برصغیر جسے گوروں نے ’’گولڈن سپیرو‘‘ کا نام دیا تھا یقینا اس وقت خطے کا معاشی طور پر مضبوط ترین گڑھ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تجارت کے نام پر کبھی مہارت کے نام پر اس تک انگریز کی نظریں اٹھ چکی تھیں۔ سولہویں صدی کے اواخر میں ایک انگریز سیاح نے جو ڈاکٹر تھا شہنشاہ ہند کی ملکہ کا علاج کیا اور صلے میں اس ڈاکٹر نے شہنشاہ سے تجارت کی سہولت مانگ لی۔ بس وہ دن پھر ان کو پائوں جمانے کے لیے کافی وقت مل گیا اور برصغیر کے لوگ گوروں کی چالوں کو نہ سمجھ سکے جب انگریز اپنے قدم جمانے میں مصروف تھے تو ٹھیک انہی دنوں فرانسیسیوں کی نظریں بھی اس سونے کی چڑیا کی طرف اُٹھ چکی تھیں اور انہوں نے بھی برصغیر کا رخ کر لیا یہی وجہ ہے کہ جب میسور کے حکمران حیدر علی اور اس کے بہادر بیٹے سلطان ٹیپو نے انگریز کے قدم روکنا چاہے تو اس سلسلہ میں انہیں بیرونی امداد حاصل تھی اور وہ کوئی اور نہیں فرانسیسی فوجیں ان کی مدد کے لیے پہنچ چکی تھیں مگر انگریز زیادہ چالاک اور خطے کو سمجھ چکے تھے لہٰذا وہ مقامی بااثر افراد تک رسائی حاصل کر چکے تھے اور لالچ دے کر ان کو ساتھ ملایا جا چکا تھا اسی لیے اقتدار اور قبضے کے اس کھیل میں فرانسیسیوں کو شکست ہوئی اور انگریز اپنی چالوں سے یہ معرکہ جیت گیا اس طرح ایک ڈاکٹر کی صورت میں برصغیر کے ساحلوں پر آنے والے یہ انگریز سونے کی اس چڑیا کے نئے مالک بن بیٹھے۔ یہ دراصل اس وقت کے مسلمان مغل حکمرانوں کا جو کہ ترک النسل تھے اپنے اصلاف سے ہٹ جانے کی وجہ تھی۔ ساڑھے تین چار سو سال تک برصغیر ہند پر حکمرانی کے چراغ روشن کرنے والے مغل حکمرانوں کے جاں نشیں اس حد تک نکمے ثابت ہوئے کہ جب انہیں خبر کی گئی کہ دشمن کی فوجیں محل کے اندر داخل ہو گئیں ہیں تو شراب و سرور میں ڈوبے حکمران کے الفاظ تھے ہم ان کو تبلے اور ڈھولکی مار مار کر ختم کر دیں گے کہ ہنوز دلی دور است۔ دراصل برصغیر ہند کاروایتی مزاج اس قدر میزبانہ تھا کہ انگریزوں کی برصغیر آمد سے چند سو سال قبل جب محمد بن قاسم نے اس پر چڑھائی کی تو اسے راجا داہر کے بعد کوئی خاص مزاحمت دیکھنے کو نہ ملی اور پھر سلاطین خلافت کے دیگر جرنیلوں نے جب چاہا برصغیر کی مٹی کو اپنے پائوں تلے روندا یہاں سے لوٹ مار کی اور واپس چلتے بنے۔ سلطان محمود غزنوی نے 17حملے اس سونے کی چڑیا پر کیے اور جی بھر کر اس خطے کی دولت سمیٹی اور واپس چلتے بنے،یہی وجہ ہے کہ محمد بن قاسم سے لے کر سلطان تیمور تک سال ہا سال تک یہ خطہ طالع آزمائو ں کے زیر اثر رہا اور یہاں پر ایک سلطنت قائم نہ کی جا سکی۔ انگریز اس خطے کے مزاج کو سمجھنے والا پہلا حکمران تھا جس کو اس برصغیر کے لوگوں کی سوچ اور ذہنیت پر مکمل اپروچ تھی یہی وجہ ہے کہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے اس نے مقامی لوگوں کے ذہنوں میں غداری کی ایک نئی روایت کو جنم دیا اور پھر اپنے حواریوں کو نوابی، جاگیرداری حتیٰ کہ نچلی سطح پر ذیلداری اور نمبرداری تک بھی بخشنی جاری رکھیں اور خطے کے عوام کو ہمنوا بنانے اور اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے انگریز سرکار نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا،سڑکیں،پل، ریلوے، ڈاک خانہ، مواصلات کا مکمل نظام آج بھی انگریز طرز حکومت کی پہچان ہے۔ سکول بنائے گئے، حکومت کی اصل عملداری کے لیے تھانہ سسٹم قائم کیا گیا جبکہ اس سے پہلے مغل حکمران اور جنگجو سلاطین نے خطے کے عوام کو ان سہولتوں کی ہوا تک نہ لگنے دی تھی۔ چند مخصوص شہروں میں بادشاہی قلعے اور مساجد بنا کر یا پھر چند خوبصورت عمارتیں جن میں دلی کا قطب مینار،آگرہ کا تاج محل شامل تھا بنایا تھا۔ جبکہ اصلاحی اوررفاعی کاموں کی جھلک تاریخ کے صفحے الٹنے سے ہمیں کہیں نظر نہیں آتی۔ 1857ء کی جنگ آزادی جسے انگریز غدر کے نام سے پکارتے ہیں کے بعد برصغیر ہند پر انگریز کا مکمل قبضہ ہو چکا تھا جس کے بعد وقتاً فوقتاً برصغیر کے عوام آزادی کی تحریکیں چلا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے۔ مگر بہ مثال ہاتھ کا باندھا دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔ یہ آزادی کی جنگ بھی قریباً سو سال چلی اور پھر 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی صورت میں ایک پہلی جماعت کا قیام عمل میں آیا چونکہ خطے کے مسلمانوں نے دیکھ لیا تھا کہ تاجدار برطانیہ کی نوازشیں ہندوئوں اور دوسری اقوام کے لیے مختلف تھیں جبکہ مسلمان جس سے اقتدار چھینا گیا تھا اس کو ہمیشہ غلامی کی زنجیروں میں جھکڑا گیا کہ یہ کبھی بھی اٹھ کھڑا ہو گا۔ انگریز حکمرانوں نے ہندوئوں، مسلمانوں اور سکھوں کو جو خطے کی تین بڑی قومیں تھیں آپس میں لڑا کر ہمیشہ اقتدار اپنی گرفت مضبوط کی مگر جب مسلمانان ہند نے خواب خرگوش سے انگڑائی لی تو ایک مذہب قومیت کے نام پر دو قومی نظریہ کی بنیاد رکھی اور پھر حضرت علامہ محمد اقبالؒ کے خواب کو 1947ء میں عملی جامہ پہنا دینے پر تاج برطانیہ کو مجبور کیا۔ انگریز اپنی اس ہزیمت کو کب بھول سکتا تھا قیام پاکستان کے قبل آخری وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن نے چالاک ہندو کے ساتھ مل کر جو فیصلے کیے جن کی وجہ سے برصغیر تقسیم ہند کے بعد بھی جغرافیائی لحاظ سے ہندوئوں کو زیادہ فائدہ دیا گیا یہاں جہاں دوسرے عوامل اور مسلمانوں کی سوئی ہوئی سوچ نے کردار ادا کیا وہی لارڈ مونٹ بیٹن کی اہلیہ کے پنڈت جواہر لعل نہرو سے تعلقات نے اس تقسیم پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ خطے کے مسلمانوں کو آزادی کی کبھی نہ ختم ہونے والی سزا دی جائے۔اسی لیے جونا گڑھ،حیدرآباد دکن اور کشمیر کے معاملات کو مسئلہ بنا کر جغرافیائی تقسیم کی خلاف ورزی کی گئی جس کا نتیجہ اس خطے کے مسلمان آزادی کے بعد بھی بھگت رہے ہیں۔تقسیم کے وقت پاکستان کے پاس بَری بحری، فضائی افواج صرف کاغذوں پر موجود تھیں جبکہ سارا سرکاری خزانہ اور انفراسٹکچر ہندوستان کے حصے میں آیا۔ بڑی بڑی صنعتیں جو اس وقت بمبئی، دلی اور بھارت میں موجود تھیں ہندوئوں کے حصے میں آئیں اور اسی تقسیم میں دھاندلی کی وجہ سے ہندوئوں نے پہلا گورنر جنرل آزادی کے بعد انگریز کو قبول کیا جبکہ مسلمانوں نے حضرت قائداعظم کی قیادت پر اعتماد کیا جو اس بے سروپا بے دست پاکستان کو لے کر آگے بڑھے۔ صرف عزم اور حوصلے کی بنیاد پر پاکستان کے عوام ایک مقصد کی خاطر غیر منظم مگر ہمت سے لڑتے ہوئے سیاسی نہ پختگی اور لیڈرشپ کی کمی کی وجہ سے ایسے پٹری سے اترے کہ پھر سنبھلنا مشکل ہو گیا۔ وڈیروں،جاگیرداروں، سرداروں اور نوابوں کی موجودگی میں کسی ایک آئین پر متفق نہ ہوئے اور بڑی دیر تک 1933ء کا آئین چلتا رہا اس دوران سکندر مرزا اور ایوب خان کے دو مارشل لائوں نے رہی سہی کسر نکال دی اور حضرت قائداعظم ؒ کی بے سروسامانی میں رحلت، قائدملت لیاقت علی خان کی شہادت،خواجہ ناظم الدین، سہروردی اور غلام محمد کی آپس کی لڑائیاں خطے کے عوام کو جمہوریت سے دور لے گئیں۔ اس دوران امریکہ بین الاقوامی افق پر جگمگانے لگا تھا۔ انگریز انڈیا پاکستان کی تقسیم کے بعد دیگرپے در پے شکستوں سے نڈھال تھا اور 95فیصد کالونیاں اس کی دسترس سے رہائی پا چکی تھیں۔ روس، چین، فرانس بین الاقوامی سیاست میں اپنے اپنے فلسفے کے ساتھ قدم براجمان کر چکے تھے۔ کوریا اور چین نے پاکستان بننے کے بعد آزادی حاصل کی اور ایک مملکت کے طور پر نقشے پر ابھرے تو ان کی ترقی کی رفتار کو چھونا بھی چیلنج بن گیا تھا۔ ان حالات میں پاکستان اندرونی خلفشار بھارت سے جنگوں سے نڈھال ہو کر ترقی جیسے خواب سے دور ہوتا چلا گیا۔ امریکہ خطے پر اپنی دسترس چاہتا تھا یہی وجہ ہے کہ 1965ء کی جنگ کی صورت میں پاکستان پر ایک معاشی اور سرحدی جنگ مسلط کر دی گئی پاکستان کی غیرجمہوری قوتوں نے اس دور کو سمجھنے کی بجائے اپنے القابات پر زیادہ توجہ دی اور فیلڈ مارشل جیسے اعزازات کو آئین پاکستان پر فوقیت دی۔ یہی وجہ ہے کہ 1965کی جنگ جو کہ پاکستان جزوی طور پر ہی سہی مگر مذاکرات کی میز پر فاتح کی حیثیت سے بیٹھا تھا مگر تاشقند میں روس کے زیر میزبانی ان مذاکرات میں جب پاکستان مذاکرات کی میز سے اٹھا تو وہ یہ جنگ ہار چکا تھا اس وقت ایک مردمجاہد نے قوم کو اصل صورت احوال کا بتانے کا اعلان کیا ایوب خان کی کابینہ سے فارغ ہوئے اور اس نوزائیدہ قوم اور مملکت کو امیدوں سے روشناس کروایا۔ نوجوان بھٹو جو اس وقت تک قومی سطح کے مسائل سمجھ چکے تھے ایوب کابینہ سے رہائی کے بعد اپنے اس وقت کے دوست جناب مجید نظامی صاحب سے بھی ملے اور انہیں اپنے مستقبل کے ایجنڈے سے بریف کیا پھر جناب مجید نظامی صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے لاہور میں YMCA ہال میں ایک جلسے کا اہتمام کیا، کھچا کھچ بھرے اس کامیاب جلسہ سے لاہور میں بھٹو کو آنے والے دنوں میں پذیرائی ملی اور بھٹو کو لاہور میں جانا جانے لگا۔ اس تاریخی جلسہ کے خالق جناب مجید نظامی صاحب اور بھٹو کی تصاویر آج بھی حمید نظامی ہال نوائے وقت اخبار کے ہال اور لائبریری میں موجود ہیں۔ 1970ء میں ہمارے حکمرانوں کی ماضی میں کی گئی کرتوتوں کی بدولت ایک ایسی جنگ چھیڑ دی گئی جس کا انجام اس ملک عظیم کے دو لخت ہونے کی صورت میں ہوا اور ہمارے اتحادی امریکہ کے وہ بحری بیڑے آج تک خلیج بنگال کے ساحلوں تک نہیں پہنچ پائے جن کے زعم میں ہم نے اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کو للکارا تھا۔ بھارت جس نے آزادی کے بعدلینڈ رفارمزاور جمہوریت کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور وہ عوام کو جاگیرداری کی لعنت سے نجات دلانے میں کامیاب ہوا اور جمہوریت کا پودا بھارت میں پلنے بڑھنے لگا اور وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلانے لگا جبکہ 1970ء کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جاگیرداروں کو شکست دی تو یہ شکست دراصل اس خطے میں سامراجی اثرات کی شکست تھی جس کی پاداش میں پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا اور جب ذوالفقار علی بھٹو نے ٹوٹے پھوٹے پاکستان کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو اسے سب سے پہلے 73ء کا ایک متفقہ آئین دیا اور پھر 74ء میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرکے سامراج کے سینے پر مونگ دل دیئے۔ جس کو بین الاقوامی برادری میں کبھی اسلامی بنک اور کبھی اسلامی بم کے نام سے پکارا گیا۔پاکستان نے اپنی داخلی اور خارجی سیاست کا ایک تقریباً نیا اندازشروع کیا اور چین اور روس سمیت اسلامی ممالک کے بلاک کا تصور پیش کیا، یہ دراصل ان قوتوں کو کب گواراہ تھا جو اس ملک کو عوام کو ہمیشہ محکوم دیکھتے چلی آ رہی تھیں۔ جنہوں نے ڈیڑھ سو سال تک اس سونے کی چڑیا کے سونے کے انڈے کھائے تھے ایسی ترقی ایسی خواہش کا ہونا ہی ان کی نظر میں ایک جرم عظیم تھا اور اور وہ امریکہ جو ہندوستان کے ساتھ جنگ میں ہمارا اتحادی ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتا تھا جس کے وعدوں پر اعتبار نے ہمیں اپنے ایک بازو سے محروم کر دیا تھا اس سامراج کو یہ کب گوارہ تھا کہ وہ اس لولے لنگڑے بچے کھچے پاکستان کی ان بڑی بڑی خواہشوں کو پروان چڑھتے دیکھ سکے۔ وہ ٹیکسلا کا ہیوی کمپلیکس، کراچی کی سٹیل مل، فرانس سے ایٹمی ریکٹر کے معاہدے، چین سے جنگی جہازوں کی مقامی سطح پر تیاری کے معاہدے اور فرانسی آبدوزوں کی خریداری کے منصوبے دراصل امریکی سامراج کے منہ پر ایسے طمانچے تھے جنہوں نے سامراج کو زخمی سانپ کی مانند ہمارے اوپر حملہ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور پاکستان اور پاکستان کی قیادت کو سزا دینے کی ٹھان لی۔ یہی وجہ ہے کہ 74ء کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد کے بعد ملک کے اندر اچانک ڈالر کی ریل پھیل بڑھ گئی اس ملک کی رجعت پسند قوتوں کو بوریوں میں بھر کر ڈالر دیئے گئے جس سے ملک قومی سطح پر خلفشار کا شکار ہوا اور یہ رجعت پسند قوتیں مذہب کے نام پر اکٹھی ہو گئیں۔ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے الیکشن کے شیڈول سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیا کہ وہ سمجھتے تھے کہ عوام ان کے ساتھ ہیں او روہ ان استعماری قوتوں کو اور سامراج کے ایجنٹوں کو عوامی طاقت کے بل بوتے پر شکست دے سکتے ہیں۔ سامراج کی نظر میں بھٹو کے جرائم کی فہرست بڑی طویل تھی۔ اسلامی کانفرنس کا انعقاد،عربوں کو تیل کی اہمیت کا احساس دلانا،اسلامی بلاک کی تشکیل،تیسری دنیا کے قیام کا اعلان،پاکستان کو آئین دینا،پاکستان کو نیوکلیئر پاکستان کے سفر کی جانب لے کر چلنا اور ایک سرکاری دورے پر امریکہ کے ایئرپورٹ پر جہاز سے اترنے سے انکارچونکہ برابری کی سطح پر استقبال نہ ہوا تھا اور پھر جب ہنری کنجر نے بھٹو کو تمام سفارتی آداب بالائے طاق رکھ کر دھمکی دی کہ وہ اسے عبرت کا نشان بنا دیں گے بھٹو کا ہنری کسنجر کا وہ خط ہاتھ میں پکڑ کر پڑھناآج بھی راجہ بازار کے باسیوں کو یاد ہوگا یہ امریکہ کی پہلی اوپن دراندازی تھی پاکستان کی سیاست کے اندر جس میں امریکہ نے دل کھول کر ڈالر لٹائے اور قومی اتحاد کے نام سے 9جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ بھٹو کو اس کے جرائم کی سزا دی جا سکے۔ الیکشن میں پیپلز پارٹی کے کلین سویپ کو دو سیٹوں پر سرگودھا سے حفیظ چیمہ اور سندھ سے عبدالحفیظ پیرزادہ کی سیٹ پر دھاندلی کے الزامات ہونے پر پورے الیکشن پراسس کو مسترد کر دیا گیا۔ قومی اتحاد کی سیاسی تحریک 77ء کے الیکشن کے بعد اسلامی نفاذ کی تحریک بنا دی گئی دوسری طرف دو بڑی طاقتوں کے درمیان گرم اور سرد پانی تک رسائی کے مسئلہ پر جنگ کی تیاریاں عروج پر تھیں امریکہ کو افغانستان کے ذریعے گرم پانیوں تک روس کی رسائی گوارہ نہ تھی جسے علاقے میں اسلام کے لیے خطرہ کی بنیاد بنا کر عربوں اور پاکستان کی اسلامی قوتوں کو دفاعی فرنٹ لائن بنا دیا گیا۔ اور امریکہ نے اس وقت بھی اپنی جنگ کو کمیونزم اور اسلام کی جنگ بنا کر لاکھوں مسلمانوں کی لاشوں پر سیاست کی اور اپنے دشمن روس کو خطے کے مسلمانوں کے ہاتھوں شکست ریخت دلوائی۔ اس طرح ایک طرف تو امریکہ روس کو کمزور کرنے میں اس حد تک کامیاب ہوا کہ اس سانحے کے بعد روس ٹوٹ پھوٹ گیا اور اس کے زیر تسلط دو درجن نئی ریاستیں آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں اور دوسری طرف روس کو ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کی دشمنی کا تحفہ بھی ورثے میں ملا۔ اسی دوران یورپ اور امریکہ کی عالمی سازش سے ایران و عراق دست و گریبان ہوئے اور ان دو اسلامی ممالک کی دس سالہ اس جنگ کے اختتام پر لاکھوں مسلمان لقمہ اجل بنے یہ سب کچھ اس دوران رونما ہوا جن دنوں میں بھٹو کو پھانسی دینے کی تیاریاں بام عروج پر تھیں۔ یہ سب کچھ شاید زندہ بھٹو کی موجودگی میں ممکن نہ تھا جس نے پچاس سے زائد اسلامی ممالک کو جن کے جغرافیائی اختلافات بے شک موجود تھے ایک میز پر بیٹھنے اورایک امام کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بھٹو کو سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد پھانسی کے دن تک عالمی طاقتوں نے ایک منافقانہ طرزعمل اپنائے رکھا حتیٰ کہ سعودی حکومت نے بھی اس سلسلہ میں کوئی کلیدی کردار ادا نہ کیا اور آج خود سعودی عرب کی سرزمین پر ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کی موجودگی اوراسامہ بن لادن کا 9/11 کا سانحہ معرض وجود میں نہ آتا۔ سانحہ 9/11کے بعد اس ڈرامے کے کردار جن ممالک سے تعلق رکھتے تھے ان میں سعودی عرب اور مصر پیش پیش تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اعلان سے پاکستان جو کہ فرنٹ لائن اتحادی بن کر ابھرا 50بلین ڈالر کے نقصانات اٹھائے، پاکستان کی معیشت زمین بوس ہو گئی۔ میاں نواز شریف کی جمہوری حکومت کو گرایا گیا ملک کو عالمی برادری کا ساتھ دینے کے صلے میں آمریت مسلط کر دی گئی وہ مشرف جو صدر کلنٹن کی پاکستان آمد پر ہاتھ ملانے کو ترستا تھا وہ امریکی آنکھوں کا تارا بن گیا آج امریکہ خود افغان جنگ سے اکتا چکا ہے۔ ہزاروں فوجی مروا کر بھاری معاشی عدم استحکام کے دہانے پر امریکہ پہنچ چکا ہے اور پاکستان ایک مرد بیمار بن کر امریکی مفادات کا تحفظ اپنی نحیف صورت میں آج بھی ادا کر رہا ہے۔ بھٹو کو نشانِ عبرت بنانے کے امریکی اعلان کے بعد نہ صرف اس دھمکی پر عمل درآمد کیا گیا بلکہ بھٹو کی سیاسی ہلاکت کے بعد اس کے دو بیٹوں مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کو دو عشروں کے درمیان شہید کروا دیا گیا اور پھر دو دفعہ عالمی عدم استحکام اور سازشوں کا شکار ہو کر بے نظیر بھٹو جو دو مرتبہ منتخب حکومت قائم کر چکی تھیں کو عوامی مینڈیٹ کے احترام کے برعکس ٹھیک بالکل اسی شہر میں جہاں تیس سال پہلے اس کے باپ کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا بیچ چوراہے شہید کر دیا گیا۔ اس طرح عملاً بھٹو خاندان عبرت کا نشان بن کر فی الحال منوں مٹی تلے گڑھی خدابخش کے قبرستان میں مدفون ہے۔ لیکن بھٹو کے جرائم پر بھٹو خاندان کی سزا دیئے جانے کے اس عمل میں اب پاکستان کی قوم کو بھی ملوث کر لیا گیا ہے۔ میاں نوازشریف کی منتخب عوامی حکومتوں کو بھی عالمی سازشوں کے تحت ختم کیا گیا کبھی انہیں کارگل پر چڑھائی اور ایٹم بم کا دھماکہ کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل کرکے ہتھ کڑیوں میں جھکڑا گیا کبھی ملک بدر ہونے پر جبراً مجبور کیا گیا اور یہ صورت احوال ابھی تھمی نہیں، آٹھ سالہ نیم آمریت کے اور محترمہ کی شہادت کے بعد جمہوری قوتوں کے درمیان ہم آہنگی آئی تھی۔ میثاقِ جمہوریت کی صورت میں روڈ میپ تیار تھا جس پر گاہے بگاہے عمل کرنے کی ضرورت پر زور بھی دونوں طرف سے دیا جاتا رہا۔ آج دونوں بڑی سیاسی قوتوں کے درمیان ایک سازش کے ذریعے نفاق ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کو حکومت چلاتی ہے مگر یہاں طرفہ تماشا یہ ہے کہ ملک کو این جی اوز کے حوالے کر کے ایک ایسے سسٹم کی ابتدا کی جا رہی ہے جسے لبنان اور صومالیہ ہوں یا پھر سوڈان کی انارکی زدہ حکومت؟ بالکل اسی طرح جیسے 1947ء کے پہلے کا نقشہ پہلے وڈیروں،نوابوں، مخدوموں کے ذریعے حکومت کی جاتی تھی اور اب یہ کام این جی اوز کے ذریعے کروایا جائے گا تو حکومت کا کیا کردار رہ جائے گا؟ جو حکومت این جی اوز کے رحم وکرم پر ہو گی وہ پائیدار کیا خاک ہو گی، جو حکومت آج بھی امریکی وائسرائے یعنی امریکن سفیر پیٹرسن کی صورت میں پاکستان کے کونے کونے میں اور ان کے ایلچی برائن ڈی ہنٹ کی صورت میں خانقاہوں اور مزاروں پر حاضریوں کے فیشن کو پرموٹ کرے گی جہاں امریکن ایلچی مزاروں پر سبز چادر اوڑھ کر شلوار قمیض میں ملبوس دیسی کھسے پہن کر ہمارے ملک میں اپنے مطلب کے غداروں کو ڈھونڈ رہے ہوں اور ان کے ساتھ تصویریں اترانا سیاست کی ضرورت بن جائے۔ امریکی اور یورپی سامراج ہمارے ملک کے غداروں کو پھر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو پروان چڑھا سکیں۔ ہمارے ازلی دشمن ہماری ناعاقبت اندیشی سے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ دین اسلام کے یہ نئے ٹھیکے دار صوفی ازم کے مقدس مشن کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرکے مذہب اسلام میں ریفارمز کرنے کے طریقے کو ہوا دے رہے ہیں بھلا ایک کرسچئن مذہب سے تعلق رکھنے والی حکومت جنہوں نے 9/11کے بعد صلیبی جنگ، کروسیڈوار کا اعلان کیا تھا ان کو صوفی ازم سے بھلا کیا رشتہ ؟کیا کسی اسلامی ملک یا پاکستان کے کسی سفیر کو یورپین ممالک میں اس طرح تبلیغ کی اجازت ہے؟ کیا امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو ’’چرچ آف امریکہ‘‘ میں داخل ہو کر صوفی ازم کی تبلیغ کی اجازت ہے؟ کیا کسی پاکستانی سفارت کار کو برائن ڈی ہنٹ بن کر امریکی سیاست دانوں اور پالیسی سازوں سے برملا ملنے کی اجازت ہے؟ کیا صوفی ازم کا پرچار کرنے والے اپنے ملک میں قرآن کریم کو نعوذ باللہ جلانے والے شاتم کا محاسبہ کرتے ہیں ؟کیا صوفی ازم اور محبت و امن کی آشا کا پرچار کرنے والے یورپین اور پورپین نواز یہ سوچتے ہیں کہ ڈنمارک اور سویڈن میں پیغمبر اسلام کے خاکے کن کی ایما پر تیار کیے جاتے ہیں ؟ آج یورپین سفارت خانوں میں ہمارے بکنے والے مذہبی سکالروں سے لے کر صحافت کے ستاروں تک اور سیاست کے بڑے بڑے گُرو تک ایمبیسیوں میں ریڈ وائن اورشیمپئن کے گلاس اٹھائے کونسے صوفی ازم کا پرچار کر رہے ہیں۔ بلھے شاہ، باباغلام فرید شکر گنج،شاہ لطیف بھٹائی،امیر خسرو اورداتا گنج بخش کی تعلیمات کا پرچار کرنے کا دعویٰ کرنے والے دراصل اس ملک کی سیاسی اور نظریاتی اساس کو تبدیل کرکے اپنے مطلب کا رنگ چڑھانا چاہتے ہیں جو کہ یقینا پاکستان کی نظریاتی اساس سے میچ نہیں کرتا اور جب تک وطن عزیز میں ان غیرملکی آقائوں کو روکا نہیں جاتا جو ہمارے گلی محلے کی سطح تک پہنچ کر ہماری نظریاتی اساس کو کمزور کر رہے ہیں۔ جب تک یہ سیاسی قائدین کو خریدنے کا عمل جاری رکھیں گے پاکستان کا استحکام خطرے میں ہے۔جب تک یہ وائسرائے اور ان کے ایلچی سیاسی نابالغوں کی پشت پناہی جاری رکھیں گے تب تک پاکستان میں جمہوریت جڑ نہ پکڑ سکے گی۔جب تک سیاسی جماعتیں ان کے اثر سے نہیں نکلتی تب تک ان کی سیاسی سازشیں کامیاب ہوتی رہیں گی اور جب تک ہماری سیاسی جماعتیں سو فیصد پاکستانی نہیں بن جاتیں اور جب تک ہمارا بیوروکریٹ،ہمارا دانشور، ہمارا مبلغ، ہمارا راہبر،ہمارا محافظ،ہمارا ڈاکٹر، ہمارا انجینئراور ہمارے صحافتی دوست اپنے وطن سے اتنی ہی مخلص نہیں ہو جاتے جتنے یورپین اور امریکن عوام۔ اور جب تک ہمارے ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ان عالمی سازشوں کے راستے میں عزم اور اتحاد سے سیسہ پلائی دیوار نہ بن جائیں اس وقت تک ترقی کے خواب دیکھنا بیکار ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus