×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عالمی سیاسی بساط پہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
Dated: 27-Jan-2026
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بنیادی سوچ یہ تھی کہ غزہ میں جنگ بندی تو ہو جائے، مگر جنگ بندی کے بعد غزہ دوبارہ نہ تو حماس کے کنٹرول میں آئے اور نہ ہی مکمل طور پر فلسطینیوں کے اختیار میں جائے۔ یوں وہ ایک ایسی حکمتِ عملی پر عمل پیرا نظر آئے جسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اسی سوچ کے تحت ابتدا میں صدر ٹرمپ کے ذہن میں یہ منصوبہ آیا کہ غزہ کو ایک ہالیڈے ریزورٹ میں تبدیل کر دیا جائے اور وہاں کاروباری بنیادوں پر فائیو اسٹار طرز کا ماڈل نافذ کیا جائے۔ تاہم جب دنیا کے بیشتر مسلمان ممالک اور عوام نے اس منصوبے کی شدید مخالفت کی، اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اسے مسترد کیا، تو ٹرمپ نے اچانک پینترا بدلتے ہوئے اپنے اس پروگرام کو ایک نیا نام اور نئی شکل دے دی۔ جب صدر ٹرمپ نے دیکھا کہ اسرائیل کے لیے یہ منصوبہ قابلِ عمل نہیں رہا تو انہوں نے اسے ’’پیس کلب‘‘ کا نام دے دیا۔ جس طرح اقوامِ متحدہ مختلف ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، اسی طرز پر ٹرمپ نے بھی اپنے اتحادیوں کو ایک نئے عنوان کے تحت منظم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کا یورپ پر اعتماد بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ یورپی ممالک اب ان کی تمام پالیسیوں سے متفق نہیں رہے اور خود اپنے داخلی و معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ ایک نیا عالمی گروپ تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں تقریباً 75 ممالک کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے، اور خود اس گروپ کے تاحیات صدر بننے کی خواہش رکھتے ہیں، حالانکہ ان کی صدارتی مدت محدود ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’پیس کلب‘‘ کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم متعارف کروایا گیا ہے، جس کے تحت ایگزیکٹو ممبر بننے کے لیے ایک ارب ڈالر بطور ڈونیشن دینے کی شرط رکھی گئی ہے۔ یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ صدر ٹرمپ نے یہ منصوبہ محض ہوا میں اچھال دیا ہے۔ درحقیقت یہ ایک سوچ سمجھ کر تیار کیا گیا منصوبہ ہے۔ اس ڈونیشن کے ذریعے غزہ کی دوبارہ آبادکاری کی جائے گی، تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ غزہ میں رہنے والوں کے پاس اسلحہ نہیں ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کی بات بھی کی جا رہی ہے، جس میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک کے شامل ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ درحقیقت صدر ٹرمپ اس نئے کلب کے ذریعے ابراہام اکارڈ پروگرام کو عملی شکل دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اس معاہدے پر دستخط کے لیے بہت سے ممالک پہلے ہی آمادہ نہیں ہو سکے تھے۔ اسی لیے اب ایک متبادل راستہ نکالا جا رہا ہے تاکہ فلسطین کو کسی بھی صورت مکمل آزاد ریاست کا درجہ حاصل نہ ہو سکے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس وقت 165 ممالک فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کر چکے ہیں، جن میں صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی ممالک بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر عالمی رائے عامہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اور ایسے میں پاکستان سمیت مسلم دنیا کو نہایت ہوشیاری، بصیرت اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اب اس معاملے کو ایک کاز بنا کر صدر ٹرمپ اپنے ایجنڈے کے بہت قریب پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے وزیرِاعظم نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ ایکنامک فورم کانفرنس کے موقع پر ملاقات کے دوران گلے مل کر اس منصوبے پر دستخط بھی کر دیے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان پر ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کی ذمہ داری بھی عائد ہو گئی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ پاکستان ایک ارب ڈالر کیسے ادا کرے گا، جب کہ وہ آئی ایم ایف سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرض کے حصول کے لیے بے شمار سخت شرائط پوری کرتا ہے۔ انسانی حقوق، لیبر قوانین، خواتین کے حقوق، جمہوریت اور سب سے بڑھ کر ٹیکس پالیسیوں تک میں آئی ایم ایف کی شرائط ماننی پڑتی ہیں۔ جب چھ ملین یا چند سو ملین ڈالر کے لیے اتنی کڑی شرائط قبول کی جاتی ہیں تو پھر ’’پیس کلب‘‘ کو ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کس طرح ممکن ہو گی؟ ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان اس وقت کسی ایسی پوزیشن میں ہے کہ وہ ایک ارب ڈالر ادا کر سکے۔ نہ وزیرِاعظم اور نہ ہی کوئی دستخط کرنے والی اتھارٹی یہ رقم اپنی جیب سے دے سکتی ہے۔ عملی طور پر اس ادائیگی کے لیے بھی پاکستان کو آئی ایم ایف یا دیگر مالیاتی اداروں کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، جو خود ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ہو سکتا ہے وزیراعظم شہباز شریف اپنی جیب سے صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی برقرار رکھنے کے لیے یہ رقم ادا کر دیں۔قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ دینِ الٰہی میں یہ شامل ہے کہ اگر آپ استطاعت نہیں رکھتے اور آپ پر قرض کا بوجھ بھی ہے تو آپ پر حج و عمرہ واجب نہیں ہے۔مگر یہاں پر کون سی ایسی مجبوری ہے کہ ہم صدر ٹرمپ کے اقتدار اور طاقت کو دوام دینے کے لیے (جب کہ مستقبل میں یہی طاقت وحشت میں تبدیل ہو کر معصوم فلسطینیوں پر غضب ڈھائے گی اور ان کی باقی ماندہ نسل کشی کے لیے راہ ہموار ہو گی) دوسری جانب دنیا کا نقشہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ کل کے دوست آج کھلے عام ایک دوسرے کے مخالف نظر آ رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نیٹو کے 27 ممالک امریکہ کے سب سے مضبوط اتحادی سمجھے جاتے تھے اور ان پر اندھا اعتماد کیا جاتا تھا، مگر آج وہی ممالک بتدریج امریکہ سے فاصلے بڑھا رہے ہیں۔ جرمنی ابھی کچھ ہچکچاہٹ کا شکار ہے، تاہم یورپی تجزیہ نگاروں کے مطابق جرمنی بھی جلد امریکہ سے الگ راستہ اختیار کرنے والوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے 75 ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے تاکہ ایک نیا عالمی بلاک تشکیل دیا جا سکے۔ دوسری طرف اسلامی ممالک جیسے سعودی عرب، پاکستان، ترکی، ایران، ملائیشیا اور انڈونیشیا بھی نیٹو کی طرز پر ایک اسلامی بلاک بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ ادھر چین پہلے ہی ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ میں مضبوط اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ وینزویلا، کولمبیا سمیت متعدد ممالک اس کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ ایشیا میں بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا بھی واضح طور پر چین کے کیمپ میں نظر آتے ہیں۔ یوں چین کا بھی ایک الگ عالمی بلاک ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ مستقبل کی تصویر یہ بتا رہی ہے کہ دنیا میں اب نہ کوئی ایک چودھری ہو گا اور نہ ہی دو، بلکہ آدھا درجن کے قریب عالمی بلاکس ہوں گے اور اتنے ہی طاقتور فیصلہ ساز بھی موجود ہوں گے۔ یہ دنیا کے بدلتے ہوئے عالمی نظام کا ایک واضح خاکہ ہے۔ خاص طور پر ڈیووس کانفرنس میں کینیڈا کے وزیرِاعظم کا جذباتی خطاب عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم امریکہ کے غلام نہیں ہیں، ہم اس کے ہمسائے ضرور ہیں، مگر آزاد اور خودمختار ہیں۔ ہم جی سیون کا حصہ ہیں اور نہ تو امریکہ کو کینیڈا پر قبضہ کرنے دیں گے اور نہ ہی اپنا پانچواں صوبہ بننے دیں گے۔ ابتدا میں کینیڈا امریکی بیانات کو مذاق سمجھتا رہا، مگر اب اسے اندازہ ہو چکا ہے کہ امریکہ سنجیدگی سے ایسی سوچ رکھتا ہے۔ڈیووس کانفرنس سے قبل کینیڈا کے وزیرِاعظم کارنی کے چین اور قطر کے دورے اور وہاں کیے گئے معاہدوں نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس وقت اگر امریکہ کے سامنے کوئی حقیقی عالمی طاقت کھڑی ہے تو وہ چین ہے۔ یہ عالمی ترتیب تقریباً تیس سے پینتیس برسوں سے چلی آ رہی تھی، مگر اب یہ نقشہ تیزی سے تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر ہر اتنے عرصے بعد بڑی تبدیلیاں آتی ہیں۔ آخری مرتبہ روس ٹوٹا تھا۔قبل ازیں یوگو سلاویہ ٹوٹ چکا ہے۔ اب اس نئے عالمی منظرنامے میں کون کہاں کھڑا ہے، بھارت کے مستقبل میں کیا تبدیلیاں آئیں گی اور پاکستان کا مقام کیا ہو گا—یہ تمام سوالات آنے والے چند مہینوں میں واضح ہو جائیں گے۔ قارئین!ان تمام حقائق و واقعات کی روشنی میں اگر غیرجانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو میرے سمیت کروڑوں پاکستانی اس تذبذب کا شکار ہیں کہ دنیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟کیا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے یقینا کچھ ایسا سوچ رکھا ہوگا کہ اگر معاملات اس حد تک آگے بڑھے تو پاکستان کیا کیا اقدامات اٹھا سکتا ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus