×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارت: کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا
Dated: 31-Mar-2026
ایک بھارتی جرنلسٹ نے بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر سے پوچھا کہ پوری دنیا ایک طرف متوجہ ہے تو آپ اس میں کردار کیوں نہیں ادا کر رہے، ہم تو دنیا کی چوتھی بڑی طاقت ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ کام دلالوں کا ہے اور یہ دلالی پاکستان کر رہا ہے۔ جب یہ خبر آئی کہ پاکستان کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کو ایک ٹیبل پر بٹھا کر اسلام آباد میں مذاکرات کروائے، تو تب یہ بیان جے شنکر نے جیلس ہو کر دیا تھا۔ امبانی خاندان اور ایڈانی خاندان، اور بھی بڑے خاندان ہیں۔ جے شنکر ان کا ملازم تھا اور ان کی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کا کام کرتا تھا۔ تو انہوں نے اسے مودی کے ساتھ لگا کر وزیرِ خارجہ اس لیے بنایا کہ یہ ان کے مفادات کے لیے کام کرے۔ بھارت کی 80 فیصد عوام کے پاس اتنی دولت نہیں ہے جتنی ان چار خاندانوں امبانی ایڈانی برلا اور ٹاٹا خاندانوں کے پاس ہے۔ یہ ان کی فرم میں ملازم تھا، اس کو اٹھا کر وزیرِ خارجہ بنا دیا تاکہ ان کے مفادات کے لیے کام کرے۔ وہ الیکشن میں سارا پیسہ انویسٹ کرتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے مودی اب تیسری دفعہ اقتدار میں ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ انڈسٹریل، سرمایہ دار لوگوں کے دلال ہیں، اور الزام تم پاکستان پر لگا رہے ہیں کہ پاکستان دلالی کرتا ہے۔ پاکستان تو عالمِ امہ کا سر خیل ملک اور اس کی واحد ایٹمی طاقت ہے،امہ کا کانسپٹ آپ لوگوں کو آتا ہی نہیں ہے۔ آپ لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ امہ کیا ہوتی ہے، کیونکہ آپ کے تو بتیس کروڑ دیوی دیوتا ہیں۔ آپ کا تو ایک رب بھی نہیں ہے، آپ کو کیسے پتا کہ خدا پر یقین کیا ہوتا ہے یا امہ کیا ہوتی ہے۔آپ کا تو ذات پات کا سسٹم اتنا بْرا ہے کہ شودر کا ہاتھ بھی لگ جائے کسی براہمن کو تو اس کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ کاٹ لے، نہ کاٹے تو چالیس دن اس ہاتھ کو دھوتا رہتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق اس وقت بھارت میں 85 کروڑ شودر اور دلت ہیں۔ ان لوگوں کو ہاتھ لگانے سے بھی آپ کا ہاتھ ناپاک ہو جاتا ہے۔ پورے بھارت نے مل کر مسلمانوں سے بابری مسجد چھین کر وہاں پر رام مندر بنایا ہے۔ چند مہینے پہلے اس کا افتتاح کیا گیا ہے۔ اس افتتاح میں موجودہ بھارتی صدر درو پدی، جو شودر اور دلت برادری سے ہیں، ان کو نہیں بلایا گیا۔ یعنی شودروں اور دلتوں کو ان مندروں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، ان کے الگ مندر ہوتے ہیں۔آپ کو عالمِ امہ کا کیا پتا کہ عالمِ امہ کیا ہوتی ہے۔ پاکستان یہ بھی نہیں چاہتا کہ ہمارے اردگرد، آگے پیچھے جو ہمسایہ ملک ہیں وہاں قتل و غارت ہو۔ لڑائی اگر دشمنوں میں بھی ہو تو اسے بند کروانا چاہیے۔آپ کا دھرم آپ کو یہ سکھاتا ہے کہ جنگ و جدل اور یدھ،یہ سب چیزیں آپ کو آپ کا دھرم سکھاتا ہے۔ اس لیے آپ پاکستان پر دلالی کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ آپ لوگوں کے لیے اور وزیرِ خارجہ جے شنکر کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ پاکستان آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر اپنا اگلے سال کا بجٹ تیار کرتا ہے، مگر اس کی خارجہ پالیسی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وجہ سے، اتنی کامیاب ہے کہ اسے پوری دنیا کا سب سے بڑا چوہدری بریک فاسٹ، لنچ اور ڈنر پر بلاتا ہے اور اس کے مشورے کے بغیر چلتا نہیں ہے۔ عالمی طاقتوں کا کہیں اس کا نام بھی نہیں ہے، لیکن اسے یہ منصب سونپا گیا ہے کہ ہماری صلح کرواؤ۔ اور یہ آپ لوگوں کے لیے جل مرنے کا مقام ہے۔اس لیے آپ اندر سے سڑے ہوئے ہو اور آپ کے منہ سے نکلتا ہے کہ پاکستان دلال ہے۔ آپ پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ایک طرف افغانستان کے اندر، دوسری طرف بلوچستان کے اندر جو حالات پیدا کیے ہوئے ہیں۔ ابھی پاکستان کی ایجنسی کے ہاتھوں ذلت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ یہ سب سے بڑی ذلت ہے آپ لوگوں کے لیے، اگر محسوس کرو تو۔خون جب زمین پر گرتا ہے تو صرف مٹی سرخ نہیں ہوتی، انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔ ایران اور غزہ کی سرزمین آج اسی شرمندگی کی گواہ ہے، جہاں معصوم بچوں کے کھلونے ملبے تلے دبے ہیں اور ماؤں کی آہیں فضا میں معلق ہیں۔ ایران میں 28 فروری 2026 سے جاری حملوں کے نتیجے میں اب تک 1,500 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 200 سے زائد معصوم بچے شامل ہیں، جبکہ 18,000 سے زائد زخمی ہیں۔ ہر زخمی جسم ایک کہانی ہے،اور اگر اس میں لبنان بیروت میں تباہی ہلاکتوںاور بربریت کو شامل کر لیا جائے تو اسرائیل اور اس کے اتحادی بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جاتا ہے ۔1982ء میں جب لبنان کے صابرہ اور شتیلا کیمپوں پر انسانیت سوز بمباری کی جس کے نتیجے میں اس ایک دن میں اکیس سوپناہ گزین فلسطینیوں کو شہید کیا گیا تھا اور یہ سلسلہ آج کے دن تک بھی رُکا نہیں ۔بیروت پر بمباری سے روزانہ کی بنیاد پر شہادتیں رقم ہو رہی ہیں۔ اور ہر شہید ایک ایسا چراغ جو بجھ کر بھی اندھیرا بڑھا گیا۔ غزہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 72,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 20,000 سے زائد بچے شامل ہیں۔ 171,000 سے زائد افراد زخمی ہیں—ایسے زخمی جو شاید زندگی بھر کے لیے معذوری اور درد کا بوجھ اٹھائیں گے۔ بچوں کی لاشیں، ماؤں کی چیخیں اور ویران گھروں کے ملبے—یہ سب صرف اعداد نہیں، یہ انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا داغ ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکے گا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے جب ان معصوم جانوں کا خیال آتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے سرگرم عمل ہے، اگر وہ جنگ کے شعلوں کو بجھانے کے لیے سفارتی محاذ پر کوششیں کر رہا ہے، اگر اس کی آواز عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے میں کردار ادا کر رہی ہے—تو یہ صرف سیاست نہیں، یہ انسانیت کی خدمت ہے۔ اور اگر یہ کوششیں کامیابی کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔مگر افسوس اس امر کا ہے کہ کچھ ہمسایہ ممالک، خصوصاً بھارت، ان کاوشوں کو بھی شک و شبہ کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ جب آگ بجھانے والے ہاتھوں پر بھی انگلیاں اٹھائی جائیں تو سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا، ضمیر کا بن جاتا ہے۔اور جن دنیا پوری دنیا اسرائیل کی بربریت پر لعن طعن برسارہی تھی تو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر جا پہنچے اور نیتن یاہو کو جپھیاں ڈال کر پوری دنیا کی انسان دوست قوتوں کا منہ چڑھاتے رہے۔ ایسے وقت میں جب معصوم جانیں بچانے کی ضرورت ہے، جب جنگ کو روکنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا انسانی فریضہ ہے، تب پاکستان کی کوششوں کو متنازع بنانے کی بجائے ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ اگر کوئی ملک اس موقع پر بھی سیاست کو انسانیت پر ترجیح دے، تو واقعی اسے اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ تاریخ ہمیشہ گواہ رہتی ہے۔وہ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ کس نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی لکھتی ہے کہ کس نے مشکل وقت میں انسانیت کا ساتھ دیا اور کس نے تماشائی بنے رہنے کو ترجیح دی اور کون انسانیت کی خدمت پر کاربند لوگوں کے خلاف زہر اگلتا رہا؟ کون ہرزہ سرائی کرتا رہا؟ کون پارساؤں کی کردار کشی کرتا رہا۔جیسے ہی تاریخ کے سامنے یہ سوالات آئیں گے تو مودی اور جے شنکر جیسے شخصیات کے منحوس چہرے تاریخ کے پردے پر نمودار ہو جایا کریں گے۔یہ کالے دل والے انسانیت کے دشمن ہیں۔ فطرتاً یہ جلاد ہیں۔دہشتگردی بدی اور اور برائی کے دلال ہیں۔کالے دل والوں کا کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا ہی ہوتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus