×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مردِ مزاحمت جنرل کیانی۔۔۔ویل ڈن
Dated: 15-Oct-2010
اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ وطن عزیز پر جب بھی آمریت مسلط کی گئی اس کے پیچھے ہمیشہ بین الاقوامی محرکات کا عمل دخل ضرور تھا۔ دراصل 1947ء میں سامراج سے آزادی اور تسلط کا خاتمہ کسی صورت ان قوتوں کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ پاکستان کو جمہوریت کی پٹری سے اتارنے میں جہاں امریکہ اور برطانیہ پیش پیش رہے ہیںوہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپنے والے بھارت نے بھی ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا۔یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ 47ء سے 70ء تک بھارت نے بائی ہک اینڈ کروک سے استحکام پاکستان کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ خاص طور پر پہلے ابتدائی سالوں میں پاکستانی قیادت کو سازشوں کے تحت قتل کروایا گیا وہ ملک جو ابھی اپنی ارتقائی مراحل میں بنیادی ضرورتوں کا محتاج تھا اسے لولہ لنگڑا بنانے کے لیے بھارتی لابی اپنے مذموم مقاصد میں بھرپور کردار ادا کرتی رہی۔ قیام پاکستان کے دن سے ہی اس نوزائیدہ مملکیت کی کمزور و نحیف خارجہ پالیسی جو مخدوموں،نوابوں اور وڈیروں کی اولادوں پر مشتمل تھی بین الاقوامی محاذوں پر پاکستان کے کیس کو کمزور انداز میں پیش کرکے اس مملکت کو شروع سے ہی ناکام سٹیٹ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی رہی۔ اپنے قیام کے پہلے پچیس سال پاکستان اپنے اتحادی بلاکس ڈھونڈنے میں ناکام رہا، جبکہ اس دوران 3مارشل لائوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے سیاسی امیج سے متعارف نہ کروایا جا سکا۔ شروع دن سے ہی اقتدار کے ہوس پرست شکاریوں نے ذاتی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملکی مفادات کو سازشوں کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ دنیا کہ نقشے پر ابھرنے والی اس نامکمل ریاستی عمارت کی بنیادوں سے اینٹیں نکالنے میں جہاں مفاد پرست جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کا ہاتھ تھا وہیں اس ملک کے سیاست دان اور ہماری فوج کے اعلیٰ جرنیل بھی اقتدار کی کرسی کو ہمیشہ للچائی نظروں سے دیکھتے رہے۔ لیکن اقتدار کے پیکیج کو سہانے انداز میں پیش کرنے والی غیرمرئی غیرملکی قوتیں ہمیشہ اپنے ٹارگٹ کے حصول میں کامیاب و کامران ہوتی رہیں۔ دراصل سبز ڈالروں کی بوریاں کسی بھی ذی ہوش شخص کے ہوش اڑا سکنے میں اہم کردار ادا کرتی رہیں ہمارے بیشتر نام نہاد سیاست دان اور جرنیل اپنی ذاتی تسکین اور مفاد کی خاطر قوم کو ہمیشہ غیر کے ہاتھوں بیچنے پر کمربستہ نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک امریکی وزیر خارجہ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ایک گرین کارڈ کے حصول کے لیے کوئی بھی پاکستانی سیاست دان اور جرنیل اپنی قوم سے غداری کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے جبکہ میرے خیال میں نیشنلٹی اور گرین کارڈ تو بہت دور کی بات یہ لوگ تو ایک وزٹ ویزا کے حصول کی خاطر اس ملک کی سالمیت کے سودے کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور بین الاقوامی ’’غداری‘‘ کی ان منڈیوں میں بکنے کو اپنے لیے اعزاز تصور کرتے ہیں۔ ان کی اولادیں اور دولت یورپ میں جبکہ یہ اس کے جسم سے آخری ’’ماس‘‘ کو نوچنے کے لیے پاکستان میں رہنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ ان عالمی دراندازیوں اور سازشوں کے دوران یہ قوتیں کبھی کبھی اپنے اثاثوں کی قربانی بھی دینے سے گریز نہیں کرتی اور یہی وجہ ہے کہ جب جنرل ضیاء الحق کو ڈیڑھ درجن سے زائد ملٹری اعلیٰ افسروں کے ساتھ حادثے کا شکار بنایا گیا تو ان کا اپنا سفیر بھی ساتھ تھا جس کی بَلی چڑھائی گئی۔ کیونکہ جنرل ضیاء الحق کے آخری ایام میں سانحہ اوجڑی کیمپ رونما ہوا اور جب کبھی بھی ملک کی ملٹری و سول اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ بہادرکو آنکھیں دکھانا شروع کیں تو انہیں بھی سیاست و اقتدار کے نقشہ سے مٹا دیا گیا۔ بالکل اسی طرح جس طرح قائدعوام ذوالفقار علی بھٹواور اس سے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان کو ہٹایا گیا تھا۔ اور جب پرویز مشرف نے امریکی مفادات اور برطانوی مفادات کے راستے میں ٹانگ اڑانا چاہی یا سامراج کی مزید مدد کے قابل نہ رہے یا امریکی مفادات کے تحفظ کے قابل نہ رہے تو انہیں بھی انتہائی بے عزت طریقے سے اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ کیونکہ جنرل مشرف جو کہ سیاسی طور پر انتہائی کمزور اور تنہا ہو چکے تھے اور آج کے تازہ بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جنرل مشرف کی چوہدری برادران سے تسل کا آغاز ہو چکا تھا۔ ڈرون حملوں کا آغاز مشرف دور میں ہو چکا تھا۔ جولائی 2007ء میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے اپنی تقرری کے بعد بالکل وائسرائے کے سے انداز میں خطے کی اس ایٹمی قوت کو اپنی مرضی سے چلانا شروع کر دیا بالکل اسی طرح جس طرح سابقہ سفیر رایان کروکررابرٹ اوکلے اور دیگر نے کیا تھا۔ اسی طرح سابقہ برطانوی ہائی کمشنر مارک لائل گرانٹ جو پاکستان کو اپنے باپ داد اکی جاگیر سمجھتے تھے اور وہ تقسیم ہند کے 60سال بعدبھی خود کو خطے کا وائسرائے سمجھتے تھے۔ پاکستان جو آج داخلی خارجی محاذوں پر تنہا ہے اور یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے پاکستان کی موجودہ حکومت خارجی محاذ پر ہزیمت کا شکار ہے اور اپنے عرب دوستوں خصوصی طور پر سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پچھلے60سالوں میں کبھی اتنے سرد نہیں ہوئے جتنے اب ہیں۔ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بھی قابل تحسین نہیں ہیں۔ چین اپنی جغرافیائی مجبوریوں کی وجہ سے ساتھ کھڑا ہے۔ ملائیشیا،انڈونیشیا بھی عالمی کسادبازاری اور کاروباری مندی کی وجہ سے مسلم دنیا کے ساتھ کھل کر چلنے سے قاصر ہیں۔ دبئی اور امارات کے معاشی حالات انہیں علاقے کی صورت احوال سے دوررکھنے پر مجبور ہیں۔ خود پاکستان کی داخلی صورت حال یہ ہے کہ ہم ایک مردِ بیمار کی طرح نڈھال پڑھے ہیں۔ڈرون حملوں اور ہیلی کاپٹراٹیک کی وجہ سے ملک کی داخلی خودمختاری ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ ہماری حالت ایسی ہو گئی ہے جیسے ’’اِب کہ مار سالے‘‘ ہر دفعہ مار پڑھنے پر ہم جھوٹی تڑیاں لگاتے ہیں پھر نئے تھپڑوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے پھر ہم واویلا کرتے ہیں جبکہ ہمیں دلاسہ تک بھی نہ دیا جاتا ہے۔ چند روز پہلے مجھے میرے ذرائع سے خبر ملی کہ میرانشاہ اور افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں نیٹو ہیلی کاپٹر نے جب دہشت گردوں کے تعاقب کی آڑ میں پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی اور پاکستانی سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے تو پاک فوج کے کمانڈروں کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا پہلے نیٹو ہیلی کاپٹروں کو سہولت تھی کہ وہ بارڈر کے اس پار سے اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کر سکتے ہیں۔ اب کی بار اردو، پشتو، انگلش تینوں زبانوں میں سیکورٹی چپ ہٹا کر وائرلیس پر پیغام نشر کیا گیا کہ اگر نیٹو ہیلی کاپٹر یا نیٹو مشین گنز بارڈر کے اندر آ کر تو درکنار اُس طرف سے بھی فائر کرتی ہیں ہماری پاک دھرتی پر تو انہیں واپس منہ توڑ جواب دیا جائے۔سینہ بہ سینہ جب یہ باتیں محب وطن عوام تک پہنچ رہی ہیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ کوئی ’’مردِ مزاحمت‘‘ ایسا موجود ہے جو اپنی قومی غیرت پر لڑنا مرنا جانتا ہے۔ وگرنہ اس سے پہلے قوم اور فوج کا مورال اتنا لو لیول پر چلا گیا تھا کہ ہر محب وطن پریشان تھا۔ 2007ء میں جب جنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب نے چیف آف دی آرمی سٹاف کا چارج سنبھالا تو ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا کہ کیا چیف آف دی آرمی سٹاف فوج کے پسے ہوئے اور گمشدہ مورال کو واپس لا سکیں گے؟ لیکن الیکشن 2008ء سے پہلے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے نہ صرف آئی ایس آئی اور ایم آئی کو سیاست اور الیکشن سے دور رہنے کا آرڈر دے دیا بلکہ 2008ء کو فوجی جوانوں کا سال قرار دے کر ریاست کے اس ستون کے امیج کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پھر جب امریکہ کی جانب سے فوج کے کردار خصوصی طور پر آئی ایس آئی کے کردار پر انگلی اٹھائی گئی تو جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ان کی بہادر فوج نے نہ صرف امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی بلکہ جنرل شجاع پاشا جو آئی ایس آئی کے انچارج ہیں انہوںنے امریکی دورے کے دوران صرف پروفیشنل مصروفیات رکھ کر دیگر غیرضروری تقریبات اور میٹنگز کو موخر کر کے امریکی تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا۔ اسی طرح صدر مملکت کے گذشتہ دورہ برطانیہ میں صدر کے ساتھ جانے والے فوج کے وفد نے برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون کی لغویات کے جواب میں فوج کے وفد کا دورہ برطانیہ کینسل کر دیا تو برطانوی و امریکی حکومتوں کو احساس ہوا کہ جنرل پرویز کیانی کی معیت میں پاک فوج کی یہ لیڈرشپ خالصتاً پروفیشنل اور محب وطن ہیں تو ان کا ماتھا ٹھنکااور امریکی اور برطانوی فوجی قیادت جنرل اشفاق پرویز کیانی کے متعلق برملا یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی پٹریاٹ پاکستانی ہیں۔ اب نیٹو کنٹینر پر حملے نیٹو کی سپلائی لائن بند ہونے اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا پاک فوج کو حکم ملا تو پاکستانیوں کے لبوں پر دعا اور دل شاداب ہو گئے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی پاکستان کو ترنوالہ سمجھے والوں کے لیے مردِ مزاحمت بن کر سامنے آئے ہیں۔ ویل ڈن جنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں آپ آگے بڑھیے دشمن کے منہ کھٹے کیجئے۔ پاکستان کی سالمیت باقی ہر چیز پر مقدم ہے۔ ملک کے ہر طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے بلا تفریق مذہب و مسلک اورجمہوری قوتیں آپ کے ساتھ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح 1965ء میں پاک فوج کے شانہ بشانہ تھیں۔آپ نے قوم کو مورال دیا قوم آپ کے لیے جان دینے کو بھی تیار ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus