×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وزیراعظم کے نام جیالے کا خط
Dated: 19-Oct-2010
محترم مطلوب وڑائچ صاحب یہ خط کروڑوں کارکنوں کے دلوں کی آواز اور آپ پر قرض ہے۔ ہم آپ کے ساتھ مائنس 30ڈگری جب شریانوں میں خون بھی جم جانے کے قریب ہوتا تھا یورپ کی سڑکوں پر کبھی برسلز یورپی یونین کبھی ٹین ڈائون سٹریٹ لندن کبھی یواین او ہیڈکوارٹر جنیوا سینکڑوں ساتھیوں سمیت صدر مملکت آصف علی زرداری،سید یوسف رضا گیلانی سمیت اسیران جمہور یت کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہے ہوتے تھے اور آج زرداری صاحب کے صدر بننے اور یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بننے میں کہیں نہ کہیں ہم کارکنوں اور جیالوں کا ہاتھ بھی ضرور ہے۔ ہم کارکنان آپ سے اتنی توقع تو کر سکتے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم کے نام اس خط کو اپنے کالم میں جگہ دیں۔ میں یہ تحریر ہاتھ میں پکڑکر عجیب کشمکش کا شکار ہوں کہ اسے اپنے کالم میں جگہ دوں یا بھٹوازم اور شہید بی بی کے فلسفہ سے بے وفائی کروں۔ محترم وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی صاحب ! یہ عجیب شان بے نیازی ہے یا پھر وزیراعظم کا وراسٹائل کہ کچھ عرصے سے آپ کے بیانات اور کہے ہوئے جملے اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی جس نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید جیسے قدآور لیڈر اور وزرائے اعظم پیدا کیے وہ پارٹی جو بدترین حالات اور اپنے قیام سے لے کر پچھلے 43سالوں میں قطعہ نظر اس کے کہ وہ اقتدار میں ہے یا حزب اختلاف میں اس کی عوامی مقبولیت کا گراف 36%سے نیچے نہیں آیا۔ اس پارٹی کا نامزدکردہ وزیراعظم جسے ملک کی قومی اسمبلی نے پہلی مرتبہ بلامقابلہ منتخب کروایا ہو جو حکومت کے علاوہ اپوزیشن کا بھی پسندیدہ ہو۔ وہ اتنا حواس باختہ ہو سکتا ہے کہ اس کے کہے ہوئے جملے سیاست کے ایوانوں میں ایسا سیاسی عدم استحکام پیدا کر دیں کہ جس کو سنبھالنے کے لیے پیپلز پارٹی کی دیگر قیادت کو بعدازاں ناکوں چنے چبانے پڑیں۔جیالوں کے لیے سرپرائز تو اسی دن شروع ہو گیا تھا جس دن وزیراعظم صاحب نے وزارت عظمی کا حلف اٹھایا اور اس کے دوسرے دن ان کے بیٹے کی دعوت ولیمہ کے کارڈ پر جو ایڈریس تھا وہ مشرف دور میں نوازے جانے والی ایک خاندان کے فارم ہائوس کا تھا جس خاندان کو مشرف صاحب نے اپنے دور حکومت میں اس قدر نوازا کہ لاہور کے دل میں واقع سینکڑوں ایکڑ اراضی جس کی مارکیٹ ویلیو اربوں روپے کی تھی محض چند لاکھ روپے میں 99سالہ لیز پر دے دیا تھا۔ خیبر سے لے کر کراچی تک اسی خاندان کی تعمیراتی کمپنی کو ٹھیکوں اور انڈرپاسوں سے نوازا گیا۔ کرائے کے مکان میں رہنے والے وزیراعظم بننے کے بعد جناب یوسف رضا گیلانی کے دیکھتے ہی دیکھتے لاہور کے انتہائی پوش علاقوں میں بنگلے بنتے چلے گئے۔ وزیراعظم کی اہلیہ سے لے کر بیٹوں، بہنوں اور عزیز رشتے داروں نے اپنے اپنے لیٹرہیڈپیڈ اور وزٹ کارڈوزیراعظم سے تعلق کے حوالے سے چھپوا لیے۔ اور وہ وزیراعظم جس کو ان کے سپیکری کے دور میں ملازمتوں کے غلط تقسیم کی بنیاد پر کم از کم پانچ سال جیل جانا پڑا تھا اور موصوف کو جب احتساب کورٹ راولپنڈی سے سزا سنائی جانے والی تھی تو ان کا دایاں ہاتھ آج کے صدر مملکت نے پکڑرکھا تھا اور بایاں ہاتھ مطلوب وڑائچ صاحب آپ نے پکڑ کر احتساب عدالت کے جج کے سامنے بلند کیا ہوا تھا جس میں فیصلے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری جو خود اسی احتساب عدالت میں پیشی کے لیے آئے ہوئے تھے تاریخی کلمات کہے تھے کہ جناب جج صاحب جس شخص کو آپ نے آج سزا سنائی ہے وہ کل اسی ملک کے سب سے ایگزیکٹو عہدے پر فائز ہوگا میرے سمیت ملک بھر کے جیالے آج پریشان ہیں کہ کیا وزیراعظم نے ماضی کے اسباق سے کچھ نہیں سیکھا اور بقول شاعر: خود تو ڈوبے ہیں صنم ہم کو بھی لے ڈوبیں گے گذشتہ روز اپنے پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران محترم وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب آپ نے یہ کہہ کر پارٹی کارکنوں اور جیالوں پہ ایک بم گرانے کے مترادف انکشاف کیا کہ گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر صاحب کو جب جنرل پرویز مشرف نے اپوائنٹ کیا تو مجھے ٹیلی فون پر صرف یہ اطلاع دی کہ میں نے سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب لگا دیا ہے۔جب کہ ہم جیالے اور کارکنان یہ سمجھتے رہے تھے کہ سلمان تاثیر بے شک کیئر ٹیکر گورنمنٹ میں بے شک مشرف کے فیڈرل منسٹر رہے مگر گورنر وہ پیپلزپارٹی کے کوٹہ سے ہی بنے۔محترم وزیراعظم صاحب آپ کے اس انکشاف کے بعد کہ گورنر پنجاب جنرل مشرف کی باقیات میں سے ہیں سے جیالوں کے زخمی دلوں پر اور بھی نشتر چلے۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر خالصتاً جیالے ہیں۔چلیں بھلا ہو آپ کا جو کارکنوں کو سچ دکھا کر مایوس تو گیا مگر حقیقت آشکار ہوئی۔ پھرچند روز قبل ایک عوامی اجتماع میں ارشاد فرمایا کہ نیب کے چیئرمین کے تقرر میں صدر مملکت نے گیند ان کے کورٹ میں پھینک دی اور دل نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں ایسا فریضہ سونپ دیا گیا جو کہ ناخوشگوار تھا اور بحالت مجبوری یہ فریضہ سرانجام دینا پڑا۔ بھلا بتایئے وزیراعظم کو ایسی کونسی مجبوری تھی یا اگر پارٹی کے یا ایوان صدر کی طرف سے ایسا کچھ حکم تھا تو بھرے اجتماع میں اس کا میڈیا کے سامنے اظہار کرکے انہوںنے اپنے ساتھ پارٹی لیڈرشپ کی حیثیت بھی مشکوک بنا ڈالی۔ ٹھیک اپنے حلف کے چند روز بعد ہی ایک ایسے شخص کو میڈیا ایڈوائزر مقرر کیا جس نے ایسی حرکتیں کیں کہ اپنے جاب سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے اور پارٹی کے لیے بھی باعث ندامت بنے اور میڈیا کے ساتھ اس وقت کے حالات خراب آج تک بہتر نہ ہو سکے۔ ابھی چند ہفتے پہلے وزیراعظم صاحب آپ نے پارلیمنٹ سیشن کے دوران اپنے خطاب میں فرمایا کہ میں نے ججوں کو بحال کیا اور کسی جنرل کسی غیرملکی طاقت کے ایما پر یہ بحالی نہ ہوئی تھی۔ مانا آپ سارا کریڈٹ بے شک لے لیں مگر ججوں کی بحالی کے اعلان کے وقت یہ اعلان بھی کر دیا جاتا کہ تمام ججز رہائی کے بعد اپنے اپنے عہدوں پر کام کریں گے تو پھر وہ سب کچھ نہ ہوتا بات اپوزیشن اور وکلا کے لانگ مارچ تک نہ پہنچتی اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہزیمت اختیار نہ کرنا پڑتی اور نہ آپ کو یہ صفائیاں دینے کی ضرورت پیش آتی۔ وزیراعظم صاحب آپ نے وہ سب کر بھی دیا جو اپوزیشن کی ڈیمانڈ تھی مگر پنجابی کے اس محاورہ کے مصداق کہ’’بکری دودھ تو دیتی ہے مگر مینگنیں ڈال کر‘‘ یہی نہیں کچھ روز پہلے وزیراعظم صاحب آپ نے پارلیمنٹ کے خطاب کے دوران فرمادیا کہ ججوں کو ایک ایگزیکٹو آرڈیننس کے تحت بحال کیا گیا ہے جس کی منظوری ابھی پارلیمنٹ نے نہیں دی یا دوسرے لفظوں میں وہ آنرایبل ججز کو یہ دھمکی دیتے نظر آتے ہیں کہ اگر حکومت سے کوئی ناخوشگوار صورت احوال ہوئی تو وہ ججز صاحبان کو جنرل مشرف کی طرح گھر بھیج سکنے کا آپشن رکھتے ہیں۔ اس طرح پاکستان جو کہ ابھی تک اگست ستمبر کے سیلاب کی صورت حال سے سنبھلنا تو درکنار اس کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا گیا۔ پاکستان کے دو کروڑ عوام اس وقت بے یارومددگار کھلے آسمان کے نیچے زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم پڑے ہیں غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح 0%ہے۔ خارجی محاذ پر پاکستان شکست در شکست اور اپنے بین الاقوامی وقار کی اہمیت کھو رہا ہے چند روز قبل ایشیائی نشست سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔صورت احوال تو یہ کہ ؎ ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے۔ انجام گلستاں کیا ہوگا ملک کی بکھرتی ہوئی سالمیت اور علاقائی صورت احوال بھی کچھ بہتر نہیں مگر ایوان اقتدار میں بیٹھے حکمرانوں کی نظروں میں شاید کُکرے پڑ گئے ہیں کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ عوامی غیرمقبولیت کا یہ گراف کہاں تھمے گا۔ وزراء یہ سوچ کر کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اگلا الیکشن لڑنے کے لیے ابھی عمر کی مدت پوری نہیں کر پائے اور پھر وزیراعظم کے لیے عمر کی کم از کم حد 35سال پورے ہونے میں ابھی 13سال ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کے بغیر اگلے الیکشن میں جیتنے کا خواب دیوانے کی بڑھ کے مترادف ہے۔ وزراء نے اپنے اپنے محکموں میں لوٹ مار کی سیل لگا رکھی ہے۔ اس وقت سیاسی مارکیٹ میں درجنوں ایسے وزراء کے قصے زبان زد عام ہیںکہ کسی کے دلی کے بنکوں میں اکائونٹ کھلنے کی شنید ہے تو کسی کے کروڑوں ڈالر کے دوبئی کے بنکوں میں اکائونٹ کھلنے کی تکرار ہے۔ وزیر سفیر اپنی نجی محفلوں میں اکثر یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ جب ہر طرف لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے تو ہم پیچھے کیوں رہیں۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان اور جیالوں میں ایک بے چینی کی لہر پائی جاتی ہے ہر جیالہ جس نے اچھے دنوں کے سہانے خواب دیکھے تھے اپنے چکناچور خواب چہروں پر سجا کر عوام کے سامنے جانے سے خوفزدہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے اکثر سیاسی کارکنوں کا مستقبل نہ صرف تاریک ہو گیا ہے بلکہ انہیں مستقبل دھندلا بھی نظر نہیں آتا۔ ہر طرف ایک بے یقینی کی کیفیت ہے کارکنان پوچھتے ہیں ان گزشتہ اڑھائی سالوں میں وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج تو پل کر اپنے قدوں سے بھی تجاوز کر گئے ہیں اور پارٹی کے اندر اس ناجائز اینکروچمنٹ نے پارٹی قیادت کو یرغمال بنا لیا ہوا ہے اور باقی اڑھائی سالوں میں بہتری آنے کے وعدوں پر اعتبار کون کرے؟جب پیپلز پارٹی کے ورکروں کو اپوزیشن کے پچھلے 12سال اور اقتدار کے اڑھائی سال بھی اپنے اور ملکی حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آئے تو وہ آنے والے اڑھائی سالوں میں کونسا کشمیر فتح کر لیں گے۔ پیپلز پارٹی کی آدھی قیادت کارکنوں سے چھپ گئی ہے آدھی قیادت جس کے سر پر اقتدار کا ہما بیٹھا ہے وہ پارٹی سے چھپ گئے ہیں۔ روز عدالت سے مہلت و توسیع لے کر یہ ڈیلی ویجز کی طرف چلنے والی حکومت دراصل ڈنگ ٹپائو مہم کا حصہ ہے اور لارے لپے لگا کر اپنے اقتدار کو دوام بخشنے والے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے کوئی مطلب نہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کو اپنی ماں کی جنگ اور اپنے نانا کے ازم کو آگے بڑھانے کے لیے یقینا پارٹی اور جیالوں کی ضرورت ہو گی۔ مگر تب تک یہ کارکن جیالے شاید زندگی کے سانس کی دوڑی قائم رکھنے میں کامیاب بھی ہو پاتے ہیں یا نہیں؟ مگر میری دعا ہے کہ وہ احباب جنہوں نے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ میرا خدا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اس ٹولے سے محفوظ رکھے آمین۔ (خیراندیش) صاحبزادہ سید شکیل سجاد شاہ اولٹن سوئٹزرلینڈ
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus