×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عازمینِ حج کے ساتھ اربوں کا فراڈ
Dated: 03-Jun-2025
جب میں پچھلے مہینے پاکستان آیا تھا، ان دنوں میں نے وی لاگ بھی کیا تھا کیونکہ اس وقت یہ خبر گرم تھی۔ اب اس کے اثرات پوری دنیا سے کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حکومتی ادارے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 68 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کی تعداد 77 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ حکومت کو سعودی عرب کی جانب سے جو حج کوٹہ دیا گیا، وہ 1 لاکھ 40 ہزار افراد کا تھا۔ اس میں سے جو کوٹہ ٹریول ایجنسیوں کو دیا گیا، اس کے لیے بروقت اطلاع دینا ضروری تھا تاکہ وہ آگے اپنی تیاری مکمل کر سکیں۔ نومبر یا دسمبر تک ٹریول ایجنسیوں کو یہ بتانا ضروری تھا کہ ان کا کوٹہ کتنا ہے، تاکہ وہ ہوٹلز، فلائٹس اور دیگر انتظامات وقت پر کر سکیں۔ مگر اس بار حکومت نے مارچ کے آغاز تک یہ اطلاع ہی نہیں دی۔ ٹریول ایجنٹوں نے اپنی طرف سے عارضی بکنگ کر لی تھی اور امید لگائے بیٹھے تھے کہ جلدی اعلان ہو جائے گا۔ جب آخرکار اعلان ہوا تو انہیں صرف پندرہ سے سولہ دن دیے گئے کہ وہ تمام فیسیں اور رقوم جمع کروا دیں۔ چنانچہ ٹریول ایجنسیوں نے عوام سے رقوم وصول کیں، کسی سے 60 فیصد، کسی سے 70 فیصد، اور یہ رقوم انہوں نے محکمہ حج، سعودی ہوٹل مالکان، اور دیگر متعلقہ اداروں کو منتقل کر دیں۔ فرض کریں کہ 12 لاکھ، 18 لاکھ، 28 لاکھ، یا وی آئی پی حج 32 لاکھ روپے کا تھا—اس حساب سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کم از کم ڈیڑھ سے دو سو ارب روپے کی مالیت کا معاملہ ہے۔ اور اب حکومت کہتی ہے کہ وقت کم رہ گیا ہے، اس لیے سعودی عرب نے انکار کر دیا ہے۔ اس انکار نے پورے پاکستان میں کہرام مچا دیا ہے۔ غریب، محنت کش، بوڑھے اور خواتین، جنہوں نے پوری زندگی کی جمع پونجی اس امید پر جمع کی تھی کہ وہ حج کریں گے، آج بے بسی کے عالم میں بیٹھے ہیں۔ میری اس سلسلے میں پاکستان میں ٹریول ایجنسیوں کی نمائندہ تنظیم "ایاٹا" کے سابق صدر، آغا طارق سراج صاحب سے بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو انتظامات کے انتظار میں تھے۔ اب جو فیسیں دی گئی تھیں، وہ بھی واپس نہیں ہو رہیں۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ صرف رجسٹریشن فیس ان کے پاس ہے، باقی رقوم تو ایجنسیوں نے ہوٹلز وغیرہ کو دی تھیں۔شنید ہے کہ وزارتِ حج اور متعلقہ اداروں کی ملی بھگت سے یہ پیسے خرد برد کیے گئے ہیں۔ اور نہ جانے یہ رقوم دو سال بعد بھی واپس ملیں گی یا نہیں۔ اس سال پہلی مرتبہ پاکستان سے حج کوٹہ میں صرف 60 ہزار سرکاری حاجی جائیں گے۔ پرائیویٹ حج مکمل طور پر بند ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہے، اور اس کو مذہب کے نام پر ایک سنگین فراڈ کہنا غلط نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس جرم کو کبھی معاف نہیں کرے گا، کیونکہ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، جس کی ادائیگی کے لیے لوگ پوری زندگی محنت کرتے ہیں۔بعض خواتین گھروں میں برتن دھو کر، سلائی کڑھائی کر کے پیسے جمع کرتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ ان کے قہر، بددعائیں اور آہیں ان کرپٹ عناصر کو ضرور لگیں گی۔ چاہے وہ حج آپریٹر ہوں، سرکاری ہوں یا غیر سرکاری، سب برابر کے شریک ہیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے مذہب کے نام پر بھی فراڈ کر لیا جاتا ہے۔ایک سابق وزیر حج کو بھی سزا ہوئی تھی، مگر کرپشن کا نظام کبھی نہیں رکا۔ جب دھوکہ مذہبی فریضے کے ساتھ کیا جائے، تو پھر انسان اللہ کے قہر کا منتظر ہی رہ سکتا ہے۔ہمیں ایسے عناصر کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے، جو ہر سال لاکھوں لوگوں کے جذبات اور زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کو جو خود بھی حافظ قرآن ہیں۔انہیں اس بات کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ وزیراعظم کو اس سے پہلے حج کونسلیں ملی ہیں، حج کمیٹیاں ملی ہیں، ٹریول ایجنٹ ملے ہیں، متاثرین ملے ہیں لیکن کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔اب ساری نظریں چیف آف سٹاف اور فیلڈ مارشل کی طرف اٹھ رہی ہیں لوگ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود قرآنی احکامات کو سمجھتے ہیں اس لیے وہ کم از کم حج کے متاثرین کے ساتھ اور مذہبی فریضے کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ 77 ہزار متاثرین کی عید کی خوشیاں کیا ہوں گی؟ ان میں سے بہت سے افراد کی زندگی بھر کی کمائی لٹ گئی۔ کچھ لوگ اگلے سال حج کی امید لگائے بیٹھے ہیں، لیکن کون جانتا ہے کہ وہ اگلے سال زندہ بھی ہوں گے یا نہیں؟ عید الاضحیٰ کے موقع پر مسلمان لاکھوں روپے اپنے اوپر، اپنے خاندانوں پر، اور قربانی کے جانوروں پر خرچ کرتے ہیں۔ لاکھوں جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ لیکن اس بار ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی قربانی کا مقصد سمجھتے ہیں؟ اگر ہم واقعی قربانی کو عبادت سمجھتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کی خبر گیری بھی کرنی چاہیے جو قربانی کرنے کے حق دار تھے، لیکن ان سے حق چھین لیا گیا۔ اسی طرح فلسطین میں اسرائیلی مظالم کے بعد لاکھوں بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان نوالے نوالے کو ترس رہے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد لاکھوں میں، اور شہداء کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ان کے لواحقین کی کیا عید ہو گی؟ ان کی خوشیاں کہاں ہوں گی؟ مسلمان اگر عید پر لاکھوں روپے خرچ کر سکتے ہیں، تو انہیں چاہیے کہ ان مظلوموں کی بھی مدد کریں۔ ان کی کفالت کریں، تاکہ کم از کم کچھ ماہ کے لیے انہیں دو وقت کی روٹی تو میسر آ سکے۔ اور آخر میں، ایک افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں زائرین کے ساتھ اس حد تک ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ دیگر بہت سے ممالک، حتیٰ کہ بھارت جیسے ملک میں بھی، جہاں مسلمانوں کو مشکلات درپیش ہوتی ہیں، حج کے اخراجات پاکستان کی نسبت کم اور سہولیات زیادہ ہوتی ہیں۔ ایک طرف حج کے اخراجات اتنے بڑھا دیے گئے ہیں کہ غریب جو پیسے پانچ سال میں جمع کرتا تھا، اب اس کے لیے پچیس سال درکار ہیں۔ اور اگر کوئی شخص بڑی مشکل سے اتنے پیسے جمع کر بھی لے، تو اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے، جیسا کہ اس سال 77 ہزار حاجیوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ قارئین!بچپن میں بزرگوں سے ایک چٹکلا نما واقع سنا تھا کہ ایک کسان نے تمباکو کی فصل کاشت کی ہوئی تھی ، جب وہ تقریباً تیار ہو چکی تھی تو کسان نے دیکھا کہ اس کی فصل کو کوئی آہستہ آہستہ چرا رہا ہے ۔کسان نے اپنے تئیں بہت اندازے لگائے اور احباب سے مشاورت کی کہ یہ تمباکو کی فصل چرا کون رہا ہے۔ایک بزرگ کسان کے ساتھ کھیت کے قریب گئے اور اسے کہا کہ ذرا دیکھو اگر چرائے ہوئے پودوں کو صرف اوپر اوپر سے کاٹا گیا ہے تو یہ کسی حاجی کا کام ہے۔لیکن اگر ان کو جڑ سے ہی اکھاڑا گیا ہے تو پھر یہ کسی الحاج کا کام ہو سکتا ہے۔ قارئین ! یہ بات تو ایک چٹکلے کی حد تک ٹھیک تھی مگر پاکستان میں مذہب کے نام پر بھی جو بے ایمانیاں اور کرپشن ہو رہی ہے ،یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔پاکستان کی ایک مشہور دینی جماعت اور جب اقتدار کے ایوانوں میں تبدیلی آتی ہے تووہ ہر صاحب اقتدار کے ساتھی بن جاتے ہیں۔اور وہ اس سیاسی تعاون یا رشوت کے بدلے صرف وزارتِ حج و اوقاف اور کشمیر کمیٹی کی وزارت کیوں مانگتے ہیں۔یقینا بات اتنی سادہ نہیں جتنی میں نے لکھ دی اور آپ نے سمجھ لی۔بات اربوں اور کھربوں روپے کی ہے اور ان مراعات کی ہے جو اس وزارت کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر صاحب پاکستان کو اگر صحیح راستے پر ڈالنے کا عزم کیے ہوئے ہیں تو برائے کرم کروڑوں پاکستانیوں کی خواہش پر وہ اپنے اس عمل کی ابتدا وزارتِ حج و اوقاف اور اس سے جڑی ہوئی کمیٹیوں کی تفتیش سے شروع کریں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus