×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قیامت کا انتظار!
Dated: 11-Jun-2025
یوکرین اور رشیا کی جنگ کو شروع ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔ ان تین سالوں کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق دونوں طرف کے ملا کر پندرہ لاکھ سے زیادہ فوجی اور سویلین ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ کو بے شک رشیا نے شروع کیا، لیکن اس کے محرکات خود جنگ کی دعوت دینے کے مترادف تھے۔رشیا نے جب ان ریاستوں کو آزاد کیا تھا تو ان سے ایک عہد لیا تھا کہ وہ نیٹو میں شامل نہیں ہوں گی۔ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوئیں یا رشیا کے خلاف کسی بھی فوجی اتحاد میں شامل ہوئیں، تو پھر رشیا کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ انہیں دوبارہ اپنی حدود میں شامل کر لے، اسی اصول کے تحت جس کے تحت انہیں آزاد کیا گیا تھا۔جب یہ اصول طے پا گیا تو رشیا نے ہنگری، بلغاریہ، جارجیا، رومانیہ، پولینڈ، چیکوسلواکیہ، یوکرین، وائٹ روس (بیلاروس)، کرغستان، ازبکستان، ترکمانستان وغیرہ کو بغیر کسی گولی چلائے آزادی دے دی۔ حالانکہ اس وقت رشیا ایک مضبوط سوویت یونین تھا، لیکن پھر بھی اس نے یہ اقدام کیا کہ شاید یہ آزادی کا وقت ہے اور مجھے اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ یوکرین کے ساتھ رشیا کا ایک معاہدہ ہوا کہ یوکرین میں موجود ایٹمی ری ایکٹرز کو پْرامن طریقے سے رشیا منتقل کیا جائے گا۔ اگر انہیں منتقل نہ کیا جا سکا تو ان کی نگہداشت کی ذمہ داری رشیا پر ہو گی اور وہی اس کے اخراجات بھی برداشت کرے گا۔ یوکرین اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔بعد میں جب مختلف امریکی صدور جیسے کلنٹن، جارج بش (سینئر)، اوباما اور مسٹر ٹرمپ (جو اب دوبارہ آ چکے ہیں) آئے، تو انہوں نے ان تمام ممالک کو نیٹو میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں اشارہ و دعوت دی۔ رومانیہ، ہنگری اور پولینڈ نے یہ دعوت قبول کر لی، لیکن یوکرین تذبذب کا شکار رہا کہ اسے یہ قدم اٹھانا چاہیے یا نہیں۔ جب رشیا دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا، تو صدر پوٹن نے نہ صرف اپنے اقتدار کو مضبوط کیا بلکہ رشیا کو ایک نئی عالمی طاقت کے طور پر ابھارا۔ بیچ میں جو پندرہ بیس سال کا خلا آیا تھا، اس دوران امریکہ اکیلا ہی عالمی چوہدری بن گیا تھا۔ اس سے دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی مسائل پیدا ہوئے۔ اب رشیا دوبارہ منظر پر آ چکا ہے۔ امریکہ میں جوبائیڈن کے آنے کے بعد یورپ کے ساتھ مل کر رشیا کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب ان کوششوں کا اثر ہوا تو یوکرین نے رشیا کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ دونوں ممالک ایک جیسی زبانیں بولتے ہیں یا کم از کم ایک دوسرے کی زبان کو سمجھتے ہیں۔اسی تناظر میں رشیا نے موقع کو غنیمت جانا اور یوکرین پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں رشیا نے یوکرین کے تقریباً سولہ فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا، جن میں دو بڑے صوبے اور دو بڑے شہر شامل ہیں۔ چونکہ یوکرین کے پیچھے یورپ کھڑا تھا، اس لیے نیٹو کے اصول کے مطابق — کہ اگر کسی رکن ملک پر حملہ کیا جائے تو سب مل کر اس کا دفاع کریں گے — اس صورتِ حال نے جنگ کو مزید شدت دی۔ ترکی، جو نیٹو میں امریکہ کے بعد سب سے طاقتور ملک ہے، کے علاوہ جرمنی، فرانس، اور اٹلی اتنے مضبوط نہیں۔ اب تک رشیا یوکرین کے 26 علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے۔ میرے عسکری معلومات کے مطابق، روس کے پاس اتنی طاقت اور وسائل موجود ہیں کہ وہ تین چار دن میں سارا کام مکمل کر سکتا تھا۔ لیکن وہ ایک خاص طریقے سے دراصل یورپ کی فوجی طاقت کو کم کرنے میں مصروف رہا۔ یعنی، میں یوکرین کو ماروں گا، یورپ یوکرین کی مدد کرے گا، اور یوکرین کے ساتھ ساتھ یورپ بھی کمزور ہوگا۔ یورپ کے اندر بدامنی ہوگی، اس کی سالمیت اور معیشت کو خطرات لاحق ہوں گے۔ان تمام معاملات میں، جب روس نے یوکرین کو بہت نقصان پہنچایا، تو جوبائیڈن کے جانے کا وقت آ گیا، اور یورپ کو جوبائیڈن کی حمایت حاصل تھی۔ اب وہ جا چکے ہیں اور ٹرمپ آ چکے ہیں۔ ٹرمپ کاروباری آدمی ہیں، یورپ کے مزاج کو سمجھتے ہیں، اور ذہنی طور پر تھوڑے سے جارح صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں ہونے دوں گا۔ میں روس کے ساتھ تعلقات بہتر رکھوں گا۔ یورپ کی تو اوقات ہی کیا ہے؟ یوکرین نے جو جنگ روس کے خلاف لڑی، اس میں جو فنڈز درکار تھے، ان کا 60 فیصد امریکہ نے ادا کیا۔ یوکرین کی کل مالی مدد میں اکیلے امریکہ نے 350 بلین ڈالر انویسٹ کیے، جبکہ باقی طاقتوں میں کسی نے ایک ارب، کسی نے دو ارب دیے۔ اب ٹرمپ نے آ کر کہا کہ یوکرین کے معدنی وسائل ہمارے حوالے کیے جائیں، کیونکہ ہم نے 350 بلین ڈالرز دیے ہیں۔ یہ کوئی امداد نہیں تھی، بلکہ ایک سرمایہ کاری تھی۔یورپ کے باقی 26 ممالک نے مل کر اتنے پیسے نہیں دیے جتنے اکیلے امریکہ نے دیے تھے۔ اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ انگلینڈ، جو پہلے یورپی یونین سے نکل گیا تھا، اب دوبارہ یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان سب کو معلوم ہے کہ امریکہ بہت جلد یورپ کی مدد کرنا بند کر دے گا اور نیٹو کے اتحاد سے بھی نکل جائے گا، کیونکہ وہ یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ امریکہ بھی اس معاشی چکر میں زخمی ہو چکا ہے۔ اس وقت امریکہ اور اس کے عوام کی حالت بھی کچھ خاص بہتر نہیں ہے۔ بندہ پیسے باہر تب لگاتا ہے جب اس کے گھر میں سکون ہو۔ جب گھر میں سکون نہ ہو، تو یہ جنگیں اور عیاشیاں کیوں کرے گا؟اس سارے چکر میں روس سے کہا گیا کہ تم صلح کر لو۔ امریکہ کے نائب صدر اور ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو پوری دنیا کے سامنے کیمروں کے سامنے ذلیل کیا۔ اس سے پہلے بھی ریاض میں محمد بن سلمان، یوکرین اور روس کو بلا کر ملاقات کروا چکے تھے۔ یورپ نے روس کے ہوائی اڈے تباہ کرنے کا منصوبہ شروع کر رکھا تھا۔ وہ اس پر خفیہ طور پر کام کر رہے تھے، حالانکہ وہ نیٹو کے رکن ممالک تھے۔ لیکن انہوں نے امریکہ کو یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ ہم روسی اڈے تباہ کرنے والے ہیں۔ یہ ایک بددیانتی تھی، کیونکہ سب سے بڑا پارٹنر ہونے کے باوجود امریکہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اور ساتھ ہی امید بھی رکھی گئی کہ امریکہ ہمارے ساتھ کھڑا رہے گا۔روس پچھلے ایک مہینے سے جنگ بندی کے عمل میں مصروف تھا۔ اس کی توجہ ادھر سے ہٹ گئی تھی۔ اسی دوران یورپی ممالک نے چار سو ڈرونز بھیج کر روس کا ایک بڑا ہوائی اڈہ تباہ کر دیا، جہاں چالیس سے زائد لڑاکا طیارے موجود تھے۔ ان کی تباہی سے سات ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس پر روس کی چیخیں نکل گئیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب بھی روس پر حملہ ہوتا تھا، تو دو منٹ کے اندر صدر پوٹن کی پریس کانفرنس آ جاتی تھی۔ اب پچھلے 99 گھنٹے سے پوٹن صاحب خاموش ہیں۔ ساری دنیا انتظار کر رہی ہے کہ اب وہ کیا قدم اٹھائیں گے۔ اگر وہ ایٹم بم گراتے ہیں تو اقوام متحدہ شور مچائے گا۔ اگر وہ یورپ کے کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب نیٹو پر حملہ ہے، اور امریکہ کو لازمی جنگ میں شامل ہونا پڑے گا، کیونکہ وہ معاہدے کا حصہ ہے۔ زندگی ایسے نہیں چلتی کہ ہر بات جلد بازی سے کی جائے۔ زندگی تدبر اور حکمت سے چلتی ہے۔ اب اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں حملہ ہونا ہے۔ یہ حملہ نیوکلیئر یا اس جیسا کچھ ہو سکتا ہے۔ روس نے جو میزائل تیار کیا ہے، اس کا نام "شیطان" رکھا گیا ہے۔ سنا ہے کہ وہ اب اسے استعمال کرے گا۔ وہ ایٹم بم تو نہیں کہلائے گا، لیکن نیوکلیئر سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔برطانیہ کے وزیرِاعظم نے لندن کے شہریوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں، ہم پر حملہ ہونے والا ہے۔ نیوکلیئر جنگ میں جس نے پہل کی، وہی جیتا ہے۔ یہی موجودہ حالات ہیں۔ ممکن ہے کہ میرے اس کالم کے شائع ہونے تک حملہ ہو چکا ہو یا ہونے والا ہو۔ قارئین! انتظار قیامت کی طرح شدید ہوتا ہے اور جب یوکرینی اوریورپی عوام کو یہ خدشہ رہے کہ کسی وقت بھی ان پر نیوکلیئر اٹیک ہو سکتا ہے تو یہ انتظار بھی کسی قیامت سے کم نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus