×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اسرائیل کے پاگل پن اور جنونیت کو کیسے روکا جائے؟
Dated: 17-Jun-2025
کسی بات پر ایک ظالم نے شریف آدمی کو تھپڑ رسید کر دیا۔ وہ آگے سے کہنے لگا، "اِب کے مار سالے"۔ اس پر ظالم حیران ہوا کہ یہ کہتا ہے، "اِب کے مار کے دیکھ"، مجھے چیلنج کر رہا ہے، اب مجھے جواب میں نہ جانے کیا کرے۔ اس نے پھر ایک لگایا، وہ آگے سے بولتا گیا کہ، "اِب کے مار"۔ اس نے پھر لگا دیا۔ آخر کار مارنے والا تنگ آ کر چھوڑ گیا کہ شاید اس کو مار کھانے کی عادت پڑ گئی ہے۔ مار کھا رہا ہے، اکڑ بھی رہا ہے۔ اصل بات یہ نہیں تھی، اصل بات اس کا مزاج تھا، وہ حقیقت تھی کہ اس کا انداز تھا، "اِب کے مار سالے"۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس کو ڈرا رہا تھا کہ یہ بھاگ جائے، لیکن وہ مار کھاتا رہا اور یہ لفظ نہیں چھوڑا کہ، "اِب کے مار"۔ ان سب چکروں میں اب ایران کا حال بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بالکل ایسا ہی ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے ماضی قریب یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے 46 سال سے ایران یورپ، یو این او اور امریکہ کی پابندیوں کا شکار ہے۔ جب سے رضا شاہ پہلوی نے اس ملک کو چھوڑا، اس وقت سے اس ملک میں افتاد اور مشکلات آ پڑی ہیں۔ اس ملک کے اندر جو حالات ہیں، ایران کے اندر امریکن ایمبیسی پر قبضہ کیا گیا، پھر عراق کے ساتھ اس کی جنگ کروا دی گئی۔ تمام عربوں اور امریکہ نے عراق کے صدر صدام کو سپورٹ کیا، جنہوں نے ایران کے ساتھ پنگا لے لیا۔ ایران کو بھی سمجھ نہیں آئی کہ مجھ پر پابندیاں لگی ہیں، مجھے یہ جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ یہ وہ جنگ تھی جو دس سال لڑی جاتی رہی۔ جب دونوں طاقتوں کو یہ یقین ہو گیا کہ عراق اور ایران اب یہ اس قابل نہیں ہیں کہ اسرائیل کا کچھ بگاڑ سکیں، جب دونوں طرف ٹینکوں کے پہاڑ لگ گئے، اس دس سالہ جنگ کے دوران تقریباً دس لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔ ایران اور عراق کے متعلق "نائیک" اور "کھلنائیک" کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی ہیرو اور ولن کا۔ ایران کا کردار پوری دنیا کے سامنے کھلنائیک کا پیش کیا جاتا رہا، کیونکہ دنیا بھر کے یہودی اس کے خلاف تھے، دنیا بھر کے سامراج اس کے خلاف تھے۔لیکن خود ایرانی قیادت کو بھی یہ ادراک نہیں ہو سکا کہ میں اپنے ہمسایوں، خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مثبت تعلقات رکھوں۔ ہمسایہ وہ ہوتا ہے جس کو آپ بدل نہیں سکتے، اس نے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔ آپ کے رشتے دار، بہن بھائی اور شریکا تک بدل لیتے ہیں، لیکن ہمسایہ نہیں بدل سکتے۔ ایران نے اس بات کا ادراک نہیں کیا، اسی لیے وہ پاکستان کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہے، لیکن پاکستان نے ہمیشہ اپنے بھائی کے طور پر، اچھے ہمسائے کے طور پر اس کا خیال کیا ہے۔ رشیا نے مختلف ممالک کو تیل بیچنا شروع کر دیا، یعنی یو این کے ایگریمنٹ سے ہٹ کر تیل بیچنا شروع ہو گئے کیونکہ ان کے پاس سروائیو کرنے کے لیے دوسرا کوئی راستہ نہیں رہا۔ ایران نے پاکستان کے ساتھ بھی پھڈا رکھا اور پاکستان کے تفتان کے بارڈر پر اٹیک کر دیا۔ پاکستان نے اس کی مزاحمت کی اور اس کا جواب دیا۔اسرائیل کو ایران کا نیوکلیئر طاقت بننا منظور نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ ایران کے نیوکلیئر طاقت بننے کے بعد امریکہ و اسرائیل کے پاس وہ اختیار نہ رہے کہ جب چاہے دبا دیا، پابندیاں لگا دیں۔ پاکستان جب سے نیوکلیئر طاقت بنا ہے تو ایران کو کھٹک رہا تھا، اور وہ بھی بڑی دیر سے نیوکلیئر طاقت بننے پر کام کر رہے تھے۔ اب وہ اس کے قریب پہنچ گئے ہیں، اب امریکہ اور اسرائیل کو یہ کھٹک رہا تھا۔جنرل سلیمانی کو دو چار سال پہلے ایک اٹیک کے ذریعے شہید کر دیا۔ اس کے بعد پھر عراق اور شام میں ان کے سفارتخانوں کو تباہ کر دیا۔ ایران کے پریذیڈنٹ کو ہیلی کاپٹر میں ہلاک کر دیا، یہ حقیقت ہے جو پوری دنیا کے سامنے ہے۔ اس کو مارنے کے بعد اس کے چہلم پر آئے ہوئے فلسطینیوں کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو بھی شہید کر دیا۔ ابھی دو ہفتے نہیں ہوئے تھے کہ اسماعیل ہانیہ کو شہید کیے ہوئے، پھر انہوں نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو بھی شہید کر دیا۔اوراس طرح اسرائیل نے اپنے تقریباتمام دشمنوں کا صفایا کر دیا۔ اس کے بعد حزب اللہ اور حماس کی کمر توڑ دی۔ اس کی پہلی اور دوسرے درجے کی قیادت حملوں میں ختم کر کے رکھ دی گئی۔ حوثیوں کو بھی تباہ کر دیا، ثنا شہر کو بالکل تباہ کرکے رکھ دیا گیا، فوجی چھاؤنیاں اْڑا دی گئیں۔میر جعفر اور میر صادق مسلمانوں کی ہر مملکت اور ریاست میں موجود رہے ہیں، جو چھپے ہوئے ہیں اور مسلمان نیشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جب یہ اتنی مار کھا چکے، اتنے دکھ اْٹھا چکے، اتنے دھوکے کھا چکے، یہ سارے بلنڈرز ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں، پھر ان کو سمجھ نہیں آتی کہ ہم میں کیا خامی ہے۔ کچھ نہ کچھ خامی تو ہے ہم میں۔پاکستان میں رہنے والے ایک دودھ بیچنے والے، ایک تھڑے پر برف بیچنے والے کو اس بات کا ادراک ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔ پوری دنیا کے ڈپلومیٹ، پوری دنیا کے ملٹری اینالسٹ اس بات کو جانتے ہیں کہ کسی خطے میں جنگ لگنے لگتی ہے تو امریکہ اس خطے میں اپنے شہریوں کو نکال لیتا ہے۔ اور یہ ہوتا آیا ہے اب تک جب سے امریکہ کا وجود دنیا میں آیا ہے۔ جب پاکستان اور انڈیا کی جنگ لگنی تھی تو دو دن پہلے امریکی پریذیڈنٹ کا بیان آیا کہ اس خطے میں تمام امریکی لوگ پاکستان سے نکل جائیں، اور انڈیا کی طرف سے بھی جو لوگ ہیں وہ نکل جائیں۔ اب جن لوگوں کو سمجھ تھی، وہ وہاں سے چلے گئے۔ اب امریکہ نے تین دن پہلے اعلان کر دیا تھا کہ اس خطے میں، گلف، ایران اور مڈل ایسٹ سے امریکن وہاں سے نکل جائیں۔ وہ کھل کر نہیں کہہ سکتے تھے کہ اسرائیل اٹیک کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندے نہیں مروانا چاہتا، وہ اپنے شہریوں کی ہر حال میں حفاظت چاہتا ہے۔امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اڈوں پر بھی ڈپلائمنٹ میں تبدیلی کر دی تھی۔ ایران کو پھر بھی سمجھ نہیں آئی۔ تھڑے میں برف بیچنے والے کو اس بات کا اتنا تو فہم ہوتا ہے، لیکن اس کے بڑے بڑے دماغ، بڑے بڑے جنرل، بڑے بڑے سپریم کمانڈر، انقلاب کے سپریم کمانڈر... وہ کیسے سپریم کمانڈر، جن کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ وہ اپنے جنرل اور سائنس دان سڑک پر مروا لیتے ہیں؟یہ نام کے ہی انقلابی ہیں۔ اگر ان کے اندر انقلاب ہوتا، تو وہ دوسرے سے بڑھ کر ذہین اور عقلمند ہوتا۔ وہ صرف اقتدار حاصل کرنے کا انقلاب تھا۔ کس کا؟ ملّا کا۔ جس طرح پاکستان میں ہم ملّا کو بہت زیادہ مضبوط کرتے جا رہے ہیں، وہ بھی جس دن ایک بڑی طاقت میں آئیں گے، آپ دیکھ لیں، یہ تحریک، شیعہ، دیوبندی یا کوئی بھی فرقہ، جب طاقت میں آ جاتا ہے اور اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے، یہی ان کا سارا انقلاب ہوتا ہے۔ ہر بندے کے ذہن میں امیرالمومنین بننے کی خواہش ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان ہیں، وہاں وہاں امیرالمومنین بننے کا شوق ہوتا ہے۔دنیا میں دو ملک تھے جو دوسری اور پہلی جنگ عظیم میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ایک تو سوئٹزرلینڈ اور دوسرا ایران تھا۔ ایران نے اپنے آپ کو اس جنگ سے دور رکھا۔ سوئٹزرلینڈ میں سب کے پیسے جمع ہوتے ہیں، اس لیے وہ الگ رہا۔کوئی بھی فراست والا شخص ہوتا، کوئی بھی اہلِ دانش ہوتا، اہلِ علم ہوتا، کوئی بھی ڈپلومیٹ ہوتا، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ فوج کا کام ہے لڑنا، وہ بہادری سے لڑتی ہے تو بہادر فوج کہلاتی ہے۔ فوج کا کام ہے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا۔ ملّا کا کام ہے ملک کی مذہبی اساس کی حفاظت کرنا۔ اور سیاست دان کا کام ہے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا اور معیشت چلانا۔ اگر یہ سارے اپنا اپنا کام کرتے تو ایران کو بھی آج یہ پرابلم نہ آتی۔ پوری دنیا کے لیے یہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے کہ، "یارا! یہ تھا ایران، یہ رہا!" دو منٹ میں ساری قیادت مار دی گئی۔ ان کو نہیں پتا تھا کہ دنیا کی پرانی انگریزی کی بھی مثال ہے، چائنیز زبان میں بھی یہ مثال موجود ہے کہ، "آپ سارے انڈے ایک ٹوکری میں نہ رکھیں، ٹوکری کو جھٹکا لگے گا تو سارے انڈے ٹوٹ جائیں۔" ان انڈوں کو الگ الگ رکھیں، مختلف جگہوں پر رکھیں۔ ان کو نہیں پتا کہ ساری قیادت کو ایک جگہ اکٹھا کرکے رکھا تھا۔ آج کون سا دور ہے؟ آن لائن میٹنگ کر لیتے۔ جو میزائل بنا رہے ہیں، ایٹم بم بنا رہے ہیں، نیوکلیئر بنا رہے ہیں، ان کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے؟ پاکستان سے زیادہ ایڈوانس ہیں، ان کے پاس سارے موبائل، کاریں، ہر چیز ہے تو یہ آن لائن میٹنگ نہیں کر سکتے تھے؟ابھی تو نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ ایران کتنا پیچھے چلا گیا ہے۔ لیکن ایران جتنا پیچھے چلا گیا ہے، اب دوبارہ اس کو کوئی آگے نہیں آنے دے گا۔ اب ایران کے اندر پہلے ہی 21، 22 فیصد ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں بھی جو صدر بنا ہے، اس میں صرف 21 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے تھے۔ ایران کے لوگ ووٹوں پر یقین نہیں کرتے، اب آئندہ الیکشن میں تو پانچ فیصد بھی ووٹ کاسٹ نہیں ہوں گے۔ اب انقلاب وڑ گیا ہے۔متوقع ہے کہ اس ملک سے جو بھاگ چکے ہیں کاروباری لوگ، وہ اب کبھی بھی ایران میں واپس نہیں آئیں گے، اس صورت میں کہ یہاں ایک مذہبی رجیم، فنڈامنٹل رجیم ہے۔ 2025 کے تقاضے مختلف ہیں۔ آگے آنے والا دور ڈیجیٹل ہوگا، ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اب اس میں ایران کی ملّازم کے ساتھ گنجائش مشکل نظر آ رہی ہے۔ اب پھر کوئی انقلاب ہی جو ایران کو پھر سے نئے راستے میں ڈال کر، ایران کو ترقی کے رستے میں ڈال دے۔ پچاس سال پہلے یہ ایشین ٹائیگر تھا، آج وہ پستی کی طرف چلا گیا ہے۔ یہاں پہ یہ امر ضرور قابلِ اطمینان ہے کہ ایران پر جس طرح پہلے روز بہت بڑا اٹیک کیا گیا، اس کو مفلوج کر کے رکھ دیا گیا، 12 گھنٹے کے بعد ہی اس کی طرف سے، چلیں بہت بڑا جوابی حملہ نہیں کیا گیا، مگر کچھ نہ کچھ تو کیا گیا۔ ایران نے یہ تو ظاہر اور ثابت کیا ہے کہ ابھی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے دو ایف 35 جہاز بھی مار گرائے گئے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ تل ابیب شہر میں تباہی ہوئی اور کئی ایئر بیسز بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں آ کر تباہ ہوئے ہیں۔ دیکھتے ہیں، ایران کتنا رزیلینس دکھاتا ہے۔ اور جب تک میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اس وقت تک اطلاعات کے مطابق ایران مسلسل جوابی مذاحمتی حملے کر رہا ہے۔ جو نقصان کا مداوا تو نہیں مگر کسی حد تک شہیدوں کے لہو کی اشک شوئی ضرور ہے۔پاکستان ،ایران اور عالم اسلام کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ یہ میر جعفر،میر صادق جیسے غدار ہمیشہ ہمارے ہی خطے اور ہمارے ہی مذہب میں کیوں پیدا ہوتے ہیں۔آج دنیا بھر میں مسلمانوں کی کل مجموعی تعداد دوسو کروڑ سے بھی اوپر ہے جبکہ اسرائیل میں بسنے والے یہودیوں کی تعداد صرف 75لاکھ ہے۔ اور یہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لیکن اپنی یونٹی ،اتحاد اورحکمت عملی سے انہوں نے ان دوسوکروڑ مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔اکابرین اسلامی امہ کو یہ سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک وہ اسرائیل سے مار کھاتے رہیں گے اور کب تک ہم اپنی نئی نسل کو یہ پیغام دیتے رہیں گے کہ عالم اسلام یہودیت کے مقابلے میں کس قدر ڈفر ہے؟آج میرے سمیت اسلامی امہ کا ہر فرد تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ پاکستان ہو ،ایران ہو یا پھر عرب ہو کسی ایک کی شکست یا ہزیمت سبھی ہی کے کھاتے میں لکھی جائے گی۔اس بات کا خاص طور پر ایران کو ادراک کرنا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus