×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکہ مفت میں دھکا بھی نہیں دیتا
Dated: 24-Jun-2025
امریکہ براہ راست جنگ میں کود پڑا۔ ایران کی جوہری تنصیبات پرپوری قوت کے ساتھ حملے کر دیے۔ یہ امریکہ کی طرف سے دوسرا دھوکہ ہے۔ پہلے ایران کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے۔ 15 جون کو ایک اور دور ہونا تھا کہ اسرائیل نے 13 جون کو امریکہ کی پشت پناہی پر ایران پر حملے کر دیے۔ اب ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے پاس دو ہفتے ہیں مگر 12 روز قبل ہی ایران کی تین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکہ ان کی تباہی کے اضافے کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ وہاں سے جوہری مواد پہلے ہی ہٹا لیا گیا تھا۔یہ جنگ اب توڑ پکڑتی ہوئی نظر ارہی ہے ہو سکتا ہے کہ یہ عالمی جنگ میں بدل جائے۔ ایران پر ان حملوں کے بعد عالمی سطح پر ملا جلا رد عمل سامنے ا رہا ہے ٹرمپ پر تنقید بھی ہو رہی ہے جبکہ اس کے حامی ممالک ٹرمپ کے ساتھ کھڑے ہو چکے ہیں۔اسرائیل کی طرف سے تو اس پر مبارکباد دی گئی ہے۔امریکہ کے اندر سے بھی ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے اپنی پارلیمنٹ(کانگریس) کی اجازت کے بغیر یہ حملہ کیا ہے۔ ٹرمپ کو ائندہ دنوں میں مواخذے کا سامنا ہو سکتا ہے مجھے نہیں لگتا کہ ٹرمپ اپنی صدارتی مدت پوری کر سکیں گے۔ اپ کے سامنے جو تفصیلات رکھی ہیں یہ ہم نے اپنے کالم کے مکمل ہونے کے بعد کالم بھیجتے ہوئے اس میں شامل کی ہیں۔جو روٹین میں ہم نے کالم لکھا تھا وہ اپ کے سامنے اسی طرح سے رکھتے ہیں: اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران نے جوابی حملہ کرکے نہ صرف دنیا کو حیران کیا بلکہ اسے پریشان بھی کر دیا۔ تاہم، ایران کا یہ حملہ اُن اموات کا بدلا نہیں ہو سکتا جو اُس کے نو سینئر ترین جرنیلوں، چیف آف آرمی اسٹاف اور آدھ درجن سے زائد نیوکلیئر سائنسدانوں کی صورت میں ہوئیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو دنوں یا مہینوں کی نہیں بلکہ عشروں کی محنت سے تیار ہوتے ہیں۔ ایران ان سائنسدانوں کو کھو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، جو انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے، وہ بھی محض دنوں میں دوبارہ نہیں بن سکتا؛ ایسے ڈھانچے کو کھڑا کرنے میں سالوں لگتے ہیں۔ایران کو دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے کسی نہ کسی جگہ سے آغاز کرنا ہوگا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ جنگ ابھی جاری ہے اور اس کے ممکنہ نتائج تاحال غیر واضح ہیں۔ جب امریکی صدر نے یہ اعلان کیا کہ "ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں" اور اُسے اسرائیل کا نقصان دکھائی دیا، تو وہ کینیڈا کے صوبے البرٹا میں جاری جی سیون کانفرنس ادھوری چھوڑ کر فوری طور پر واشنگٹن روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔ اس سے قبل وہ اسرائیل میں تعینات اپنے سفیر سے بریفنگ لے چکے تھے۔ جب نیتن یاہو نے انہیں بتایا کہ اسرائیل کے پاس کچھ نہیں بچا اور اگلے پانچ سے سات دنوں میں وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، تو ٹرمپ نے جوش میں آ کر اعلان کیا: "ہم ایران کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ ہمیں پتا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں چھپے ہیں، وہ ہمارے نشانے پر ہیں۔" اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی خامنہ ای آپ کے "ریڈار پر" ہیں اور "فضا کو لاک" کر چکے ہیں، تو پھر ایرانی میزائل ہدف پر کیوں لگے؟ "لاک" کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ ہدف کو مکمل فوکس میں لے آنا۔ اگر واقعی ایسا تھا تو ایرانی میزائل آٹو میٹک تباہ کیوں نہ ہو گئے؟ یہ بیانات صرف سستی جذباتی "بڑھکیں" لگتی ہیں، جیسے پرانی پنجابی فلموں میں سلطان راہی کے مکالمے ہوا کرتے تھے۔ دنیا 2025 میں ہے، اور اس دور کی ترجیحات، حساب کتاب اور سفارتی تقاضے بالکل مختلف ہیں۔ بعد ازاں، ٹرمپ نے بیان دیا کہ وہ ایران کے زیرِ زمین ایٹمی پلانٹس پر حملہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس بی ایف-27 طیارے ہیں جو زمین کے اندر 90 فٹ تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پہلے وہ بم برسائیں گے جو زمین کو نرم کریں گے، پھر اس پر مزید حملے ہوں گے۔ اس "نرم زمین پر بم برسانے" والی تھیوری پر مبصرین نے بجا طور پر حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کوئی سائنسی حکمت عملی ہے یا ہالی ووڈ کی فلم؟ ایسے میں جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی — جس کے سربراہ کا تعلق بھی یہودی برادری سے ہے — یہ کہے کہ ایران بم نہیں بنا رہا، تو اس کا وزن معمولی نہیں۔ ظاہر ہے، ایسا ادارہ ایران کے حق میں بلاجواز بیان نہیں دے سکتا۔ ان عوامل کی وجہ سے ٹرمپ کے بیانات کی شدت میں کمی آئی ہے۔اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہائوس میں مدعو کیا گیا — پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی آرمی چیف کو وردی میں اس سطح پر مدعو کیا گیا ہو۔ وہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑی پذیرائی کی گئی اس ملاقات کو ٹرمپ کی طرف سے اپنے لیے اعزاز قرار دیا گیا۔کچھ لوگ کے لیے یہ حیران کن تھا۔کہا جاتا ہے کوئی لنچ فری نہیں ہوتا میرا اپنا تجربہ ہے میں امریکی وزارتوں کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں۔ امریکی تو فری میں کسی کو دھکا بھی نہیں دیتے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے اتنا کچھ کیسے کر دیا۔اس کی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف سے جب ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالا اس موقع پر امریکہ کو مطلوب دہشت گرد شریف اللہ ان کے حوالے کیا تھا اس پر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کی کھل کر تعریف کی گئی تھی اور پھر ٹرمپ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے پاکستان سے سیز فائر کے لیے کہا تو پاکستان نے اس پر ان کی عزت افزائی کی تھی۔ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی ملاقات معمولی نوعیت کی نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق امریکہ کی موجودہ پالیسی اور خطے میں جاری کشیدگی سے ہے۔ میڈیا نے اس اہم پیشرفت کو نظر انداز کیا، حالانکہ یہی وہ ملاقات تھی جس کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کو دو ہفتے کا وقت دیا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ملاقات میں ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے سے متعلق امور زیرِ غور آئے ہوں گے، اور شاید پاکستان کو یہ کردار سونپا گیا ہو کہ وہ ایران کے ساتھ براہِ راست بات کرے کیونکہ ایران، پاکستان کی بات دیگر ممالک کی نسبت زیادہ توجہ سے سنے گا۔ابھی حال ہی میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے جنیوا میں فرانس، جرمنی اور امریکہ کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ نہ ہم جنگ بند کریں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے، ہم بات ضرور کریں گے، لیکن اپنی بات سنائیں گے اور دوسروں کی سنیں گے بھی۔ مگر پہلے اسرائیل کو جنگ بند کرنا ہو گی کیونکہ ابتدا اسی نے کی تھی۔ یہ بیان معمولی نہیں۔ جب فرانس، جرمنی، اٹلی اور یوکے جیسے ممالک یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی طرف سے ایران پر کسی حملے میں شامل نہیں ہوں گے، تو اس کی بڑی وجہ تجارتی مفادات ہیں، نہ کہ کوئی اخلاقی یا انسانی ہمدردی۔ یہ ممالک جانتے ہیں کہ 63 مسلم ممالک کی مجموعی دو ارب سے زائد آبادی کو ناراض کر کے صرف اسرائیل جیسے چھوٹے ملک کو خوش رکھنا معاشی طور پر نقصان دہ ہے۔ اسی بنا پر جی سیون کا 51واں اجلاس بھی کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر اختتام پذیر ہوا، کیونکہ رکن ممالک کا اسرائیل کی کھلی حمایت پر اتفاق نہ ہو سکا۔ جاپان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کسی جی سیون ملک نے ایران پر اسرائیل کے حق میں حملہ کیا تو وہ جی سیون کا بائیکاٹ کر دے گا۔ ظاہر ہے یہ ایران کی حمایت نہیں بلکہ معاشی تحفظ کی پالیسی تھی۔ ایران کو ان دو ہفتوں کو کسی فتح کی خوش فہمی میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے دی گئی مہلت صرف ایک حربہ ہو، اور حملہ ایک دن پہلے کر دیا جائے تاکہ ایران بے خبری میں مارا جائے، جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے۔ مگر اب کی بار ایران نے روس، چین اور ترکی جیسے اتحادیوں کے سہارے جوابی حملہ کیا اور اسرائیل کے بڑے بڑے شہروں کو عملی طور پر غزہ بنا کر رکھ دیا۔ اسرائیل ایران پر اسپتالوں پر حملے کا الزام لگاتا ہے، لیکن یہ گلہ تو وہ ملک کر سکتا ہے جس کا اپنا دامن صاف ہو۔ فلسطین میں اسرائیل نے نہ صرف اسپتال بلکہ اسکول بھی تباہ کیے، لہٰذا اس کے الزامات کی اخلاقی حیثیت بے معنی ہے۔ ایران کو آئندہ دو ہفتے نہایت ہوشیاری اور چوکسی سے گزارنے ہوں گے۔ دشمنی میں نہ صرف دوست، بلکہ اپنا سایہ بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔۔۔ امریکہ کی طرف سے دھوکہ دیا گیا لیکن ایران اس موقع پر چوکنا تھا اس نے حملے کے خطرے کے پیش نظر ان تنصیبات سے جوہری مواد ہٹا لیا تھا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus