×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بارش اور سیلاب چہرے سے نقاب اُتار گیا
Dated: 22-Jul-2025
پاکستان میں سیلاب آنے سے پہلے ہی بارشوں نے وہ تباہی مچائی ہے جس سے لگتا ہے جیسے آفت ٹوٹ پڑی ہو۔ ان طوفانی بارشوں اور طوفان کے بعد دوبارہ برسنے والی بارشوں نے 70 سے زائد افراد کی جان لے لی ہے۔ انفراسٹرکچر جو پہلے ہی کمزور تھا، مزید برباد ہو چکا ہے۔ بھارت ہمیشہ ایسے مواقع کی تاک میں رہتا ہے کہ جب پاکستان کو پانی کی ضرورت ہو تو دریاؤں کا پانی روک لے اور جب پاکستان میں سیلابی صورتحال ہو تو اپنے ڈیموں کے دروازے کھول کر پانی چھوڑ دے تاکہ پاکستان میں مزید تباہی آئے۔ اس بار بھارت نے ابھی تک اپنے ڈیموں کے دروازے نہیں کھولے لیکن بارشوں ہی سے اتنی زیادہ تباہی ہو چکی ہے کہ دل دہل جاتا ہے۔ اگر بھارت کل کو اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑ دے تو صورتحال کی بھیانک تصویر کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایک بار پھر سیلاب کی لپیٹ میں ہے۔ خیبرپختونخوا کے دریا ابل پڑے، کئی نوجوان ان میں بہہ گئے۔اس موقع پر مخالفین کی طرف سے اپنی سیاست چمکاتے ہوئے کہا گیا کہ وزیر اعلی استعفیٰ دے دیں اور گھر چلے جائیں۔ لاہور، گوجرانوالہ، ملتان میں بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ پنڈی اور اسلام آباد میں صورتحال اس قدر بگڑی کہ در یا بہت کچھ بہا کے لے گیا۔ جہلم شہر پانی میں ڈوب گیا اور فوج کو طلب کرنا پڑا۔اب یہاں مخالفین سیاست چمکاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔الزامات کی برسات کیے ہوئے ہیں، استعفوں کے مطالبات لیے پھر رہے ہیں۔کچھ سیاستدان سیلاب کے اس المیے پر بھی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں، الزامات کی بارش ہر طرف جاری ہے۔ بارہا کہا گیا ہے کہ دریا اپنی قدرتی گزرگاہ رکھتے ہیں۔ اگر ان گزرگاہوں پر قبضہ کر لیا جائے تو دریا خاموش نہیں رہتے، وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔ یہ سبق بحریہ ٹاؤن اور دیگر طاقتور ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے خوب سیکھا، جنہوں نے دریائے سواں کے کناروں پر اپنے محلات تعمیر کر لیے۔ قدرت نے چند گھنٹوں کی بارش سے ان محلات کو ملیا میٹ کر دیا اور دریا اپنے اصل راستے پر واپس آ گیا۔ لگتا ہے جیسے قدرت نے انسانوں سے اپنا قبضہ چھڑا لیا۔ یہ سب دیکھ کر ذہن 2010 کے بدترین سیلاب کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور میں ان دنوں کے بہت سے معاملات کا عینی شاہد ہوں۔ یاد ہے کہ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان پاکستان آئے تھے، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ ایمان اردگان بھی موجود تھیں۔ سیلاب زدگان کی حالت دیکھ کر ان کے آنسو رک نہ سکے۔ انہوں نے اپنا شادی کا قیمتی ہار عطیہ کیا اور شرط رکھی کہ حکومت پاکستان اسے نیلام کر کے متاثرین کی مدد کرے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ وہ کس قوم کے حکمرانوں کو نصیحت کر رہی ہیں۔ ترک خواتین کو آج بھی یاد ہے کہ جب خلافت عثمانیہ کا زوال ہوا تو برصغیر کی مسلمان خواتین نے اپنے زیور بیچ کر ترک بھائیوں کی مدد کی تھی۔ اسی جذبے کو دہرانے کے لیے ایمان اردگان نے بھی زیور پیش کیا۔ یہ قیمتی نیکلس اگر عالمی سطح پر نیلامی کے لیے رکھا جائے تو یہ ٹریلینز نہیں تو بلینز میں ضرور فروخت ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں یہ نیکلس توشہ خانہ سے کہیں اور نکل گیا۔ جب عدالت کی طرف سے دباؤ بڑھا تو یہ نیکلس دوبارہ توشہ خانہ میں رکھوا دیا گیا۔ اب بھی کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ توشہ خانہ میں موجود ہے یا پھر کسی اور کی تجوری کی زینت بن چکا ہے۔(پوری عدالتی کارروائی کے درمیان عقد کھلا تھا کہ یہ ہار اس دور کی فرسٹ لیڈی کو پسند آ گیا تھا ) سیلاب اور زلزلہ متاثرین کے لیے اربوں ڈالر کی امداد پاکستان کو ملتی ہے۔ یہ امداد کبھی سامان کی صورت میں آتی ہے اور کبھی نقد رقوم میں۔ لیکن یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں کہ نقد امداد ٹی ٹیز کی صورت میں کہیں اور نکل جاتی ہے جبکہ سامان کی شکل میں دی گئی امداد کئی جگہوں پر پکڑی گئی، اور وہی امدادی سامان بعض اوقات دکانوں پر فروخت ہوتا نظر آیا۔ کمبل، گھی، کپڑے سب ہی بیچ دیے گئے۔ اسی سیلاب کے دنوں میں ہالی وڈ کی اداکارہ انجلینا جولی بھی پاکستان آئیں۔ وہ دکھی دل کے ساتھ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے آئی تھیں لیکن یہاں ان کے ساتھ جو ہوا، اس پر وہ حیران رہ گئیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں ان کے لیے انواع و اقسام کے کھانے تیار کیے گئے، وزراء نے ان سے ملاقات کو اعزاز سمجھا، حتیٰ کہ کچھ وزراء نے اپنے اہل خانہ کو سرکاری جہازوں پر بٹھا کر وزیراعظم ہاؤس پہنچایا تاکہ وہ بھی انجلینا جولی سے ہاتھ ملا سکیں۔ انجلینا جولی یہ سب دیکھ کر ششدر رہ گئیں کہ یہ کیسی قوم ہے جو تباہی کے دنوں میں بھی تماشوں سے باز نہیں آتی۔ ہمارے ہاں سپیڈ کی بڑی بڑی کہانیاں ہیں۔ کبھی کسی پل کا افتتاح 45 دن میں ہو جاتا ہے، کبھی کسی سڑک کا فیتہ 50 دن میں کاٹ دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ منصوبے کاغذوں پر مکمل ہو کر ان کا افتتاح بھی کر دیا جاتا ہے۔ ان سپیڈوں کے پیچھے حقیقت یہ ہے کہ اربن پلاننگ صفر ہے، نکاسی آب کا کوئی نظام نہیں، اور دریا کے راستے پر تعمیرات روکنے والا کوئی نہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر بارش سیلاب بن کر آتی ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیلاب ابھی کوسوں دور ہے مگر اس کی تباہیاں ہمارے سامنے ہیں۔ اگر بھارت نے پانی چھوڑ دیا تو صورتحال کتنی بھیانک ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پاکستان نے جس طرح بھارت کو شکست دی ہے، وہ اب بھی زخم سہلا رہا ہے اور اسی تاک میں ہے کہ پاکستان میں بارشیں مزید ہوں اور وہ اپنے ڈیموں کے دروازے کھول کر پاکستان کو پانی میں ڈبو دے۔ وزیراعظم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کی جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تیاریاں کب ہوں گی؟ موسمیاتی تبدیلیوں کی بات آج سے نہیں ہو رہی، برسوں سے یہی بیانات آ رہے ہیں۔ ہر سیلاب کے بعد حکمران ہیلی کاپٹروں میں تباہ کاریوں کا فضائی جائزہ لیتے ہیں، بیوروکریٹس ٹوٹے ہوئے بندھوں کی طرف لپکتے ہیں اور ان کی نظریں عوام پر کم اور بیرونی امداد پر زیادہ ہوتی ہیں۔ جاپان میں آٹھ شدت کے زلزلے آتے ہیں لیکن ایک بھی ہلاکت نہیں ہوتی کیونکہ انہوں نے انفراسٹرکچر ایسا بنایا ہے کہ آفت آ کر گزر جاتی ہے۔ شروع میں جاپان بھی تباہیوں سے گزرا لیکن انہوں نے سبق سیکھ لیا۔ ہم نے کیا سیکھا؟ امریکہ، روس اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں سونامی آتے ہیں لیکن وہ پہلے سے تیاری کر لیتے ہیں، اس لیے انسانوں کا جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہم کب سیکھیں گے؟ کب ہم قدرت کے قہر سے بچنے کے لیے منصوبہ بندی کریں گے؟ یا ہم ہر سال یہی منظر دیکھتے رہیں گے کہ دریا اپنے راستے خود بناتے ہیں اور ہمارے محلات اپنے ساتھ بہا لے جاتے ہیں؟ پاکستان میں سیلاب اور قدرتی آفات کے سدباب کے لیے ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا ایک محکمہ قائم کیا گیا ہے جس میں عسکری اداروں کا مکمل کنٹرول ہے تاکہ کرپشن اور سرقہ بازی کو کم کیا جا سکے۔ اور اس کا چیئرمین ہمیشہ قومی اسمبلی کا کوئی معتبر ممبر ہوتا ہے۔لیکن اس ادارے کی حالت زار یوں ہے کہ گذشتہ روز سیلاب کے دوران عوام کی آگاہی کے لیے جو سائرن بجایا گیا تھا اس کو پاکستانی میڈیا نے ایکسپوز کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ لوکل اور دیسی سطح پر تیارکیا گیا وہ سپیکر نما سائرن پانچ گز دور کھڑے بندوں کو بھی مطلع نہیں کر سکا۔اگر پاکستانی قوم کو دنیا فتح کرنی اور اسلام کا لیڈر کہلوانا اتنا ہی پسند ہے تو پھر ہمیں جنگوں اور قدرتی آفات سے نپٹنے کے لیے قبل از وقت تیاری کرنی ہو گی۔ ورنہ یہ بارشیں ہمارے چہرے سے نقاب دھوتی رہیں گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus