×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستان میں سرمایہ کاری: خواب، حقیقت اور تلخ زمینی حقائق
Dated: 29-Jul-2025
دو ہمسائے، ایک پاکستانی اور ایک افغانی، ایک دن چائے کی محفل میں مصروف تھے۔ باتوں باتوں میں سیاست کا ذکر چھڑ گیا۔ افغان دوست نے فخر سے کہا: "ہمارے ہاں تو وزیرِ ریلوے بہت ایماندار اور قابل ہیں!" پاکستانی نے ہنستے ہوئے جواب دیا: "یار، پہلے یہ تو بتاؤ کہ تمہارے ہاں ریلوے ہے کہاں، وزیر کہاں سے آ گیا؟" افغانی نے ذرا توقف کیا، پھر مسکرا کر کہا: "جیسے تمہارے ہاں قانون ہے نہیں، مگر وزیرِ قانون ہوتا ہے!" ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی... پھر دونوں ہنس پڑے۔ لیکن اس ہنسی کے پیچھے وہ تلخ حقیقت چھپی تھی، جو صرف طنز ہی کے آئینے میں سچائی کا عکس دکھا سکتی ہے۔ آج جب میں پاکستان کے حالات پر نظر ڈالتا ہوں تو دل بے ساختہ بوجھل ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک خبر پڑھی کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بیرونی سرمایہ داروں کو ترغیبات دی جا رہی ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات، تجارت، معیشت اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کار دوست ماحول سے فائدہ اٹھائیں۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا صرف بیانات، ملاقاتیں اور ترغیب سے سرمایہ کاری ممکن ہے؟پاکستان کے باہر ڈیڑھ کروڑ سے زائد اوورسیز پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں رزقِ حلال کما رہے ہیں۔ ان میں مزدور، انجینئر، سرمایہ دار اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ لاکھوں افراد نے پاکستان میں پلاٹ خریدے، مکان بنائے، رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی — لیکن اکثر کو بدترین دھوکا، قبضے، فائلوں کی گمشدگی اور قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی کی فائل گم، کسی کا پلاٹ متنازع، تو کسی کا مکان غائب۔ راولپنڈی کی ایک معروف ہاؤسنگ سوسائٹی کی مثال لے لیں، جہاں کھربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہو چکی ہیں۔ بااثر حلقے، اشرافیہ اور بیوروکریسی سب کسی نہ کسی سطح پر ان ہاؤسنگ فراڈز میں ملوث ہیں۔ قانون، تحفظ یا انصاف — کسی کا وجود تک نظر نہیں آتا۔پاکستان کی چند ہاؤسنگ سوسائٹیز جیسے ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن کو جدید اور محفوظ سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ سیلاب میں وہ بھی پانی کی نذر ہو گئیں۔ ظاہری خوبصورتی کے پیچھے ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انفراسٹرکچر چھپا ہوتا ہے۔ دیواروں پر چونے سے صرف چمک دکھائی جاتی ہے، درحقیقت عوام کو چونا لگایا جاتا ہے۔ اسلام آباد جیسے منصوبہ بند شہر میں بھی قدرتی آفات کے آگے کوئی تیاری نہیں دیکھی گئی۔ حالیہ واقعے میں ایک گاڑی اپنے دو سواروں سمیت پانی میں بہہ گئی، اور کئی دن بعد لاشیں برآمد ہوئیں۔ جدید شہر کی جدید سوسائٹی میں اتنی بڑی خامی کیسے رہ گئی؟تو جب اپنے ہی لوگ پاکستان میں سرمایہ لگانے سے کتراتے ہیں تو کوئی غیر ملکی کیسے اعتماد کرے گا؟ میرا ایک قریبی دوست، جو دنیا کی مہنگی ترین رہائشی اسکیم "پام جمیرہ" (دبئی) کے سات مرکزی ڈائریکٹرز میں شامل ہے، بتاتا ہے کہ اْس پراجیکٹ میں 65 فیصد سرمایہ کاری صرف پاکستانیوں کی ہے۔ یعنی وہ سرمایہ، جو پاکستان کے شہروں، منصوبوں یا انفراسٹرکچر میں لگ سکتا تھا، ملک سے باہر جا چکا ہے — صرف اس لیے کہ یہاں سرمایہ کاری غیر محفوظ، غیر یقینی اور غیر شفاف ہے۔ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ کو بامِ عروج تک پہنچانے والا ملک ریاض، آج پاکستان کے بجائے دبئی میں سوسائٹیز بنا رہا ہے، کیونکہ پاکستان میں اس کے لیے حالات ناسازگار ہو چکے ہیں۔ جب ایسے لوگ ملک سے کنارہ کش ہو جائیں تو کوئی غیر ملکی — سعودی، قطری، مصری یا یورپی — کیوں کر سرمایہ لائے گا؟ سرمایہ کاری کے لیے کچھ بنیادی تقاضے ہوتے ہیں:1 امن و امان:جب ملک میں جرائم، اغوا، قبضے، اور بھتہ خوری عام ہو، اور دو صوبے (خیبر پختونخوا اور بلوچستان) دہشت گردی کی لپیٹ میں ہوں، تو غیر ملکی سرمایہ کار کیسے اعتماد کرے گا؟ المیہ یہ ہے کہ حکومت نے کبھی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے پرامن شہروں کا مؤثر تاثر پیش کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اکثر بیرونِ ملک یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پورا پاکستان خطرناک ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بیشتر حصہ بالکل پْرامن ہے۔ یہ تصویر حکومت کو دنیا کے سامنے رکھنی چاہیے۔ 2 توانائی کی فراہمی اور لاگت:نہ بجلی وافر ہے، نہ سستی۔ گیس کی شدید قلت ہے، اور جنہوں نے متبادل کے طور پر سولر سسٹم نصب کیے، ان پر بھی نئے ٹیکسز کی بھرمار ہے۔ بجلی کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں، جو صنعتکار اور کاروباری طبقے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔3. ون ونڈو آپریشن کی عدم موجودگی:سرمایہ کار کو سہولت درکار ہوتی ہے، نہ کہ دفتر در دفتر کی خاک چھاننا۔ یہاں ہر فائل کو "چلانے" کے لیے پیسے لگتے ہیں — رشوت، سفارش اور اثر و رسوخ کے بغیر کچھ ممکن نہیں۔4. انصاف کی ناقص فراہمی:عدالتوں کا حال یہ ہے کہ فیصلے سالوں تک التوا کا شکار رہتے ہیں، اور جج حضرات بھی باہم اختلافات کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ سرمایہ کار کو ایسا نظام چاہیے جہاں اْس کے سرمائے کا تحفظ یقینی ہو، مگر یہاں تو حصولِ انصاف خود ایک خواب بن چکا ہے۔5. پانی، ڈیمز اور سیلابی خطرات:پاکستان یا تو خشک سالی کا شکار ہوتا ہے، یا سیلاب سے تباہ ہوتا ہے۔ ملک میں ڈیمز کی شدید کمی ہے۔ بھارت ہمارے ہی دریاؤں پر 265 ڈیمز بنا چکا ہے، جبکہ ہم کالا باغ جیسے بنیادی منصوبے پر بھی قومی اتفاق پیدا نہیں کر سکے۔ تربیلا اور منگلا کے بعد ترقی کا پہیہ گویا رک سا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر دو تین سال بعد آنے والا سیلاب پچھلے کئی سالوں کی ترقی، انفراسٹرکچر اور محنت کو بہا لے جاتا ہے۔ اور ہم ایک بار پھر دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں۔اب تو دنیا سیلابوں میں پاکستان کی مدد کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ آخری مرتبہ دنیا نے دل کھول کر پاکستان کی 2010 کے سیلاب میں مدد کی تھی اور اربوں روپے کے فنڈز ایسے خورد برد ہوئے کہ اس کے بعد سیلاب آئے تو دنیا نے پاکستان کی مدد کرنے سے اس طرح سے انکار کر دیا جس طرح سے 2010 میں اور اس سے قبل 2005 کے زلزلوں میں کی گئی تھی گویا ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑا مار لیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اْسی ملک میں آتی ہے جہاں پالیسی مستقل، نظام شفاف، عدالتیں خودمختار، اور ریاست خوددار ہو۔ صرف ترغیبات اور سیمینارز سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے: ڈیمز بنائیے،بجلی و توانائی کی پالیسی بہتر بنائیے،عدالتوں میں اصلاحات لائیے،کاروبار کے لیے ایک آسان، تیز اور شفاف نظام متعارف کروائیے،اور دنیا کو دکھائیے کہ پاکستان واقعی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور پْرامن مقام ہے۔ تب جا کر یہ وطن صرف اپنے شہریوں کے لیے نہیں، بلکہ دنیا کے سرمایہ داروں کے لیے بھی "پرامن پناہ گاہ" بن سکے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus