×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چیلے چانٹے کو وشوا گرو بننے کا خبط
Dated: 19-Aug-2025
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کے اس خودساختہ بیانیے کو چیلنج کیا جس کے تحت وہ خود کو "وشوا گرو" یعنی دنیا کا رہنما یا عالمی استاد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عسکری اور سفارتی اعتبار سے یہ دعویٰ اس وقت بے معنی ہو جاتا ہے جب کسی ریاست کی عملی کارکردگی اور میدانِ جنگ میں صلاحیت اس کے بیانیے کی تصدیق نہ کرے۔ عالمی سیاست میں قیادت کا تصور محض دعووں اور پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ معاشی استحکام، عسکری برتری، سفارتی اعتماد، اور اخلاقی ساکھ کے امتزاج سے قائم ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل کا یہ بیان بھارت کے تزویراتی عزائم کو حقیقت کے آئینے میں دکھانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی ملک کو عالمی رہنمائی کا حق اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کی کارکردگی عالمی معیار پر پرکھی جا سکے۔ تین روزہ جنگ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے اس محدود مگر فیصلہ کن عسکری جھڑپ میں بھارت کے عزائم کو نہ صرف ناکام بنایا بلکہ اس کے دعوے کی اصل حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔ اس جنگ میں پاکستان کی کامیاب فضائی و زمینی حکمتِ عملی نے یہ ثابت کیا کہ طاقت کا توازن محض اعداد و شمار یا پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ عملی میدان میں ثابت ہوتا ہے۔ یہ بیان بین الاقوامی تعلقات کے اس اصول کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ کسی ریاست کی عالمی شناخت اور اثر و رسوخ کا انحصار اس کی پالیسیوں کے تسلسل، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات، اور بحرانوں میں اس کی قیادت کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ بھارت اگر خود کو عالمی رہنما کے طور پر تسلیم کروانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے خطے میں امن قائم کرنے، ہمسایوں کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے، اور اپنی عسکری و سیاسی پالیسیوں میں شفافیت لانے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر، "وشوا گرو" کا یہ تصور صرف ایک نعرہ رہ جائے گا جسے میدانِ جنگ کی حقیقتیں بار بار رد کر دیں گی۔انڈیا کی جس طرح کی کارکردگی رہی ہے اسے وشوا گرو تو بہت دور کی بات ہے وشوا چیلا کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔وشوا گرو کا مطلب ہے دنیا کا استاد،کائنات کا رہنما۔کیا انڈیا میں ایسی کوئی خوبی ہے کہ دنیا اسے رہنما ماننے کے لیے تیار ہو مودی کو تو خود بھارت کے اندر بھی لیڈر ماننے کے لیے ادھی سے زیادہ جنتا تیار نہیں ہے کہا جائے کہ یہ عالمی گروہ بننے کی کوشش کریں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے دہشتگردانہ عزائم کو بے نقاب کیا اور اپنے موقف کو عالمی طاقتوں میں ثابت کیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ امریکی فیصلہ جس میں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دیا گیا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کا عملی مظہر تھا۔ اس فیصلہ کے بعد پاکستان کے موقف کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا اور بھارت کا اصل چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب ہوا۔ پاکستان کی اس کامیابی نے بھارت کے دہشتگردی کے حوالے سے عالمی سطح پر شک و شبہات کو ختم کر دیا۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے فتنہ الہندوستان کے ساتھ براہ راست روابط کا انکشاف ہوا، جو پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ لیکن فیلڈ مارشل کی زیر قیادت پاکستان نے اس چیلنج کا بھرپور مقابلہ کیا اور بھارت کے دہشتگردانہ عزائم کو بے نقاب کرنے میں کامیاب رہا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، بھارت کی دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا ایک اور واضح ثبوت تھا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف بھارت کے عزائم کو بے نقاب کیا بلکہ دنیا بھر میں اپنے موقف کو مستحکم کیا۔ امریکہ میں ان کے دورے اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نیا مقام دیا۔ امریکی صدر نے پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے معاہدے کا وعدہ کیا، اور پاکستان نے امریکہ کو توانائی، معدنیات اور کرپٹو میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع فراہم کیے۔ امریکہ کے ساتھ اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو ایک نئی سمت ملی ہے۔ پاکستان نے امریکہ، چین، ایران، خلیجی ممالک، اور روس کے ساتھ بیک وقت تعلقات قائم کر کے اپنی عالمی سٹریٹجک پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا اور پاکستان کو ایک اہم عالمی کھلاڑی کے طور پر پیش کیا۔ امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات، بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد پاکستان کا جھکاؤ عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے اندر بھی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پذیرائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مئی میں چار روزہ جنگ کے دوران بھارت کی شکست کے بعد پاکستان کے عوام نے فیلڈ مارشل کی قیادت کو سراہا اور ان کی کامیابیوں کو بھرپور طریقے سے تسلیم کیا۔ وزیراعظم خود اعتراف کرتے ہیں کہ سید عاصم منیر نے پاکستان کی معیشت اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت نے پاکستان کو ایک نئی سمت دی اور ملکی سطح پر ایک نیا اعتماد پیدا کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی اور سفارتی حکمت عملی نے نہ صرف پاکستان کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا بلکہ ملک کی سیاسی حکمت عملی میں بھی ایک نیا باب رقم کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے اپنے داخلی اور خارجی مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کے اقدامات نے پاکستان کی معیشت کو نئی جہت دی، جس سے نہ صرف اقتصادی ترقی کی راہ ہموار ہوئی بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نیا مقام حاصل ہوا۔ برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ جریدے کے مطابق امریکہ نہ صرف انہیں ایک کامیاب ملٹری ڈپلومیٹ مانتا ہے بلکہ خطے میں ایک سٹریٹیجک ثالث کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہ کسی ایک شخص یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت، ایک حساس اور پیچیدہ خطے میں، پاکستان کی فوجی قیادت کو امن قائم رکھنے اور تنازعات کے حل کا ضامن تصور کر رہی ہے۔ امریکہ کی نظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ حیثیت اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کی دفاعی قیادت نہ صرف اپنے ملک کے مفادات کا بھرپور تحفظ کر رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ کردار صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ سفارتی، معاشی اور اسٹریٹیجک حوالوں سے بھی پاکستان کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حالیہ ملاقاتیں، چاہے وہ امریکی صدر کے ساتھ ہوں یا اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ، اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان نے اپنی ملٹری ڈپلومیسی کو عالمی پالیسی ڈسکورس میں شامل کر دیا ہے۔ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کو دہشت گرد قرار دلوانا، بھارت کے فتنہ الہندوستان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنا، اور خطے میں امن کے لیے بیک وقت امریکہ، چین، خلیجی ممالک اور روس کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا—یہ سب اسی مربوط حکمت عملی کے ثمرات ہیں۔ یہ بین الاقوامی اعتماد صرف فیلڈ مارشل کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک نایاب موقع ہے۔ ایسے وقت میں جب خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، پاکستان کو ایک سٹریٹیجک ثالث کے طور پر تسلیم کیا جانا اس کے سفارتی اثرورسوخ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف معیشت اور سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کو عالمی فیصلہ سازی کے اہم فورمز پر زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ملک کے اندر بھی فیلڈ مارشل کی اس عالمی پذیرائی نے عوامی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ مئی کی چار روزہ جنگ میں بھارت کو شکست دینے کے بعد جس طرح عوام نے فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سطح پر بھی ان کی قیادت کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے۔ وزیراعظم کا یہ اعتراف کہ معیشت کو سنبھالنے اور معاشرت کو درست سمت میں لانے میں سید عاصم کا کلیدی کردار ہے، اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ اگر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پاس مکمل اختیارات اور اقتدار ہوتے تو پاکستان آج عالمی سطح پر ایک ترقی یافتہ اور مضبوط قوم کے طور پر اپنے قدم جما چکا ہوتا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے جو کامیابیاں حاصل کیں، وہ مستقبل میں مزید کامیابیوں کی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ پاکستان کا عالمی سطح پر بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور امریکی صدر کا پاکستان کے تیل کے ذخائر کے حوالے سے معاہدے کا وعدہ ایک نیا دور شروع ہونے کا غماز ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف بھارت کے عزائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا، بلکہ ایک نئی سیاسی اور سفارتی حکمت عملی کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک نیا مقام دلایا۔ ان کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی نے پاکستان کی ساکھ کو مستحکم کیا اور دنیا بھر میں اس کے موقف کو تسلیم کرایا۔ پاکستان کے عوام نے ان کی قیادت کو سراہا اور ان کی کامیابیوں پر فخر کیا۔ ان کے اقدامات نے پاکستان کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھی ہے۔ قارئین!گذشتہ روز 14اگست کویوم آزادی کے مبارک موقع پر حکومت پاکستان کی طرف سے درجنوں سیاستدانوں،صحافیوں، بیوروکریٹس، معیشت دان، تاجر، طالب علموں ،سرمایہ کاروں ،قانون دانوں اور پاک افواج کے سبھی شعبوں سے منسلک اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی شخصیات کو ملک کے اعلیٰ ترین قومی ایوارڈز سے نوازا گیاہے۔یقینا یہ وہ تمام افراد تھے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں امتیازی کارکردگی دکھاتے ہوئے نشان امتیاز اور تمغہ جرأت جیسے انعامات کا حقدار ثابت کیا ہے۔ میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایک تمغہ وہ ہمارے گوانڈی وزیراعظم جناب نریندرمودی کو بھی عطا کر دیتے ،اگر وہ اتنے نااہل نہ ہوتے تو آج پاکستان کے ان درجنوں افراد کو تمغات کیسے ملتے۔بلکہ گوانڈی وزیر خارجہ جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو بھی تمغات دیئے جانے چاہیے تھے چونکہ ان تینوں کی مشترکہ نالائقی سے بھارت کی عالمی دنیا میں سبکی اور رسوائی ممکن ہو سکی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus