×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فیس سیونگ سب کے لیے اور ٹروتھ کمیشن کا قیام
Dated: 26-Aug-2025
قوم آج جس گرداب میں پھنسی ہوئی ہے،مسائل و مصائب کے جس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے سب سے پہلے تو اس سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد یہ مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ ہمارے مسائل کیسے پیدا ہوئے، یہ دلدل کیسے بن گئی، مصائب کہاں سے آ گئے، ہم سے کہاں پر غلطی ہوئی۔ اس کے لیے ٹروتھ فائنڈنگ کمیشن بنائے جانے کی ضرورت ہے لیکن پہلے اس گرداب سے نکلنا ہوگا، سیاسی گرداب جس کو کہہ لیں تو باقی مسائل سے نجات کے لیے ٹروتھ فائنڈنگ کمیشن بنانے کی ضرورت ہے وہ بعد میں لیکن فوری طور پر جتنے ہمارے آج کے مسائل ہیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے اور سیاسی عدم استحکام کا سب سے بڑا سبب سیاسی پارٹیوں کا گروہوں اور گروپوں میں تقسیم ہو کر ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہونا ہے۔ سیاسی عدم برداشت ہے ،تحمل نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ دوسرے فریق کا نقطہ نظر سننے اور سمجھنے کی بجائے اپنا نظریہ وہ غلط ہے یا صحیح دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں سٹیک ہولڈر صرف سیاستدان ہی نہیں ہیں، یہاں پر عدلیہ بھی ایک سٹیک ہولڈر ہے، یہاں پر پاک فوج بھی ایک سٹیک ہولڈر ہے۔ ہمارے ملک میں آمروں کو آمریت کا اگر موقع ملا تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ سیاستدان آپس میں شدید اختلافات کا شکار تھے۔ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اختلافات کہاں نہیں ہوتے، سیاسی پارٹیاں ان کے مابین اختلافات یہ تو اگلی بات ہے ایک پارٹی کے اندر، ایک تنظیم کے اندر، ایک جماعت کے اندر بھی اختلافات ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں سیاسی پارٹیوں کے مابین جو اختلافات پیدا ہوتے رہے ہیں وہ ذاتیات اور دشمنی کی حد تک بھی چلے جایا کرتے تھے۔ آج پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی یہی ایک بڑی وجہ ہے۔ اور پھر ہمیں عدلیہ بھی کئی مواقع پر تقسیم ہوتی ہوئی نظر آئی۔ پاک فوج سب سے مضبوط اور منظم ادارہ ہے جس کی اولین ذمہ داری جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کرنا ہے اور پاک فوج نے ہمیشہ جغرافیائی سرحدوں کی ہی نہیں بلکہ نظریاتی سرحدوں کی بھی نگہبانی اور نگرانی کی ہے۔ لیکن فوج کے کچھ طالع آزمائوں نے ذاتی مقاصد کے لیے پاکستان میں کئی مرتبہ جمہوریت کو ڈی ریل کیا ہے۔ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پاک فوج کی اعلیٰ ترین قیادت کی طرف سے کئی مرتبہ معاملات کو سدھارنے کے لیے اس حد تک مداخلت ضرور کی گئی کہ سیاستدانوں کو ایک ٹیبل پر بٹھا دیا گیا۔ جب کہ فوجی قیادت نے اپنا غیرجانبدارانہ کردار ادا کیا۔ بطور ادارہ فوج کو سیاست میں مداخلت کا قطعی طور پر الزام نہیں دیا جا سکتا ،اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو وہ پھر احمقانہ پن ہے کیونکہ فوج کی طرف سے کبھی سیاسی معاملات میں اس وقت تک مداخلت نہیں کی گئی جب تک سیاستدانوں نے ایسا موقع نہیں دیا اور یہ مداخلت بھی پوری فوج کی طرف سے بطور ادارہ نہیں بلکہ چند ایک جرنیلوں کی طرف سے ہی کی گئی ہے۔ ایسے جرنیل بھی ہیں جنہوں نے اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہوئے جمہوریت کو ڈیل ریل نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے کمانڈروں کو ان کی ایسی خدمات پر پورے ادارے کو میڈل بھی دیئے گئے۔ جیساکہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے پاک فوج کو ڈیموکریسی میڈل دیا گیا تھا۔ جو آج بھی تینوں افواج کے بلکہ جتنی بھی پاکستان میں فورسز ہیں، مسلح افواج ہیں یا نیم مسلح افواج ہیں، اس کے جوان اور افسر اپنے سینوں پر سجاتے ہیں۔ ماضی میں بڑی بڑی پارٹیاں رہی ہیں، کل تک مسلم لیگ ق بھی ایک پارٹی تھی لیکن آج اس کا وجود کہیں پر ہے تو کہیں پر نہیں ہے۔ آج کی پارٹیوں کی بات کی جائے تو سیاست تحریک انصاف ،مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم ،اے این پی، جے یو آئی ایف کے گرد مرکزی سطح کی سیاست گھومتی ہے۔ لیکن کچھ قوم پرست پارٹیاں بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ کچھ صوبائی پارٹیاں بھی اپنا وجود رکھتی ہیں۔ علاقائی پارٹیوں میں بھی ایسی پارٹیاں ہیں جو اپنے علاقے میں مضبوط قدم جما کر رکھنے کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں ،جیسے پیر پگاڑا کی مسلم لیگ فنگشنل ہو گئی، محمود اچکزئی کی پختون خواہ ملی پارٹی ہو گئی ،اختر مینگل کی پارٹی ہو گئی، جمہوری وطن پارٹی ہو گئی۔ اے این پی کسی دور میں بڑی پارٹی ہوا کرتی تھی اس کا وجود بھی سکڑتے سکڑتے بہت کم ہو گیا، ان پارٹیوں کو دیکھنا چاہیے سوچنا چاہیے۔ جیسے کہ مولانا فضل الرحمن کی پارٹی بلوچستان میں اور خیبرپختواہ میں کبھی ایک نمبر پر ہوا کرتی تھی۔ ایسی پارٹیوں کو دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ ان کی عدم مقبولیت کی وجہ کیا بنی ہے جو کئی درجن سیٹوں پر کامیاب ہوا کرتی تھی آج چند ایک سیٹیں ہی ان کے نام پر ہیں۔ غلطی کس سے نہیں ہوتی بڑے بڑے لوگوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ ان کو سدھارا بھی جا سکتا ہے۔ ہمارے آج کے بحران کی ایک بڑی وجہ سیاسی پارٹیوں کی غلطیاں اوران کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ اور یہ سیاسی پارٹیاں گروپوں اوردھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہیں۔دو دو تین تین پارٹیاں اتحاد بنا کر دوسری پارٹیوں کو سیاست سے ہی الگ کرنے کی کوشش میں لگ جاتی ہیں۔ آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ اس کے لیے آج اولین ضرورت ہے کہ ساری پارٹیاں اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ اس طرح سے ہر پارٹی کو فیس سیونگ دی جائے۔ کیا مسلم لیگ ن نے ماضی میںغلطیاں نہیں کیں،کیا یہ آمریتوں کا ساتھ نہیں دیتی رہی۔ اسی طرح پیپلزپارٹی نے بھی کیا ماضی میں غلطیاں نہیں کیں۔تحریک انصاف جو بھی کہتی رہے دودھ کی دھلی ہوئی وہ بھی نہیں ہے۔ اس کی طرف سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں۔ پاک فوج کی طرف سے بھی بطور ادارہ تو نہیں لیکن اس کی قیادت کی طرف سے کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا اور اسی طرح عدلیہ کی طرف سے بھی غلطیاں ہو چکی ہیں۔ ان غلطیوں کا اعتراف ہر ادارے کی طرف سے انفرادی طور پر تو کیا گیا مثلاً فوج کی طرف سے کچھ آرمی چیفس نے یہ اقرار ضرور کیا کہ فوج کی طرف سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اسی طرح سے کچھ ججوں کی طرف سے بھی اعترافات کیے گئے کہ ان کی ادارے کی طرف سے غلطیاں ہوئی ہیں۔لیکن بطور ادارہ کبھی ان غلطیوں کو تسلیم کرکے اس پر معذرت یا معافی کی بات نہیں ہوئی۔ سیاستدان بھی انفرادی طور پر تو غلطیوں کا اعتراف کرتے رہے لیکن اجتماعی طور پر کسی کی طرف سے کسی پارٹی کی طرف سے باقاعدہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرکے معافی کی بات نہیں کی گئی۔ معافی کس سے مانگنی ہے، اپنے آ پ سے معافی مانگیں۔اللہ سے معافی مانگیں، غلطیوں کا اعتراف کرنے کا مطلب اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ آئندہ ایسی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔ معافی کا مطلب کسی کے پائوں پکڑنا ہرگز نہیں ہے بلکہ غلطیوں کا اعتراف ہی معافی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ آئندہ ایسی غلطیوں کے ارتکاب نہ کرنے کا عہد کیا جائے۔ ہر پارٹی کی طرف سے ، ہر ادارے کی طرف سے ، ہر سٹیک ہولڈ رکی طرف سے، اس طرح سے پاکستان استحکام کے راستے پر چل پڑے گا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بات کی کہ اس کے ساتھ ہی ٹروتھ فائنڈنگ کمیشن بھی بنا دینا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب ہو ، یہ مقصد ہو، اس کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہ تعین کرے کہ بطور قوم ہم سے کب اور کیا کیا غلطی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ ایک چھوٹی سی مثال کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن جس کمیشن کی ہم بات کر رہے وہ اس سے بھی اعلیٰ اورارفع مقاصد کے لیے ہوگا۔اس میں ہر پارٹی کے ، ہر ادارے کے لوگ موجود ہوں۔ اس میں دانشوروں کو بھی شامل کیا جائے۔ ایسا کمیشن درست روڈ میپ دے سکتا ہے،آج کل صوبوں کی بحث بھی چل رہی ہے، نئے صوبوں کی بحث اور اس کے ساتھ ساتھ پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام سے تبدیل کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ان دو موضوعات پر ہم آئندہ تفصیل سے بات کریں گے۔ قارئین!ٹروتھ کمیشن (TRC)کا قیام میری نظر میں اس لیے بھی ضروری ہے کہ دونوں طرف سے غلط فہمیوں کے فاصلے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ اس پاٹ کو پُر کرنے کے لیے دنیا کے عظیم جمہوریت پسند رہنما اور جنوبی افریقہ کی آزادی کے بانی نیلسن منڈیلا نے بھی اسی قسم کے قیام کی منظوری دی تھی۔ اور اس کمیشن نے گوروں اورکالوں کے درمیان سالوں پر محیط خلیج کو پُر کرنے میں کافی کردار ادا کیا تھا۔اور آج دونوں نسلی اقوام ایک ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ ٹروتھ کمیشن کے سربراہ مسٹر آرچ بشپ دس مونڈ ٹوٹونوبیل انعام یافتہ شخصیت تھے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus