×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ولادتِ مصطفیﷺ اور دفاع وطن اور۔۔۔
Dated: 10-Sep-2025
یہ وہ مبارک دن ہے جب دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ہمیشہ کے لیے انسانیت کے رخ بدل دیے۔ 12 ربیع الاول وہ بابرکت دن ہے جب محسنِ انسانیت، سرورِ کائنات، خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا میں تشریف لائے۔ یہ دن صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے روشنی، ہدایت اور نجات کا پیغام لے کر آیا۔ ہم اس مسرّت آفریں موقع پر جہاں عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہیں، وہیں اس دن کی معنویت کو سمجھتے ہوئے یہ عہد تازہ کرتے ہیں کہ ہم عقیدۂ ختمِ نبوت پر مضبوطی سے قائم رہیں گے اور اپنی سرزمین کے دفاع کو اپنا اولین فریضہ سمجھیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت تاریخِ انسانی میں ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے ظلم و جبر، جہالت اور اندھیروں کے دور کو ختم کر کے علم، عدل، محبت اور ہدایت کی نئی صبح طلوع کی۔ آپ ؐ نے انسان کو اس کی اصل پہچان دی اور بتایا کہ عزت و ذلت کا معیار رنگ و نسل یا طاقت نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاق ہیں۔ آپ ؐ کی آمد کے بعد دنیا نے وہ انقلاب دیکھا جس کی مثال نہ پہلے تھی نہ بعد میں؛ معاشرتی انصاف، مساوات، اخوت اور بھائی چارہ آپ ؐ کی سیرتِ طیبہ سے روشن ہوئے اور یہی اقدار آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ شافعِ محشر حضور کی شانِ اقدس اور مقام و مرتبہ کا بھلا کون اندازہ کر سکتا ہے جن پر خالقِ کائنات اور اس کے فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں، اور حکمِ ربانی ہے کہ ’’ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے‘‘۔ اسی نسبتِ سعید سے اہلِ ایمان میلادِ مصطفیٰ ؐ کی محفلیں سجاتے ہیں، درود و سلام کی محفلیں آباد کرتے ہیں اور نعمتِ عظمٰی پر شکر بجا لاتے ہیں کہ ربِ ذوالجلال نے اپنے محبوب ؐ کو مبعوث فرما کر اہلِ ایمان پر احسانِ عظیم فرمایا۔ جب آپؐ کی تشریف آوری ہمارے لیے نعمتِ کبریٰ ہے تو پھر قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق ’’نعمتِ پروردگار کا چرچا‘‘ واجبِ شکر ہے؛ اسی کے تحت ذکرِ میلاد، بیانِ سیرت اور تقسیمِ مسرّت کے مظاہر روا ہیں۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ عاشقِ رسولؐ تھے، میلاد کی مجالس میں شرکت فرماتے اور قوم کو ان بابرکت اجتماعات کی طرف راغب کرتے۔ ان کے نزدیک یہ مجالس قومی شخصیت کو سنوارنے، عزم و حوصلہ جگانے اور نسل در نسل نسبتِ مصطفیٰ ؐ کا شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ولادتِ مصطفیٰ ؐ کا بیان عقیدۂ ختمِ نبوت کے بغیر ادھورا ہے۔ قرآن کریم کا دوٹوک اعلان ہے: ’’محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں‘‘ (الاحزاب: 40)۔ یہی عقیدہ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے جس سے انحراف کفر ہے۔ تاریخِ پاکستان میں 7 ستمبر 1974ء وہ یادگار دن ہے جب منتخب قومی نمائندوں نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا؛ یہ ترمیم محض آئینی شق نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان و غیرت کا عملی اظہار ہے۔ آج بھی جب اسلام دشمن عناصر گستاخانہ رویوں اور اسلاموفوبیا کو ہوا دیتے ہیں اور باطل فتنوں کو پناہ ملتی ہے، تو لازم ہے کہ ہم حرمتِ رسول ؐ اور ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے یک جان و یک زبان رہیں، قانون و آئین کے تحت اپنے عقیدے کی پاسبانی کریں اور علم و حکمت کے اسلحے سے دلوں اور ذہنوں کو روشن کریں۔ اسی ماہ کی قومی تقویم ہمیں دفاعِ وطن کی ابدیتی ذمہ داری بھی یاد دلاتی ہے۔ 6 ستمبر 1965ء کو دشمن نے شب خون مارنے کی جس جسارت کا ارتکاب کیا، اسے اللہ کے فضل اور قوم کی یکجہتی سے ہماری بہادر افواج نے ناکام بنا دیا۔ لاہور کی سرحدوں پر جوانوں نے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی اور بتا دیا کہ یہ ارضِ پاک ہم نے لا الٰہ الا اللہ کے نام پر حاصل کی ہے اور اس کی حفاظت ہماری عبادت ہے۔ دفاعِ وطن محض افواجِ پاکستان کی ذمہ داری نہیں، پوری قوم کا اجتماعی عہد ہے؛ محاذ چاہے سرحدوں کا ہو یا معیشت و علم و تحقیق کا، ہر پاکستانی کو اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ 6 ستمبر کے فوراً بعد 7 ستمبر آتا ہے جسے ہم دو نسبتوں سے یومِ وقار جانتے ہیں۔ ایک تو سات ستمبر 1974 کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔دوسری نسبت پاک فضائیہ سے ہے جس نے 1965ء میں تاریخ ساز کارنامے سرانجام دیے۔ ایم ایم عالم جیسے مردِ میدان نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ طیارے گرا کر شجاعت کی نئی مثال قائم کی اور دنیا کو بتایا کہ حوصلہ اور مہارت عددی برتری کو مات دے سکتی ہے۔ دوسری نسبت یومِ تحفظِ ختمِ نبوت سے ہے جو 1974ء کی آئینی ترمیم کی یاد تازہ کرتا ہے اور ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ حرمتِ رسول ؐ کی پاسبانی اہلِ ایمان کا جانی و مالی، فکری و عملی فریضہ ہے؛ یہ محض نعرہ نہیں، ایک مکمل اخلاقی و تہذیبی نظام کی اساس ہے۔ آج کے حالات ہم سے سنجیدگی، اتحاد اور حکمتِ عملی کا تقاضا کرتے ہیں۔ امتِ مسلمہ مختلف خطّوں میں آزمائشوں سے دوچار ہے؛ فلسطین و کشمیر کے زخم ہنوز تازہ ہیں، روہنگیا اور دیگر کمزور طبقات ظلم سہہ رہے ہیں، فکری یلغار کے نئے ذرائع سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے میں لازم ہے کہ ہم سیرتِ مصطفیٰ ؐ کو اپنی اجتماعی زندگی کا دستور بنائیں، اختلاف کو شریعت و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے خیر میں بدلیں، باہمی احترام کو فروغ دیں، علم و معیشت میں خودکفالت کی راہیں نکالیں اور نوجوان نسل کے سامنے دینی و ملی مقاصد کو دلنشیں اور قابلِ عمل انداز میں رکھیں۔ دفاع کے محاذ پر افواجِ پاکستان کے ساتھ قلبی و عملی یکجہتی رکھیں، شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور قومی اداروں کی تعمیر و استحکام میں اپنا حصہ ڈالیں؛ یہی حقیقی تعبیرِ حب الوطنی ہے۔ یہ سارے ایام:یومِ ولادتِ مصطفیٰ ؐ، یومِ دفاعِ پاکستان اور یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ہمارے دینی وقار اور ملی شناخت کے استعارے ہیں۔ ہم ان دنوں کو صرف جشن کے طور پر نہیں بلکہ عہدِ نو کے اعلان کے طور پر مناتے ہیں: اپنی ذات کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کا عہد، ختمِ نبوت کی حفاظت کو اولین ترجیح بنانے کا عہد، اور دشمن کے ہر فتنہ و فساد کو علم، قانون، وحدت اور شجاعت سے مات دینے کا عہد۔ یہی پیغام ہمارے گھروں، مسجدوں، درس گاہوں اور اداروں میں زندہ ہونا چاہیے تاکہ قوم کی روح بیدار رہے اور قدم ثابت رہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت ہمیں دینِ کامل پر ثابت قدم رکھے، حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سرزمینِ پاکستان کے تحفظ میں کوئی کمی نہ آنے دے، ہمارے دلوں کو سیرتِ طیبہ کی محبت سے منور رکھے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم مظلوموں کی مدد اور باطل کے مقابلے میں حکمت و شجاعت کے ساتھ کھڑے رہیں۔ اْدھر امریکہ نے بائیں دکھا کے دائیں مار دی ہے۔ہم بڑے خوش تھے کہ بھارت کو صدر ٹرمپ نے آگے لگا لیا ہے لیکن اچانک سے صدر ٹرمپ نے پینترا بدلہ اور مودی کی تعریفیں شروع کر دیں۔ کل تک مودی کو آگے لگا رکھا تھا اور انڈیا پر ٹیرف پر ٹیرف بڑھاتے جا رہے تھے۔ آج اچانک امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کو ’’بہت خاص‘‘ قرار دیتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ دوست رہیں گے اور ’’فکر کی کوئی بات نہیں۔‘‘ ادھر مودی جی نے بھی فوراً موقعے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے جذبات کی دل سے قدر کرتے ہیں اور ان کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔یہ یوٹرن بھی کمال کا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ٹرمپ فرما رہے تھے کہ ’’ایسا لگتا ہے ہم نے انڈیا اور روس کو چین کے ہاتھوں کھو دیا ہے‘‘ اور اب اچانک مودی کو بھائی جان بنا لیا۔ امریکہ کا یہ رویہ نیا نہیں، کبھی گلے لگاتے ہیں اور کبھی آنکھیں دکھا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کہاوت ہے: ’’پولیس کی دوستی سے بھی بچو اور اس کی دشمنی سے بھی۔‘‘ ہنری کسنجر نے بھی کہا تھا کہ ’’امریکہ کی دوستی اور دشمنی دونوں نقصان دہ ہیں۔‘‘ ٹرمپ کبھی کسی کو سر آنکھوں پر بٹھا لیتے ہیں، کبھی آگے لگا لیتے ہیں اور کبھی اچانک دھکا دے کر پیچھے کر دیتے ہیں۔ کبھی امریکہ نے مودی پر ’’گجرات کے قصاب‘‘ کا لیبل لگا کر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی اور آج وہی امریکہ ان کے گْن گا رہا ہے۔ ٹرمپ کبھی ان کو آگے لگا کر چلاتے ہیں اور کبھی محبت کی برسات برسا دیتے ہیں۔ مودی بھی خوشی خوشی ان کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔فی الحال تو مودی کی جے جے کار ہو رہی ہے،کل کو ہو سکتا ہے ٹرمپ پلٹی مار کر پھر سے مودی کو کلٹی کر دیں۔ادھر صدر ٹرمپ نے بھارت پر ٹیرف ڈبل کیا تو ادھر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی قسمت بھی ڈبل ہو گئی۔ ان کے سر کی قیمت 25 ملین ڈالر سے بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دی گئی ہے۔ گویا مادورو بہت مہنگے ہو گئے اورسست مودی جی چست امریکہ کو سردست سستے پڑ رہے ہیں۔دیکھتے ہیں ٹرمپ مودی کے اس نئے رومانس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور ہمارے ساتھ جو امریکہ کا رومانس مد و جزر کا شکار رہا اور آج ہمیں ٹرمپ کی طرف سے جس طرح سیڑھی پر چڑھایا گیا ہے کیا وہیں پہ رکھتے ہیں یا پھر کسی وقت اچانک سیڑھی نیچے سے کھینچ لیتے ہیں۔ہمیں بڑا محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus