×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مولا خوش رکھے،بھاگ لگے رہن
Dated: 16-Sep-2025
اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب پہلی مرتبہ 45ویں صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے حلف برداری کے بعد غیر ملکی دوروں کی فہرست میں سب سے پہلے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔ یہ اس وقت سعودی عرب کے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھا گیا، کیونکہ اس سے قبل زیادہ تر امریکی صدور عہدہ سنبھالنے کے بعد اسرائیل کا رخ کرتے تھے۔ جب ٹرمپ سعودی عرب پہنچے تو اس وقت کے سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ان کے اعزاز میں شاندار تقریبات اور جشن کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر سینکڑوں ملین ڈالر کے تجارتی معاہدے ہوئے۔ سعودی عرب نے تیس ارب ڈالر کا فوری چیک دیا جبکہ مزید سو ارب ڈالر کے اقتصادی معاہدے بھی کیے گئے۔ سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ ریاض کی ایک مشہور شاہراہ کا نام ’’شاہراہ ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ رکھ دیا گیا۔ یعنی ایک غیر مسلم شخصیت کے نام پر یہ قدم اٹھا کر عالمی برادری کو یہ پیغام دیا گیا کہ سعودی عرب عالمی رنگ میں ڈھلنے جا رہا ہے۔ ورنہ اس سے قبل یورپ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے ذہنوں میں سعودی عرب کا تصور ایک قدامت پسند (کنزرویٹو) ملک کے طور پر آتا تھا۔ اس دورے کے بعد سعودی عرب میں بے شمار تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ مثلاً عورتوں کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے۔ اس سے پہلے کوئی سعودی عورت اپنے محرم کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔ اگر کسی خاتون نے بازار جانا ہوتا تو کم از کم ایک مرد کو ساتھ لے جانا لازمی تھا۔ لیکن ٹرمپ کے دورے کے بعد یہ پابندیاں ختم کر دی گئیں۔(اور مکہ مدینہ کے شہروں میں جہاں پہلے غیر مسلم کا داخلہ ممنوع تھا انہیں مساجد کے باہر کی حد تک شہرمیں داخلے کی اجازت دے دی گئی) سب سے بڑی تبدیلی اْس وقت دیکھی گئی جب ریاض، جدہ اور دیگر شہروں میں سینما گھر کھول دیے گئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ کلب، ثقافتی میلوں اور بالخصوص یورپی میوزک کنسرٹس کا آغاز ہوا، جن میں عرب، امریکی اور دیگر ممالک کے فنکار اپنی پرفارمنس پیش کرنے لگے۔ یہ تمام تبدیلیاں ٹرمپ کے دورے کے بعد سامنے آئیں۔ بعدازاں جب ٹرمپ کی امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہ بنی تو انہیں دوسری مدت کے لیے صدر منتخب نہیں ہونے دیا گیا اور 46ویں صدر کے طور پر جو بائیڈن منتخب ہو گئے۔ تاہم ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار کے لیے جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر گزشتہ سال 5 نومبر کے انتخابات میں ایک بار پھر امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔20 جنوری 2025 کو انہوں نے اپنی صدارت کا حلف اٹھایا۔جس سے دنیا میں ایک طرح کا تہلکہ مچ گیا۔پڑوسی کینیڈا میکسیکو پانامہ سے لے کر دور دور تک ان کی رشیا یوکرین یورپ عرب ممالک حتی کہ ایران پر حملے تک کی مداخلت نظر آئی۔ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے پہلے حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک جنگ شروع ہو نے کے بعد عروج پر پہنچ چکی تھی جسے ایک سال ہونے کو تھا۔ سب کی نظریں ٹرمپ پر جمی تھیں کہ وہ اس جنگ کو رکوانے میں کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ ٹرمپ کی عرب ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت اور تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہ گمان تھا کہ وہ کم از کم اس مسئلے کو حل کروائیں گے۔ عرب دنیا سمیت پوری دنیا جانتی تھی کہ اسرائیل ایک ایسا جن ہے جسے بوتل میں بند کرنا صرف امریکہ کے بس کی بات ہے۔ جب ڈھکن کھلتا ہے تو جن باہر آ جاتا ہے اور اپنی شرارتوں سے دنیا کو تنگ کرتا ہے، اور جب عالمی برادری شکایت کرتی ہے تو امریکہ اسے دوبارہ بوتل میں بند کر دیتا ہے۔ عرب ممالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب امریکہ اسرائیل کو قابو کرے گا۔ ایک لاکھ سے زائد فلسطینی اور حماس کے شہری شہید ہو چکے تھے اور لوگوں کو کسی حد تک انصاف کی توقع تھی۔لیکن ٹرمپ کے جیتنے کے بعد بھی اسرائیل نے ایران سے تنازع کھڑا کیا، یمن پر حملے کیے، پہلے سے قابض شامی علاقوں میں مزید قبضے کیے اور چاروں طرف اپنی جارحانہ مہم جاری رکھی۔ پاکستان پر حملے کے لیے بھارت کو مشورہ دینے والا بھی اسرائیل ہی تھا، اور بھارت کو اسرائیل کی بھرپور بری، بحری اور فضائی مدد حاصل تھی۔ دوسری طرف جب ٹرمپ یوکرین کی جنگ بھی ختم نہ کروا سکے تو دنیا بھر میں امریکہ اور ٹرمپ کی ساکھ پر سوال اٹھنے لگے۔ کیونکہ یوکرین کی جنگ کے خاتمے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ دیگر جنگوں نے بھی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا تھا۔ امریکہ بے شمار چیلنجز سے دوچار تھا جن سے وہ عہدہ برآ نہ ہو سکا۔ یورپ میں یہ خیال عام ہے کہ اسرائیل دراصل یوکرین کو بچانا چاہتا ہے کیونکہ وہاں یہودیوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے جس کی وہ پشت پناہی کر رہا ہے۔ خود یوکرین کا صدر بھی اسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ اسرائیلی منصوبے کے مطابق یورپ میں ایک نئی یہودی سلطنت کے قیام کو وقت کی ضرورت سمجھا جا رہا ہے۔ اب یورپ کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے۔ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ تیسری عالمگیر جنگ شروع ہو تاکہ دنیا کو دوبارہ تباہ کرکے وہ اپنے مذموم عزائم پورے کر سکے۔ نیتن یاہو کے منصوبے اسی وقت پورے ہوں گے جب دنیا کسی بڑی جنگ میں جھونک دی جائے، کیونکہ اگر جنگ رک گئی تو اس کے ارادے ادھورے رہ جائیں گے۔ اگر ہم تاریخ کو باریکی سے دیکھیں تو پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے پس منظر میں بھی انہی قوتوں کی شرارتوں کا عمل دخل تھا اور اس کے شواہد تاریخ میں موجود ہیں۔ ٹرمپ جب دوسری بار صدر منتخب ہو کر آئے تو انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ کئی معاہدے کیے۔ قطر کے دورے کے دوران انہیں چار سو ملین ڈالر ایک شاہی محل کی صورت میں تحفے میں دیے گئے۔ اسی طرح جب وہ یو اے ای اور ابوظہبی گئے تو وہاں بھی بڑے معاہدے کیے گئے۔ جن کی مجموعی مالیت تقریبا ً پونے چار ٹریلین امریکن ڈالرز بنتی ہے۔ قطر نے نہ صرف یہ تحائف دیے بلکہ 485 ملین ڈالر کا ایک خصوصی طیارہ بھی ٹرمپ کے لیے تیار کر کے دیا۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر کا اقتصادی پیکیج بھی دیا گیا۔ لیکن ان سب کے باوجود ٹرمپ کسی بڑی کامیابی کے لیے کارگر نہ ثابت ہوئے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے حملے کر کے قطر کی سالمیت کو بھی چیلنج کیا ہے۔ یہ وہی قطر ہے جس نے فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد پر 219 ارب ڈالر خرچ کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ یہ رقم پاکستان کے تیس سالوں کے سالانہ بجٹوں سے بھی زیادہ ہے۔ اگر یہی قطر، سعودی عرب، یو اے ای، کویت اور دیگر خلیجی ممالک یہ سوچ لیتے کہ ان خطیر رقوم کو اپنی فوجی طاقت اور عوامی بہتری پر خرچ کریں تو صورتحال مختلف ہوتی۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا جیسے ممالک ہر وقت عربوں کے لیے اپنی فوجیں فراہم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اگر یہ ممالک اپنی خود کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرتے اور مسلم دنیا کو متحد کرنے کا عملی قدم اٹھاتے تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ عرب ممالک اپنی دولت دکھا کر، شاہی تقاریب سجا کر اور امریکہ کے سامنے جھک کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے۔ امریکہ کی ایک دھمکی پر یہ ممالک پسپا ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک وہ اپنے اندر حقیقی حربی صلاحیت پیدا نہیں کرتے۔ اسرائیل ایک ایسا بدطینت ہاتھی ہے جو پیار اور محبت کی زبان نہیں سمجھتا۔ وہ نشے میں دھت ایک طاقتور مینڈھے کی طرح ہے جسے روکنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان ممالک یہ مراثی پن اور شاہانہ دکھاوا چھوڑ کر عالم اسلام کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کریں تو یقینا پوری امت ان کے پیچھے کھڑی ہوگی۔ پاکستان اس کی ایک مثال ہے۔ پاکستان اور بھارت کا کوئی موازنہ نہیں، لیکن پاکستان نے صرف اپنے ایمان، عزم اور محدود وسائل کے بل بوتے پر اپنی عزت و آبرو اور سرزمین کو محفوظ رکھا ہے۔ قارئین!گذشتہ روز قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد پاکستان اور الجزائر نے اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست دی۔اور اس ہنگامی اجلاس کے دوران پاکستان نے اسرائیل کی اس طرح بینڈ بجائی کہ پوری دنیا ششدر اور حیران رہ گئی۔ پاکستان کے خصوصی مندوب عاصم افتخار نے اسرائیل کے سفارتی مندوب پر اس طرح جارحانہ حملے کیے کہ بعد میں اسرائیل مندوب اپنی تقریر کے دوران پاکستان سے معذرت خواہانہ روایہ اپنانے پر مجبور ہوا۔قطر پر حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم مسٹر نیتن یاہو نے قطر کے بعد جس ملک کا دو دفعہ نام لیا وہ بھی پاکستان ہے۔ اس بات سے یہ ثابت ہوا کہ اسرائیل اور اس کے حمایتوں کو پاکستان کی ایٹمی اور نیوکلیئر صلاحیت کا ادراک ہے ۔اگر عرب ممالک اپنی علاقائی حکمت عملی اور اس بات کو سمجھ لیں کہ اکیلی دولت اور طاقتور کی خوش آمد سے اور ’’مولا خوش رکھے،بھاگ لگے رہن ‘‘ جیسے فارمولے سے اسرائیل جیسے قبیح دشمن کو باز نہیں رکھا جا سکتا۔ٹرمپ کے ایک دورہ مشرق وسطیٰ میں جو رقوم اقتصادی اور دفاعی مد میں امریکہ کو دیئے جانے کے معاہدے ہوئے اس رقوم سے دنیا بھر کے ساٹھ مسلم ممالک جدید ضروریات کے مطابق نئے بسائے جا سکتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کی جنگ اس بات کی گواہی ہے کہ اگر نیت اور حوصلہ ہو تو وسائل کی کمی کے باوجود دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ ’’مولا خوش رکھے‘‘ والی ڈپلومیسی ختم کرنی ہوگی کیونکہ یہ رویہ نہ کسی قوم کو تحفظ دے سکتا ہے، نہ کسی ملک کی سلامتی کو یقینی بنا سکتا ہے۔ قارئین!اُمہ مسلمہ کو عزتمندانہ اور وقار سے جینے کے لیے بھکاری نہیں شکاری کی طرح جینا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus