×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بلدیاتی نظام — جمہوریت کا درخشندہ چہرہ
Dated: 28-Oct-2025
بلدیاتی نظام کو اکثر جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے، اور یہ تعبیر بالکل درست ہے۔ یہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے اختیارات نچلی سطح یعنی عوام کے دروازے تک منتقل ہوتے ہیں۔ عوامی نمائندگی کا یہ پہلا اور بنیادی درجہ کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔پاکستان جیسے جمہوری نیم جمہوری یا ہائبرڈ سیاسی ڈھانچے والے ملک میں بھی اس نظام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اس کے باوجود ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حکمران طبقوں نے ہمیشہ بلدیاتی نظام کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ وجہ سادہ ہے — اختیارات کی تقسیم کسی بھی متمرکز اقتدار کو گوارا نہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی آمریتیں قائم ہوئیں، انہی آمروں نے سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات کروائے۔ جنرل ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار تک، بلدیاتی ادارے آمریتوں کے لیے سیاسی جواز فراہم کرنے کا ذریعہ بنے۔ تاہم، اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ انہی ادوار میں عوامی نمائندگی کی کسی نہ کسی سطح پر بحالی بھی ہوئی۔جمہوریت کے نام پر آنے والی حکومتوں نے الٹا یہ روش اپنائی کہ مقامی حکومتوں کو یا تو معطل رکھا جائے یا ان کے اختیارات محدود کر دیے جائیں۔ نتیجتاً عوام کی براہِ راست شمولیت کا دروازہ بند ہوتا گیا اور اختیارات صرف چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتے گئے۔ حال ہی میں ایک مرتبہ پھر بلدیاتی انتخابات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئینی ذمہ داری کے تحت ہلکی سی سختی دکھاتے ہوئے حکم دیا کہ ہر صورت میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔ مگر جلد ہی حکومتی رویوں کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔یہ طرزِ عمل پاکستان کی سیاسی روایت کا حصہ بن چکا ہے — جہاں اختیارات کی منتقلی کا نعرہ تو بلند کیا جاتا ہے مگر عملی طور پر اس سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ اگر مقامی حکومتیں فعال ہو جائیں تو عوامی خدمت کا کریڈٹ براہِ راست نچلی قیادت کو جائے گا، جس سے ان کی مرکزی سیاست کمزور پڑ سکتی ہے۔پاکستان میں بلدیاتی حکومتوں کی عوامی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی انتخابات منعقد ہوئے، کئی وزراء قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین نے اپنی نشستیں چھوڑ کر ان میں حصہ لیا۔کیونکہ مقامی حکومتیں وہ واحد فورم ہیں جہاں عوامی مسائل کا فوری حل ممکن ہوتا ہے۔تاہم، بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کے مفادات ایسے انتخابات کے انعقاد سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خاموشی اختیار کر لیتی ہیں اور صرف اْس وقت متحرک ہوتی ہیں جب الیکشن کمیشن یا عدلیہ کی طرف سے سخت ہدایت آ جائے۔ بلدیاتی نظام دراصل جمہوریت کا عملی چہرہ ہے۔یہی وہ پلیٹ فارم ہے جو ایک عام شہری کو براہِ راست فیصلہ سازی کا حصہ بناتا ہے، اور حکومت کو عوام کے قریب لاتا ہے۔اگر پاکستان میں اس نظام کو مستقل بنیادوں پر مضبوط کر دیا جائے تو نہ صرف عوامی خدمت کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ سیاسی شعور اور احتساب کی روایت بھی مضبوط ہو گی۔اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے نہ صرف بیوروکریسی کے بوجھ میں کمی آئے گی بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے حقیقی معنوں میں عوام کی ضروریات کے مطابق ترتیب پائیں گے۔پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کا دار و مدار صرف پارلیمان یا اسمبلیوں پر نہیں بلکہ بلدیاتی نظام پر بھی ہے۔یہ نظام نہ صرف نئے لیڈروں کی تربیت کرتا ہے بلکہ عوامی نمائندگی کو جڑوں سے مستحکم بناتا ہے۔اگر ہم واقعی جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں تو بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی خودمختاری، اور سیاسی سپورٹ فراہم کرنا ہوگی۔وگرنہ جمہوریت صرف نام کی رہ جائے گی — ایک ایسی نرسری کے بغیر جس میں اس کے پودے پروان چڑھ سکیں۔ بنیادی جمہوریتوں کانظام اس وقت یورپ سمیت ویسٹرن ملکوں میں خاص طور پر امریکہ، کینیڈا،نارتھ امریکہ کے ملکوں میں رائج ہے۔ یورپ کے 42ملکوں میں بنیادی جمہوریتوں کا نظام ہے۔ اکثر مسلم ملک میں یہ نظام رائج نہیں ہے وہاں پر آمریت ، موروثیت اور ملوکیت ہے،ان کی وجہ سے وہاں یہ نظام رائج نہیں ہے۔ وہاں فرد واحد فیصلے کرتا ہے۔ اس کے نیچے یونین کونسل، وارڈ کی سطح پر پارٹی سسٹم ہوتا جیسے کیمونسٹ ملکوں میں ہوتا ہے جیسے رشیا،وینزویلا،کیوبا،نارتھ کوریااورچائنا وہاں پر بنیادی جمہوریت نہیں ہے۔ اس لیے انڈیا کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے کہ وہاں پر بنیادی جمہوریت کا نظام رائج ہے۔ جیسے انڈین پنجاب میں آج بھی پنجایت کمیٹیاں ہیں جبکہ پاکستان میں اس سسٹم کو ایوب خاں مرحوم کے وقت سے لانے کی کوشش کی گئی۔یہ نظام کہیں نہ کہیں پھر ان ہی ڈکٹیٹر کو تنگ کرنے لگ جاتا ہے۔ یعنی جمہوریت کی نئی پود، نئی پنیری ،نئے پودے تیار ہوتے ہیں اور ڈکٹیٹر شپ والا کوئی ملک یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے ملک میں جمہوریت کی اتنی زیادہ فراوانی ہو۔ تو یورپ میں خود بتیس سال رہااب مجھے بارہ تیرہ نارتھ اور سائوتھ امریکہ میں رہتے ہوئے ہو گئے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ ایک گلی کا چھوٹا سا کام کرنا ہے ،سیوریج کا یا کوئی بھی مسئلہ ہو۔ بنیادی طور پر وہاں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ ہر کام ان کے ٹیکسز کے پیسے سے ہوتا ہے۔ جن جن ملکوں میں بنیادی جمہوریت کا قانون رائج ہے یعنی لوکل باڈی کا نظام رائج ہے۔ وہاں پر عام آدمی سے تین قسم کے ٹیکسز کاٹے جاتے ہیں۔اور عوام سے اکٹھا کیا ہوا ٹیکس تین جگہوں پر جاتا ہے۔ ایک تو اس شہر کے یونین کونسل ہے، میونسپل کمیٹی ہے،میٹروپولیٹن کارپوریشن ہے اور پھر دوسری جگہ اس کے بعد صوبے کو جاتا ہے اور تیسری جگہ وہ فیڈرل ٹیکس ہوتا ہے۔ یعنی تینوں کو آپ کے ٹیکس سے کاٹا ہوا پیسہ تقسیم ہو کر جاتا ہے۔اب فیڈرل اس کے بدلے آپ کو ریلوے، فارن افیئر، پروٹیکشن کے لیے فوج اور یہ سب چیزیں مہیا کرتا ہے اور آپ کے لیے پالیسیاں بناتا ہے، اور روزگار دیتا ہے۔ جبکہ صوبہ آپ کو اس کے بدلے ہسپتال، ایجوکیشن، روزگار کے موقع ،پنشن وغیرہ مہیا کرتاہے۔ لوکل باڈی آپ کی پرائمری سکول، سیوریج،ہیلتھ یہ سب کور کرتے ہیں۔ کوئی پراجیکٹ جس میں دس پندرہ ملین ڈالر خرچ ہو رہا تو وہ کہتے ہیں کہ اتنے پیسے لگانے ہیں تو ہم اس علاقے کے لوگوں سے پوچھ لیں وہ کروانا چاہتے ہیں کہ نہیں کیونکہ ہم نے ان کے پیسے ہی ان پر لگانے ہیں-کیونکہ اگر وہ لوگ کہہ رہیں کہ ہم نے نہیں کروانا تو پھر ہمیں یہ پراجیکٹ دینے کی ضرورت کیا ہے۔اس طرح ایک تو اس میں کرپشن کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ جب پراجیکٹ شروع ہوتا ہے تو ہر بندے کی اس پر نظر ہوتی ہے کہ میرے ٹیکس سے جو کام ہو رہا ہے اس میں کوئی کرپشن تو نہیں ہو رہی۔میرے پیسوں سے چلنا والا ہسپتال مجھے سہولیت نہیں دے رہا ، میرے پیسوں سے چلنے والا سکول مجھے سہولیت مہیا نہیں کر رہا۔ پاکستان میں جمہوریت کی تین چار دفعہ کوشش کی گئی ہے۔ پہلے دفعہ ایوب خان کے دور میں ہوئی ،پھر ضیاء الحق کے دور میں ، پھر اس کے بعد مشرف صاحب کے دور میں دو الیکشن کروائے گئے۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب بھی پاکستان میں جمہوری حکومتیں آئیں کسی نے بھی بلدیاتی نظام اور بنیادی جمہوریتوں کی طرف توجہ نہیں دی بلکہ ان کا زیادہ تر ایشو یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ایم پی اے،ایم این اے جن سے مل کر ہم حکومت بناتے ہیں ہم ان کو مضبوط کریں تاکہ ہماری حکومت مضبوط ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان میں بنیادی جمہوریت کا کوئی دشمن اور نہیں بلکہ یہی سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں۔پورے 77سال کا ریکارڈ دیکھ لیں جب بھی کوئی حکومت آتی ہے جو جمہوری کہلاتی ہے وہ جمہوری نہیں ہوتی بلکہ جمہور کش ہوتی ہے۔پاکستان میں بنیادی جمہوریت کا ہونا میرے خیال میں ہونا بہت ضروری ہے۔ اور میں نے اپنی چالیس بیالیس سالہ انٹرنیشنل جو عمر گزاری ہیں میں نے دیکھا کہ بنیادی جمہوریت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی بیک بون ہوتی ہے۔پاکستان میں پھر آوازیں آ رہی ہیں کہ پھر الیکشن کروائے جائیں گے پچھلے دس سال میں الیکشن نہیں ہوئے کیوں نہیں ہوئے۔ عمران خان کی حکومت اس درمیان آئی ،کیئرٹیکر حکومت بھی رہی۔لیکن کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کیونکہ آپ کی گرفت کم ہو جاتی ہے آپ کے ایم این اے، ایم پی اے کے اثر آپ کے وسائل پر کم ہو جاتے ہیں وہ آپ کو تنگ کرکے گلیاں، سڑکیاں،سکول، کالج دینے کے وعدے پر آپ کو ووٹ دیتے ہیں۔ میرے خیال میں پاکستان میں اس نظام کے آنے سے ہمارے وفاق اور پنجاب میں رشوت کم ہو تی۔ جب یہ لوگ صوبے اور مرکز کے لیول پر اگریہ کام کریں گے یہ صرف پالیسی ساز ادارے بن کر رہ جائیں گے۔اور یہی ان کا اصل کام ہوتا ہے جبکہ عوام کی سہولیات، سڑکیں، سکول، بجلی، کالج، پانی، گیس اور یہ ساری چیزیں مہیا کرنا لوکل باڈی کا کام ہے۔یورپ میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔میں کینیڈا میں رہ رہا ہوں وہاں پر بھی ایک ایم این اے اپنی سیٹیں چھوڑ کر وہ کونسلر کے الیکشن کو ترجیح دیتے ہیں کہ کونسلر کے پاس فنڈ ہوتے ہیں انہیں اپنی مرضی،پارٹی کی مرضی سے لگا سکتے ہیں۔ جبکہ ایم این اے اور ایم پی اے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتااور نہ ان کے پاس کوئی فنڈ ہوتے ہیں۔جمہوریت کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے مناسب طریقہ کار، مناسب سسٹم کو طے کرنا ضروری ہے۔ پاکستان جیسے غریب ملکوں میں ہوتا ہے کہ جمہوریت کے نام پر ہم ڈرامے کرتے ہیں جمہوریت کے نام پر سٹیج تیار کرتے ہیں لیکن سسٹم ایسے کر دیتے ہیں، حلقہ بندیاں ایسی کر دیتے ہیں پھر اور کئی طریقوں سے کبھی ہم تیرہ ممبران کے ساتھ کر رہے ہیں اور دوسرا خواتین کی سیٹیں ڈائریکٹ نہیں چنی جاتیں۔کیوں نہیں چنی جاتی جبکہ پوری دنیا میں خواتین الیکشن لڑتی ہیں۔جب آپ کچھ مخصوص نشستیں کسی بھی جگہ سینیٹ میں رکھیں،مرکز میں رکھیں، صوبے یا بلدیاتی سسٹم میں رکھیں جب آپ مخصوص نشستیں رکھیں گے تو وہ تمام شخص بکیں گے وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کریں گے۔اس لیے اس سسٹم کو ختم کرکے فول پروف جمہوری سسٹم اپنانا ہوگا۔ نوٹ: -1 قارئین !میرا آج کا یہ کالم اس بات کا شاہد رہے گا کہ بنیادی جمہوریت کا ڈھانچہ اس وقت تک پٹڑی پر نہیں چڑ ھ سکتا جب تک آپ بنیادی جمہوریت کے پودے کی جڑوں کو کیڑے مار دوائیوں سے صاف نہیں کر لیتے۔اس کے لیے میری یہ ایک تجویز ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے نظام میں یہ شق شامل کی جائے کہ صوبائی یا قومی اسمبلی یا سینیٹ کے ممبران کا کوئی رشتہ دار ،عزیز بلدیاتی انتخاب میں حصہ نہ لے سکے۔چونکہ پاکستان میں ہوتا یہ ہے کہ لوکل باڈی میں ملنے والے فنڈز کو سیاسی جماعتوں کے نمائندے اپنی مرضی سے استعمال کرنے کے لیے بنیادی جمہوریت کے ڈھانچے میں قابض ہو جاتے ہیں۔اور پھر اپنے من پسند افراد یا منصوبوں کی تکمیل کے ذریعے وہ اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ -2مخصوص نشستیں جیسے خواتین کی سیٹیں، لیبر کونسلر ، کسان کی سیٹ اور اقلیتی نشستوں پر براہ راست ووٹنگ کے ذریعے الیکشن کروایا جائے۔ -3اور اس سسٹم کو مزید شفاف بنانے کے لیے چیئرمین و وائس چیئرمین یونین کونسل،تحصیل ناظم، ڈسٹرکٹ ناظم جیسے عہدوں کو براہ راست ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا جائے۔کیونکہ جب آپ زیادہ کونسلر جیتنے کی بنیاد پر سلیکشن کا معاملات چھوڑ دیں گے تو پھر ان نمائندوں کی منڈیاں اور بازار لگیں گے۔جس سے جمہوریت کے اصلی مقاصد دفن ہو کر رہ جائیں گے۔ قارئین!ہمیں نظام بدلنے کے لیے ذہنی طور پر پوری طرح تیار رہنا ہوگا کیونکہ آدھا تیتر،آدھا بٹیر جیسے رویوں نے ہمارے ملک کو خدانخواستہ تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus