×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بُغضِ پاکستان میں کافروں سے دوستی
Dated: 05-Nov-2025
اس سے پہلے بھی ہماری تاریخ کسی سے مطابقت نہیں رکھتی، لیکن اسلامی بھائی چارے کے نام پر، کیونکہ ہماری عوام اس خطے — جسے ہم پاکستان کہتے ہیں — کے لوگ وفادار واقع ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنا صدیوں پرانا دَھرم تک چھوڑ کر اسلام سے پیار کیا، یہ وہ دھرتی ہے جہاں لوگوں نے اسلام کو صرف سن کر قبول کیا۔پھر اسی اسلامی بھائی چارے کے نام پر مختلف قسم کے طالع آزما، جو افغانستان کے لشکروں کے جنگجو سردار ہوا کرتے تھے، انہوں نے اپنے ذاتی مقاصد، چوری اور ڈاکے کے لیے اپنے ہدف تک پہنچنے کی خاطر ہماری دھرتی کو راستہ بنایا۔ اگر یہ حملے اسلام کے لیے ہوتے تو وہاں ٹھہر کر حکومتیں قائم کرتے، جیسا کہ اْس زمانے میں رواج تھا۔ان کے مقابلے میں انگریز کو دیکھیں۔ وہ ڈھائی سو سال برصغیر پر حکومت کرکے گئے۔ ایک برٹش کونسل اعلامیے کے مطابق، اس دن جب ہندوستان میں انگریزوں کی موجودگی سب سے زیادہ تھی، تب بھی ان کی افواج، افسران اور عملے کی مجموعی تعداد صرف بارہ ہزار تین سو (12,300) تھی، جن میں انتظامی افسران اور فوجی افسران بھی شامل تھے۔ افغان سترہ (17) مرتبہ ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔ انہوں نے سومنات کو بھی لوٹا، خزانے خالی کیے، مگر آج تک ایک صوبیدار تک مقرر کرکے نہیں گئے۔ اگر کسی ہندو کو مقرر کر کے آتے، تو وہ جزیہ وصول کرکے انہیں دیتا رہتا۔ اگلے سال حملہ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، جزیہ خود چل کر ہرات اور قندھار پہنچ جاتا۔اس کے اثرات دیکھیں کہ انگریزوں نے اتنی کم افواج اور نفری کے باوجود پورا برصغیر — جس میں آج سات آٹھ ممالک شامل ہیں، یعنی بھارت، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، پاکستان، بنگلادیش، افغانستان اور برما — سب پر کنٹرول قائم رکھا۔جبکہ ان ممالک کی تحصیلیں ملا لی جائیں تو وہ بارہ ہزار سے کہیں زیادہ بن جاتی ہیں۔انگریز نے حکمت، انتظام اور نظام کے ذریعے انہیں کنٹرول کیا۔ جبکہ ہمارے جو حملہ آور تھے، انہوں نے لاکھوں مسلمان سپاہیوں کو اپنی ناقص حکمتِ عملی کے باعث جنگوں میں مروایا۔ آج انہی حرکتوں کی وجہ سے برصغیر میں اسلام کبھی بھی اپنے قدم مضبوط نہ جما سکا۔وہ خطہ جس میں آج مسلمان تقریباً 30 کروڑ کے قریب ہیں، محکومی کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس لیے کہ انہوں نے اس علاقے میں ترویجِ اسلام کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ مذہب کے فروغ کے نام پر کوئی محنت نہیں کی۔ انہوں نے صرف لوٹا، اور لوٹ کر مال واپس لے گئے۔آج انہی کے نام پر غوری، غزنوی، ابدالی اور نادر شاہی میزائل بنا لیے گئے ہیں۔ ہمارا ڈی این اے سینٹرل ایشیا سے تو مل سکتا ہے، لیکن افغانوں سے ہمارا ڈی این اے کبھی بھی مماثلت نہیں رکھتا۔ آج بھی قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کی نوجوان نسل کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ افغانستان دنیا کے 193 ممالک میں سے واحد ملک ہے جس نے سب سے آخر میں پاکستان کو تسلیم کیا۔ یعنی وہ دو عشروں تک پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کرتے رہے۔ آج بھی بعض حلقے کہتے ہیں کہ ’’اٹک تک ہمارا افغانستان ہے‘‘ — جب کہ اْن کے اپنے ملک کے اندر اْن پختونوں کو بااختیار بننے کی جگہ کوئی دے ہی نہیں رہا۔ایک فارسی بولنے والا ایران سے اپنا تعلق جوڑتا ہے، ایک تاجک تاجکستان سے، اور ازبک ازبکستان سے۔ یہ ستر فیصد وہ قوت ہے جو افغانستان پر قابض رہتی ہے، جبکہ تیس فیصد لوگ ادھر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ اٹک کا پل تک اْن کا ہے۔ پاکستانی جذبۂ حب الوطنی کا سوال دیکھیں: اگر واقعی حب الوطنی ہوتی تو یہ لوگ پشاور سے آگے سرحد پار نہ کرتے۔ یہ جذبہ ادھر بھی ہونا چاہیے تھا—انہیں کیوں نہیں روکا گیا؟ اگر وہ ایران چلے گئے تو ایران نے کیمپ بنا کر اْنہیں محدود کر دیا؛ اْن کی آمد و رفت کے لیے ایک مخصوص اور کنٹرولڈ چیک پوسٹ مقرر کردی گئی، اور جو باہر جائے گا وہ پاس لے کر جائے گا۔ اگر وہ مقررہ وقت میں واپس نہ آئے تو اْن کے اہلِ خانہ کو ملک بدر کر دیا جاتا۔ ایسے دو ملین سے زائد افراد چالیس سال سے وہاں اسی کیمپ میں رہ رہے ہیں؛ مگر کیمپوں سے باہر اْنہیں آزاد نہیں کیا گیا۔ وہاں سکول اور ہسپتال بنائے گئے، ایک نیا شہر بسایا گیا، تاکہ وہ مقامی عوام میں گھل مل کر ہمارے کلچر اور ثقافت کو تبدیل نہ کریں۔ یہی نیشنلسٹ رویہ ہوتا ہے؛ یہی وطن سے محبت ہے۔ اور ہم نے کیا کیا؟ ہم نے انہیں نہ صرف کراچی، گوادر اور بلوچستان تک بسایا بلکہ لاہور، گوجرانوالہ، گلی کوچوں اور محلوں میں پھیلا دیا۔ ایسے ہی ایک افغان بھٹہ بیچنے والا یا جوتی چمکانے والا، جب وائی فائی نہیں تھا، ہمارے دشمن کے لیے انٹرنیٹ کا کام کرتا رہا۔ انڈیا میں آج بھی آٹھ ہزار سے زائد افغانی موجود نہیں ہیں جب ہمارے ہاں چالیس لاکھ سے شروع ہو کر یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ ستر لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی۔ پچھلی بار جب طالبان آئے تو کچھ واپس گئے؛ اس بار بھی جب طالبان آئے تو چندہی واپس لوٹے۔ اس وقت جب چالیس لاکھ سے زائد افغان جو واپس جا چکے ہیں اور اتنے ہی پاکستان بھر کے کونے کھدروں میں موجود ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت متحدہ پاکستان — جس میں بنگلہ دیش بھی شامل تھا — کی آبادی تقریباً پانچ کروڑ تھی؛ آج ان کی آبادی بیس کروڑ اور ہماری اٹھائیس کروڑ ہے، یہ مل کر 53 کروڑ بنتی ہے۔ہم نے جو چالیس لاکھ افراد قبول کیے، پچھلے پینتالیس سالوں میں ان کی تعداد کم از کم ڈیڑھ کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، جو ہماری معیشت پر اضافی بوجھ ہے۔ یہ لوگ گننے، لکھنے اور پڑھنے کے قابل نہیں سمجھے گئے۔ اْن کے لیے اناج اگانے، ضروریاتِ زندگی منگوانے اور برآمدات/درآمدات کے حسابات میں ہمیں مشکلات پیش آتی ہیں، کیونکہ ہم انہیں باقاعدہ اکاؤنٹ میں نہیں لاتے۔ جب ہم انہیں اکاؤنٹ نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک غیر ذمہ دارانہ طریقے سے ملک کا نظام چلا رہے ہیں؛ اور بغیر حساب کے جو بجٹ تیار کریں گے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔پھر یہ تبدیلیاں منشیات، کلاشنکوف اور خواتین کی تذلیل جیسی ثقافتی برائیاں بھی ساتھ لائی گئی ہیں۔ یہ عناصر ہماری دھرتی میں نہ سندھ کی ثقافت ہیں، نہ بلوچوں کی، نہ کشمیریوں کی؛ یہ افغان علاقوں سے ہم نے بطورِ کلچر درآمد کیں۔ اب ان کا آنا جانا ایسے ہی سمجھیں کہ ہم اپنے خون کو صاف اور ری سائیکلنگ کرنے کی ایک ادنیٰ سی کاوش میں مصروف ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف سے لاکھوں سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن انہوں نے انہیں نکالنے کے لیے جو پالیسی اپنائی، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اور آج بھی ان کی افغان ٹیم دنیا میں کہیں بھی سفر کرتی ہے تو اسے پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ آج بھی ان کی پوری ٹیم پاکستانی پاسپورٹوں پر سفر کرتی ہے۔ ابھی دو ہفتے پہلے سعودی عرب نے بوریاں بھر کر بارہ ہزار سے زائد پاکستانی پاسپورٹس پر آنے والے افراد پکڑے اور حکومتِ پاکستان کے حوالے کیے۔ سعودی حکام نے پاکستانی سفیر کو بلا کر کہا کہ یہ بارہ ہزار پاسپورٹ اور افراد لے جائیں۔ یہ خرچہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اب ہم انہیں وہاں سے پاکستان لائیں گے اور پھر پاکستان سے انہیں افغانستان بھیجیں گے۔ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب یہ کیوں نہیں کرتا کہ اگر یہ غیر ملکی ہیں — افغان ہیں — اور ان کے پاس پاسپورٹ ضبط کیے گئے ہیں، تو ہمارے حوالے کرنے کے بجائے انہیں ریاض سے براہِ راست فلائٹس کے ذریعے افغانستان پہنچا دے؟اگر انڈیا اتنا ہی حمایتی ہے، اگر ان کے دل میں اتنا پیار اور محبت ہے تو وہ اپنے ہاں ان لوگوں کو آباد کیوں نہیں کرتا؟ ہم انہیں راستہ دے کر ادھر جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ انڈیا کی خود صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنے بسنے والے بہاریوں اور بنگالیوں — جن کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے — انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں دیتا۔ ان کے پاس ایک عارضی کارڈ ہے، جیسا ہمارے پاس شناختی کارڈ ہے۔ پانچ کروڑ لوگوں کو انڈیا نے مستقل کارڈ جاری نہیں کیے؛ اگر ان کا ڈی این اے انڈیا سے نہیں ملتا تو وہ افغانوں کو کیسے رکھے گا؟افغان طالبان اور انڈیا کے ماضی میں مخاصمت رہی ہے؛ اسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ وہ بندوبست ایسے کرتے ہیں کہ پہلے دیکھتے ہیں اور پھر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ سب اس لیے کیا کہ پاکستان کا دھیان ادھر مبذول ہو جائے، اور ہمیں پاکستان کے ساتھ مسلسل تصادم میں لگا رکھیں — تاکہ ہر بار سات رافیل طیارے گرانے کی صورت حال نہ پیش آئے، ہمارے فوجی نہ مریں اور عوام کا جانی نقصان نہ ہو۔یہ سرمایہ کاری اسی مقصد کے تحت کی جا رہی ہے؛ اور ان افغانوں کو شاید اس بات کا ادراک نہیں ہے۔ اگر ادراک ہے تو انہیں پرواہ نہیں؛ وہ کہتے ہیں:"عقل نہ ہووے تے موج ہی موج ہے۔" قارئین!عالمی سیاست اور کرنٹ افیئرز (حالاتِ حاضرہ)کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناطے میری پاکستان میں مسندِ اقتدار پر بیٹھے یا فیصلہ ساز اداروں سے التماس ہے کہ اگر آپ نے پاکستان کو غیرقانونی مقیم ،غیر ملکیوں سے صاف کرنے کا پراجیکٹ تیار کیاہے تو براہِ کرم اس کو ادھورا مت چھوڑیئے گاکیونکہ ایسے منصوبے ادھورا چھوڑنے سے ملکی امن و استحکام پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں۔دنیا بھر کے 193ممالک میں کہیں بھی کوئی ایسا قانون یا ضابطہ موجود نہیں کہ جس کے تحت غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو بغیر شناخت کے امیگریشن یا ریذیڈنسی دے دی جائے۔میں خود پچھلے چالیس سال سے یورپ اور نارتھ امریکہ میں مقیم ہوں جہاں لاکھوں پاکستانی حصول علم اور روزگار کے لیے مقیم ہیںمگر وہ سب اپنے میزبان ملکوں کی مرضی اور ان کے ریکوائرڈ ڈاکومنٹس پورا کرکے ہی گرین کارڈ یا پرماننٹ ریذیڈنسی حاصل کرتے ہیں۔دنیا میں کہیں ایک بھی پاکستانی یا بھارتی و بنگلہ دیشی شہری یورپ، امریکہ ،افریقہ ،عرب اور آسٹریلیا کی حکومتوں کی رضامندی اور مرضی کے بغیر مستقل نہیں رہ سکتے۔یہ ایک چھوٹا نکتہ ہے جس کو سمجھنے کے لیے افغان بھائیوں کو کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں(کیا دنیا کے 57اسلامی ممالک میں سے کسی ایک ملک نے بھی افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کیا ہے؟اور کیا ان 57مسلمان ممالک میں سے کسی ایک نے بھی افغان پناہ گزینوں کو اپنے ہاں آباد کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے؟)۔قارئین! افغانستان ایک لینڈ لاک (وہ ملک جس کو سمندر نہیں لگتا)ملک ہے۔اور انہیں اچھا یا بُرا دونوں طرح کے جینے کے لیے ہمیشہ قریبی ساحلوں کی ضرورت پڑتی رہے گی۔اور سب سے قریبی سہولت اسے پاکستان ہی فراہم کر سکتا ہے۔تو پھر افغان بھائیوں کو اپنے رویے ،سمجھ اور سوچ کو فریز کرکے ٹھنڈا کرنا ہوگا۔اور اپنے رویے کو بدل کر وہ اپنے گزرے کل کے دوست کو پھر سے اچھا دوست بنا سکتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus