×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ججوں کے استعفے رنگ لائیں گے یا گُل کھلائیں گے؟؟؟
Dated: 18-Nov-2025
یہ تاثر درست نہیں کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اچانک منظور ہو گئیں۔ 26ویں ترمیم طویل عرصے تک زیرِ بحث رہی اور بالآخر مختلف سیاسی جماعتوں کی رضا مندی سے منظور ہوئی، اور حکومت نے جو مزید تبدیلیاں مطلوب تھیں وہ 27ویں ترمیم کے ذریعے کر لیں۔27ویں آئینی ترمیم نہ صرف ہو چکی ہے بلکہ نافذ العمل بھی ہے جس کے مطابق ملٹری مارشلز کوتا حیات استثناء ہوگا اس کے ساتھ ساتھ صدر کے لیے بھی تاحیات اس طرح رکھا گیا ہے۔سینٹ سے منظور ہونے والی ترمیم میں یہی لکھا گیا تھا مگر قومی اسمبلی میں اس ترمیم کی نوک پلک درست کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر صدر سیاست میں ایصال لیتے ہیں کوئی آفس ہولڈ کرتے ہیں تو اس دوران ان کو استثنا نہیں رہے گا۔کچھ لوگوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے یہ ترمیم کی گئی ہے۔یہاں پہ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ آٹھویں آئینی ترمیم فوجی امر جنرل ضیاء الحق کی طرف سے کی گئی تھی اور اس ترمیم میں ان کا نام بھی شامل کیا گیا تھا 27 ویں آئینی ترمیم میں کسی کا نام بشمول صدر یا فیلڈ مارشل کے درج نہیں ہے۔مزید برا ںکہ اس ترمیم میں اگر کوئی سقم رہ گیا ہے تو اس کے لیے کہا جا رہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 26ویں ترمیم کے وقت عدلیہ کی طرف سے کوئی سخت ردِعمل سامنے نہیں آیا، لیکن 27ویں ترمیم نے غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی، اور چند سینئر ججوں نے اسے عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے استعفوں کو اپنا احتجاج بنا لیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے 27ویں ترمیم کی منظوری کے بعد استعفے دے دیے۔ جسٹس شمس محمود مرزا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ ذاتی معاملات کے باعث استعفیٰ دے رہے ہیں جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے تو واضح طور پر 27 ویں ترمیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا چند استعفوں سے پورا نظام بدل جائے گا؟ اگر ان جج صاحبان کے پاس مضبوط دلائل تھے تو بہتر یہ ہوتا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو قائل کرتے، اجتماعی مؤقف اور حکمت عملی بنتی، اور پھر کوئی مضبوط ردِعمل سامنے آتا۔ محض استعفیٰ دے کر الگ ہو جانا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مشکل وقت میں میدان چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔ ہمارے معاشرے میں روایت یہی رہی ہے کہ برائی کے خلاف اجتماعی قدم اٹھانے کے بجائے ہر شخص الگ الگ چھوٹا سا ردِعمل دیتا ہے جیسے شیطان کو کنکریاں مارنے کی مثال۔ اگر عدلیہ اجتماعی طور پر فیصلہ کر لیتی تو شاید یہ صورتحال نہ بنتی۔ اسی لیے چند ججوں کے استعفے ’’بے وقت کی راگنی‘‘ بھی محسوس ہوتے ہیں۔ ایمان کا سب سے نچلا درجہ یہ ہے کہ آدمی برائی کو دل میں برا جانے، شاید یہی سوچ ان جج صاحبان کی بھی ہو، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دل میں برا جاننے سے نظام بدل جائے گا؟ جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ اسی نظام کا نتیجہ ہے جو دہائیوں سے عدلیہ کے اپنے تضادات، مختلف فیصلوں اور باہمی اختلافات کی وجہ سے کمزور ہوا ہے۔ دنیا کا اصول یہی ہے کہ جو غلطی کی جاتی ہے اس کا خمیازہ بالآخر بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ ہم مغرب یا بھارت کی جمہوریتوں کے معترف نہ بھی ہوں تو بھی یہ حقیقت ہے کہ وہاں کم از کم عوام کو ایک مربوط اور قابلِ عمل نظام دیا گیا ہے۔ کسی بھی معاملے میں بھارت کی تعریف کرنا میں کفر کے مترادف سمجھتا ہوں مگر سچ یہی ہے کہ وہاں پہ جمہوریت نظام درست ہونے کی وجہ سے ہی مضبوط ہوئی ہے۔جب تک نظام بہتر نہیں ہوتا، افراد بدلنے، وردی یا کوٹ پینٹ تبدیل کرنے یا چہرے بدلنے سے کوئی خوشبو نہیں آتی — اندر کی بدبو باقی رہتی ہے۔ اصل مسئلہ نظام کا ہے، شخصیات کا نہیں۔ برطانیہ کی مثال سامنے ہے جس نے بغیر تحریری آئین کے دنیا پر راج کیا، چند تعلیم یافتہ لوگوں نے اصول طے کیے اور نظام چلتا رہا، جبکہ ہم 1973 کے آئین کو ایک سیاسی ہتھیار بھی بناتے ہیں، اسی پر سیاست بھی کرتے ہیں اور اسی میں سب سے زیادہ کھلواڑ بھی کرتے ہیں۔ آج پیپلز پارٹی خود بھی سیاسی زوال کا شکار ہے، اور سابق صدر زرداری صاحب کے استثنیٰ کی بحث بھی اسی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔70 سال سے زائد عمر میں آصف علی زرداری کو استثناء کی ضرورت نہیں ہے مگر یہ استثناء اس لیے لیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔ پاکستان کی تاریخ عدلیہ کے کردار سے بھری پڑی ہے۔ کبھی پرویز مشرف کو تاحیات صدر بنانے کی باتیں ہوتی رہیں، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ اگر مشرف کو دس مرتبہ بھی وردی میں صدر بنانا پڑا تو بنائیں گے۔ ایک مقدمے میں مشرف کی بغاوت کو آئین شکنی قرار دینے کے بجائے انہیں آئین میں ترمیم کا اختیار دے دیا گیا، انتخابات کے لیے تین سال بھی بڑھا دیے گئے۔ جب وہ اقتدار سے گئے اور لاچار ہوئے تو عدلیہ شیر ہو گئی اور سزائے موت جیسے فیصلے سنا دیے۔ جنرل ضیاء الحق کو بھی استثنیٰ عدالتوں نے دیا۔ یہی عدالتیں وہ تھیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو دباؤ میں آ کر پھانسی دی اور کئی دہائیوں بعد اسی عدلیہ نے اْس فیصلے کو غلط قرار دیا۔ ایسے پس منظر میں چند ججوں کے استعفے کسی بڑے نظامی مسئلے کا حل کیسے بن سکتے ہیں؟ 27ویں آئینی ترمیم اس کی افادیت اور ججوں کے استعفوں پروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیرکی نئی تقرری بڑی اچھی ہے، ان سے بہتر اورکون ہوسکتا تھا۔برطانیہ سے وطن واپسی کے لیے ایون فیلڈ سے روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی قیادت پاک بھارت جنگ میں دکھائی، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے زیادہ اس کا حقدار اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا۔ججز کے استعفوں کے معاملے پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ ضمیرپہلے کیوں نہیں جاگے جب نوازشریف، مجھے اور دیگرکو غلط سزائیں ملیں، یہ سیاسی ضمیر ہیں، انصاف کے لیے کوئی قدم نہیں ہے، یہ مکافاتِ عمل ہے۔مریم نواز شریف پاکستان سے برطانیہ گئی تھیں۔برطانیہ سے امریکہ اور امریکہ سے برازیل موسمیاتی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئی تھیں۔واپسی پر وہ لندن آئیں۔یہاں سے یعنی پاکستان سے ان کے والد محترم میاں محمد نواز شریف 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں پر جوش طریقے سے ووٹ دینے کے بعد کامیابی کا تاج سر پر سجائے لندن پہنچے ہیں۔میاں نواز شریف کا ڈیڑھ دو مہینے پہلے جنیوا سوئٹزرلینڈ میں دل کا پراسس ہوا تھا۔خواجہ آصف کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے دل کا دوہرا میڈیکل پروسیجر ہوا ہے۔نواز شریف اس کے بعد پاکستان آئے تھے اور پاکستان سے اب وہ شاید مزید چیک اپ کے لیے لندن گئے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدرِ پاکستان کو ارسال کیا۔ انہوں نے لکھا کہ 27ویں ترمیم آئین پر سنگین حملہ ہے، اس ترمیم نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا، انصاف عام آدمی سے دور ہو گیا اور اعلیٰ عدالت کو منقسم کر کے عدلیہ کی آزادی پامال کی گئی۔ ان کے مطابق ایسی عدالت میں رہنا ممکن نہیں جس سے اس کا آئینی کردار چھین لیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس دو راستے تھے: یا ادارے کی بیخ کنی میں شریک ہو جاؤں یا احتجاجاً استعفیٰ دوں، اور عہدے پر رہنا آئینی دراندازی پر خاموش رضا مندی کے مترادف ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے سپریم کورٹ کے اوپر ایک نئی وفاقی آئینی عدالت بنا دی ہے جو پورے عدالتی اور جمہوری نظام سے متصادم ہے۔ یہ کوئی اصلاح نہیں بلکہ خطرناک تنزلی ہے۔ 26ویں ترمیم عدلیہ کی آزادی کمزور کرنے کا پہلا قدم تھی۔ چیف جسٹس نے ادارے کے دفاع کے بجائے اپنے عہدے کو ترجیح دی، اور نئی عدالت سیاسی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ دوسری طرف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ میں نے ہمیشہ آئینِ پاکستان سے وفاداری کے حلف کی پاسداری کی مگر اب جس آئین کے تحفظ کا حلف لیا تھا وہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ 27ویں ترمیم سے قبل انہوں نے چیف جسٹس کو خط میں شدید تحفظات سے آگاہ کیا تھا لیکن خاموشی اور بے عملی نے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا۔ ان کے مطابق نئے نظام کی بنیاد آئین کے مزار پر رکھی جا رہی ہے جہاں صرف ایک سایہ باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج کا لباس محض زیبائش نہیں بلکہ مقدس امانت ہے جسے مصلحت کے تحت اکثر خاموشی کی علامت بنا دیا جاتا ہے۔ ماضی کی تکرار مستقبل نہیں بن سکتی، اسی امید پر وہ یہ لباس ہمیشہ کے لیے اتار رہے ہیں۔ ان تمام تفصیلات کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ چند ججوں کے استعفے اس بڑے نظامی بحران کا حل نہیں۔ اگر واقعی مقصد نظام کو درست کرنا ہوتا تو بہتر یہ ہوتا کہ یہ جج اپنے ساتھیوں کو قائل کرتے، ایک اجتماعی مؤقف طے ہوتا اور اصلاحات کی جدوجہد ادارے کے اندر سے کی جاتی۔ استعفیٰ بالآخر ایک طرح کا راہِ فرار ہے۔ ذرا سی مشکل آئے اور آدمی میدان چھوڑ دے۔ اصل تبدیلی فرد سے نہیں بلکہ نظام سے آتی ہے۔ جب تک عدلیہ، پارلیمان اور انتظامیہ ایک شفاف، مستحکم اور مستقل اصولی ڈھانچہ قائم نہیں کرتے، نہ 26ویں ترمیم کچھ بدلے گی، نہ 27ویں، نہ استعفے، نہ نئے چہرے۔ موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں نظام بدلنا ہے تو نظام کے اندر رہ کر ہی بدلا جا سکتا ہے۔جج صاحبان کے استعفے ہو سکتا ہے کہ ایک دو کے اور بھی آ جائیں مگر ان سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ایسے استعفے رنگ نہیں لاتے بلکہ گُل ہی کھلاتے ہیں۔ پنجابی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایسے استعفے چن ہی چڑھاتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus