×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش؟ مگر پاکستان کا اصولی موقف!
Dated: 05-Dec-2025
گزشتہ چند دنوں میں یہ تاثر شدت اختیار کر گیا تھا کہ پاکستان بھی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں بین الاقوامی فورس کا حصہ بننے جا رہا ہے اور ممکن ہے کہ اس فورس کے مینڈیٹ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی شق بھی شامل ہو۔ عوامی حلقوں میں یہی سوال گردش کر رہا تھا کہ پاکستان ایسی کسی کارروائی میں کیوں شریک ہو جو فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنے کے مترادف ہو۔ مگر تازہ ترین حکومتی اعلان نے نہ صرف ان خدشات کو دور کر دیا ہے بلکہ پاکستان کی اصولی، باوقار اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کو بھی ایک نئے انداز میں دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ پاکستان کے دفترخارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں فوج بھیجنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے، لیکن اگر اس عالمی فورس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہوا تو پاکستان کسی صورت اس کا حصہ نہیں بنے گا۔ پاکستان کا کردار امن قائم کرنا ہے، امن مسلط کرنا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک اس فورس کا مینڈیٹ اور TORs شفاف، واضح اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ نہیں ہوتے، پاکستان کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔ یہ مؤقف صرف ایک سفارتی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخی فلسطین دوستی اور اخلاقی کمٹمنٹ کا اظہار ہے، کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا ان کے حقوقِ خودارادیت سے انکار کے مترادف ہے۔ اسی طرح افغانستان کے معاملے میں حکومتِ پاکستان نے جس دوٹوک انداز میں صورتحال بیان کی ہے وہ بھی یکطرفہ مصلحت نہیں بلکہ قومی سلامتی کی ضرورت ہے۔ دفتر خارجہ نے پہلی مرتبہ یہ اہم انکشاف کیا کہ پاکستان ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف افغانستان کے اندر ایک بڑے کائنیٹک آپریشن کے لیے مکمل تیار تھا، فیصلہ ہو چکا تھا مگر قطر نے ثالثی کی درخواست کرتے ہوئے اسے روکنے کی اپیل کی۔ پاکستان نے اپنے اتحادیوں کے احترام میں اسے مؤخر کیا مگر حکومت نے ساتھ ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ آپشن آج بھی میز پر موجود ہے، اور اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی تو پاکستان فیصلہ کن کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ دفتر خارجہ نے اس حقیقت کا بھی کھل کر اظہار کیا کہ افغانستان سے جاری حملے اب ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں، اور جب وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوتے ہیں تو انہیں اس تضاد کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف دراندازی رکنے میں نہیں آ رہی۔ پاکستان کا مطالبہ بہت سادہ اور جائز ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستان ہمیشہ افغان عوام کے لیے ہمدردانہ جذبات رکھتا آیا ہے، یہاں تک کہ حالیہ سخت فضا میں بھی خوراک کی انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ افغان عوام کے لیے کیا گیا، نہ کہ طالبان یا ٹی ٹی پی کے لیے۔ یہ رویہ پاکستان کی اصولی، انسانی اور اسلامی ذمہ داری کو بھی ظاہر کرتا ہے اور یہ بھی واضح کرتا ہے کہ پاکستان سفارت کاری، بات چیت اور امن کے راستے کو ترجیح دیتا ہے، مگر قومی سلامتی پر سمجھوتہ ہرگز نہیں کرے گا۔ وزیر خارجہ نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ وہ وقت دور نہیں جب مسلم اور غیر مسلم ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ چین، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک بھی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، اور پاکستان برسوں سے اس لڑائی کی پہلی صف میں کھڑا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ خطے کو مستقل امن کے لیے دہشت گردی کے بوجھ سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ پاکستان اپنا حصہ ادا کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ دوسرا فریق بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ غزہ اور افغانستان،دونوں اہم محاذوں پر حکومت کا مؤقف نہ صرف متوازن اور حقیقت پسندانہ ہے بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی نشانی بھی ہے۔ حکومت نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے حماس کے غیر مسلح کرنے کے خلاف واضح اور مضبوط مؤقف اپنایا، اور ساتھ ہی افغانستان کے بارے میں جس سخت لہجے میں قومی مفاد کو مقدم رکھا وہ بھی اسی ریاستی سوچ کا حصہ ہے۔ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امن کے لیے کام ضرور کرے گا مگر اپنی اخلاقی سرحدوں، تاریخی وابستگیوں اور قومی سلامتی پر کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے بڑے فیصلوں میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ نے نہ صرف ان کی بصیرت کی تعریف کی بلکہ کئی مواقع پر یہ بھی واضح کیا کہ کلیدی فیصلے ان کی مشاورت، منظوری اور رہنمائی کے تحت کیے گئے، جس سے صاف جھلکتا ہے کہ حکومتِ پاکستان عسکری قیادت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ غزہ کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ حکومت پاکستان کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ ابتدا میں بین الاقوامی امن فورس میں شمولیت کی اصولی منظوری فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف دونوں نے دی تھی۔ یہ فیصلہ خود یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کسی بھی عالمی مشن میں شرکت سے پہلے اپنے عسکری اداروں کی رائے کو سب سے اہم سمجھتا ہے۔ لیکن جب یہ خدشہ سامنے آیا کہ اس فورس کو حماس کو غیر مسلح کرنے کا ٹاسک دیا جاسکتا ہے، تو پاکستان نے فوراً اپنی پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لیا—اور یہ وہی حکمت عملی ہے جو حکومت پاکستان اور عسکری اداروں کے محتاط، اصولی اور ریاستی مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔ حکومت نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستانی فوج غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے ضرور جائے گی لیکن کسی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گی جس سے فلسطینی مزاحمت یا حقوقِ خودارادیت پر زد پڑتی ہو۔ یہ فیصلہ پاکستان کی اخلاقی حدود کی بھی علامت ہے اور عسکری قیادت کی واضح ترجیحات کی بھی۔ پاکستان اکتوبر میں اس وقت اپنے صبر کا دامن چھوڑنے کو تھا جب افغان سرزمین سے مسلسل حملے ہو رہے تھے اور پاکستانی فوجی شہید ہو رہے تھے۔حکومت پاکستان نے پہلی بار انکشاف کیا کہ ٹی ٹی پی کے خلاف کائنیٹک آپریشن کا فیصلہ مکمل طور پر تیار تھا اور اس بڑے آپریشن کی منظوری بھی موجود تھی۔ لیکن اسی موقع پر جب قطر نے ثالثی کی درخواست کی، تو پاکستانی مندوب نے وزیراعظم اور جی ایچ کیوں سے بات کی۔ پاکستان کا موقف اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے عسکری اداروں نے اس کو سنا ، حالات کو پرکھا، اور پھر مؤخر کرنے پر اتفاق کیا۔ حکومت کا سفارتی لچک دکھانا ہو یا جوابی کارروائی کے لیے فیصلہ کن تیاری—دونوں مراحل میں عسکری قیادت کا کردار نہایت واضح، فعال اور بااختیار رہا۔ ایک اور اہم پہلو جو خبر سے نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ افغان عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر خوراک کی فراہمی کا فیصلہ بھی جی ایچ کیو سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ پاکستانی مندوب کے بقول اقوامِ متحدہ کی درخواست پر انہوں نے احکامِ بالا سے بات کی اور انہوں نے فوری طور پر سرحد کھولنے اور خوراک کے ٹرک جانے کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ عسکری قیادت نہ صرف سخت فیصلوں کی اہلیت رکھتی ہے بلکہ انسانی ہمدردی کے معاملات میں بھی وسیع نظر رکھتی ہے۔ پاکستان کی افغانستان سے وابستگی، اس کے لوگوں کے لیے خیرسگالی اور ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی پر غیر متزلزل مؤقف؛یہ سب ایک ساتھ اْجاگر ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ خبر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت عسکری قیادت سے بہترین اور مکمل کوارڈنیشن سے پاکستان کے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی فیصلوں میں ایک مضبوط، باوقار اور فیصلہ ساز کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے ہر اہم قدم میں ان کی رائے، رہنمائی اور منظوری کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ خطے میں امن، توازن اور اصولی مؤقف کا علم بھی بلند رکھے ہوئے ہے۔ قارئین! دنیا کی ہر مملکت کی طرح پاکستان کے عوام میں بھی اندرونی سیاسی اختلافات موجود ہوں گے مگر جہاں پر امت مسلمہ یا پاکستان کے وقار کو ٹھیس پہنچنے کی بات محسوس بھی ہو تو پاکستان کے عوام متحد اور یکمشت ہو کر اتحاد اور یگانگیت کے ساتھ پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔پاکستانیوں کے لیے غزہ اور فلسطین اتنے ہی اہم ہیں جتنا کہ کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus