×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیوٹن کا دورہ: انڈیا گھر کا رہا نہ گھاٹ کا
Dated: 09-Dec-2025
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورۂ بھارت نے ایک بار پھر یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی کہ بھارت عالمی سیاست میں دو کشتیوں میں سوار ہو کر اپنا توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نئی دہلی ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، خاص طور پر دفاعی ٹیکنالوجی، انڈو پیسیفک پالیسی اور چین کے مقابلے میں امریکی بلاک کا حصہ بن کر، لیکن دوسری طرف روس کو بھی ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں، کیونکہ روس دہائیوں سے بھارت کا سب سے بڑا دفاعی سپلائر ہے، اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے اور نیوکلیئر، صنعتی اور تجارتی شعبوں میں بھارت کے لیے ایک لازمی پارٹنر ہے۔ پیوٹن کے دورے میں بھارت اور روس کے درمیان درجنوں معاہدے ہوئے جن کا انداز بتاتا ہے کہ نئی دہلی مستقبل قریب میں ماسکو سے دور ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ دونوں ملکوں نے 2030ء تک سالانہ دوطرفہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف طے کیا، جس میں صرف تیل یا دفاع نہیں بلکہ مشینری، ادویات، کھاد، زراعت، شپنگ، کیمیکلز اور صنعتی شعبے شامل ہوں گے۔ بھارت نے یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو بھی تیز کرنے پر اتفاق کیا، جو بظاہر امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف جاتا ہے۔ دفاعی میدان میں مشترکہ پیداوار، مشترکہ تحقیق، مرمت و اپ گریڈیشن کی سہولتوں اور طویل مدتی ٹیکنیکل تعاون پر اتفاق کیا گیا، جو اس حقیقت کو مضبوط کرتا ہے کہ بھارت کی فوجی ساخت اب بھی 60 سے 70 فیصد تک روسی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہے اور اسے آسانی سے بدلا نہیں جا سکتا۔ توانائی کے شعبے میں روس نے واضح اعلان کیا کہ وہ بھارت کو سستا تیل بلا تعطل فراہم کرتا رہے گا، چاہے عالمی دباؤ ہو یا امریکی پابندیوں کا خطرہ۔ یہ سہولت بھارت کے لیے معاشی آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ روسی تیل اس کے بجٹ میں اربوں ڈالر کی بچت کا باعث بنتا ہے۔ کْڈانکلم نیوکلیئر پاور پلانٹ اور دیگر نیوکلیئر منصوبوں پر بھی تعاون جاری رکھنے کی توثیق ہوئی، جو ایک ایسا شعبہ ہے جہاں روس کے بغیر بھارت کا کوئی متبادل موجود نہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے بھی دونوں ملکوں نے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔ اب اس تصویر کا دوسرا رخ امریکہ ہے، جو چاہتا ہے کہ بھارت روس سے دوری اختیار کرے، روسی تیل کم خریدے، روسی ہتھیاروں کی جگہ امریکی نظام اپنائے اور چین کے مقابلے میں واشنگٹن کے اتحاد کا مضبوط ستون بنے۔ بھارت اپنے سیاسی بیانیے میں امریکہ کو یقین دلاتا رہتا ہے کہ وہ روسی تیل پر انحصار کم کرے گا اور مستقبل میں F–35 جیسے جدید ترین جنگی طیاروں کی خریداری چاہتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت عملی طور پر روس سے تیل کی خریداری مسلسل بڑھا رہا ہے۔ واٹس ایپ اور بیان بازی میں امریکہ کو مطمئن کیا جاتا ہے، مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ بھارتی معیشت روسی تیل کے بغیر لرز جائے گی اور بھارتی فوج روسی ٹیکنالوجی کے بغیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ایف۔35 کا حصول بھی بھارت کے لیے اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ روسی ہتھیاروں، خاص طور پر S–400 جیسے سسٹمز سے فاصلہ پیدا نہ کرے۔ امریکہ ترکی کو بھی اسی جرم میں پابندیوں کا نشانہ بنا چکا ہے، لہٰذا واشنگٹن کی نظر میں بھارت کا ’’روس–دوستانہ رویہ‘‘ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ایک طرف امریکہ کو متاثر کرنے کے لیے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، مگر دوسری طرف روس کے ساتھ اربوں ڈالر کے سمجھوتے بھی طے کرتا جاتا ہے۔بھارت یہ سب کیوں کر رہا ہے؟ وجہ سادہ ہے: روس کے بغیر بھارت اپنے دفاعی ڈھانچے کو نہیں چلا سکتا، جبکہ امریکہ کے بغیر عالمی سفارت کاری، ٹیکنالوجی اور چین کا مقابلہ کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہی دو رُخی پالیسی اسے ایسی صورتِ حال میں لے آئی ہے جہاں کوئی ایک طرف پوری وفاداری دکھانا ممکن نہیں۔ روس بھی شک میں ہے، امریکہ بھی مطمئن نہیں—اور بھارت دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش میں مسلسل اپنے مؤقف کو بدلتا رہتا ہے۔ دورۂ بھارت کے دوران پیوٹن نے بھارت کے ساتھ کھڑے ہونے کا مضبوط اشارہ دے دیا، جبکہ امریکہ یہ دیکھ رہا ہے کہ بھارت زبانی یقین دہانیوں کے باوجود روس سے دور ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں مودی حکومت کی حالت بالکل ’’دھوبی کے تھاپے‘‘ جیسی ہو گئی ہے—ایک ایسی پوزیشن جہاں نہ گھر کا بنتا ہے، نہ گھاٹ کا۔ روس بھی مکمل طور پر اس پر اعتماد نہیں کر سکتا، اور امریکہ بھی بھارت کو ایک مکمل اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر قبول نہیں کر پا رہا۔عالمی سیاست میں یہ دو کشتیوں کی سواری زیادہ دیر تک نہیں چلتی۔ بھارت چاہے جتنی بھی لفظی چالاکی دکھائے، حقیقت یہی ہے کہ روس کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کرتے ہوئے امریکہ کو ایف۔35 کی فرمائش دینا اور ساتھ ہی دعویٰ کرنا کہ روسی تیل نہیں خریدا جائے گا—یہ سب ایک ایسی خارجہ پالیسی کی علامت ہے جو تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ مودی حکومت کی خود ساختہ اسٹریٹجک ’’چالاکی‘‘ آج اسے ایک ایسے مقام پر لے آئی ہے جہاں وہ دونوں طرف خوشامدیں بھی کر رہی ہے اور دونوں جانب بے اعتمادی بھی بڑھا رہی ہے۔ نتیجہ صاف ہے:بھارت اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان اپنی حیثیت بڑھانے کی کوشش میں کہیں بھی پوری طرح جم نہیں پا رہا۔ روس بھی اس سے مکمل مطمئن نہیں، امریکہ بھی اسے مکمل اتحادی نہیں سمجھتا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کی پوزیشن آج عالمی اسٹیج پر سب سے زیادہ متزلزل اور غیر واضح دکھائی دیتی ہے—بالکل دھوبی کے ’’تھاپے‘‘ کی طرح، جو نہ گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا۔ بھارت کی حالیہ عالمی سفارت کاری ایک ایسے بھٹکے ہوئے کمپاس کی مانند ہے جو ہر سمت گھومتا ہے مگر راستہ کسی طرف نہیں پاتا۔ مودی حکومت نے امریکہ کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کی، روس کو بھی ناراض نہ کرنے کی کوشش کی، چین کے آگے بھی جھکنے کی کوشش کی اور پاکستان کے خلاف بھی مسلسل بیانیہ چلاتے رہنے کی کوشش کی—لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کی عزت دونوں بڑے بلاکس میں کمزور پڑ گئی۔ نہ واشنگٹن اسے مکمل اتحادی سمجھتا ہے، نہ ماسکو اس پر بطور مستقل شراکت دار بھروسہ کر رہا ہے۔ بی جے پی کی داخلی پالیسیوں نے اس ساکھ کو مزید گہرا نقصان پہنچایا۔ مذہبی انتہا پسندی، اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف مسلسل سخت رویّہ، شہریت قوانین، کشمیر کی آئینی حیثیت کا خاتمہ اور سیاسی انتقام پر مبنی کارروائیاں—ان سب نے عالمی دنیا میں ’’ابھرتی جمہوریت‘‘ کے بجائے ’’سکڑتی ہوئی جمہوریت‘‘ کا تاثر پیدا کیا۔ مودی حکومت نے بھارت کو ایک ایسے تنگ سیاسی خول میں دھکیل دیا ہے جہاں طاقت تو دِکھتی ہے مگر اعتماد اور اخلاقی وزن کہیں نظر نہیں آتا۔بی جے پی کی عسکری خوش فہمیوں کا انجام بھی عبرت ناک رہا۔ ’’تیجس‘‘ ہو یا دیگر مقامی دفاعی منصوبے—جنہیں دنیا کے سامنے نئی دہلی نے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا—وہ عالمی سطح پر توقعات پوری نہ کر سکے۔بلکہ پٹ گئے۔ اس سے بھی بڑھ کر پاکستان نے مئی کی جنگ میں بھارتی رافیل کی افسانوی برتری کا بھرم جس طرح کھولا، اس نے عالمی مارکیٹ میں اس طیارے کی وقعت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ بہت سے ممالک جو رافیل پر نظر رکھے ہوئے تھے، اب محتاط ہو چکے ہیں۔بھارت اپنے ماتھے پر لگے سیندور کے داغ دھو رہا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بھیانک ہو رہے ہیں۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی، اس سے پاکستان پر حملہ کروا دیا اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو بھارت کی مانگ میں سندور کے ساتھ ہوا مئی میں ہو چکا تھا۔اب یہ دونوں ممالک پاکستان کے لگائے ہوئے زخم چاٹ رہے ہیں۔ 2021 کے بعد خطے کی سیاسی فضا مکمل تبدیل ہو گئی اور بھارت کی ساری سرمایہ کاری دھوئیں کی طرح اڑ گئی۔ مودی سرکار نے پاکستان کے خلاف ایک محاذ بنانے کی کوشش کی تھی۔جس میں ناکام ٹھہرا اور اب عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔ مودی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی اس کی وہ مستقل ذہنی کیفیت ہے جس میں ’’پاکستان‘‘ ایک جنون کی طرح اس کی پالیسیوں پر سوار رہتا ہے۔ دشمنی کو بھی ایک وقار چاہیے ہوتا ہے، مگر یہاں دشمنی ایک ایسے جذباتی جوش میں بدلی دی گئی ہے جو بار بار خود بھارت ہی کو زخمی کر رہا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جس میں سیاسی قیادت حقیقت سے زیادہ اپنی بنائی ہوئی دنیا پر یقین کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی پوری ریاستی مشینری آج بھی اسی فضا میں تیر رہی ہے—جہاں ’’جیت‘‘ کے نعرے زیادہ ہیں، لیکن عملی کامیابیاں کم۔پاکستان نے انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران اسے چاروں شانے چت کیا سفارتکاری میں اس کو دھول چٹا دی یہی ہوتی ہے بہترین سفارت کاری جو پاکستان کی طرف سے اختیار کی گئی اور بھارت دنیا میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نظر نہیں آتا۔پیوٹن کا دورہ بھارت کے لیے ایک اور ناکامی لے کر ایا ہے جس نے عالمی سطح پر بھارت کے روس اور امریکہ کے مابین سینڈوچ بن جانے کا منظر نامہ دکھایا ہے۔یوں مودی حکومت دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش بیچ منجدھار کے ڈوب رہی ہے کسی نے درست کہا دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus