×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
محترمہ ناہید خان۔۔۔ چائے کی پیالی میں سونامی کی خواہش
Dated: 12-Nov-2010
ترکی کے قومی دن کی تقریب جاری تھی، تمام مدعوئین موجود تھے۔ ترکی ہمارا نہ صرف برادر اسلامی ملک ہے بلکہ سلطنت عثمانیہ کے حوالے سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے جذباتی وابستگی کا محور بھی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کو بچانے کے لیے برصغیر ہند میں تحریک خلافت بھی چلائی اور پھر ریشمی رومال جیسی تحاریک بھی معرض وجود میں آئیں۔ جس میں مسلمانان ہند نے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد ستر کی دہائی میں جب ترکی اور یونان کی جنگ ہوئی تو قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ترک عوام کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کے ترک وزیراعظم بلند ایجوت مرحوم نے اپنی نشری تقریر میں قوم سے خطاب میں فرمایا کہ آج کے بعد ترک عوام پر لازم ہے کہ اگر ایک طرف دریا میں دو شخص ڈوب رہے ہوں جن میں ایک پاکستانی اور دوسرا ترک ہو تو وہ پہلے پاکستانی بھائی کو بچائیں گے۔ پھر اس کے بعد ترک عوام نے اپنے عزم کو مصمم کیا اور آج تک ترکی ہمارے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہی وجہ تھی آج ترک قومی دن پر اپوزیشن سمیت تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ موجود تھے اور صدر مملکت آصف علی زرداری بھی تقریب میں پہنچ گئے۔ اس تقریب میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان صاحبہ بھی موجود تھیں۔ جنہوں نے صدر مملکت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ شخص نہیں جانتا کہ پارٹی کے اندر کتنی بڑی سونامی آنے والی ہے۔ محترمہ ناہید خان صاحبہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری کے طور پر ان کے ساتھ آخری دم تک وابستہ رہیں۔ اور بی بی سے ان کی وابستگی اور آصف علی زرداری سے عداوت اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ محترمہ ناہیدخان صاحبہ کے شوہر جناب سینیٹر صفدر علی عباسی اور ان کی والدہ کی بھٹو خاندان سے دوستی بھی اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہے مگر محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری صاحب سے ان کے اختلافات بھی اب پوشیدہ نہیں رہے۔ 18فروری 2008ء کے الیکشن کے دو دن بعد 20فروری کو پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، فیڈرل کونسل کے اجلاس میں جو زرداری ہائوس اسلام آباد منعقد ہوا، رسمی کاروائی کے بعد مجھے پہلی افتتاحی تقریر کے لیے مائیک دیا گیا اور یہ بات پارٹی ریکارڈ (منٹس)پر ہے کہ میں نے جیت کا جشن منانے یا اقتدار کی طلب کی بجائے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے حکمت عملی پر زور دیا۔ میں صاف دیکھ رہا تھا کہ اقتدار کے پجاریوں کے چہروں پر میری تقریر کے الفاظ ناگواری کے تاثرات نقش کر رہے تھے۔ 20فروری کی میری اس تقریر نے آنے والے مقررین کو گائیڈ لائن دی اور پھر ملک مشتاق اعوان سمیت سبھی مقررین نے اقتدار سے زیادہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری اور انجام تک پہنچانے کی باتیں کیں۔ جس پر ایک موقع پر شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کو یہ کہنا پڑا کہ ہم بے نظیر بھٹو شہید کے اصل وارث ہیں۔ بلاول بھٹوزرداری حقیقی جانشین ہیں۔ لہٰذا آپ کارکنوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔صدر مملکت کے ان ریمارکس کے بعد یہ بات طے ہو گئی تھی کہ پارٹی اب کن خطوط پر چلے گی۔ اور میں نے بھی یہ طے کر لیا کہ حالات کچھ بھی ہوں مگر مجھے With in پارٹی رہ کر اصولوں کی جنگ کرنی ہو گی۔ اقتدار کے ایوانوں سے دور رکھ کر آج مجھے اسی سچ گوئی کی سزا دی جا رہی ہے مگر میں اس سزا اور چشم پوشی کو اپنے لیے اعزاز تصور کرتا ہوں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد رسم قل کے موقع پر جب محترمہ کی وصیت کی بات ہوئی تو سینیٹر جناب صفدر عباسی اور محترمہ ناہید خان صاحبہ نے مہر تصدیق ثبت کی۔جس بنا پر صدر مملکت کو شریک چیئرمین اور جناب بلاول بھٹو زرداری کو چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ اگر محترمہ کی وصیت کے معاملہ پر کوئی ابہام تھا تو محترم صفدر عباسی اور محترمہ ناہید خان صاحبہ اپنا احتجاج اسی وقت ریکارڈ کراتے تو لاکھوں کارکنان شاید ان کے ہم رکاب ہو جاتے؟ مگر آج بہکی بہکی اور حواس باختہ گفتگو کرنے سے پارٹی کی سالمیت اور وقار کو دھچکا پہنچتا ہے۔ پارٹی کی فیڈرل کونسل واراکین سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اس بات کے گواہ ہیں کہ محترمہ ناہید خان صاحبہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں اس قدر جارحانہ انداز اختیار کرتی تھیں کہ کئی شرفاء کی پگڑیاں تک اچھال دیتی تھیں اور میرے جیسے کارکن اپنی عزت بچانے کے لیے محترمہ ناہید خان سے ملنے سے کتراتے اور اجتناب کرتے تھے۔ آج اگر صدر مملکت کے گرد حصار قائم ہے ان کے دوستوں کا،ساتھیوں اور حواریوں کا جو ان کو پارٹی کے نظریاتی کیدر سے دور رکھتے ہیں۔ آج اگر صدر مملکت کے ساتھیوں پر ہم الزام دیتے ہیں کہ پارٹی کارکنوں اور جیالوں کی شنوائی نہیں ہوتی تو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی زندگی میں بالکل یہی فریضہ محترمہ ناہید خان صاحبہ ادا کرتی تھیں۔ محترمہ کے قریب صرف ان لوگوں کو جانے کی اجازت تھی جن کے اس ’’جوڑے‘‘ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوتے تھے۔ پھر فرق کیا رہ گیا؟ محترمہ ناہید خان اور ان کے ساتھی بے نظیر بھٹو شہید کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کیے ہوئے تھے اور محترمہ تک کسی اور کی رسائی ناممکن بنا دی گئی تھی۔ اسی طرح صدر مملکت جناب آصف علی زرداری بھی ایسے ہی نئے ساتھیوں اور دوستوں کے حصار میں مقید ہیں۔ لہٰذا دو بڑوں کی اس لڑائی میں پستا پھر بھی قریب کارکن اور جیالا ہی ہے۔ مگر ایک اہم بات یہاں پر ضرور ہے کہ ہم اپنے اپنے نظریات کی جنگ بے شک لڑیں مگر پارٹی چھوڑ کر نہیں۔یہ پارٹی کسی کی میراث نہیں یہ پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی ہے اور یہ غریبوں کی یونٹی کی پہچان ہے۔ اگر سینیٹر صفدر عباسی اور محترمہ ناہید خان صاحبہ کو موجودہ پالیسیوں سے اختلاف ہے، پارٹی کے اندر گھس آنے والے موقع پرستوں سے اختلاف ہے، پارٹی میں موجود قبضہ گرپوں سے اختلاف ہے تو وہ پارٹی میں رہ کر فائٹ کریں، یہ ان کا جمہوری حق ہے۔اگر وہ شہید بی بی کے قاتلوں کی گرفتاری چاہتی ہیں اور قاتلوں کو عبرت ناک انجام دینا چاہتی ہیں تو لاکھوں جیالے ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں مگر وہ اگر سمجھتی ہیں کہ پارٹی توڑ کر یا کوئی نیا پریشر گروپ بنا کر یا علیحدہ سیاسی جماعت بنا کر ایسا کر سکتی ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ اس پارٹی کو جتوئی نے، لغاری نے، کھر نے، ڈاکٹر غلام حسین نے،ملک معراج خالد، حنیف رامے،کوثر نیازی نے،حفیظ پیرزادہ نے چھوڑا۔ آج وہ لوگ تاریخ کا حصہ بھی نہیں بن پائے اور یہی حشر ان کا بھی ہوگا جن کے ذہن میں ایسا کوئی وہم یا خیال ہے۔ اگر محترمہ ناہید خان صاحبہ یہ سمجھتی ہیں کہ اپنے چند مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ وہ ’’پیالی میں سونامی لے کر آئیں گی‘‘تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ہم کارکنان بے نظیر بھٹو ان کی نشانی پیپلز پارٹی کی سالمیت کے لیے جان کے نذرانے بھی دینے کو تیار ہیں۔ پارٹی کے اندر ایسے باوفا ساتھیوں کی کمی نہیں جو مفاد پرستوں اور موقع پرست ٹولوں سے نبٹنا خوب جانتے ہیں۔ ہم نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے گرد وہ حصار بھی توڑا تھا اور ہم صدر مملکت آصف علی زرداری کے گرد چھائے ان موقع پرستوں کا حصار بھی توڑیں گے۔پارٹی اور قیادت پر کل بھی کرپشن کے الزامات لگے تھے جسے ہمارے جیالوں نے اپنے خون سے دھویا تھا۔ اگر آج بھی الزام لگ رہے ہیں تو ہم پارٹی کو ان کالی بھیڑوں سے صاف کریں گے۔ ہم ان کرپشن زدہ وزراء کے چہروں سے نقاب اتار پھینکیں گے اور اس کے لیے ہم پارٹی پلیٹ فارم پر ہی جدوجہد کریں گے۔ہم جس شاخ پر بیٹھے ہیں اس کو کاٹنے کی بجائے کرپشن کے اس جنگل سے ان خاردار جھاڑیوں کو صاف کریں گے جو ہمارے دامن کو تار تار کر رہی ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus