×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کھوتی بوہڑ تھلے ، گورے سامراج کی واپسی
Dated: 16-Dec-2025
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو قائم ہوئے تقریباً اڑھائی سو سال ہو چکے ہیں اور اس مختصر مدت میں اس نے کئی بڑے اور مؤثر رہنما پیدا کیے۔ ابراہام لنکن سے لے کر جان ایف کینیڈی، جارج بش، بل کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ تک، یہ تمام شخصیات کسی نہ کسی شکل میں ہجرت کے پس منظر سے تعلق رکھتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی بنیاد ہی مہاجرین نے رکھی۔1600 اور 1700 کے درمیان امریکہ آنے والوں میں بڑی تعداد جرمن اور فرانسیسی مہاجرین کی تھی۔ اس کے بعد 1700 سے 1800 کے دوران اسپین، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ سے لوگ ہجرت کر کے امریکہ پہنچے۔ پھر 1800 سے 1900 کے درمیان افریقیوں کو باقاعدہ غلام بنا کر امریکہ لایا گیا، تاکہ ان سے سرنگیں، پل، ریلوے لائنیں اور بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے مکمل کروائے جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ میں سمندر کے نیچے سرنگیں تک موجود ہیں، اور ریلوے کے بڑے نیٹ ورک کی بنیاد بھی انہی افریقی مزدوروں کی محنت سے پڑی۔1900 سے 2000 کا دور وہ تھا جب ایشیا اور افریقہ میں بیداری کی لہریں اٹھیں۔ وہی علاقے جنہیں یورپی طاقتوں نے خود نوآبادیات بنایا تھا، وہاں کے لوگوں نے ترقی کے مواقع تلاش کرتے ہوئے امریکہ کا رخ کرنا شروع کیا۔ دنیا میں ترقی کا راستہ واضح ہو چکا تھا، اس لیے امریکہ خوابوں کی سرزمین بن گیا اور ہر سمت سے لوگ وہاں پہنچنے لگے۔ اسی دورِ ہجرت کے دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا، جب 1912 میں ٹائی ٹینک نامی عظیم جہاز ڈوب گیا۔ یہ جہاز یورپ سے امریکہ جانے والے مہاجرین کو لے کر جا رہا تھا۔ اس حادثے میں تقریباً 2,200 مسافر اور عملہ سوار تھے، جن میں سے تقریباً 1,500 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ صرف 700 کے قریب لوگ زندہ بچ سکے۔ یہ سانحہ انسانی تاریخ کے بڑے سمندری حادثات میں شمار ہوتا ہے۔ایشیا سے آنے والوں کو ابتدا میں خوش آمدید کہا گیا، مگر جب مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی تو لہجہ بدل گیا۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ امریکہ کے اصل مقامی باشندے ریڈ انڈین تھے، جن کی تعداد اس وقت چند لاکھ سے زیادہ نہیں تھی۔ نوآبادیاتی توسیع کے دوران سب سے پہلے انہی کو نشانہ بنایا گیا، اور آج ان کی تعداد محض چند ہزار رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈ انڈین کمیونٹیز کولمبس کو اپنا رہنما یا ہیرو نہیں مانتیں، بلکہ اس کی تصاویر اور مجسمے بھی امریکہ کے کئی حصوں سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ جسے تین سو سال تک پوجا گیا، آج اسی کے کردار پر سوال اٹھ رہے ہیں—کیونکہ تاریخ اب نئے زاویے سے دیکھی جا رہی ہے۔جب امریکہ نے یہ محسوس کیا کہ باہر سے آنے والے، خصوصاً ایشیا اور افریقہ سے آنے والے لوگ سماجی، معاشی اور سیاسی میدان میں غلبہ حاصل کرنا شروع کر رہے ہیں تو اس کا ردِعمل قوانین کی صورت میں سامنے آیا۔ وہی ویزا اور سیٹلمنٹ کے قوانین، جن کے تحت خود یورپ سے آنے والے لوگ یہاں آباد ہوئے تھے، اب انہی قوانین کو سخت کیا جانے لگا۔ امیگریشن کے دروازے بتدریج تنگ کر دیے گئے، مگر دنیا کی رفتار کو زیادہ دیر روکا نہ جا سکا۔ ایشیا اور افریقہ کے ممالک کو جب آزادی ملی تو وہاں کے لوگ روزگار، تجارت اور بہتر مستقبل کی تلاش میں باہر نکلنا شروع ہوئے۔ اس ہجرت میں عرب دنیا نمایاں رہی۔ لبنان، عراق، شام اور دیگر عرب ممالک کے ہزاروں افراد امریکہ جا کر بس گئے۔ اس کے بعد برصغیر کا مرحلہ آیا۔ پاکستان اور بھارت کے آزاد ہوتے ہی ان کے باشندوں نے بھی امریکہ کا رخ کیا—کوئی تعلیم کے لیے، کوئی کاروبار کے لیے اور کوئی صرف بہتر زندگی کی امید میں۔یہ وہ لوگ تھے جو مراعات نہیں بلکہ مواقع چاہتے تھے۔ انہوں نے محنت کی، تعلیم حاصل کی، کاروبار کھڑے کیے اور آہستہ آہستہ امریکی معاشرے کا لازمی حصہ بن گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج امریکہ میں دوسری، تیسری بلکہ چوتھی نسل کے ایشیائی اور افریقی نڑاد شہری نمایاں مقام پر نظر آتے ہیں۔اگر مثال دی جائے تو نیویارک کے موجودہ میئر، ممدانی، بھارتی نڑاد ہیں۔ امریکہ کے نائب صدر کی اہلیہ اوشا بھی بھارتی پس منظر رکھتی ہیں۔ اسی طرح حالیہ صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں امیدوار رہنے والی کمیلا ہیرس بھی بھارتی نڑاد تھیں۔ یہ سب اس حقیقت کی علامت ہے کہ امریکہ اب صرف سفید فام یورپی مہاجرین کا ملک نہیں رہا، بلکہ ایک کثیرالثقافتی ریاست بن چکا ہے جہاں قیادت کے دروازے بھی مہاجر نسلوں کے لیے کھل چکے ہیں۔یہی وہ تبدیلی ہے جس سے ایک طبقہ آج بھی خائف ہے۔ امیگریشن کے خلاف بیانیہ، دیواریں، پابندیاں اور سخت قوانین اسی خوف کا اظہار ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ کی اصل طاقت اس کی یہی رنگا رنگی ہے۔ جن لوگوں کو کبھی باہر سے آیا ہوا سمجھا گیا، آج وہی معیشت، سیاست اور معاشرت کی بنیاد بن چکے ہیں۔ امریکہ کو عظیم بنانے والے بھی یہی مہاجر تھے، اور اسے چلانے والے بھی اب بڑی حد تک یہی ہیں۔امریکہ کی ایک ریاست مینی سوٹا ہے، جہاں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی خاصی بڑی تعداد آباد ہے۔ صومالیہ کا ذکر آئے تو یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی اپیل پر وہاں فوجی دستے بھیجے تھے، جہاں ہمارے 26 فوجی شہید ہوئے اور ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا گیا۔ یہ وہ خطہ تھا جہاں طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مقامی عناصر کو ساتھ ملانا بھی جنگی حکمتِ عملی کا حصہ رہا۔ امریکہ نے افغانستان میں پہاڑوں تک کارپٹ بمباری کی، مگر یہ سب کچھ صرف عسکری طاقت سے ممکن نہیں ہوتا۔ ان کی ایک آزمودہ پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کو مختلف طریقوں سے اپنے ساتھ ملاتے ہیں—لالچ دے کر، سہولتوں کا وعدہ کر کے، یا مستقبل کے خواب دکھا کر۔ تاریخ میں اس کی مثالیں ملتی ہیں، جیسے برصغیر میں میر جعفر اور میر صادق کو استعمال کیا گیا۔ امریکہ جہاں بھی جاتا ہے، فتح کا ایک اہم ذریعہ مقامی لوگوں کو خریدنا اور انہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا رہا ہے۔افغانستان میں بھی یہی ہوا۔ بہت سے افغانوں کو یہ لالچ دیا گیا کہ انہیں امریکہ میں سیٹل کیا جائے گا۔ اس وعدے کے تحت ہزاروں افراد کو اپنے قریب کیا گیا، اور طالبان کی واپسی سے پہلے بڑی تعداد میں افغان خاندانوں کو امریکہ منتقل کیا گیا۔کچھ رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد 70 ہزار سے زیادہ ہے۔جب طالبان اقتدار میں آئے تو امریکہ کو دوسری مرتبہ بھی افغانستان چھوڑنا پڑا، مگر اس بار بھی جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا تھا، انہیں اور ان کے خاندانوں کو امریکہ منتقل کر دیا گیا۔ آج امریکہ میں بسنے والے افغانوں کی تعداد چار سے پانچ لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ابتدا میں انہیں ایک انسانی ہمدردی کے تحت قبول کیا گیا، مگر وقت کے ساتھ یہ تاثر ابھرنے لگا کہ یہ لوگ معیشت پر بوجھ بھی بن رہے ہیں اور کئی شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ کر بڑے اداروں اور کاروباروں کے مالک بھی بنتے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں میں یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ یہ نئے آنے والے سفید فام آبادی کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔اسی پس منظر میں اب مختلف بہانوں کے تحت افغان مہاجرین کو نکالنے یا ان کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہی رویہ صومالی مہاجرین کے ساتھ بھی دیکھنے میں آیا۔ کہا جاتا ہے کہ جہاں صومالی آبادی بڑھتی ہے، وہاں مقامی سفید فام لوگ آہستہ آہستہ علاقہ چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ آج مینی سوٹا کے کئی علاقے صومالی کمیونٹی سے بھر چکے ہیں۔یہاں تک کہ مینی سوٹا میں قانون ساز اداروں میں بھی صومالی نڑاد نمائندے موجود ہیں۔ نیشنل اسمبلی کی رکن ایک سیاہ فام خاتون ہیں، گورنر کے عہدے تک بھی اسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد پہنچ چکے ہیں۔ یہی وہ بچے ہیں جو کبھی مہاجر کی حیثیت سے آئے تھے، آج ان کی اولاد سولہ سترہ سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں، فوج اور ریاستی ڈھانچوں کا حصہ بن رہی ہے۔ مثال کے طور پر ایک صومالی نڑاد نوجوان جنرل کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر بھی ہو چکا ہے۔لیکن جب یہی لوگ بڑی بڑی پوسٹوں پر پہنچ جاتے ہیں، تب بعض حلقوں کو یاد آتا ہے کہ یہ تو باہر سے آئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ مہاجرین کو صرف اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک وہ کمزور ہوں؟ اور جب وہ مضبوط، خودمختار اور بااثر ہو جائیں تو کیا وہ بوجھ بن جاتے ہیں؟ یہی تضاد آج امریکی امیگریشن پالیسی اور سماجی رویوں میں کھل کر نظر آ رہا ہے۔دوسرے ممالک سے آئے ہوئے یا لائے ہوئے جب یہ لوگ امریکہ میں آباد ہو جاتے ہیں تو پھر پیچھے اپنے علاقوں میں عطیات بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہی عطیات کے ذریعے صومالیہ اور افریقہ میں الشباب جیسی تنظیمیں سرگرم رہیں، جبکہ القاعدہ اور داعش جیسے نیٹ ورکس بھی اسی خطے میں موجود رہے۔ وقت کے ساتھ ان تنظیموں کے کئی مالی ذرائع بند ہو گئے، اب ان کا انحصار زیادہ تر ان لوگوں پر رہ گیا ہے جو بیرونِ ملک، خصوصاً امریکہ اور برطانیہ میں آباد ہیں۔ یہ لوگ چندہ دیتے ہیں، اور یہی چندہ بعد میں خود ان ہی کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے۔صومالیہ کے بعض حلقوں نے اپنی تنظیم الشباب کی حمایت شروع کی، جس کے باعث امریکہ کو اس خطے میں اپنے طیاروں کی نقل و حرکت تک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صومالیوں کا نام اکثر بحری قزاقی کے تناظر میں بھی لیا جاتا ہے، جس نے اس خطے کو مزید حساس بنا دیا۔ جب امریکہ نے دیکھا کہ مہاجرین کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور سیاسی و سماجی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، تو اس نے مختلف قومیتوں پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں۔ اسی تناظر میں بھارت سے آنے والے لوگوں پر بھی قدغنیں لگائی گئیں۔ لاکھوں بھارتی طلبہ جو امریکہ آئے ہوئے تھے، ان میں سے کئی کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق امریکہ میں بسنے والے بھارتی نڑاد افراد کی تعداد ایک کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار میں یہ تعداد ستر لاکھ ظاہر کی جاتی ہے، جسے کئی ماہرین کم تصور کرتے ہیں۔ اب امریکہ کی پالیسی یہ نظر آتی ہے کہ جن لوگوں کو شہریت یا مستقل قانونی حیثیت مل چکی ہے، انہیں تو رہنے دیا جائے، مگر باقیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ یہی صورتحال اب کینیڈا میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہجرت کر کے آنے والے مختلف گروہ اب امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ امریکہ نے ویت نام میں دو دہائیوں تک جنگ لڑی، پھر کورین جنگ میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں شمالی اور جنوبی کوریا دو الگ ممالک بن گئے۔ ان جنگوں کے بعد امریکہ کو ویت نامی اور کوریائی مہاجرین کو بھی اپنے ہاں بسانا پڑا۔ آج لاس اینجلس جیسے شہروں میں کوریائی کمیونٹی بڑی تعداد میں موجود ہے، اور ویت نامی آبادی بھی نمایاں ہے، جو بعض حلقوں میں ایک مسئلہ تصور کی جاتی ہے۔ ویت نام کی جنگ وہ واحد بڑی جنگ تھی جس میں امریکہ کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اس جنگ میں اس کے ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب فوجی مارے گئے۔ جنگ کے دوران جن مخبروں اور مقامی معاونین نے امریکہ کا ساتھ دیا، انہیں بعد میں امریکہ لا کر بسایا گیا۔ وقت کے ساتھ ان کی آبادی میں اضافہ ہوا اور اب وہ بھی امریکی معاشرے کا ایک مستقل حصہ بن چکے ہیں۔مگر صدر ٹرمپ ہے ان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ ایک ’’سفید فام امریکہ‘‘ کا تصور رکھتے ہیں۔ امریکہ نے مختلف ممالک سے ایسے لوگوں کو اٹھا کر بسایا جو اپنے وطن کے وفادار نہ رہے، مگر یہ بنیادی سوال نظر انداز کر دیا گیا کہ جو اپنے ملک سے وفادار نہیں، وہ کسی اور کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ آج وہی لوگ امریکہ کے لیے وبالِ جان بنتے جا رہے ہیں۔ نائن الیون کے واقعے میں جن افراد کے نام سامنے آئے، ان میں سے پانچ کا تعلق سعودی عرب سے تھا جبکہ باقی مصر سے تھے۔ اس واقعے کے بعد جن طبقات کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہ بھی بڑی حد تک وہی لوگ تھے جو امریکہ میں آ کر بس چکے تھے۔ اب ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ امیگریشن کو محدود کیا جائے اور مہاجرین کو ملک سے نکالا جائییعنی پہلے بسایا گیا، اور اب ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus