×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سڈنی دہشت گردی: آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
Dated: 23-Dec-2025
میرے ناظرین اور قارئین میری تجزیہ نگاری اور میری خبر کا انتظار کرتے ہیں، الحمدللہ۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہر واقعے پر فوراً ردِعمل نہیں دیتا، بلکہ اس وقت بات کرتا ہوں جب معاملہ میرے سامنے پوری تصویر کے ساتھ آ جائے۔ سڈنی میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ واقعے پر بھی میں نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ ابتدا میں ساجد اکرم اور نوید اکرم—باپ بیٹا—کے نام سامنے لائے گئے۔ نوید اکرم چوبیس سال کا بتایا گیا اور ساجد اکرم پچاس سال کا۔ حملہ ہوا ہی تھا کہ بھارتی میڈیا نے سب سے پہلی خبر یہ چلائی کہ یہ دونوں پاکستانی ہیں۔ نام ’’اکرم‘‘ تھے، لہٰذا بغیر کسی تحقیق کے فیصلہ صادر کر دیا گیا اور ٹھپہ لگ گیا کہ یہ پاکستانی ہیں۔ اس وقت نہ لاشیں اٹھائی گئی تھیں، نہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، مگر اسی دوران بھارتی وزراء تک کا بیان آ گیا کہ یہ پاکستانی ہاتھ ہے، یہ کام پاکستان نے کروایا ہے اور اب ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ بھارتی میڈیا زیادہ ہی اچھل کود کر رہا تھا۔ہم نے یہ سب دیکھا، سنا اور خاموشی اختیار کی۔’’منظور تھا پردہ تیرا‘‘ — ہم نے کہا، ذرا وقت آنے دو۔ کئی دوستوں نے کہا کہ آپ نے اس معاملے پر آرٹیکل کیوں نہیں لکھا ؟ وی لاگ کیوں نہیں کیا، آپ تو بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہیں۔ میں نے صاف کہا کہ میں ضرور بولوں گا، مگر تب جب بات مکمل ہو گی اور میرے پاس حقائق ہوں گے، جذبات نہیں۔ پھر تحقیق شروع ہوئی، اور الحمدللہ ایک ایک کڑی کھلتی چلی گئی۔ یہ بات ثابت ہو گئی کہ ساجد اکرم پاکستانی نہیں بلکہ بھارت کے شہر حیدرآباد دکن کا رہائشی ہے۔ مزید یہ بھی سامنے آیا کہ باپ بیٹا کئی مرتبہ فلپائن کا سفر کر چکے ہیں، جہاں ان تنظیموں کے دفاتر موجود ہیں اور جہاں مبینہ طور پر تربیت دی جاتی ہے۔ یہ بھی پتا چلا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا اس پورے معاملے میں گہرا عمل دخل رہا ہے۔ ساجد اکرم، جو بھارتی شہری ہے، کم از کم چھ مرتبہ بھارت کا سفر کر چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی بھارتی پاسپورٹ پر اور کبھی آسٹریلوی پاسپورٹ پر سفر کیا گیا، حالانکہ بھارتی قانون کے مطابق ایک شہری صرف ایک پاسپورٹ رکھ سکتا ہے۔ دو پاسپورٹ کیسے برآمد ہوئے—یہ سوال خود ہی اپنی جگہ بہت کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اس ساری کہانی میں ایک کردار ایسا بھی ہے جسے ابتدا میں دانستہ پسِ منظر میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی، اور وہ ہے احمداللہ—جسے بعض جگہ احمد الاحمد بھی کہا گیا۔ جب فائرنگ جاری تھی اور خوف و ہراس کا عالم تھا، تو یہی وہ شخص تھا جس نے جان پر کھیل کر حملہ آور کو قابو کیا، درجنوں جانیں بچائیں اور ایک بڑے سانحے کو مزید پھیلنے سے روکا۔ ابتدا میں اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور کو قابو کرنے والا ایک یہودی شہری تھا، مگر بعد میں حقائق نے اس دعوے کو بھی زمین بوس کر دیا۔ احمد اللہ ایک مہاجر تھا، جس نے آسٹریلیا میں پناہ لی، بعد ازاں شہریت حاصل کی، اور روزی روٹی کے لیے پھل فروشی کرتا تھا—نہ کوئی خفیہ ایجنڈا، نہ کوئی سیاسی پشت پناہی، صرف ایک عام انسان، جس نے انسانیت کا حق ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزے خود ہسپتال گئے، احمد اللہ سے ملاقات کی، اس کا شکریہ ادا کیا اور قوم کی جانب سے اعلیٰ ترین ریاستی اعزاز دینے کا اعلان کیا۔ یہ وہ اعزاز نہیں جو سفارش، شور یا پروپیگنڈے سے ملتا ہے، بلکہ یہ وہ تمغے ہوتے ہیں جو کردار، عمل اور اخلاقی جرات کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ اس لمحے احمد اللہ صرف ایک فرد نہیں رہا، بلکہ اس بیانیے کی نفی بن گیا جس میں مسلمان، مہاجر یا پاکستانی نژاد شخص کو فوراً مشکوک قرار دے دیا جاتا ہے۔ ان تمام حقائق کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شور مچانے والے کہاں گئے؟ ارنب گوسوامی، جنرل بخشی، گوبر آریا اور گودی میڈیا کہاں غائب ہو گیا؟ تلنگانہ پولیس کی پریس کانفرنس بھی سامنے آ چکی ہے، جس میں واضح اعتراف کیا گیا کہ ساجد اکرم بھارتی شہری ہے، اس کا بھارتی پاسپورٹ ہے اور وہ چھ مرتبہ بھارت آ جا چکا ہے۔ اس کے باوجود بھارت میں فوری طور پر ہائی الرٹ لگا دیا گیا، دہلی اور ممبئی سمیت ہر جگہ جنگی بیانات دیے گئے اور پاکستان کے خلاف زہر اگلا گیا، جیسے سچ سامنے آنے سے پہلے ہی فیصلے سنانا کوئی پرانی عادت ہو۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بارہا بغیر ثبوت، بغیر تحقیق اور بغیر تصدیق موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ریاستِ پاکستان نے نہ صرف اس واقعے سے لاتعلقی کا واضح اظہار کیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں قابلِ قبول نہیں—چاہے وہ کہیں بھی ہو اور کسی کے خلاف بھی ہو۔ پاکستان خود دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، ہزاروں جانیں دے چکا ہے، اس لیے اس پر الزام لگانا آسان، مگر انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آسٹریلیا فلسطین کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا تھا، اور یہی وہ پس منظر تھا جس میں یہ ڈراما رچایا گیا۔ ایسے ڈرامے بھارت اور اسرائیل دنیا کے مختلف حصوں میں پہلے بھی رچاتے رہے ہیں۔ غزہ میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی—جن میں بچے اور عورتیں شامل ہیں—شہید کیے جا چکے ہیں۔ اگر پندرہ افراد کا قتل ’’پوری انسانیت کا قتل‘‘ ہے، تو پھر ان ایک لاکھ بے گناہوں کے خون کا حساب کون دے گا، جن کے خون کا رنگ ابھی تک مدہم نہیں ہوا؟سچ یہ ہے کہ اس پورے واقعے میں صیاد نے خود جال بچھایا اور خود ہی اس میں آ پھنسا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ الزام تراشی، جھوٹ اور پروپیگنڈے کا کھیل کس نے کھیلا اور کیوں کھیلا۔ آخر میں ایک سوال اب بھی باقی ہے: اگر پاکستان کی حکومت واقعی پاکستان سے مخلص ہے، تو اسے CBC نیوز کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے، جس نے بغیر تحقیق اور بغیر تصدیق پاکستان کا نام لے کر اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ ’’ہم معمولی بات پر پکڑے جاتے ہیں اور وہ ٹکر مار کر بھی بچ نکلتے ہیں—یہ انصاف نہیں۔‘‘ یہ الفاظ میں نے ایک ویگن پر لکھے ہوئے پڑھے تھے، مگر آج پوری کہانی پر پورے اترتے ہیں۔ شاید کسی’’رکشہ شاعر‘‘ کے اس شعر سے متاثر ہو کے ویگن کے پیچھے الفاظ نے نثر کی شکل میں جنم لیا۔ ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا پاکستان کا کردار عالمی دہشت گردی کے خلاف بھی ہمیشہ واضح اور دو ٹوک رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ اور عالمی برادری کا بھرپور ساتھ دیا اور بے پناہ قربانیاں دیں۔ حالیہ برسوں میں بھی پاکستان نے داعش خراسان القاعدہ سمیت متعدد عالمی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ پاکستانی انٹیلی جنس کی ایک بڑی کارروائی میں داعش خراسان کے ترجمان اور تنظیم کے آفیشل میڈیا ونگ الاعظائم فاؤنڈیشن کے بانی دہشت گرد خارجی سلطان عزیز اعظام کو پاکستان افغانستان سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاری 16 مئی 2025 کو عمل میں آئی جس کی تصدیق اقوامِ متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی سولہویں رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس کارروائی سے داعش خراسان کے تنظیمی ڈھانچے کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچا، متعدد منصوبہ بند حملے ناکام بنائے گئے اور تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ سلطان عزیز اعظام اور سینئر رہنما ابو یاسر الترکی کی گرفتاری کے بعد وائس آف خراسان جیسے اہم پراپیگنڈا پلیٹ فارمز بھی معطل ہو گئے، جبکہ داعش کے کئی اہم کمانڈرز اور نظریاتی رہنماؤں کو نیوٹرلائز کر دیا گیا۔ پاکستان نے اس سے قبل بھی متعدد بین الاقوامی دہشت گردوں کو گرفتار کر کے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے حوالے کیا ہے، جو عالمی امن کے لیے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کا ثبوت ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی ماہرین کی رپورٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلگام حملے میں پاکستان ملوث نہیں تھا جس کو بہانہ بنا کر بھارت کی طرف سے پاکستان پر حملہ کیا گیا جس کے جواب نے پاکستان نے دفاعی اقدام کرتے ہوئے بھارت کے حملے کے پہلے ہی گھنٹے میں چھ جہاز مار گرائے تھے ساتواں دو روز بعد گرایا گیا، سڈنی حملے کے حقائق اور داعش کے خلاف پاکستان کی حالیہ کامیاب کارروائیوں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار بھی ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر شراکت دار بھی، جبکہ بھارت حقائق کے بجائے جھوٹ، پروپیگنڈے اور جارحیت کے ذریعے خطے اور دنیا میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ اب عالمی برادری کے لیے یہ ایک سنجیدہ امتحان ہے کہ آیا وہ محض رپورٹس تک محدود رہے گی یا انصاف، قانون اور عالمی امن کے تقاضوں کے مطابق عملی کردار ادا کرے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus