×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
2025ء اپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ گیا؟
Dated: 30-Dec-2025
اگر ہم یہ جائزہ لیں کہ دو ہزار پچیس اپنے پیچھے کیا کچھ چھوڑ کر جا رہا ہے تو یہ سال دنیا کی تاریخ میں جنگوں، تباہی، معاشی بحران اور عالمی طاقتوں کی بے نقاب ہوتی ہوئی پالیسیوں کے حوالے سے ایک سیاہ باب بن کر سامنے آتا ہے۔ اس سال چار بڑے محاذ ایسے رہے جنہوں نے عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے تصورات کو ہلا کر رکھ دیا۔ غزہ کی جنگ، یوکرین کی جنگ، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی، اور ایران کو عملاً یا بالقوہ جنگ کا حصہ بنانا—یہ سب کچھ دو ہزار پچیس کے دوران ہوا۔ غزہ۔ انسانی المیے کی انتہا:دو ہزار پچیس کا آغاز ہی غزہ کی جنگ کے اجرا کے سائے میں ہوا۔ یہ جنگ صرف ایک عسکری تصادم نہیں رہی بلکہ ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر گئی۔ ہزاروں عورتیں اور بچے شہید ہوئے، جبکہ سولہ سے بیس سال کی عمر کے نوجوانوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ پورے کے پورے شہر کھنڈرات میں بدل گئے۔ غزہ میں جو کچھ ہوا، اس نے دنیا کے ضمیر پر سوالیہ نشان لگا دیا، مگر عالمی طاقتیں رسمی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ یوکرین کی جنگ اور یورپ کی تباہی:اس کے بعد یوکرین اور روس کی جنگ نے عالمی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔ یہ جنگ صرف دو ملکوں تک محدود نہ رہی بلکہ اس کے اثرات پورے یورپ پر مرتب ہوئے۔ جرمنی، فرانس، اٹلی جیسے بڑے ممالک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہو گئے۔ خاص طور پر یورپ کی آٹو موبائل صنعت تقریباً تباہ ہو کر رہ گئی۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں یورپ پہلے ہی جاپان، جنوبی کوریا اور چین سے پیچھے تھا، اور اس جنگ نے یورپ کو کسی نئی ایجاد یا ترقی کی طرف لے جانے کے بجائے مزید کمزور کر دیا۔یہ تاثر بھی مضبوط ہوا کہ یوکرین کی جنگ دراصل یورپ کو معاشی طور پر کمزور کرنے کا ایک منصوبہ تھی، جس کے پیچھے امریکی مفادات کارفرما تھے۔ بالآخر امریکہ نے یورپ کو صاف پیغام دے دیا کہ اب وہ مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتا اور ہر ملک کو اپنا بوجھ خود سنبھالنا ہوگا۔ ایران کو جنگ کے دائرے میں لانا:دو ہزار پچیس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید بگڑتی چلی گئی۔ ایران کو بھی کسی نہ کسی صورت جنگ کے دائرے میں گھسیٹنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ ایران میں بھی جانی نقصان ہوا اور خطے میں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات مسلسل منڈلاتے رہے۔ یوں غزہ، یوکرین اور ایران—تینوں محاذ مل کر دنیا کو ایک ایسے بحران کی طرف لے گئے جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ پاک بھارت کشیدگی اور نئی طرز کی جنگ:دو ہزار پچیس کا ایک اہم اور حساس باب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی کشیدگی تھی۔ بھارت نے اس تصادم کو بھڑکانے کی کوشش کی، جبکہ پاکستان مسلسل اس سے گریز کرتا رہا۔ پاکستان کے سامنے دو ہی راستے تھے: یا جنگ کرے یا ترقی کا راستہ اختیار کرے۔ پاکستان نے ترقی کو ترجیح دی، خاص طور پر چین کے ساتھ اقتصادی منصوبوں اور وسطی ایشیا تک تجارتی روابط کے تناظر میں۔تاہم جب پاکستان پر حملہ کیا گیا تو جواب دینا ناگزیر ہو گیا۔ یہ دنیا کی ان چند جنگوں میں سے ایک تھی جس میں زمینی افواج نے ایک دوسرے کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔ نہ کوئی بڑی زمینی جنگ ہوئی اور نہ بحری، بلکہ یہ مکمل طور پر ایک فضائی جنگ تھی۔ اس جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ آنے والے وقت میں جنگیں زیادہ تر ڈرون، میزائل اور فضائی برتری کے ذریعے لڑی جائیں گی، اور زمینی افواج کا کردار ثانوی ہو جائے گا۔ ٹرمپ کے دعوے اور عالمی سیاست:اسی پس منظر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوے بھی سامنے آتے ہیں۔ ٹرمپ یہ کہتے رہے کہ وہ جنگیں رکوائیں گے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ انہوں نے رکوائی۔ دنیا کے سامنے انہوں نے یہ بات بار بار دہرائی کہ بھارت ماننے کو تیار نہیں تھا، اور یہاں تک کہ انہوں نے بھارتی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ جملہ بھی دہرایا کہ پاکستان نے بھارت کے آٹھ جہاز مار گرائے۔حقیقت یہ ہے کہ دو ہزار پچیس میں عالمی سطح پر جنگیں کم ہونے کے بجائے مزید پھیلتی دکھائی دیں۔ نیٹو کے ستائیس ممالک کا بوجھ، عالمی محصولات، اور امریکہ کے اپنے اتحادیوں خصوصاً بھارت اور یورپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات—یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ٹرمپ کے دعوے عملی نتائج میں تبدیل نہ ہو سکے۔ 2025 اپنے پیچھے کیا چھوڑ گیا؟ عالمی سطح پر جو کچھ ہوا اس کے مطابق یوں کہا جا سکتا ہے کہ دو ہزار پچیس اپنے پیچھے تباہی، جنگ، معاشی بحران اور عالمی سیاست کی تلخ حقیقتیں چھوڑ گیا۔ غزہ کی بربادی، یوکرین کی جنگ سے یورپ کی معیشت کا زوال، پاکستان اور بھارت کی نئی طرز کی فضائی جنگ، اور ایران کو جنگ کے دائرے میں لانے کی کوششیں—یہ چار بڑے عوامل تھے جنہوں نے یہ واضح کر دیا کہ دو ہزار پچیس دنیا کے لیے ایک نہایت بھاری اور فیصلہ کن سال ثابت ہوا۔پاکستان کے حوالے سے سال رفتہ کی یادوں پر سے پردہ ہٹایا جائے تودو ہزار پچیس پاکستان کے لیے ایک ایسا سال رہا جس میں شور کم اور سمت زیادہ نمایاں دکھائی دی۔ یہ سال نعروں یا وقتی جوش کے بجائے ٹھوس فیصلوں، خاموش سفارت کاری اور طویل المدت حکمتِ عملی کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ معیشت، دفاع اور سیاست—تینوں محاذوں پر پاکستان نے یہ تاثر دیا کہ اب فیصلے وقتی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ مستقبل کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔ معاشی اعتبار سے دو ہزار پچیس پاکستان کے لیے مکمل آسودگی کا سال تو نہیں تھا، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ملک نے عدم استحکام کے گڑھے سے نکل کر سنبھلنے کی سمت قدم بڑھایا۔ مہنگائی کی رفتار میں بتدریج کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، اور مالی نظم و ضبط کی کوششوں نے یہ عندیہ دیا کہ ریاست اب جذبات کے بجائے حساب کتاب کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے سب سے اہم پیش رفت وہ سفارتی کوششیں رہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک بار پھر قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔اسی تناظر میں لیبیا کے ساتھ ہونے والے معاہدے دو ہزار پچیس کی سب سے اہم دفاعی و معاشی کامیابیوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اور لیبیا کے درمیان چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر مالیت کے معاہدے طے پائے، جن کے تحت پاکستان لیبیا کو جے ایف تھنڈر اور مشاق طیارے فراہم کر رہا ہے، جبکہ دیگر دفاعی سازوسامان میں ٹینک اور بحریہ سے متعلق اسلحہ بھی شامل ہے۔ یہ معاہدے محض اسلحے کی فروخت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صنعت پر عالمی اعتماد کا اظہار بھی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ لیبیا کے جس حصے کو یہ دفاعی سامان فراہم کیا جا رہا ہے، اس کے انتظامی امور فیلڈ مارشل خلیفہ قاسم حفتر کے زیرِ کنٹرول ہیں، اور حالیہ دنوں میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی لیبیا میں ان سے ملاقات نے ان معاہدوں کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب دفاعی برآمدات کو اپنی معیشت کا ایک سنجیدہ ستون بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ تعلقات دو ہزار پچیس میں محض روایتی برادرانہ سطح سے آگے بڑھ کر اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری میں ڈھلتے دکھائی دیے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والا وہ معاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے جس کے تحت یہ طے پایا کہ کسی ایک ملک پر ہونے والا حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی ساکھ اور سفارتی وزن میں بھی اضافے کا باعث بنا۔ اس شق نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان اب صرف اپنے دفاع تک محدود نہیں بلکہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے تصور کا حصہ بن رہا ہے۔دفاعی حوالے سے دو ہزار پچیس میں پاکستان کا رویہ جارحانہ کے بجائے متوازن اور پیشہ ورانہ رہا۔ خودانحصاری، مقامی پیداوار اور دفاعی برآمدات پر توجہ نے یہ واضح کیا کہ پاکستان کی دفاعی طاقت کا مقصد محاذ آرائی نہیں بلکہ توازن اور تحفظ ہے۔ یہی سوچ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سیاسی محاذ پر دو ہزار پچیس ایک مشکل مگر حقیقت پسندانہ سال ثابت ہوا۔ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی سطح پر یہ شعور غالب رہا کہ معیشت، خارجہ پالیسی اور دفاع جیسے معاملات کو سیاسی محاذ آرائی کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے فیصلے خاموشی سے، بغیر زیادہ شور کے کیے گئے، اور انہی فیصلوں نے پاکستان کی سمت کا تعین کیا۔پاکستان کی معیشت جس طرح سے سنبھل رہی ہے اور جس طرح پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اس سب کے پس منظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دانش حکمت عملی اور شخصیت کا اہم رول ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دو ہزار پچیس پاکستان کے لیے نہ جشن کا سال تھا اور نہ مایوسی کا، بلکہ یہ سال بنیاد رکھنے کا سال تھا۔ لیبیا کے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے، سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی عہد، اور معیشت کو استحکام کی طرف لے جانے کی کوششیں—یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان آہستہ مگر سنجیدگی کے ساتھ ایک نئی پوزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو دو ہزار پچیس کو مستقبل میں اس موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں پاکستان نے شور سے نکل کر سمت کا انتخاب کیا۔ قارئین! 2025ء کا سب سے اہم معاملہ یہ بھی رہا ہے کہ کرونا کا جب دنیا بھر میں وائرس پھیلا اور اس کے اثرات سے پوری دنیا کے اندر ایک معاشی ناہمواری اور کسادبازاری کا جو دور دورہ شروع ہوا، اس کے اثرات 2025ء میں بہت نمایاں ہو کر لوگوں کے اور پوری دنیا کے سامنے آئے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں اس وقت لڑکھڑا رہی ہیں اور سوکھے پتوں کی طرح تھر تھرا رہی ہیں۔جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ 2025ء میں انگلینڈ جیسی دنیا کی تیسری چوتھی بڑی معیشت اس وقت اس حد تک لاگر ہو چکی ہے کہ اگر اسے فوری طور پر سنبھالا نہ دیا گیا یا اس کے لیے برٹش گورنمنٹ نے کوئی اقدامات نہ اٹھائے تو کسی وقت بھی برٹش حکومت کا کلیپس ہو جانا طے پا چکا ہے۔لندن کے حالات اور پورے انگلینڈ کے حالات یہ ہیں کہ وہ جیسا کہا کرتے تھے کہ بادشاہت صرف دو ہی جگہ رہ جانی ہے ایک تاش کے پتے پر اور ایک برطانیہ میں۔ اب آ کر تھوڑا اس بات پر یقین کرنے کودل نہیں کرتا کیونکہ بادشاہت صرف ایک ہی رہنی ہے وہ میرے مولا،میرے رب ،میرے خدا کی ہے۔ اور دوسری اگر کہیں بادشاہت آپ کو نظر آئی تو وہ تاش کے پتوں پر ہو گی ،انگلینڈ اس دوڑ سے تقریباً نکل چکا ہے۔تو اسی طرح جب دوسرے معاملات کو دیکھتے ہیں کساد بازاری کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر میں ایک عام آدمی جو یورپین ممالک سے نہ ہو وہ جہاں کہیں سے بھی ہو ایک کلوگوشت وہ اپنے گھر لا کر پکا نہیں سکتا۔یہ سارے حالات ہیں یہاں تک کہ لوگ اپنا زندگی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے اپنے اثاثے بیچ رہے ہیں۔پاکستان پر کرونا کے بعد معیشت پر جو اثرات ہوئے وہ بھی ہماری سیاسی اور سماجی ناہمواریوں کی وجہ سے بہت بْرے اثرات پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ایک عام آدمی پاکستان چھوڑ کر کہیں باہر پناہ لینے کے چکر میں ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں نوجوان بے قرار ہیں اور سینکڑوں نوجوان روزانہ ایئرپورٹوں سے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں۔لیکن ہمارے برابر ہمارا ہمسایہ جنہیں ہم چین کہتے ہیں، چین میں وہی لوگ جنہوں نے اپنی افرادی قوت کے زور پر دنیا کو نیچا دکھا دیا اور پوری دنیا کی معیشت پر اس وقت برابر چھائے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق حکمت عملی اپنانا ہو گی تاکہ آنے والا 2026ء ہمارے لیے بہتر راہیں ،بہتر امیدیں اور بہتر خبریں لے کر آئے۔اس کے لیے پاکستان کو ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا ،مل کر یہ فاصلے طے کرنا ہوں گے،مشکل وقت ہے لیکن اس مشکل وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس وقت کے تقاضوں جانچنا ہوگا، وگرنہ 2026ء کے بھی نتائج وہی ہوں گے جو2025ء کے نتائج رہے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus