×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آلو و سبزیوں کے کاشتکار رُل گئے
Dated: 06-Jan-2026
آلو پاکستان میں بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں بھی اس کی مقبولیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ کبھی بطور مکمل سبزی استعمال ہوتا ہے اور کبھی کسی دوسری سبزی کے ساتھ معاون کے طور پر، جبکہ گوشت کے ساتھ مل کر اس کا ذائقہ مزید دوبالا کر دیتا ہے۔ اگر آلو میٹھا ہو تو اسے شکرقندی یا سویٹ پوٹیٹو کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں شکل و صورت میں ملتے جلتے ہیں اور زمین کے اندر پیدا ہوتے ہیں، مگر غذائی اعتبار سے دونوں میں فرق ہے۔ آلو میں نشاستہ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے، اسی لیے ڈاکٹروں کی جانب سے شوگر کے مریضوں کو اس کے زیادہ استعمال سے منع کیا جاتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے آلو کا تعلق جنوبی امریکا، خصوصاً پیرو کے علاقوں سے ہے، جہاں اسے پانچ سے آٹھ ہزار سال قبل دریافت کیا گیا۔ یورپ میں آلو نسبتاً بہت دیر سے پہنچا، کیونکہ امریکا اور جنوبی امریکا خود بھی یورپ کے لیے دیر سے دریافت ہوئے۔ جب یہ خطے دریافت ہوئے تو وہاں کے پھل، سبزیاں اور پودے بتدریج دنیا کے دوسرے حصوں تک پہنچے۔ یورپ میں جب آلو جرمنی، فرانس، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، بیلجیم اور ہالینڈ پہنچا تو ابتدا میں اسے فوری مقبولیت حاصل نہ ہو سکی، کیونکہ لوگ اسے جانوروں کے چارے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس وقت انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ آلو کے اندر کتنی غذائی اہمیت پوشیدہ ہے اور یہ کس قدر کارآمد غذا بن سکتا ہے۔ یہی حال ٹماٹر کا بھی رہا، جسے یورپ میں ایک عرصے تک نقصان دہ سمجھا گیا اور یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس کے استعمال سے کینسر ہوتا ہے۔ اٹلی میں تو ایک طویل عرصے تک ٹماٹر کو ممنوع قرار دیا گیا، ٹماٹر کو ایک زہریلا پھل سمجھتے ہوئے سزائے موت کے مجرموں کو بھی کھلایا جاتا تھا۔ حالانکہ آج اٹلی اور پوری دنیا میں پاستا، پیزا اور دیگر کھانوں میں ٹماٹر کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور اٹلی دنیا کے بڑے ٹماٹر استعمال کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ہالینڈ اور بیلجیم میں آج بھی جگہ جگہ آلو کے اسٹال نظر آتے ہیں، خاص طور پر سردیوں میں، جہاں گرم گرم آلو مختلف انداز میں پیش کیے جاتے ہیں، جیسے چپس، فرنچ فرائز اور دیگر اقسام کی ڈشز۔ جرمنی میں آلو کو کدوکش کر کے ٹکیوں کی صورت میں کیچپ کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں، یعنی آج سے تقریباً تین چار سو سال قبل، آلو اسپین کے راستے یورپ میں داخل ہوا، کیونکہ امریکا کو دریافت کرنے والے ہسپانوی ہی وہاں سے پھل اور سبزیاں یورپ لے کر آئے تھے۔ اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ یورپ میں آلو کا تعارف اسپین کے ذریعے ہوا۔ یورپ سے آلو ایشیا، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور ہمارے برصغیر تک پہنچا۔ پاکستان میں آتے ہی اس نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ جیسے جیسے لوگوں کو اس کے فوائد کا علم ہوتا گیا، آلو ہر گھر کا لازمی حصہ بنتا چلا گیا۔ یہ سبزی کے ساتھ بھی پک جاتا ہے اور یہاں تک کہ کئی شوقین لوگ اسے دال کے ساتھ بھی شوق سے کھا لیتے ہیں۔بلکہ آج بھی آلو گوشت اور آلوئوں والے پراٹھے ہم سب کی مرغن غذا ہے۔ ذاتی تجربہ بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ جب تعلیم کے لیے پاکستان سے نکل کر سوئٹزرلینڈ پہنچے اور دو ماہ بعد گھر فون کیا تو والدہ نے کہا کہ بیٹے، مجھے اور کوئی فکر نہیں، بس یہ فکر ہے کہ تمہیں وہاں آلو ملتا ہے یا نہیں۔ جواب میں بتایا کہ امی، آپ کبھی یہاں آئیں تو دیکھیں گی کہ پاکستان میں جتنی اقسام کے آلو ہم نے کبھی نہیں دیکھیں، یہاں اس سے کہیں زیادہ ہیں، اور انہیں بنانے کے طریقے بھی بے شمار ہیں۔ اس پر والدہ نے مسکرا کر کہا کہ پھر تو تم وہیں ٹک جاؤ گے، اور واقعی آلو ہی وہ ذائقہ تھا جس نے ہمیں پردیس میں بھی اپنا پن محسوس کروا دیا۔لیکن آلو صرف ذائقے کا نام نہیں، یہ کسان کی محنت، اس کی امید اور اس کے خواب کا نام بھی ہے۔ جب کاشتکار کسی زمین میں آلو بوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ زمین زرخیز اور فصل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آلو کی کاشت کے لیے زمین کو نہایت باریک اور ہموار کیا جاتا ہے، پھر اس میں بیج رکھا جاتا ہے۔ جو لوگ کھیتی باڑی سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آلو کی فصل میں غیر معمولی محنت درکار ہوتی ہے۔ ایک زمیندار پورا سیزن، یعنی چار سے پانچ ماہ، اس امید پر گزار دیتا ہے کہ اسی فصل سے وہ بیٹی کی شادی کرے گا، آڑھتی کے قرض اتارے گا اور گھر کے اخراجات پورے کرے گا۔ آلو، کپاس اور گندم وہ اجناس ہیں جن کا ہماری دیہی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں معلومات کی کمی اور حکومتی سطح پر مناسب رہنمائی نہ ہونے کے باعث اکثر کسان درست اندازہ نہیں لگا پاتے۔ یوں جٹ اور زمیندار معمولی سی غلط حساب کتاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک سال آلو کی قیمت دو سو روپے فی کلو تک پہنچ جائے تو اگلے سال تقریباً ہر کسان اپنی زمین پر آلو ہی کاشت کر لیتا ہے۔ زیادہ زمین والا زیادہ اور کم زمین والا کم، مگر سب کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ پچھلے سال کی قیمت سے فائدہ اٹھایا جائے۔نتیجتاً اگلے سال آلو کی پیداوار ضرورت سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے اور قیمت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ جب آلو کی بھرمار ہوتی ہے تو باردانہ ناپید ہو جاتا ہے، یعنی وہ بوریاں جن میں آلو بھرا جاتا ہے، مہنگی ہو جاتی ہیں۔ سستا آلو مہنگے باردانے میں ڈال کر سٹوریج کرنا کسان کے لیے مزید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ایک بوری کو پانچ یا چھ ماہ کے لیے اسٹور میں رکھنے پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ پٹوائی، چنوائی، باردانہ، اسٹوریج اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات مل کر کسان کی کمر توڑ دیتے ہیں، اور منڈیوں میں اتنی بڑی مقدار میں آلو آ جاتا ہے کہ ’’آلو، آلو ہو جاتا ہے‘‘۔ ایک قومی سروے کے مطابق 2025 میں آلو کی برآمدات کا سپورٹ گراف مکمل طور پر زیرو لیول پر آ چکا ہے۔ چالیس فیصد سے سیدھا صفر پر آ جانا کسی بھی زرعی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہوتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آلو افغانستان کو نہیں جا رہا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی آلو اسی راستے سے آگے تاجکستان، ازبکستان، روس، جارجیا اور آذربائیجان تک پہنچتا تھا۔ جب یہ سلسلہ ٹوٹا تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے گئے۔اس صورتحال میں نقصان صرف پاکستانی کسان کا نہیں ہوا، بلکہ پاکستان، افغانستان اور ان تمام ممالک کا بھی ہوا جہاں یہ فصل نہیں پہنچ سکی۔ وسائل ضائع ہوئے، محنت رائیگاں گئی اور سب سے بڑھ کر کسانوں کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔ پہلے پاکستان طویل عرصے سے افغانستان اور ایران کو آلو اور دیگر سبزیاں برآمد کرتا رہا، جبکہ افغانستان سے پاکستان کو انار، سیب اور دیگر پھل درآمد ہوتے تھے۔ اس دوطرفہ تجارت سے دونوں ملکوں کے عوام، خصوصاً کسانوں کو فائدہ ہوتا تھا، مگر جب تعلقات کشیدہ ہوئے اور سرحدی بندشیں بڑھیں تو یہ فطری تجارتی سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے بیشتر کولڈ اسٹوریج بھر چکے ہیں، آلو کی وہ بوری جو گزشتہ سال 2600 روپے میں بکتی تھی، اب 600 روپے میں بھی نہیں اٹھتی۔ گوبھی، شلجم اور دیگر سبزیاں کسان جانوروں کو کھلانے پر مجبور ہو چکا ہے۔ پہلے گندم، پھر چاول، پھر گنا اور کپاس، اور اب آلو بھی کسان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔کسان سیاست نہیں سمجھتا، نہ سرحدی جھگڑوں سے اسے غرض ہوتی ہے۔ وہ صرف زمین کا سینہ چیر کر بیج بوتا ہے اور امید کرتا ہے کہ شاید اس فصل سے اس کے بچوں کا مستقبل بہتر ہو جائے۔ یہی حال افغانستان کے کسانوں کا بھی ہے، جو پھل اگا کر پاکستان بھیجتے تھے اور آج وہ بھی شدید نقصان میں ہیں۔ سیاسی فیصلوں کی قیمت دونوں طرف کے کسان ادا کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کرنا کیا چاہیے؟ کاشتکاری اب صرف بیج بونے کا نام نہیں رہی، یہ ایک مکمل سائنس بن چکی ہے۔ حکومت کو متبادل تجارتی راستے تلاش کرنا ہوں گے، پیشگی قیمتوں کا اعلان کرنا ہوگا، جامع زرعی پالیسی بنانی ہوگی، فیلڈ انسپکٹرز کو متحرک کرنا ہوگا، کولڈ اسٹوریج کی سہولیات بڑھانی ہوں گی اور کسان کو براہِ راست منڈی تک رسائی دینا ہوگی۔میں خود ایک کسان کا بیٹا ہوں اور برسوں سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ کسان کے جیتے جی اس کے لیے کچھ کرو۔ ہر دو تین سال بعد سیلاب آتا ہے اور جو تھوڑا بہت بچتا ہے وہ بہا لے جاتا ہے۔ ڈیم، نہریں اور حفاظتی نظام کب بنیں گے؟ کیا تب، جب سب کچھ ختم ہو جائے گا؟ کیونکہ اگر کسان ہار گیا تو یہ صرف ایک فصل کا نقصان نہیں ہوگا، یہ پورے ملک کی شکست ہوگی۔ معزز قارئین! ہمارے قریبی ہمسایہ ملک بھارت میں پنجاب کے کسانوں نے اپنی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اڑھائی سال کے دورانیے پر مشتمل احتجاج کیا اور جس نے پنجاب، ہریانہ ،ہماچل اور دارالحکومت دہلی کو محسور کرکے رکھ دیا۔ اس دوران سات سو کسانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ بالآخر نریندرمودی سرکار نے گھٹنوں کے بل جھک کر حکومتی شکست تسلیم کر لی اور کسان فتح یاب ٹھہرے۔ ہمارے کسانوں کے پُرامن احتجاج کو حکومتی سطح پر پذیرائی ملنی چاہیے اور نئے دور کے جدید تقاضوں کے مطابق نئی زرعی پالیسیاں بننی چاہئیں کیونکہ کسان خوشحال ہوگا تو عوام خوشحال ہو گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus