×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خدارا! حرمت شہداء تو پامال نہ کرو
Dated: 25-Nov-2010
بھارت ہمارا دوست ہے یا دشمن؟ اس کا جواب جاننے کے لیے کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ ایک کم سن بچہ بھی میرے وطن کا اس کا جواب جانتا ہے۔ 1936ء میں آل انڈیا مسلم لیگ نے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرکے دو قومی نظریہ پر مہر ثبت کر دی تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح اور رفقاء نے منافق ہندو کے چہرے پر سے نقاب الٹ دیا تھا۔ تقسیم ہند کے اعلان سے لے کر قیام پاکستان کے کئی سال بعد تک مکار ہندو نے لاکھوں نہیں کروڑوں مسلمانوں کی لاشوں کو نیزے کی نوک پر لٹکایا تھا اور تقسیم ہند کے فیصلہ کے دوران شاطر ہندوئوں نے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ مل کر تقسیم کے اس عمل کو بندربانٹ میں تبدیل کر دیا تھا اور بے شمار مسلم اکثریت والے علاقے برطانوی سامراج نے ہندوئوں کو گفٹ کر دیئے۔ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہندو ہی نہیں انگریز بھی نہیں چاہتا تھا کہ دنیا کے نقشے پر اور خصوصاً اس خطے میں ایک ایسی اسلامی ریاست معرض وجود میں آئے۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم ہند کے موقع پر مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر مارا گیا۔ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے قافلوں کے قافلے زندہ جلا دیئے گئے۔ پوری ٹرینوں کو آگ لگا دی گئی۔ مسلمان خواتین کی عصمت دری کے ہول ناک واقعات آج بھی ہماری تاریخ کا وہ منہ بولتا ثبوت ہیں جسے ہندو سامراج جھٹلا نہیں سکتا اور یہ ہندو بنیے کے ماتھے پر بدنما داغ کی صورت ہمیشہ موجود رہیں گے۔ آج بھی تقسیم ہند کے ہزاروں زندہ گواہ موجود ہیں جو قیام پاکستان کے 63سال بعد بھی بربریت کے اس شاک سے باہر نہیں نکل سکے۔ جب ہندو سامراج کو طوعاً کراہاً تقسیم کی یہ کڑوی گولی نگلنی پڑی تو اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کے حصے میں آنے والے اثاثہ جات کو آج تک پاکستان منتقل نہیں کیا گیا۔قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد 1948ء کو ہی پہلی جنگ چھیڑ دی گئی اور کشمیر پر قبضہ کرکے تقسیم کے فارمولے سے انحراف کیا گیا۔ ایک نئی وجود میں آنے والی مملکت جس کے پاس اسلحہ تو کیا استعمال کی تلوار بھی نہیں تھی اس پر جنگ تھوپ دی گئی اور پھر ہر حیلے بہانے سے پاکستان کو کمزور اور توڑنے کی لامتناہی سلسلوں کا آغاز کر دیا گیا۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک 63سالوں سے بھارت نے 1948کی جنگ کے علاوہ 1965ء، جنگ1971ء جنگ سیاچن، جنگ کارگل سمیت اقتصادی جنگیں بھی شروع کیں جو اب تک جاری و ساری ہیں۔ تقسیم ہند کے اس اعلان کے بعد بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے مغلضات بکتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بس چند سالوں کا مہمان ہے اور یہ خطہ پھر سے متحدہ ہندوستان میں شامل ہو جائے گا۔ قیام پاکستان کے بعد ہندو سامراج نے پانی کے مسئلہ پر ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جنگی حالات پیدا کیے رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سرحدوں سے نکلنے والے دریائوں پر ہزاروں ڈیم بنا کرپاکستان کے لیے کربلا کا ساسماں پیدا کر دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک کی لاکھوں ایکڑ اراضی پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے ایشیا میں پاکستان ایسی زرعی لحاظ سے موزوں زمین شاید ہی کسی ملک کے پاس ہو، اگر پانی دستیاب ہو تو ایک عالمی سروے کے مطابق پاکستان کی زمینوں پر اگنے والا اناج ایشیا بھر کے عوام کے زرعی ضروریات پوری کر سکتا ہے مگر مکار ہندو حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کی سیاست میں دخل دراندازی کی اور خصوصی طور پر کالاباغ ڈیم کے نہ صرف مخالفین پیدا کیے بلکہ کالاباغ ڈیم کے منصوبے کو اپنی معاشی طاقت کے زور پر اور پاکستان کے اندر غدار لابیاں پیدا کرکے پاکستان کی شہ رگ کے اس منصوبے کو سبوتاژ کیا۔ مون سون کے دنوں میں جب پاکستان سیلاب کی زد میں ہوتا ہے بھارت اضافی پانی چھوڑ کر ہمیں ناکوں چنے چبواتا ہے۔ ایوب خان کے دور حکومت میں سندھ طاس معاہدے اور پانی کی تقسیم پر اپنا اثر استعمال کرکے آج ہماے ستلج،راوی، بیاس سمیت بیشتر دریائوں کو خشک کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ پنجاب کے مکین جانتے ہیں کہ ان تین بڑے دریائوں میں پانی کی ایک بوند بھی نہیں بہتی بلکہ یہ دریا ریت کے ٹیلوں میں تبدیل ہو کر صحرا کی صورت میں موجود ہیں۔ بھارت نے سرد جنگ کا تو پاکستان کے ساتھ کبھی خاتمہ نہ کیا الٹا ثقافتی جنگ بھی شروع کر رکھی ہے۔ جس کا اثر آج کیبل نیٹ ورک کے ہٹ دھرم طبقے کی وجہ سے گھر گھر میں بھارت اور امن کی آشا کی صورت میں گایا اور بجایا جا رہا ہے۔ 1978ء جب روس نے افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ بھارت روس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا تھا۔ پھر 2001ء میں نائن الیون کے بعد جب پاکستان امریکہ سرکار کا فرنٹ لائن اتحادی بننے پر مجبور کر دیا گیا تو بھی بھارت خاموش تماشائی بنا بیٹھا رہا پھر جب امریکہ نے افغانستان کو تورا بورا بنا کر شمالی اتحاد کو ساتھ ملا لیا تو بھارت کی حریص نظریں پکی پکائی اس دیگ پر جم گئیں۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان نے لازوال قربانیاں رقم کیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کی اس اندرونی و بیرونی جنگ میں ہزاروں فوجی افسران اور جوانوں کی شہادتیں دیں اور ایک محتاط تخمینے کے مطابق50ارب ڈالر کا نقصان اور زمینی انفراسٹکچر تباہ ہوا۔ ہماری ترقی کا عمل رک گیا۔ تعلیم سمیت شاہراوں کی تعمیر کے لیے ہم محتاج ہو گئے آج ملک بھر کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اس بات کا مظہر ہیں مگر بھارت نے کمال چالاکی ہوشیاری سے میچ ختم ہونے سے کچھ لمحے بیشتر ہی خود کو اس کھیل میں حصے دار ثابت کر دیا ہے اور عالمی برادری کو منوا رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ اور پاکستان کے ساتھ اس کے کردار کو بھی تسلیم کیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ 2014ء کے فوجی انخلا کے منصوبے کے اختتام پر ایک خفیہ معاہدے کے تحت بھارت کو افغانستان میں کمان دینا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت نے نہ صرف عالمی طاقتوں کی رائے عامہ کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے بلکہ بھارت نے پاکستان کے اندر بھی اپنی مضبوط لابنگ کی ہے۔ آج بھارت پاکستان کے چند وزراء اور سیاسی ’’بھانڈ‘‘ اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں جب پانی چوری کا مسئلہ اٹھایا گیا تو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بیان دے کر بھارت کا حق نمک اداکر دیا کہ بھارت پاکستان کا پانی چوری نہیں کر رہا اور نہ ہی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس طرح موصوف وزیر نے اپنے اندر وزیراعظم بننے کی دلی خواہشوں کو نہ صرف باہر اُگل دیا بلکہ اپنے باطن کا اظہار بھی کر دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پچھلے کچھ عرصہ سے ہیلری وامریکن نواز اور یہودی لابیوں کی سیاست کو پاکستان میں فروغ دیا ہے بلکہ پاکستان کی بجائے بھارت کا وزیرخارجہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اولیاء سے نسبت بتانے والے اس خانوادے کے فرد کو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام سے محبت نہ سہی،اولیاء سے اگر عقیدت ہے اور ان کا جانشن، گدی نشین ہونے کا زعم ہے تو کم از کم اولیاء کا ہی احترام کریں اور شاہ رکن دین عالم کو ماننے والے لاکھوں مسلمانوں کے دلی جذبات کو مجروح نہ کریں کہ خدا کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے۔ پاکستان کے عوام ابھی شاہ محمود قریشی کے لگائے زخموں اور چرکوںسے باہر نہ نکلے تھے کہ گزشتہ روز ملک کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھارت کی اس بہتی گنگا میں چھلانگ لگا دی۔ موصوف سپریم کورٹ سے سزایافتہ ہو کر بھی بچ گئے ہیں مگر اللہ کی سپریم عدالت سے نہ بچ پائیں گے اور اس بڑی عدالت کے فیصلے کو کوئی صدر مملکت استثنیٰ نہ دے سکے گا۔ موصوف وزیرداخلہ جو ابھی جیالوں کی نظروں میں خود کئی سوالوں کے جوابدہ ہیں نے سرزمین پاکستان پر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات سے بھارت کو بری الذمہ قرار دے کر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو حیران کر دیا ہے کہ وہ کونسے پیرامیٹر ز ہیں جن کی بنیاد پر ملک کے وزیرداخلہ جو امن و امان کے جوابدہ ہیں نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بری الذمہ قرار دیا ہے۔ جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پچھلے دس سالوں کے دوران ہونے والی عالمی دہشت گردی کے پیچھے نہ صرف بھارتی و یہودی ذہن کارفرما ہے بلکہ ان دونوں قوتوں کے ہاتھ بھی ملوث ہے۔ دراصل کچھ عرصہ سے جب ہمارے وزرا ء اور حکمرانوں کو عالمی محاظ پر بھارت سے ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے تو ان کے ذہنوں اور دماغوں پر یہ بات چھا گئی ہے کہ اگر حکمرانی کو طوالت دینی ہے تو پھر اب امریکہ بہادر کے ساتھ ساتھ یہودی و بھارتی خوشنودی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ضیاء الحق کے دورحکومت میں جب بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں کے بعد ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کو بنیاد بنا کر بھارت کا دورہ کرنا تھا تواس نے نظریہ پاکستان کے علمبردار اور مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب کو بھی ساتھ چلنے کے لیے کہا جس پر جناب مجید نظامی صاحب نے ضیاء الحق کو جواب دیا کہ میں بھارت جائوں گا ضرور مگر جہاز پر بیٹھ کر نہیں بلکہ ٹینک پر بیٹھ کرجائوں گا۔ میں سمجھتا ہوں شاید آج کا یہ کالم پڑھ کر میرے ملک کے بھارتی نواز وزراء جناب مجید نظامی صاحب کے اس فقرے سے ہی کوئی راہنمائی حاصل کر سکیں۔پہلے ہمارے ملک میں اے این پی اور ایم کیو ایم کے راہنمائوں کے متعلق بھارتی نواز ہونا مشہور تھا۔ اب پیپلزپارٹی کے نئے درآمد شدہ راہنما اور وزراء بھی اس کارِشر میں شریک ہو کر پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ ہمارے بِکے ہوئے سیاست دان ہوں یا پھر پیسے کے پجاری اسٹیبلشمنٹ کے کھلاڑی ان سب کو قیام پاکستان کے بعد پاکستان سمیت کشمیر میں جام شہادت نوش فرمانے والے لاکھوں جوانوں کے خون سے غداری کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ چند سال کی وزارت کے لیے اپنی قوم سے غداری ان کی آنے والی نسل کے ماتھے پر بے وفائی کے جھومر کی طرح سج جائے گی۔ اس ملک کے عوام شہیدوں کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیں گے اور پھر سدا حکمرانی تو اس کی ذات کی ہے جو پل بھر میں بادشاہ کو گداگر اور گداگرکو بادشاہ بنا دیتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus