×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس
Dated: 01-Dec-2010
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تاشقند سے واپسی پر ایوب خاں سے شدید اختلافات کی بنا پر کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔دراصل قائدعوام کو یہ ادراک ہو گیا تھا کہ اس نوزائیدہ مملکت کو ایک ایسی سیاسی قیادت اور سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے جو اس ملک کے عوام کو ان کی منزل تک لے جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ دوستوں اور ساتھیوں سے مشورے کے بعد 30نومبراور یکم دسمبر 1967ء کو پیپلز پارٹی کا پہلا تاسیسی اجلاس ہوا جس میں نہ صرف ایک نئی سیاسی پارٹی (پیپلز پارٹی)کے قیام کا اعلان ہوا بلکہ اس ملک کے عوام پر اس فیصلے کے دوررس نتائج بھی بعدازاں برآمد ہوئے۔ اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کا پہلا منشور بھی طے پایاجس کی چند بنیادی شقیں اور مقاصد درج ذیل ہیں: تاسیسی اجلاس کے فیصلہ کے مطابق پارٹی کا نام۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہو گااو ر پارٹی کے بنیادی اساس یہ ہیں۔اسلام ہمارا دین ہے،جمہوریت ہماری سیاست ہے،سوشلزم ہماری معیشت ہے،طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔تاسیسی اراکین نے پارٹی پرچم کی منظوری دی جس کے مطابق پرچم تین برابر کے عمودی حصوں پر مشتمل ہو گا۔ دستہ کے قریب لال، درمیان میں سیاہ، اور دوسرے سرے پر سبز،ہلال اور پانچ کونہ ستارہ سیاہ حصہ میں ہو اور ہلال کے سرے بائیں جانب ہوںگے۔تاسیسی اجلاس میں پاکستان کے سابقہ اور اس وقت کے معروضی حالات کو دیکھ کر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دراصل 1956ء کے آئین کو بے شمار دشواریوں سمیت مخلوط یا غیر مخلوط انتخابات کا نظریہ، مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان صوبائی مساوات کا مسئلہ، دینی اور لادینی سیاسی نظریہ کا باہم تعلق، اقلیتوں کے حقوق، مغربی پاکستان کی وحدت کا مسئلہ اور دوسرے بہت سے ایسے ہی نازک اور بھڑک اٹھنے والے مسائل درپیش ہیں۔معاشرے میں رشوت ستانی، نفسا نفسی،اور کنبہ پروری کا اس قدر دور دورہ ہے کہ ہماری اخلاقی اورسماجی زندگی تیزی سے پستی کی طرف جارہی ہے۔ لوگوں میں بد دلی اور مایوسی پھیل چکی ہے اور حکومت کے نظم و نسق کی اہلیت پر سے اعتماد اٹھ گیاہے خصوصاً غریبوں اورمحنت کش طبقوں کے حقوق اور خواہشات کو جس بے دردی سے نظر انداز کیا گیا اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے یہی غریب اور محنت کش لوگ جن کے بل بوتے پر معاشی اور اقتصادی میدان میں سرمایہ داروں کے لئے بے انتہا ترقی کے مواقع پیدا ہوئے اور کارخانوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔ لیکن ان کی ترقی کے لئے جو ہماری آبادی کی اکثریت ہے مختلف حکومتوں نے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ غربت اور افلاس ہمارے ملک کے محنت کش طبقوں کو گُھن کی طرح کھانے لگے۔ ملکی نظم و نسق کی کارکردگی کا معیار بجائے اس کے کہ موجودہ صدی کے بین الاقوامی معیاروں پر پورا اترتا دن بدن تیز رفتاری سے روبہ انحطاط ہوتا گیا کاشت کاروں میں بے مقصدیت اور مزدور طبقے میںبے تنظیمی اور غیر متعین راہ عمل کا احساس جڑیں پکڑنے لگا اور سفید پوش اور تنخواہ دار طبقہ اپنی جائز ضروریات زندگی کے لئے ترسنے لگا خود غرضی، اور ذاتی نفع رسانی ہمارے معاشرے کے رگ وپے میں رچ گئی۔ تعلیم اور نوجوانوں کی بہبود جو کہ قومی ترقی کا سرچشمہ قرار پاتے ہیں ہمارے ملک میں روبہ زوال ہوگئے تمام قومی ادارے ماسوائے عدلیہ اور افواج پاکستان شدید بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔1962ء میں مارشل لاء کے ہٹنے پر ایک حد تک جمہوریت اور ’’حکومت شاہی‘‘ کا دوغلا نظام رائج کردیا گیا اس کے ساتھ ہی قریباً تمام قومی پریس کو نیشنل پریس ٹرسٹ کی صورت میں قبضے میں لے لیا اور دوسری طرف ایک سیاسی پارٹی کا اجراء کردیا گیا جو پہلے تو کنونشن لیگ کہلائی اور بعد میں اس کانام ’’پاکستان مسلم لیگ‘‘ رکھ دیا گیا تاکہ یہ سیاسی پارٹی ان حالات کا مقابلہ کرسکے جن کا در حقیقت جمہوریت سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہونے کا امکان تھا۔قومی زندگی کو مکمل سیاسی بحران کے عمیق گڑھے کی طرف دھکیلا جارہا ہے وہ سیاست دان جو ابھی ابھی ایبڈو کی پابندیوں سے آزاد ہوکر سیاسی میدان میں واپس آئے ہیں ان میں سے کچھ نے تو حکمران پارٹی میں شامل ہوکر حکمران پارٹی کی بے مقصدیت اور بے راہروی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ دوسروں نے اپنی اپنی پارٹیوں کی دوبارہ تنظیم کرکے ایک متحدہ محاذ بنا لیا ہے کہ شاید وہ اس طرح ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل پر قابو پالیں گے۔ایبڈو کے ہٹنے کے بعد سابق سیاست دان صاف طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے ایک تو وہ جنہوں نے اپنے سیاسی مقام اور نظریات سے انحراف کسی صورت میں گوارانہ کیا اور دوسری طرف وہ جنہوں نے صحیح سیاست اور شرافت کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسی حکومت کے دامن عاطفت میں پناہ لی جس نے انہیں سیاسی مجرم اور قومی تباہی کا ذمہ دار قرار دیاتھا۔ حالات کی رفتار اس بات کی متقاضی ہے کہ اب اس دور کا آغاز ہو کہ تمام روشن خیال عناصر اور سیاسی پارٹیاں بھی مل کر پی ڈی ایم کی طرح ایک علیحدہ تنظیم قائم کریں اس نئی سیاسی صورت حال سے یہ خوش آئند تبدیلی پیدا ہوگی کہ ہماری سیاسی پارٹیاں جو کہ پہلے منفی طور پر محض شخصیات کے سہارے پروان چڑھتی تھیں اب واضح طور پر دو سیاسی رجحانات رکھنے والے یعنی روشن خیال اور قدامت پسند گروہوں میں بٹ جائیں گی اس سے یہ فائدہ حاصل ہوگا کہ جب قدامت پسند اورترقی پسند تنظیموں کو اپنا اپنا مقام اور اتحاد حاصل ہو جائے گا ان کے لئے آسان ہوگا کہ وہ حقیقی جمہوریت کی بحالی کی بنیاد پر آپس میں سمجھوتہ کرلیں ایک قابلِ عمل مشترکہ پروگرام بنا سکیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان حالات میں کیا یہ ضروری ہے کہ ایک نئی سیاسی پارٹی بنائی جائے جب کہ اصل مقصد حزبِ اختلاف کی مختلف پارٹیوں کا اتحاد ہے اگر ذرا غور سے موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کیاجائے تو یہ ظاہر ہوجائے گا کہ نئی پارٹی کا قیام اس وجہ سے ضروری ہے کہ حزبِ اختلاف کی موجودہ سیاسی پارٹیوں کا اتحاد اس نئی سیاسی پارٹی کے بغیر ناممکن ہے اور اس کے بغیر روشن خیال عناصر کو اکٹھا کرنا ممکن نہیں۔عوام اپنے جذبہء اخلاص اور یقینِ محکم کے طفیل اس بات کے قابل ہیں کہ وہ حقیقت پسندی سے اپنے تمام مسائل کو خود حل کرسکیں اسی لئے اتحاد عوام اس نئی سیاسی جماعت کا نصب العین ہے تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے مشعلِ راہ ہمارے قائداعظم کے اقوال وار شادات ہیں اور یہ ہمارے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے اس ملک کے عوام اس بات کا تہیہ کرچکے ہیں کہ وہ اس جذبے او رروح کو دوبارہ زندہ کرکے رہیں گے جو ہمیں قائداعظم محمد علی جناح نے عطا کیا تھا۔ ہمارا مقصد نئے مسائل پیدا کرنا نہیں اور نہ پرانے مسائل کو زندہ کرنا ہے بلکہ ان مسائل کا حل تلاش کرنا ہے جو پچھلے بیس سالوں سے ہماری سیاسی زندگی پر چھائے ہوئے ہیں۔قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تاسیسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: قادرِ مطلق خدا پر غیر متزلزل ایمان کے ساتھ جو تمام جہانوں اور انسانوں کا پالنے والا ہے اور دین ِاسلام کے لئے جذبہء غیرت رکھتے ہوئے اور پاکستان کے مقاصد کے لئے اپنے آپ کو کلی طور پر وقف کرتے ہوئے ہم سب اللہ کا نام لے کر اس عظیم کام کی ابتدا اور اتحاد عوام کا اِعلان کرتے ہیں۔اس یقینِ محکم کے ساتھ کہ اتحاد عوام سے اور اجتماعی تدّبر اور سوچ بچار کی بدولت پاکستان کی خدمت میں مگن ہوکر ہم اپنے شاندار مستقبل کی طرف گامزن ہوں گے اور دنیا میں عدل و مساوات اور امن کو قائم کرنے کا موجب بنیں گے۔ پارٹی کا مقصد پاکستان کو عوام کی خواہشات کے عین مطابق ایک سوشلسٹ معاشرے میں ڈھالنا ہے۔پارٹی اپنی پالیسی اور سرگرمیوں کے لئے مندرجہ ذیل راہنما اصول اختیار کرتی ہے۔ مساواتی جمہوریت یعنی غیر طبقاتی معاشرہ،اقتصادی اور سماجی انصاف کے حصول کی خاطر سوشلسٹ نظریات کا استعمال، زن و مرد کا بالغ حقِّ رائے دہی۔اگر حقِّ رائے دہی سب کے لئے یکساں ہو تو جائیداد اہلیت کا کوئی معیار نہیں۔ ووٹ دینے کا حق بلا رکاوٹ استعمال ہونا چاہیے۔ رجسٹریشن فیس کا نفاذ غریب طبقہ کے ووٹروں کو ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لئے اسے اور جائیداد کو اہلیت قرار دینا ووٹر کے آزادانہ حق استعمال کی راہ میں ایک رکاوٹ تصور کیا جانا چاہیے۔ ووٹ دینے کے حق کو جائیداد، تعلیم یا کسی اور قسم کے معیار پیدائش وغیرہ سے محدود کرنا قدرتی طور پر جمہوری نظام کی نفی ہے۔ زن ومرد کے حقِّ بالغ رائے دہی سے ایک ملک کو مخصوص مفادات یا چند طاقت ور خاندانوں یا ایک ہی خاندان کی جاگیر بننے سے روکا جاسکتا ہے۔انسانی حقوق کا جائز لحاظ،شہری آزادیوں کا مکمل تحفظ ہوتا چاہئے۔ خصوصی طور پرآزادی ء فکر،آزادی ء اظہار (تحریرو تقریر میں)،اخبارات کی آزادی،اجتماع کا حق،آزادنہ میل ملاقات کا حق۔ٹریڈ یونین کا استحکام۔ ہڑتال کا حق ناقابل تردید۔ آئی،ایل،اوکے اصولوں کا اطلاق۔ پاکستان میں ٹریڈ یونین اندریں حالات بہتر کمزور اور منقسم ہونے کی وجہ سے اپنی تنظیم کا مقصد یعنی مزدور طبقہ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ موجودہ حکومت جس کی اقتصادی پالیسی ایک مختصر سے گروہ کو امیر تر بنانا ہے، سے ہم توقع نہیں کر سکتے کہ وہ ٹریڈ یونین کو بھی وہ مقام دے گی جو وہ مل مالکوں کو دیتی ہے۔ کیونکہ مل مالک کو حکمرانوں تک رسائی حاصل ہے جو خود بھی کارخانوں کے مالک ہیں۔ عورتوں کے لئے مساوی حقوق۔ملک کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے عورتوں کی فلاح و بہبود نہ صرف ان کی بہتری کے لئے ضروری ہے بلکہ اس کا تعلق ملکی ترقی کے لئے بھی ناقابلِ تردید ہے۔اچھے گھر اس صورت میں کبھی نہیں بن سکتے اگر عورت کو لاعلم اور مغلوب رکھا جائے غیرمطمئن گھرانوں سے غیرمطمئن شہری ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ماں بچے کی استاد ہے اور وہی اسے قومی ثقافت کی پہلی راہ دکھاتی ہے۔ اس لئے ہمارے ملک کی ترقی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب عورت اپنے جائز حقوق حاصل کرے۔انتظامیہ اور عدلیہ کی علیحدگی۔اگر انتظامیہ اور عدلیہ کو الگ نہیں کیا جاتا تو جہاں حکومتی ادارے مسلسل یکطرفہ فیصلہ کرتے رہیں گے ایک عام فرد کو کبھی بھی یہ احساس نہ ہو گا کہ اس کے ساتھ قانون کی منشا کے مطابق سلوک کیا جارہا ہے، نہ کہ اسے مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔فرسودہ قوانین کا خاتمہ،آزادی علم اور یونیورسٹیوں کی خود مختاری،قومی دفاع میں عوام کی شرکت کا حق۔عوام کو اقتصادی لوٹ کھسوٹ سے بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام ذرائع پیداوار کو چند لوگوں کے ہاتھوں سے لے کر (جو پیدائشِ زر میں خود حصہ نہیں لیتے) ان وسائل کو تمام ملت کی بہبود کے لئے یکساں طور پر استعمال کیا جائے اس سلسلے میں جو واضح اصول وضع کئے جاسکتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ وہ ذرائع پیداوار جن سے صنعتی ترقی کی جڑیں وابستہ ہیں یا جن سے تمام بڑی چھوٹی صنعتیں منسلک ہوتی ہیں۔ ان کو چند ہاتھوں میں نہ رہنے دیا جائے بلکہ حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لے۔وہ تمام ذرائع پیداوار جن سے قومی اقتصادیات کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں، عوامی ملکیت ہونی چاہئیں۔زرمبادلہ کے تمام ذرائع اور ایجنسیاں مثلاً بینک، ایکسچینج اور انشورنس کمپنیاں حکومت کی ملکیت ہونی چاہئیں۔ مختصراً مندرجہ ذیل شعبوں کو قومی اختیار میں لینا ضروری ہے۔-1بنک کاری۔-2انشورنس کمپنیاں۔-3تمام بڑی صنعتیں مثلاً (فولاد، لوہا، سیمنٹ)-4دیگر دھاتوں کی صنعتیں۔-5بھاری انجینئررنگ کی صنعت۔-6صنعت کاری کے لئے بڑی بڑی مشینیں اور پرزے۔-7کیمیکل فیکٹریاں اور پٹروکیمیکل صنعتیں۔-8جہاز سازی۔-9اسلحہ سازی۔-10موٹر کار کی صنعت۔-11بجلی پیدا اور تقسیم کرنے کے سامان کی صنعتیں۔ -12بجلی۔ -13گیس۔ -14تیل۔-15کوئلہ آمدورفت کے تمام اہم ذرائع:-16ریلوے۔-17جہاز رانی۔-18ائر ٹرانسپورٹ۔-19روڈ ٹرانسپورٹ۔-20تمام ذرائع مثلاً کان کنی، خام دھاتوں کو کیمیائی طریقوں سے بہتر بنانا۔ یہ وہ راہنما اصول تھے جن کی وجہ سے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے 1970ء کے الیکشن میں مغر بی پاکستان میں کلین سویپ کیا اور پھر 1977ء جب وہ دوبارہ الیکشن میں بھاری اکثریت سے منتخب ہوئے تو سامراجی طاقتیں پریشان ہو گئیں اور انہوں نے ترقی کی راہوں پر لے جانے والے اس قائد کو ہم سے چھین لینے کا فیصلہ کر لیا۔حکومت کا تختہ رات کی تاریکی میں الٹا گیا،رات کی تاریکی میں ہی اسے گرفتارکیا گیا،اس پر مقدمہ چلا ضمانت ہوئی، ضمانت لینے والے جج کو فارغ کردیا گیا اور پھر راتوں رات ہی اس کے مقدمہ کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔رات کی تاریکی میں ہی اس کے بارے میں اہم فیصلے ہوئے اور رات کی تاریکی میں ہی اسے تختہ دار پرکھینچ دیا گیا۔جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دارچلے کے مترادف۔ ؎ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا،وہ شان سلامت رہتی ہے،یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں!اور شاید فیض احمد فیض نے یہ شعر بھٹو شہید کے بارے میں ہی کہا تھا۔اس رہنما کے بارے میں اس رہبر کے بارے میں جنہوں نے۔نوے ہزار جنگی قیدیوں کو دشمن کی قید سے باعزت طور پرہا کرایا۔پاکستان میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرکے اسلامی یکجہتی کے لئے عظیم کوشش کی تھی۔ایک صدی پرانے فتنے کو نہ صرف ختم بلکہ پہلی بار قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھا پاکستان کا پہلا منتخب وزیراعظم جس پران کے کٹرنرین مخالف آغا شورش کاشمیری نے ان کے اس کارنامہ پر مبارکباد دی تھی اور ایک نظم لکھی تھی جس میں بھٹو کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔یہ وہ شخص تھا جس نے پاکستان کو آئین دیا تھا اس ملک کی خارجہ پالیسی میں دور رس تبدیلیوں کیں اور پاکستان کے لئے ایسے دوست اور ہمدرد ملک تلاش کئے جو دائمی رشتوں کی حیثیت اختیار کر گئے۔اس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لئے بڑے بڑے ملکوں کی مخالفت مول لی اور اپنے موقف اور پاکستان کی برتری اورسربلندی کے لئے آخری وقت تک ڈٹا رہا۔بھٹو نے تیسری دنیا کی قوت اوراتحاد کے لئے بہت کچھ کرنا تھا۔ تیسری دنیا کے عوام اور عالم اسلام کو اس سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں لیکن ایک غاصب حکمران نے سامراج کے کہنے پر اسے قاتل قرار دے کر تختہ دار پرکھینچ دیا لیکن وہ بھٹو کے کارناموں عظمتوں اور جذبوں کو پھانسی نہ دے سکا۔بھٹو بھی ان عظیم انسانوں کی طرح معتوب ٹھہرا تھا جو اپنے عہد میں اپنی نئی سوچ، نئے خیالات اور نئی روشنی پھیلانے کی وجہ سے سزائوں سے دوچار ہوئے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ عظیم اور لازوال ہو گئے۔آج پیپلز پارٹی کا44واںیوم تاسیس ہے اس درمیان قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو،میر شاہ نواز بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی لازوال شہادتوں اور قربانیوں کے بعد پارٹی کی قیادت اور جیالوں سمیت اس ملک کے کارکنان اور عوام کو تجزیہ کرنا ہوگا کہ وہ پارٹی جو پچھلے چار دہائیوں میں چار عظیم شہادتوں کے علاوہ سینکڑوں کارکنان اور جیالوں کی شہادتیں اور خودسوزیاں جس کی تاریخ میں رقم ہیں۔پیپلز پارٹی اس وقت پانچویں دفعہ مسند اقتدار پر براجمان ہے کیا وہ پیپلزپارٹی کے بنیادی منشور اور شہیدوں کے افکار پر عمل پیرا ہو سکی ہے ؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus