×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا سقوطِ بلوچستان کا فیصلہ ہو چکا؟
Dated: 30-Dec-2010
بلوچستان وہ پہلا صوبہ تھا جس نے قیام پاکستان کے لیے پاکستان کے حق میں بھاری ووٹوں سے فیصلہ دیا۔ بلوچستان کے عوام بھی پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان اور کشمیر کے عوام۔قیام پاکستان سے لے کر پچھلے 63سال میں یہ گتھی نہیں سلجھائی جا سکی کہ جب کبھی کوئی بلوچ سردار اقتدار کا حصہ ہوتا ہے تو سب اچھا ہوتاہے لیکن جونہی اقتدار کسی نئی دھرے بندی یا گروپ کو منتقل ہوتا ہے تو بلوچ سردار جنگ کے لیے پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جب اقتدار شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلزپارٹی کو منتقل ہوا تو بچے کھچے پاکستان کو متحد رکھنے کے لیے حکومت نے چاروں صوبوں کے سرداروں، نوابوں، مخدوموں سے مذاکرات شروع کیے لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اسی دوران مذاکراتی ٹیم سے ناراض ہوئے بلوچ سردار اپنی صف بندی کرکے پہاڑوں پر ڈیرے ڈال کے بیٹھ گئے۔ بھٹو کا دور کسی بھی طریقے سے بلوچستان کے حوالے سے آئیڈیل نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے اکبر بگٹی جیسے پائے کے سیاستدان اور سردار جو بھٹو حکومت کے کولیشن پارٹنر تھے۔ مری اور مینگل سرداروں کو پہاڑوں سے اتارنے اور جنگ بندی پر آمادہ نہ کر سکے، خود اکبر بگٹی بھی لمبا عرصہ بھٹو حکومت کا ساتھ نہ دے سکے مگر وہ گورنر، وزیراعلیٰ،اعلیٰ وفاقی وزارتیں انجوائے کرتے رہے۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران بلوچستان کے حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی تھی لیکن جمہوریت کے واپس پٹری پر آنے کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو اقتدار منتقل ہوا انہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حلے کے لیے کمیٹی تشکیل دی لیکن جلد ہی بے نظیر بھٹو کو اقتدار سے علیحدہ کر دیا گیا۔ اور پھر دوسری بارشہید محترمہ بے نظیر بھٹو 1993ء میں اقتدار میں آئیں تو انہوں نے بلوچستان کے مسائل کے حقیقی حل کے لیے ایک بلوچ سردار فاروق احمد لغاری کو پاکستان کا صدر منتخب کروایا جس نے اقتدار میں آتے ہی بجائے اس کے کہ وہ دوسرے بلوچ سرداروں سے مفاہمت کی فضا پیدا کرتا اس نے ’’ایمل کانسی ‘‘ کو امریکہ کے حوالے کرکے خود اپنی صدارت اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر لیے۔ بلوچستان کے مسائل کے حل نہ ہونے کی ایک دوسری وجہ مختلف ادوار میں یہ بھی رہی کہ بلوچ قوم مختلف دھروں اور قبیلوں میں بٹی ہوئی ہے۔ جن میں بزنجو، مری، مینگل، جمالی،بگٹی، رئیسانی اور جام قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام سردار جب کبھی کسی سیاسی پارٹی سے مفاہمت کرکے اقتدار کا حصہ بنتے ہیں تو وہ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کا احساس کرنے کی بجائے غیرملکی بینکوں میں اپنے اکائونٹس کے حجم بڑھانے کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جبکہ کوئٹہ کے باہر سینکڑوں میل پر پھیلے ہوئے بلوچستان کو جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، کہیں بھی ترقی کے آثار نظر نہیں آتے۔ اور کوئی بھی بلوچ سردار چاہے وہ کتنا ہی لبرل اور روشن خیال کیوں نہ ہوں اپنے علاقے میں سکول، ہسپتال اور سڑکیں بنانے کی اجازات نہیں دیتا۔ بلوچستان پسماندگی اور غربت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا اور اپنے ہی سرداروں کی عدم توجہی کی وجہ سے ’’سٹون ایج‘‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ بلوچستان کے عوام اپنے قدیم رسم و رواج اور سرداروں کے چنگل میں پھنسے ہونے کی وجہ سے آج سطح غربت کے انتہائی نچلے درجے پر ہیں۔12اکتوبر 1999ء کو جب جرنیل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو وہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں اپنے اقتدارکو مضبوط کرنے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف رہا لیکن بلوچستان سے ایک وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کو منتخب کروا کے بلوچوں کے احساس محرومی سے کھیلتارہا جبکہ اس دوران اندروانی اور بیرونی ہاتھوں نے بلوچستان کے اندر اساس پاکستان کو کمزور کرنا شروع کر دیا جبکہ اسی دوران سانحہ 9/11بھی رونما ہو چکا تھا۔ بلوچستان امریکی اور نیٹو افواج کے لیے ایک انتہائی اہمیت کا حساس علاقہ قرار پایا۔ جبکہ اسی دوران بھارتی انٹیلی جنس ’’را‘‘ اور اسرائیلی انٹیلی جنس ’’موساد‘‘ نے امریکن انٹیلی جنس CIA کے ساتھ مل کر ایک عالمی سازش پر کام کرنا شروع کر دیا۔ بلوچستان اپنے جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے ایران کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا علاقہ ہے۔ پاکستان سے متصل ایرانی سرحد کی دوسری طرف تیل کے ذخائر سے مالامال ایرانی بلوچستان موجود ہے۔ جس کا رقبہ اور آبادی تقریباً پاکستانی بلوچستان کے برابر ہے۔ اس لیے ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر ایرانی حکومت کی بھی گہری نظر رہی ہے۔ اور جب مشرف کے دور میں خطے کی سب سے بڑی بندرگاہ گوادر کی تعمیر و ترقی کا کام شروع ہوا تو متحدہ عرب امارات، ایران اور امریکہ نے گرم پانی کے سب سے بڑے ذخیرے کو اپنے ہاتھ سے پھسلتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اس بندرگاہ کی تعمیر کو رکوانے کے لیے اسلحے اور ڈالرز کی بوریوں کے انبار لگا دیئے اور پاکستان کے انتہائی اہم دوست اور ہمسایہ چین جس نے اس بندرگاہ اور علاقے کی ڈویلپمنٹ کے لیے پراجیکٹ شروع کیے تھے کے انجینئر اور ٹیکنیکل سٹاف کو اغوا اور قتل کرانے کے واقعات کو پروان چڑھایا جبکہ اسی دوران مشرف حکومت نے سردار اکبر بگٹی کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ تشکیل دیا جبکہ مشرف حکومت اندرونی خلفشار کی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی اور جامعہ حفصہ اور لال مسجد جیسے سانحات بھی رونما ہو چکے تھے۔ دکھاوے کے لیے مشرف حکومت نے چوہدری شجاعت حسین کو ایک طرف بلوچستان کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہوا تھا۔ چوہدری شجاعت حسین اپنی شٹل ڈپلومیسی کے ثمرات کے قریب تر تھے اور ایک ایسا موقع بھی آیا کہ نواب اکبر بگٹی کو اسلام آباد لانے کے لیے کوئٹہ کے رن وے پر جہاز تیار کھڑا تھا کہ پھر کچھ خفیہ ہاتھوں نے اپنے کام دکھا دیا اور چند ہی دن بعد 85سالہ اکبر بگٹی کو جو پہاڑوں پر مورچہ بند ہو چکے تھے کو ایک فوجی آپریشن کے ذریعے شہید کر دیا گیا۔ نواب اکبر بگٹی کی شہادت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور وہ آگ جو صرف ایک مخصوص علاقے میں لگی ہوئی تھی اسے پورے بلوچستان کے کونے کونے تک پھیلا دیا۔ دوسری طرف بھارت نے بلوچستان کی سرحد سے ملحقہ افغانستان کے اندر 16کونصلیٹ آفس یا یوں کہیے کہ دہشت گرد تیار کرنے کی فیکٹریاں کھول لیں اور بلوچستان کے معصوم نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق اور ذہنوں میں بارود بھر دیا۔ 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانی کے عوض پانچویں بار اقتدار میں آئی تو صدر آصف علی زرداری جو کہ بلوچ النسل ہیں نے بلوچستان کے مسائل اور احساس محرومی کو حل کرنے کی ٹھان لی۔ اسی لیے قومی اسمبلی میں ایک پُرمغز بحث کے بعد بلوچستان پیکیج کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ صدرآصف علی زرداری نے اپنے دورۂ بلوچستان کے موقع پر بلوچ عوام کے ساتھ ماضی میں ہونے والی زیادتیوں اور غلطیوں پر کھلے دل سے معافی مانگنے کا اعلان کیا مگر بدشومئی قسمت اس دوران اکبر بگٹی کی اولاد بزنجو اور مری قبائل ایک دفعہ پھر مورچہ بند ہو چکے ہیں اور دوسری طرف کچھ اندرونی اور بیرونی جانے اور انجانے ہاتھ اپنے مذموم مقاصدمیں کامیاب ہو چکے ہیں۔ نفرت کا زہر بلوچ نوجوانوں کے سینوں اور ذہنوں میں بھرا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چند مہینوں سے بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے والے پنجابی اور دوسرے ہنرمندوںڈاکٹرز، پروفیسرز، انجینئرز حتیٰ کہ مستری، ویلڈر، درزی اور حجاموں کو جس تواتر سے گولیوں سے بھنا اور ذبح کیا گیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اور دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے اہل فکر یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ کچھ نادیدہ قوتیں پاکستان اور بلوچستان کی سالمیت کو توڑنے اور ایک نیا سقوطِ ڈھاکہ پلان کر چکی ہیں۔گذشتہ روز نواب اکبربگٹی کے پوتے شاہ زین بگٹی کے گاڑیوں کے قافلے کو جب پیراملٹری فورسز نے روکا تو تلاشی کے دوران سکیورٹی فورسز نے شاہ زین بگٹی کے قافلے کی جیپوں سے بڑی تعداد میں جنگی اسلحہ برآمد کیا اور اسی دوران شاہ زین بگٹی کے موبائل سے امریکن ایمبیسی کو کی جانے والی ٹیلی فون کال نے اس ’’سمت‘‘ کی نشاندہی کر دی ہے جس کے لیے اس ملک کے اہل فکر کافی عرصہ سے پریشان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ سارا جال ایک نیا ’’سقوط‘‘سقوطِ بلوچستان کے لیے بچھایا جا رہا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus