×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھٹو مجید نظامی کی نظر میں
Dated: 05-Jan-2011
’’صدیوں کا بیٹا‘‘، ’’دی گریٹ تھری‘‘، اور ’’ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی‘‘ یہ تصانیف میری طرف سے شہید بھٹو کے لیے خراج تحسین تھا اس عظیم قائد کے لیے جو اپنی قوم کے لیے فکرمند تھا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے راستے عالمی سیاست کے لیے کھولے۔ شہید بھٹو کے عروج اور اقتدار کے زوال کے زمانے میں ہم ہائی سکول کے طالب علم تھے اور بس چند ایک بار قائدعوام کو دیکھنے اور ایک بار ہاتھ ملانے کا شرف حاصل ہوا۔یہی وجہ ہے کہ بعدازاں اپنی زندگی اور مقصدحیات شہید کی عظیم بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ایک کمٹمنٹ کے ذریعے وابستہ کر دی۔ سیاسی و ذہنی وابستگی کا یہ دور ایک سے دوسری نسل تک منتقل ہو چکا ہے۔ قائد عوام کے بعد ان کی بیٹی سے سیاسی تربیت لینے کا مجھے شرف حاصل ہے اور میری بیٹی ماہ نور وڑائچ جو ابھی اے لیول کی سٹوڈنٹ ہے پیپلزپارٹی کی جیالی بن چکی ہے۔ماہ نور جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے دلچسپ سوال کرتی تو شہید بی بی کہتی یہ بچی ضرور سیاست میں نام پیدا کرے گی۔ خود میں نے اوائل 80ء میں جب پہلی جلاوطنی اختیار کی تو شہید بھٹو کی تصانیف اور لٹریچر جو ان پر لکھا گیا مجھے دوران جلاوطنی پڑھنے کو ملا۔ یہی وجہ ہے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد جب میں نے اپنا پہلا کالم نوائے وقت کے لیے لکھا اور وہ شائع ہو گیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ایک ایسے موقر روزنامہ میں جس کو پیپلز پارٹی مخالف میڈیا گروپ تصور کیا جاتا تھا۔محترمہ کی شدید خواہش تھی کہ کوئی ان کے اور پیپلز پارٹی کے لیے نوائے وقت میں لکھے۔نوائے وقت میں پچھلے تین سال سے میرے کالم بڑی باقاعدگی،تواتر اور ’’سنسر‘‘کے بغیر شائع ہو رہے ہیں جس سے میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کسی وقت میں مرد صحافت نظریہ پاکستان کے سالاراعلیٰ جناب مجید نظامی صاحب سے درخواست کروں گا کہ وہ یہ بتائیں کہ شہید قائدعوام کے متعلق ان کے نظریات اور زاویہ نظر کیا ہے؟جناب مجید نظامی صاحب نے تاریخ کے جھروکوں سے کچھ واقعات نکال کر مجھے سنائے۔ شہید بھٹو کی پیدائش اور میری پیدائش کا ایک ہی سال ہے اور بھٹو سے میری پہلی ملاقات لندن میںہوئی جہاں وہ زیر تعلیم تھے اور میں اس وقت نوائے وقت برطانیہ سے منسلک تھا۔ پھر جب شہید بھٹو نے ایوب خان کابینہ میں شمولیت اختیار کی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارتِ ملی تو بھٹو ایوب کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر تھے۔ پھر شہید بھٹو ایوب کابینہ کے وزیرخارجہ بنے۔ اس دوران ہماری ملاقاتیں تواتر سے ہوتی رہیں۔ پھر 65ء کی جنگ کے بعد جب تاشقند کا معاہدہ ہوا تو شہید بھٹو نے اختلافات کی بناء پر ایوب کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تو میری شہید بھٹو سے ملاقات ہوئی تو اس دوران ایبڈو کا قانون بھی لایا جا چکا تھا۔ سیاست دانوں پر پابندیوں کی وجہ سے معروف سیاست دان زیر عتاب تھے۔ میں نے شہید بھٹو سے کہا کہ سیاست میں ان کی گنجائش ہے جس پر بھٹو نے مجھ سے سوال کیا کہ اس مشکل حالات میں کون میرا ساتھ دے گا؟ جس پر میں نے آفر کی کہ نوائے وقت کے صفحات آ پ کے لیے حاضر ہیں جس سے بھٹو کے ارادئہ سیاست کو تقویت ملی اور پھر میں نے یوم حمید نظامی پر بھٹو کو دعوت دی۔ پھر مال روڈ لاہور پر وائی ایم سی اے ہال پر تقریب منعقد ہوئی۔ ایک بھرپور تقریب تھی ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا یہاں سے شہید بھٹو نے لاہور میں پہلی بھرپور سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس دوران ڈاکٹر مبشر حسن کے بڑے بھائی ڈاکٹر شبر جو کہ میرے بڑے بھائی حمید نظامی مرحوم کے قریبی دوست تھے، مجھ سے خواہش کی کہ میں بھٹو کے نام ’’رقعہ‘‘ دوں تاکہ شہید بھٹو سے مل کر جدوجہد کر سکوں جس پر میں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو بھٹو کے نام سفارشی خط دیا۔یہی وجہ تھی کہ جلسہ کے بعد بھٹو کو ڈاکٹر مبشر حسن نے وائی ایم سی اے ہال سے ہوٹل تک پہنچایا اور پھر ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر ہی پیپلز پارٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر مبشر حسن پارٹی کے جنرل سیکرٹری چنے گئے جو بعدازاں پیپلزپارٹی کی حکومت کے پہلے وزیر خزانہ بھی بنائے گئے۔ مجید نظامی صاحب نے بتایا کہ71ء کی جنگ کے بعد جب پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو نوائے وقت کے اشتہارات پر پابندی بھی لگائی گئی مگر بھٹو سے میری ذاتی دوستی میں کبھی یہ فرق دوریاں پیدا نہ کر سکا۔مجید نظامی صاحب نے بتایا جب پارٹی نے اپنا منشور پیش کیا تھا تو اس دوران بھٹو ایوب حکومت کی طرف سے لگائے گئے الزامات اور مقدمات کی وجہ سے پابندِ سلاسل تھے۔ اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔میں نے بھٹو سے پوچھا کہ آپ اپنے منشور کے ذریعے پاکستان کو روس کی جھولی میں ڈال رہے ہو جس پر شہید بھٹو نے مجھے کہا یہ سب شرارت زیڈ اے سلہری کی ہے جو فرانس میں سفیر تھے۔ مجید نظامی صاحب نے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے علاوہ تین لیڈروں کا میں بہت احترام کرتا ہوں وزیراعظم چوہدری محمد علی، جونیجو صاحب اور شہید بھٹو۔ نظامی صاحب نے کہا کہ لاہور میں اقتدار سے پہلے ہیکو ریسٹورنٹ (شاہ دین بلڈنگ جہاں آجکل بینک الفلاح ہے)میں شہید بھٹو کے ساتھ میری بہت سی طے شدہ ملاقاتیں ہوئیں جن میں ہم نے ملکی معاملات پر اظہار خیال کیا۔ قارئین محترم مجید نظامی صاحب نے جب مجھے یہ بتایا کہ شہید بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی مہم کے دوران مجھے کراچی بلایا اور یہ ٹاسک دیا کہ مولانا مودودی کو مل کر ملاقات کا وقت لوں تو میں نے مولانا صاحب سے ملاقات کی اور پھر بھٹو کو کراچی جا کر مولانا صاحب کا پیغام پہنچایا۔ جس پر شہید بھٹو لاہور تشریف لائے اور اچھرہ میں یہ ملاقات ہوئی۔ اس طرح قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مشن اپنے مثبت انجام تک پہنچا۔مجید نظامی صاحب نے بتایا کہ مولانا مودودی مرحوم اور میں آج بھی اس بات پر یقین کامل رکھتے ہیں کہ قادیانیوں کے غیرمسلم قرار دیئے جانے کے عمل کی وجہ سے بھٹو کو جنت میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتااور بھٹو نے یہ کارنامہ انجام دے کر اپنے باقی تمام گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔’’نوائے وقت‘‘ کے قارئین کے لیے یہاں پر بھٹو کی تاریخ پیدائش سے لے کر ان کی شہادت تک کے واقعات کو مختصرپیش کیا جا رہا ہے تاکہ قارئین ’’نوائے وقت ‘‘شہید بھٹو پرخود ایک تقابلی جائزہ لے سکیں۔= 5 جنوری 1928ء پیدائش۔ = 1950ء قائد عوام نے کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پولٹیکل سائنس میں اعزاز کے ساتھ گریجویشن کی۔ = 1952ء قائد عوام نے کریسنٹ چرچ آکسفورڈ سے اصول قانون میں ایم۔ اے کیا اور بعد ازاں سائوتھمپٹن میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ = 15 جون 1953ء قائد عوام نے مسلم لاء کالج کراچی میں نوجوانوں کو لاء پڑھانا شروع کیا۔ = 15جون 1957ء قائد عوام نے اقوام متحدہ کے بارہویں اجلاس میںپاکستان کی نمائندگی کی۔=فروری 1958ء قائد عوام نے جنیوا میں بحری قانون سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میںپاکستانی وفد کی قیادت کی۔= اکتوبر 1958ء قائد عوام وزیر تجارت بنے۔=جنوری 1960ء قائد عوام کو اقلیتی امور اور اطلاعات کے مزید محکمے دیئے گئے۔= اپریل 1960ء قائد عوام نے ایندھن بجلی و قدرتی وسائل اور امور کشمیر کے محکمے بھی سنبھالے۔=ستمبر 1960ء قائد عوام نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔=دسمبر 1960ء قائد عوام نے سوویت یونین کے ساتھ تیل کا معاہدہ کیا۔=مارچ 1962ء قائد عوام دوبارہ وزیر منتخب ہوئے۔=دسمبر 1962ء قائد عوام مسئلہ کشمیر کے متعلق پاک بھارت مذاکرات کے لئے پاکستان کے مندوب مقرر ہوئے۔=جنوری 1963ء صنعت قدرتی وسائل اور وزیر خارجہ کا قلمدان سنبھالا۔=26 مارچ 1963ء قائد عوام نے چین پاک سرحدی معاہدہ طے کیا۔= 24 جولائی 1963ء قائد عوام نے پاک ایران سرحدی معاہدہ کیلئے قومی اسمبلی سے خطاب کیا۔=یکم ستمبر 1963ء قائد عوام نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔= 27 جون 1964ء قائد عوام کو ہلال پاکستان کا اعزاز دیا گیا۔= 27 جون 1964ء قائد عوام نے دولت مشترکہ کی وزراء کانفرنس میں شرکت کی۔= 31 جولائی 1964ء قائد عوام نے میثاق استنبول کا اعلان کیا۔=اکتوبر 1964ء قائد عوام کو ایران کی طرف سے نشان ہمایوں دیا گیا۔= 20 اپریل 1965ء قائد عوام کو انڈونیشیا کا اعزاز آرڈر آف دی ریپبلک دیا گیا۔= 22 ستمبر 1965ء قائد عوام کے جنگ کے دوران اور بعد میںسلامتی کونسل سے تاریخی خطاب کیا۔= 10 جنوری 1966ء قائد عوام نے معاہدہ تاشقند سے اختلاف کا اعلان کیا۔= 10 جون 1966ء قائد عوام نے ایوب کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔=قائد عوام کو ارجنٹائن کا سب سے بڑا شہری اعزاز دیا گیا۔= 30 نومبر 1967ء قائد عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کا تاسیسی اجلاس انعقاد کیا۔= 19 جنوری 1968ء قائد عوام پر قاتلانہ حملہ ہوا۔= 13 نومبر 1968ء قائد عوام کو ڈی پی آر کے تحت گرفتار کر لیا۔= 14 فروری 1969ء قائد عوام کو لاڑکانہ سے رہا کر دیا گیا۔= 28 نومبر 1969ء قائد عوام پر صادق آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا۔= 31 مارچ 1970ء قائد عوام پر سانگھڑ میںپھر قاتلانہ حملہ ہوا۔= 7 دسمبر 1970ء قائد عوام نے عام انتخاب میں پانچ حلقوں سے کامیابی حاصل کی۔= 19 مارچ 1972ء قائد عوام نے بیمہ زندگی قومی تحویل میں لے لیا۔= 24 مارچ 1972ء قائد عوام نے صحت پالیسی نافذ کی۔= 12 تا 17 اپریل 1972ء قائد عوام نے زرعی قانونی اور پولیس اصلاحات نافذ کیں۔= 17 اپریل 1972ء قائد عوام نے عبوری آئین کی منظوری دی۔=اپریل 1972ء قائد عوام نے ملک سے مارشل لاء اٹھا لیا۔= 2 جون 1972ء قائد عوام نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔= 2 جولائی 1972ء قائد عوام نے شملہ معاہدہ کیا۔= 20 نومبر قائد عوام نے پہلے ایٹمی ری ایکڑ کا افتتاح کیا۔= 22 دسمبر 1972ء قائد عوام نے پاکستان مقبوضہ علاقے بھارت سے واگزار کرائے۔= 12 تا 26 جولائی 1973ء قائد عوام نے اٹلی، جنیوا، برطانیہ اور فرانس کا دورہ کیا۔= 14 اگست 1973ء قائد عوام نے نیا آئین نافذ کیا اور منتخب وزیراعظم بنے۔= 20 اگست 1973ء قائد عوام نے انتظامی اصلاحات نافذکیں۔= 28 اگست 1973ء قائد عوام نے بھارت سے جنگی قیدیوں کی واپسی کا معاہدہ کیا۔=ستمبر 1973ء گھی ملیں قومی تحویل میں لے لیں۔= 15تا 26 ستمبر 1973ء قائد عوام نے امریکہ اور دیگر ممالک کا دورہ کیا۔=یکم جنوری 1974ء قائد عوام نے بنک قومی تحویل میں لے لئے۔= 2 جنوری 1974ء قائد عوام نے بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔= 22 فروری 1974ء قائد عوام کو اسلامی سربراہی کانفرنس کا چیئرمین بنایا گیا اور کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔= 11 مئی 1974ء قائد عوام نے چین کا دورہ کیا۔= 7 ستمبر 1974ء قائد عوام نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا۔= 23 فروری 1974ء قائد عوام نے امریکہ اسلحہ کی ترسیل پر سے پابندی اٹھالی۔= 28 فروری 1975ء قائد عوام نے اندرا عبداللہ گٹھ جوڑ پر تاریخی ہڑتال کرائی۔= 16 اگست 1975ء قائد عوام نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو تسلیم کیا۔= اکتوبر 1975ء قائد عوام نے ایران، فرانس اور رومانیہ کا دورہ کیا۔= 23 اکتوبر 1975ء قائد عوام کی بدولت پاکستان سلامتی کونسل کا رکن بنا۔= 10 نومبر 1975ء قائد عوام نے چھوٹے کاشتکاروں کا مالیہ معاف کر دیا۔= دسمبر 1975ء قائد عوام نے سری لنکا کا دورہ کیا۔= 10 فروری 1976ء آئمہ مسجد نبوی و مکہ مکرمہ کو پاکستان کے دورے پر بلا کر عوام سے ملاقات کا شرف بخشا۔= 26 فروری 1976ء قائد عوام نے بین الاقوامی انرجی کمیشن سے فرانس سے پلانٹ حاصل کرنے کی اجازت لی۔= 8 اپریل 1976ء قائد عوام نے سرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کیا۔= 25 اکتوبر 1976ء قائد عوام کو تیسری دنیا کے 77 ممالک نے ان کی فراست کا یہ تحفہ دیا کہ پاکستان تیسری دنیا کا چیئرمین بنا۔= مارچ 1976ء قائد عوام نے فرانس سے نیوکلیئر ری پراسسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے معاہدہ پر دستخط کئے۔= 7 مارچ 1977ء قائد عوام کے اعلان کے مطابق عام انتخابات کرائے اور پی پی پی کو ملک بھر میں کامیابی ہوئی قومی اتحاد نے نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ = 28 اپریل 1977ء قائد عوام نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔= 3 جون 1977ء قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور۔= 18 جون 1977ء قائد عوام کا دورہ سعودی عرب، لیبیا، کویت، متحدہ عرب امارات، ایران اور افغانستان۔= 2 جولائی 1977ء قائد عوام کی ٹیم اور قومی اتحاد میں سمجھوتہ طے پا گیا۔= 5 جولائی 1977ء قائد عوام کی حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا۔= اگست 1977ء قائد عوام کو پہلی بار گرفتار کر لیا گیا۔= 16 ستمبر 1977ء قائد عوام کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ لیکن جلد ہی ایک نہ کردہ قتل کے جرم میں دوبارہ گرفتار کر لئے گئے۔= 20 دسمبر 1978ء قائد عوام نے سپریم کورٹ میں تاریخی بیان دیا۔= 3 اپریل 1979ء قائد عوام سے محترمہ بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو سے آخری ملاقات۔= 4 اپریل 1979ء قائد عوام شہیدذوالفقار علی بھٹو کو لاڑکانہ گڑھی خدا بخش میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ انسان کبھی نہیں مرتا پھر وہ شخص جو کسی آدرش یا نظریہ کی خاطر جیا ہو اسے مارنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔سقراط نے سچائی کی خاطر زہر کا جام پیا اور وہ امر ہو گیا۔مسیح نے سچ کی خاطر صلیب کو قبول کیا اور وہ مصلوب ہو کر لازوال ہو گیا۔حضرت امام حسین نے ایک جابر حکمران کے آگے گردن نہ جھکائی اور کربلا میں شہادت کو گلے سے لگایا اور ’’دین پناہ‘‘ بن گیا۔منصور بن حلاج نے سنگسار ہونا قبول کیا اور جھوٹ کی خاطر زندگی قبول نہیں کی۔قراۃالعین طاہرہ کو حق بات کہنے پر اندھے کنویں میں لٹکا دیا گیا۔لوممبا نے موت سے لپٹ کر ابدی شہرت حاصل کرلی۔جیوس فیوچک نے بھی پھانسی کے پھندے کو چوما۔حسن ناصر نے عوام کی خاطر اپنے گھر اور والدہ سے دور اپنی جان دے دی۔بھٹو کو جنرل ضیاء نے اپنی طرف سے تو قبر میں ڈال دیا لیکن وہ نچلے طبقے کے لوگوں کے ذہنوں اور کتابوں میں آج بھی زندہ ہے۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سچائی کو سینے سے لگائے رکھنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ بھٹو نے تو واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ:’’میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے فوج کے ہاتھوں مرنے کو ترجیح دوں گا۔ اور یہی ہوا وہ جسمانی طور پر تو مر گیا لیکن تاریخ میں آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘سچائی کا قافلہ صدیوں سے رواں دواں ہے۔ سچ بولنے والے ہر صدی میں سچ بولنے کی پاورش میں تختہ دار پر کھینچے جاتے رہے ہیں لیکن سچائی کی ہمیشہ ہی جیت رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ ؎ سچ کو آنچ نہیں ہے لیکن سچ کہنے والوں نے آخر یا تو زہر کا گھونٹ پیا یا جلتے انگارے کھائے بھٹو نے اس نے وقت کے جرنیلوں سے کہہ دیا تھا کہ تم نے کبھی کسی بہادر شخص کو مرتے ہوئے نہیں دیکھا میں پھانسی کے پھندے کو چوم کر موت کو گلے سے لگا لوں گا۔ بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں،گور پیا کوئی ہور
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus