×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا صدر مملکت کے گرد جال بُنا جا رہا ہے؟
Dated: 08-Jan-2011
دورانِ اسیری اڈیالہ جیل میں آصف بھائی کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے جب مجھے اطلاع ملی کہ میری ضمانت منسوخ کر دی گئی ہے تو مجھے بہت دُکھ ہوا یہ جیل کچہریوں کے لفڑے میرے لیے نئے تھے۔ مجھے حیران و پریشان دیکھ کر جناب آصف علی زرداری میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے وڑائچ آپ پریشان ہو گئے ہو بس اتنی سی بات پر۔ آپ میرے لیے جیل آئے ہو اور میری طرح اب اس کو بہادری سے کاٹنا بھی سیکھو۔ مجھے آصف صاحب نے کہا کہ تم میرے چھوٹابھائی ہو اپنے دل سے سپریم کورٹ سے پہلے ریلف ملنے کی خواہش کو فریز کر دو۔ جیل میں آصف صاحب سے ملنے والا حوصلہ اور نصیحتیں میرے لیے آئندہ زندگی میں ایک اکیڈمی کی حیثیت ثابت ہوئیں۔ شہید محترمہ کی شہادت کے بعد جب سے آصف بھائی صدر مملکت بنے ہیں ہماری ان سے ملاقاتیں بھی کم ہوتے ہوتے مہینوں پر محیط ہو گئی ہیں کہ ان کے گرد اب جو احباب ہیں انہوں نے ان کو پارٹی کے ایک بڑے مخلص طبقے سے نہ صرف دور کر دیا ہے بلکہ یہ نالاں طبقہ فکر مند بھی ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ کچھ روز قبل ایک بڑی کمپنی نے سپریم کورٹ کے حکم پر چرائے گئے دو ارب روپے قومی خزانے میں واپس جمع کروائے ہیں اسی طرح کچھ روز قبل ڈیفنس لاہور میں اراضی سکینڈل منظر عام پر آیا جس میں ایک محکمے اور ایک ایگزیکٹو منسٹر کے بیٹوں نے اربوں روپے کمیشن وصول کی اور حکومت اور پارٹی کے لیے بدنامی کا باعث بنے۔ اسی طرح خوراک اور صحت کے محکموں کے موجودہ اور سابقہ وزیروں نے جو اُدھم مچایا ہے اس کی کہانیاں زبانِ زدِ عام ہیں۔ گذشتہ روز ایک محکمے کے ایم ڈی نے گرفتاری پیش کی اور اربوں روپے واپس کیے مگر موصوف وہ رقم ابھی تک سرکاری خزانے میں جمع کروانے سے قاصر ہیں جو وہ محکمے کے سربراہوں اور وزیر موصوف کو کمیشن کی صورت پیش کر چکے ہیں۔ اسی طرح کے درجنوں انکشافات اخبارات اور میڈیا کے ذریعے افشاء ہو چکے ہیں۔ بریف کیسوں کا سکینڈل بھی اپنی پوری چمک کے ساتھ ہر شخص کی زبان پر ہے شاید ہی کوئی ایسا محکمہ ہو جس میں کرپشن کی مثال نہ ڈھونڈی جا سکتی ہو حتیٰ کہ حج اور اوقاف ایک ایسے محکمہ تھا جہاں ہم سمجھتے تھے کہ یہاں وہ وزیر لگایا جاتا ہے جو نہ صرف ایمان دار ہو بلکہ اسلامی عقائد پر مکمل یقین رکھتا ہو۔مگر یہاں بھی حالات الٹ نکلے لیکن آصف زرداری سے تمام تر اختلافات کے باوجود بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں صدر مملکت کے متعلق کرپشن کے حوالے سے کوئی الزام نہ لگایا جا سکا۔ جب ان حالات و واقعات کا ہنوز جائزہ لیں اور ان پر تقابلی نظر ڈالیں تو یہ با ت روزروشن کی طرح عیاں اور واضح ہو جاتی ہے کہ ایک مخصوص گروپ ان سرگرمیوں میں ملوث ضرور ہے اور وہ دونوں ہاتھوں سے پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی لیڈرشپ کے لیے مشکلات کے جال بُن رہا ہے۔ کرپشن کی یہ مکڑیاں اپنے جال کچھ اس غیرمخصوص اور مخصوص طریقے سے بُن رہی ہیں اور اپنی نجی محفلوں میں یہ کہتے ہوئے سنے جا رہے ہیں کہ اب پیپلزپارٹی کو اگلے 12سال موقع نہیں ملنے والا۔ یہ سوچنے والا طبقہ چونکہ اپنی کرتوں سے خود واقف ہے اس لیے آئندہ درپیش حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے انہیں کوئی سروے کروانے کی ضرورت نہیں۔ انسان کا ضمیر زندہ ہو یا مردہ مگر وہ یہ حقیقت جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک 44سالوں میں بھٹو خاندان نے ہر عشرے میں ایک عظیم خون کی قربانی دے کر اس پیپلزپارٹی کو تو ایک مذہب،مسلک کی صورت دے دی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مفاد پرست ٹولے کی للچائی نظریں ہمیشہ پیپلزپارٹی کے اقتدار میں آنے کا انتظار کرتی ہیں اور جس طرح بارش کے بعد کھمبیاں جا بجا نکل آتی ہیں اسی طرح اقتدار میں آنے کے بعد یہ کرپشن کے مینڈک بھی پیپلزپارٹی کے اندر کھس آتے ہیں۔ قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت اور پھر میر شاہ نواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادتوں کے زخم ابھی تازہ تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو جو کہ انتہائی نرم و رحم دل خاتون تھیں کو شہید کر دیا گیا۔ اس شہداء کے خاندان پر ایک روپے کا کرپشن کا نہ کبھی الزام لگا نہ ثابت ہوا مگر ہر بار ان کی حکومتوں کو کرپشن کی بنیاد پر توڑا گیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کے احباب و اصحاب کہیں نہ کہیں اس ’’گورکھ دھندے ‘‘میں ملوث ضرور ہیں جو نہ صرف پارٹی بلکہ اپنی عظیم قیادت کے لیے ’’ناموشی‘‘ کا باعث بنتے رہے ہیں۔ اکثر دوران سفر شہید محترمہ میرے ساتھ ان احباب کی بے وفائیوں کا ذکر کرتے رو پڑتی تھیں اور وہ خود کو بہت مجبور محسوس کرتی تھیں کہ ان کرپشن زدہ سیاسی جونکوں سے عوام کی اور اپنی جان کیسے محفوظ چھڑائیں۔ آصف زرداری صاحب جب صد رمملکت بنے تو کم از کم مجھے یہ احساس پختہ ہو گیا ہے کہ اب ان ضمیر فروشوں سے پارٹی کی جان چھوٹ جائے گی اور ان برساتی مینڈکوں سے شاید ہماری شہید بی بی کے ازم کو بچایا جا سکے گا۔ آصف زرداری نام ہے جرأت کا، ہمت کا، عزم کا،یاروں کے یار کا، مگر بدشومئی قسمت آصف زرداری صاحب کے گرد ان موقع پرستوں نے اپنی ہوس کا وہ جال بُنا کہ میرے جیسے کارکن اور متفکر جیالے اپنی ہمت اور امید کھوتے نظر آتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان کا خون چوسنے اور بیچنے والے یہ سیاسی مداری ایک دفعہ پھر پارٹی لیڈرشپ کو یرغمال بنا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف رواں دواں ہیں۔ میرے پاس فیڈرل کونسل کے کچھ دوست آئے ہوئے تھے اور بحث چل رہی تھی کہ کیا لیڈرشپ کو اس کا ادراک نہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟کیا لیڈر شپ اپنے اطراف بُنے جانے والے جال سے بے خبر ہے۔انہیں جو بتایا جاتا ہے انہیں جو دکھایا جاتا ہے وہ اک سیراب ہے۔ فیڈرل کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ شاید صدرمملکت آصف علی زرداری اس سازش کو جان اور پہچان چکے ہیں مگر وہ حالات سے بے بس ہیں وہ شہید بی بی کے ساتھیوں اور جانثاروں اور اپنے دوستوں اور بھائیوں کو اپنے سے دور اس لیے رکھ رہے ہیں کہ اقتدار کی ٹوکری میں پڑے ان گندے سیاسی انڈوں سے ان دوستوں کو بچایا جا سکے کہ یہ صاف اور کلین لوگ کل مستقبل میں پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری کا ہراول دستہ بنیں اور بلاول بھٹو زرداری جب پارٹی کی چیئرمین شپ عملی طور پر ہاتھ میں لیں تو ان کے ساتھ یہ آزمائے ہوئے ترکش کے ’’کھنڈے تیر‘‘ ان کے ساتھ نہ ہوں یہ لوگ اپنی ضمیر کی غلاظت اور کرپشن میں اس قدر گندے ہو جائیں کہ مستقبل کی پیپلزپارٹی کی قیادت ان کے شر سے محفوظ رہ سکے۔ گورنر ہائوس کے ایک عشایئے میں صدر مملکت کے ساتھ ڈنر کی میز پر میں اور مبشر لقمان،افتخار احمد، امتیاز عالم، ڈاکٹر اجمل نیازی، منو بھائی، طاہر سرور میر بھی موجود تھے کہ بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے فرمایا کہ یہ دیکھو مطلوب وڑائچ کی طرف آج میں اس کی قربانیوں کی وجہ سے اس کرسی پر بیٹھا ہوں ہمارے خلاف مقدمات بنانے والوں نے اس کو بھی نہ بخشا اسے بھی میرے ساتھ جیل میں ڈال دیا لیکن اب ایسے نہیں ہوگا تو میں نے جواب دیا صدر صاحب میں اب بھی آپ اور پارٹی کے لیے جیل جانے کو تیار ہوں جس پر صدرمملکت نے کہا نہیں مطلوب اب ہم جیل نہیں جائیں گے۔ صدر مملکت کی اس پراعتمادگفتگو نے میرے اندر مزید لڑنے کی ہمت اور نئے جذبے پیدا کیے اور میں نے ٹھان لی کہ صدرمملکت آپ باہر کی جنگ لڑو میں پارٹی کے اندر غداروںاورموقع پرستوں کی نشاندہی کرتا رہوں گا جب تک میرا قلم زندہ ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus