×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا قوم معاشرتی تقسیم کی طرف گامزن ہے؟
Dated: 14-Jan-2011
پے در پے سانحات کے نتیجے اور سیاسی گو مگو کی کیفیت اور کرب میں مبتلا یہ اٹھارہ کروڑ عوام اب شدید ڈیپریشن کا شکار ہیں کسی کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی کہ اسے اب آگے کیا کرنا ہوگا تمام راستے اور گلیاں بند ملتی ہیں۔4اپریل1979ء کی صبح جب ذوالفقار علی بھٹو کو رات کی تاریکی میں شہید کر دیا گیا تو ملکی معاملات میں عوام کا ایک بڑا طبقہ پھر بہت سالوں تک ملک کی فوج کے ساتھ ناراض ہو کر عضوئے معطل کی طرح لاتعلق رہا۔ کوڑوں اور پھانسیوں نے جذبات کو مزید اشتعال دلایا اور بھٹو کا فلسفہ ایک مسلک کی صورت اختیار کر گیا۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ بھٹو عوام کے چہروں پر عیاں تھا مگر شہید بھٹو عوام کی رگوں میں سرایت کر گیا۔ ضیاء الحق کے آمرانہ دور حکومت میں آئین کا نہ صرف حلیہ بگاڑ دیا گیا بلکہ کہا گیا کہ یہ چند صفحات کو میں جب چاہوں پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتا ہوں۔ آئین کی اس طرح بے حرمتی کی گئی کہ آئینی شکل کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی۔ صدیوں سے اس خطے اور قوم کے مزاج کو یکسر طاقت کے زورپر تبدیل کر دیا گیا۔ ضیاء کے ساڑھے گیارہ سالوں پر محیط دور حکومت نے وطن کوپستی کی طرف دھکیل کر قوم کو بحرانوں کا تمغہ دے کر منظر سے تو غائب ہو گیا مگر ملک کو نظام مصطفی دینے کی بجائے ملاّئی نظام کے حوالے کر دیا گیا۔ قوم قبیلوں میں بٹ گئی،گروہوں میں تقسیم ہو گئی، خود میرے ہم عصر بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اس دوران ذات پات برادری ازم کو فروغ ملا۔ اس لشکر جس کو قوم بنانے تک کا سفر محمد بن قاسم کی آمد سے شروع ہوا تھا پھر سے جنگی اور وحشی قبائل کی طرز پر واپس موڑدیا گیا۔ ہزاروں صوفیوں اور سینکڑوں اولیائے اکرام کے سفر کے ثمرات کو یکسر گروہی اور فرقہ وارانہ دلدل میں پھنسا دیا گیا۔ ایک نوزائیدہ مملکت جو ابھی ترقی کا سفر شروع بھی بمشکل نہ کر پائی تھی وہ ریاست 72 فرقوں میں تقسیم ہوگئی اور پنجابی، پختون، سندھی، بلوچی،کشمیری کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی اور ابھی قومیت کے ارتقائی منازل پر تھی کہ اس عرصے کے دوران پھر نقطہ آغاز سے بھی پیچھے دھکیل دیا گیا ایک قوم ہونے کا احساس اور نظریہ پاکستان کے فلسفہ کے لیے یہ ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔ نظریہ پاکستان جس کے لیے حضرت علامہ اقبالؒ، حضرت قائداعظم اور جناب مجید نظامی صاحب جیسی شخصیات نے جوجدوجہد کی تھی اس کو بحرہ بنگال و عرب میں پھینکے کی سازش کی گئی مگر 1986ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی وطن واپسی سے اس بکھری ہوئی قوم کو نئی راہیں متعین کرنے کا حوصلہ اور موقع ملا۔ قوم کو ایک جھنڈے تلے اپنے سفر کو پھر سے شروع کرنے کا ایک موقع ہاتھ آیا جبکہ دوسری طرف اسٹیبشلمنٹ اور اس کی پروردہ طاقتوں نے اس عوامی سفر کو ہرگام پر پٹری سے اتارنے کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 86ء میں محترمہ کی آمد اور 85ء سے میاں نوازشریف کی پنجاب میں حکومت نے قوم کو ایک دفعہ پھر گروہوں سے نکالنے اور سیاسی دھارے میں داخل ہونے والے راستے کھولے۔ یہ راستے آگے چل کر مذہب و رجعت پسندی کے خلاف بریک تھرو ثابت ہوئے۔ جس کو اسٹیبلشمنٹ طاقتیں گوارہ نہ کرتی تھیں اور یہی وجہ تھی کہ 88ء سے99ء تک جمہوری قوتوں کو چار دفعہ ’’ڈی ریل‘‘ کیا گیا۔ قوم کو ایک ’’میل سٹون‘‘ کی طرف متوجہ ہونے دینے کی بجائے مختلف سمتوں کی طرف بھیجنے کا عمل جاری رہا اور پھر جب 99ء میں میاں نوازشریف کی دوتہائی اکثریت والی پارلیمنٹ کو کانچ کی طرح توڑا گیا تو محب وطن طاقتوں کو ادراک ہوا کہ ان کی آپس کی چھوٹی موٹی سیاسی چپقلشیں جمہوریت مخالف قوتوں کی مضبوطی کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب میاں نوازشریف نے مل کر نواب زادہ نصراللہ مرحوم کے معیت میں ان دیدہ و نادیدہ قوتوں کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دیا جس کا نام اے آر ڈی رکھا گیا اور اس تحریک کے اثرات وثمرات سے 2007ء کے وہ ایام آئے کہ آمر وقت کو نہ چاہتے ہوئے بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو، میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کی وطن واپسی کی کڑوی گولی نگلنی پڑی۔مگر اس دوران رونما ہونے والے سانحہ 9/11 نے قوم کو پھر ایک ایسی تقسیم کی طرف دھکیل دیا جب آمر مشرف نے امریکی قیادت کے ساتھ عوام کی امنگوں کے برعکس قوم کو لائن کی دوسری طرف کھڑا کر دیا۔ جس سے مذہبی انتہا پسندی عسکریت پسندی میں تبدیل ہو گئی ملک بھر میں موجود تعلیمی تقسیم اور معاشرتی ناہمواری کی وجہ سے قائم کیے گئے مدرسوں نے نرسری کا کام سرانجام دیا اور یوں قوم ایک دفعہ پھر مذہبی و جمہوری پاٹوں کے درمیان بٹ گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس شدید ردعمل کی وجہ سے 32ہزار سویلین اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق و شہید ہوئے یہ وہ تعداد ہے جو پاکستان کی بھارت کے ساتھ ہونے والی پانچ اعلانیہ جنگوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔ دوسری طرف مغرب کے منافقانہ رویہ نے جلتی پر تیل کا ہمیشہ کام کیا۔ آئے دنوں پاکستان اور پاکستانی نژاد شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی آج حالات یہ ہیں کہ دنیا کے کسی بھی ایئرپورٹ پر سبزپاسپورٹ اور گندمی رنگت رکھنے والی اس قوم کو شجر ممنوعہ بنا دیا گیا ہے خود ہمیں بین الاقوامی ایئرپورٹس پر جو خفت اور شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے اس کی تفاصیل بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں گے۔ مغرب کے اس طرزعمل اور دوغلی پالیسی ہی کی وجہ ہے کہ ایک طرف ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت میں مجرم بنا کر رسوا کیا جاتا ہے۔ ڈنمارک،ہالینڈ،بلجیم میں ناموس رسالت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ برٹش وزیراعظم قوم کی تذلیل کرتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے مینار بنانے پر مسلمانوں کو رسوا کیا جاتا ہے۔امریکہ سمیت یورپ بھر میں پاکستانی تارکین وطن کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے تو یورپ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو سانپ سونگھ جاتا ہے اور پاکستان میں موجود انسانی حقوق کے علمبردار بھی اپنے آقائوں کی چاپلوسی کے لیے اپنے لبوں کو تالے لگا لیتے ہیں۔ مسیحی خاتون آسیہ کا کیس ہو تو یورپ کی طرف سے ملکی سطح پر پیغام یا آرڈر دیئے جاتے ہیں جب عافیہ صدیقی کی بات ہو تو اس کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے جوڑ کر منافقت کی انتہائی سطح کو چھوا جاتا ہے۔ کیا عافیہ صدیقی کو جب سزا سنائی گئی تو پوپ بینڈکٹ نے رحم کی اپیل امریکہ سے کی؟ کیا کسی غیراسلامی انسانی حقوق کے ونگ نے انسانیت کی اس تذلیل پر احتجاج ریکارڈ کروایا؟ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام اس دوہری و دوغلی منافقانہ پالیسی پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور پھر ان کے ردعمل کو یورپ میں پاکستان کے عوام کی مذہبی انتہا پسندی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ مگر یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل ضیاء کے دور میں وجود میں آنے والی 295-Cشق میں اگر کوئی سقم موجود ہے تو اس کو باہمی مشاورت اور مذہبی و سیاسی قیادتیں مل بیٹھ کر رضامندی اور مفاہمت سے دور کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے سیاسی، مذہبی، مسلم اور عیسائی قیادتوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ 295-Cکو پاکستان بھر میں موجود بیشتر عیسائی این جی اوز جو گلی محلے میں قائم ہیں کسی ایسے واقعے کی تلاش میں رہتے ہیں اور جب ایسی حرکت سرزد ہو جائے تو متاثرہ مسیحی خاندان کو باقاعدہ ایڈوانس رقم دے کر خرید لیا جاتا ہے اور اس کیس سے لاکھوں ڈالر کمانے کا مشن شروع کر دیا جاتا ہے۔ تمام انبیاء اکرام کا احترام مسلمانوں، عیسائیوں، ہندوئوں، سکھوں،یہودیوں پر واجب ہے جس سے کسی بھی ذی ہوش پاکستانی کا انحراف ممکن نہیں۔گورنر سلمان تاثیر کے شہید ہونے کے واقعے نے ہماری قوم کو پھر ایک دفعہ معاشرتی تقسیم کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام مستقل بنیادوں پر کی جائے اور ایسے قوانین یا ایسے محرکات جو انسانی جذبات کو مشتعل کرتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے مسائل کھڑے کرتے ہیں ان کو جدید خطوط پر استوار کرکے مذہبی و سیاسی،دینی جماعتوں کی ایک گول میز کانفرنس بلائی جائے اور مفاہمت کی راہ اپنا کر قوم کو ایک منزل کی نشاندہی کی جائے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ’’مشرق اور مغرب کا ملاپ‘‘جس کو ایف سی کالج نے اپنے سلیبس میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔مسلمان، عیسائی، ہندو، سکھ پارسی سبھی اس ملک کے گلدستے میں مختلف رنگ اور خوشبورکھنے والے پھول ہیں جو ہماری ناسمجھی سے معاشرتی تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں اور یہ سب کچھ قوموں کی زندگی کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus