×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عوامی کِک بیکس
Dated: 21-Jan-2011
Dear Warraich Sb. Dind't PP have any fair man to appoint governer instead of an infamously convicted Sardar Sahib? shall we always keep working like this? You resign immediately for youself from your public office in event of being charged of as shameful act as corruption against you if you are really honest and if you have any iota of respect left atleast for your very own self. In this respect, all the political 'Jayalay'n 'Matwalay' who adopt the way of opposition for they never have hearing. We pray that shreef brothers n the governer get along well n that they go for fair politics affording pakistan a better future. And i really enjoyed reading ur column which u mentioned a sacrifice of a 'Lucka Kbootr' your columns are favourite of educated youth of pakistan may Allah help you. From Dr. Abdullah Akbar Khan. Gujranwala گوجرانوالہ سے ڈاکٹر عبداللہ اکبر خان صاحب کا یہ ایس ایم ایس میسج مجھے موصول ہوا تو میں یہ سوچ رہا ہوں فنکار، تخلیق کار، شاعر، ادیب یہ سب وہ لوگ ہیں جو اپنے خیالوں،لفظوں میں جب حقیقت کے رنگ بھر کے پیش کرتے ہیں تو اس میں چھپی لیکن چہرے سے عیاں یہ خواہش کہیں موجود ہوتی ہے کہ کتنی تالیاں کتنی دادِ تحسین اسے اس کے فن پارہ کوملتی ہے اور یقینا ہر فنکار داد طلب نظروں سے اپنے چاہنے والوں کی طرف دیکھتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور بعد میں پیش آنے والے حوادث زمانہ نے جب مجھے سیاست کے میدان کے ساتھ ساتھ کچھ کرنے، کچھ لکھنے کا جذبہ عطا کیا تو میری اس کاوش کو مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب نے جلا بخشی اور عزم اور حوصلہ کی تعلیم دی۔ میں نے عزم اور حوصلہ کی جنگ میں اعتماد سے قدم رکھا۔ میں نے جب لکھنا شروع کیا تو میرے اندر ایک لکھاری کے علاوہ جیالاپن بھی تھا جو اکثر میری تحریر پر غالب ہونے لگتا اور مجھے یہ بات کہتے ہوئے عجب نہیں لگ رہا کہ میری تحریروں نے میرے اندر کے جیالے پن کو اور بھی ’’پالش ‘‘ کیا۔ میں دوستوں اور قارئین نوائے وقت کا مشکور ہوں جو وقتاً فوقتاً میری راہنمائی کرکے میرے کبھی کبھی تھک جانے والے عزم کو حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ اسلام آباد سے چند روز پیشتر محترمہ شاہدہ سید کا پیغام کچھ اس طرح تھا۔ مطلوب بھائی آپ کے کالموں سے ایک بات بالکل واضح ہے کہ آپ دائیں اور بائیں بازو کے چکر میں نہیں پڑے۔ آپ کی تحریریں نوائے وقت کے قارئین کے دل میں اترتی ہیں آپ لکھتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آپ ایک سیاسی جماعت کے مرکزی راہنما ہیں۔ لاہور سے تحسین دواخانہ کے رانا تحسین احمد خاں نے مجھے لکھا ہے کہ کبھی کبھی ڈر لگتا ہے کہ آپ کی تحریروں کی پاداش میں آپ کی اپنی پارٹی آپ کے راستے کی دیوار نہ بن جائے مگر جب اگلے کالم میں پھر آپ کی تحریر کے الفاظ ترش و شیریں مرکب بن کر پڑھنے کو ملتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ آج کے اس دور میں اقتدار سے چمٹنے اور ایوان صدر و وزیراعظم ہائوس کے چکر لگانے کے بجائے آپ پیپلزپارٹی کے جیالوں کی آواز بن کر اس مشن کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں جس کی خاطر بھٹو خاندان کے تقریباً ہر فرد نے زندگی قربان کر دی۔ جدہ (سعودی عرب)سے عدنان جعفری لکھتے ہیں۔ وڑائچ صاحب آپ کی تصانیف بڑے شوق سے ڈھونڈ کر پڑھتے ہیں۔ میں پیپلزپارٹی کا خود ایک جیالا ہوں مگر جب میں آپ کے حالات زندگی پڑھتا ہوں تو مجھے پاکستان پیپلز پارٹی سے جو گلے شکوے ہیں وہ آٹے میں نمک کے برابر محسوس ہوتے ہیں جبکہ آپ کی پارٹی خدمات نمک میں آٹے کے برابر ہیں۔ آپ کا کالم ’’جناب صدر کیا میں ٹشو پیپر ہوں‘‘ایک ایسی شاہکار تحریر ہے جس پر آپ جتنا فخر کریں وہ کم ہوگا۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے جیسے ہم کوئی فلم دیکھ رہے ہیں دراصل آپ کی اس تحریر پر نوائے وقت کے قارئین فخر کر سکتے ہیں۔ پشاور سے نوجوان انجینئر عمر عظمت وزیر لکھتے ہیں۔ مطلوب بھائی میں خود پیپلزپارٹی کاجیالا ہوں۔ شروع شروع میں آپ کے کالم پڑھ کر غصہ آتا تھا اور یہ احساس ہونے لگتا تھا کہ آپ شاید ناہید خاں صاحبہ اور صفدر عباسی کی طرح پارٹی چھوڑنے کا تہیہ کر چکے ہیں مگر آپ کا کالم ’’ناہید خان کے کھوٹے سکے‘‘پڑھ کر خوشی ہوئی اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ آپ پارٹی میں اصلاحات چاہتے ہیں اور آپ جیسا بے نظیر بھٹو شہید کا ساتھی اپنی زندگی اس پارٹی کی نظر کر چکا ہے جبکہ آپ کی تلخ تحریریں اس پارٹی کے لیے نشان راہ، نشانِ منزل ہیں۔ لاہور سے شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر احمد عالمگیر نے فون کیا اور کہا مطلوب بھائی آپ کے کالم نہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی بلکہ مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق کی قیادت کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہیںآپ ایک پاکستانی بن کر قلم کی حرمت کا پاس کرتے ہوئے جس جذبے کے تحت لکھ رہے اس کو میں اور میرے دوست تحسین کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ کراچی کے سابق ناظم سید مصطفی کمال اور حیدر عباس رضوی،ہارون رضا جب لاہور آئے تو مشہور اینکر مبشر لقمان کے ہمراہ مجھ سے ملے اور کہا کہ آپ کے قلم نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک ایسے ہاتھ میں ہے جس سے اس وطن کی راہنمائی مقصود ہے۔ انہوں نے ’’لاہور کو بھی ایک مصطفی کمال چاہیے‘‘ لکھنے پر ادارہ نوائے وقت اور راقم کا شکریہ ادا کیا۔ لاہور سے مس اوشی چیمہ رقمطراز ہیں کہ وڑائچ صاحب اللہ آپ کی تحریروں کو نظر بد سے بچائے میں اور میرے لاء کالج کے سینکڑوں سٹوڈنٹ ساتھی صبح صبح اخبار میں آپ کا گلوبل ویلج ڈھونڈ کر پڑھتے ہیں اور آپ کے نئے کالم کا انتظار کرتے ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے پیغام میں کہا ہے آپ پاکستان کے وفاق کے لیے جو لڑائی لڑ رہے ہو اس میں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔مشہور رائٹر سہیل وڑائچ اور اینکر پرسن افتخار احمد کا ہمیشہ میرے لیے دو لفظی ’’ویلڈن‘‘اور سینئر صحافی سعید آسی جو میرے لیے ہمیشہ متفکر رہتے ہیں کہ میں یہ غیرجانبدارانہ سینڈرڈ برقرار رکھ پائوں گا کہ نہیں۔پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی،اور اسی طرح ایکسین نعیم وڑائچ، انجینئر شاہد اقبال صاحب، مس عظمی فدا خواجہ، چوہدری ندیم، سینئر ایڈووکیٹ نوید عباس اور سینئر لکھاری فدا احمد کاردار اور نوائے وقت کے لاکھوں قارئین مجھے پچھلے تین سالوں میں سینکڑوں ای میل،خطوط اور ٹیلی فون کے ذریعے مجھے ’’فیڈبیک‘‘ دیتے رہتے ہیں۔ جس سے مجھے حوصلہ اور راہنمائی ملتی ہے آج وطن عزیز میں جو حالات ہیں چادر اور چاردیواری کا عدم تحفظ،لاء اینڈ آرڈر کی نایابی،بجلی، پانی، گیس کی لوڈشیڈنگ،آٹا،چینی، گندم، چاول،دالیں اور گھی کی کمیابی، ادویات میں ملاوٹ اور ڈیزل پٹرول یہ وہ مسائل ہیں جن کے تجزیے کے لیے پروفیسر ہونا ضروری نہیں آج ملک کی سیاسی و دینی جماعتیں جس روش و ڈگر پر چل رہی ہیں اس کو ’’نیرو کے روم‘‘ سے مماثلت دی جا سکتی ہے۔ چند روز پہلے ایک ٹی وی چینل پر سابق آمر جنرل مشرف عجب لہک لہک کر یوگنڈا کے سابق آمر عیدی امین ثانی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے جنہوں نے اپنے دور حکومت میں ہمسایہ ملک تنزانیہ کے سربراہ کو سیاسی لڑائی کے بجائے تیر کر دریا پار کرنے اور باکسنگ لڑنے کا چیلنج دیا تھا۔ مشرف صاحب اپنے قریبی حریف جناب میاں نوازشریف صاحب کو بالکل اسی انداز میں باکسنگ،کشتی اور کراٹے کا چیلنج دے رہے تھے اور یہی وہ مقام ہے جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ہمیں اس وقت آپس کی لڑائیوں کی بجائے وفاق بچانے کی ضرورت ہے نہ کہ اپنی عاقبت نااندیشی سے خدانخواستہ وطن گنوانے کے حربے استعمال کیے جائیں۔قارئین اکرام مگر میں پُرامید ہوں جب تک جناب مجید نظامی صاحب اور ڈاکٹر رفیق ایسے نظریہ پاکستان کے محافظ موجود ہیں یہ سیاسی وغیرسیاسی مسخرے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus