×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دو قومی نظریہ اور پاکستانی سیاست
Dated: 28-Jan-2011
جھوٹ کچھ اس خوبصورتی سے بولو کہ سچ لگنے لگے۔ یہ وہ الفاظ ہیںجو میکاولی نے ادا کیے۔ یورپ میں میکاولی جھوٹ اور مکاری کی علامت سمجھا جاتاہے۔پورا یورپ آج بھی یورپین سوچ پر لگے میکاولی کے داغ مٹانے کے لیے کوشاں ہے مگر پاکستان کی سیاست کے اندر چھپے اور چمٹے ہزاروں میکاولی دن رات عوام کو بے وقوف بنانے کے نت نئے منصوبے تشکیل دینے کے چکر میں لگے ہیںاور وہ جھوٹ،فراڈ،مکاری اور اقراپروری کے خوبصورت پیکیج اپنے ذیلی ایجنٹوں کی طفیل مارکیٹ میں پھیلا رہے ہیں کہ کسی عام شہری کا اس سے بچ کر نکلنا معجزے سے کم نہیں۔فریب اور دغابازی کی سیاست کا آغاز تو اسی دن ہو گیا تھا جب قیام پاکستان سے قبل ہماری اشرافیہ کا ایک بڑا حصہ ہندو سامراج اور برطانوی سرکاری کا طفیلی بن کر آل انڈیا مسلم لیگ کو توڑنے کے لیے سرگرم ہو گیا تھامگر نواب سر سلیم اللہ خاں، علی برادران،حضرت علامہ اقبالؒ کے فلسفہ فکر اور حضرت قائداعظم کے غیرمتزلزل عزم نے خطے کو دو قومی نظریہ کے ناقابل شکست فلسفہ سے روشناس کرایااورڈگمگاتے ہوئے خطہ کے مسلمانوں کے اس مشن اور خواب کو شب و روز کی محنت سے ایک زندہ و جاوید حقیقت بنا دیا۔ یقینا اس میں تحریک پاکستان کے ہراول دستہ کے علاوہ کارکنان تحریر پاکستان کے وہ خاموش مجاہد بھی شامل ہیں جنہوں نے اس وقت کے معروضی حالات میں جب ہزاروں میل پر پھیلے اس خطے کے مسلمانوں کو وسائل کی عدم دستیابی کے باوجود سینہ بہ سینہ تشہیر کرکے دو قومی نظریہ کی اس جنگ کو دوام بخشا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دوران مذہبی اور فکری تنظیموں نے اس ہچکولے کھاتی کشتی کو کئی جھٹکے دیئے مگر دو قومی نظریہ کی حقیقت اور افادیت کی سیسہ پلائی دیوار کے سامنے یہ سب ’’بند‘‘ ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ دو قومی نظریہ کے اس جاوداں قافلے کے سینکڑوں سالار مردصحافت جناب مجید نظامی صاحب کی معیت میں آج بھی یہ پرچم اٹھائے نئی نسل کو راہنما اصول بتانے کے لیے خوشی قسمتی سے آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور 63سال گزرنے کے باوجود اس نظریہ کو اپنے خون سے پالش کرکے آنے والی نسلوں کے لیے چراغ راہ ومنزل بنے ہوئے ہیں۔ لارڈ مونٹ بیٹن اور نہرو جیسے مخالفین نظریہ پاکستان،قیام پاکستان اور دو قومی نظریہ کے فلسفہ کو بحیرہ عرب میں پھینکے کی خواہش و ہوس لے کر دارفانی سے کوچ کر چکے ہیں اور ان کی پروردہ اسٹیبلشمنٹ اور فیوڈل ازم نے قیام پاکستان کے بعد جو ہتھکنڈے آزمائے نوزائیدہ مملکت خدادا پاکستان کی اساس اور بنیادوں کو غیرمستحکم کرنے کے مشن نے ہر حربے اور طریقے سے برصغیر اور دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی اس پہلی نظریاتی ریاست کو کبھی دل سے قبول نہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ ان طبقات کی اولادیں امریکہ و یورپ میں اپنے مسکن اور بینک اکائونٹ بناتی رہیں اور یہ باری باری مختلف اشکال میں اس ملک و قوم کی قسمت سے کھیلتے رہے۔ قیام پاکستان کو ایک عشرہ بھی نہ گزرا تھا کہ وطن عزیز کو پہلے مارشل لاء کی طرف دکھیل دیا گیا ابھی وطن عزیز کو پہلا متفقہ آئین بھی نصیب نہ ہوا تھا کہ اس کے ایک حصہ کو مفلوج کرکے اور اس کی روح اور جسم سے جدا کر دیا گیا۔ یہ دوقومی نظریہ پر سامراج پروردہ اسٹیبلشمنٹ کی کاری ضرب تھی جس کے پیچھے 22سالوں پر محیط ان خونی درندوں کی ہوس اور سوچ برسرپیکار تھی۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پہلی منتخب جمہوری حکومت کا ہی مرہون منت یہ 73ء کا آئین باقی ماندہ پاکستان اپنے لٹے پٹے وسائل اور عالمگیر مسائل کی زد میں آگے بڑھنے لگا اور کچھ ہی سالوں میں دنیا کے نقشے پر پہلا آئینی اسلامی ملک بن کر نیوکلیئر پاور جیسی فتوحات کی خواہشات کی تکمیل کے لیے پرعزم راستوں پر چلنے لگا مگر زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ امریکی سامراج اور اندورنی خلفشار سیاسی و نیم مذہبی قوتوں کی سازش سے مملکت خداداد پر مارشل لاء کا تیسرا تحفہ مسلط کر دیا گیا۔ رات کے اندھیرے میں مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھنے والی قوتوں کو پابہ زنجیر کر دیا گیا فکر اور سوچ پر کوڑے برسائے گئے۔ عزم اور حوصلے کی پھانسی گھاٹ پر تذلیل کی گئی اور ساڑھے گیارہ سال کی تاریک چادر دو قومی نظریہ پر اوڑھ دی گئی۔ عوامی سوچوں اور فکروں کو پامال کیا گیا اس ملک کے جاگیردار،سرمایہ دار قوتیں عوام کو بہکاتی بہلاتی اور پھسلاتی رہیں اسلامی نظام کے نفاذ کے قوم سے جھوٹے وعدے کیے گئے۔ فریب اور مکاری کی سیاست کو نیا نام و انداز دیا گیا۔ 85ء میں غیرجماعتی انتخابات،86ء میں شہید محترمہ کی وطن آمد و استقبال، 88ء میں آمر وقت کی حادثاتی موت اور انتخابات نے نئی قیادت اور میاں محمد شریف مرحوم کے صاحبزادوں میاں نوازشریف و میاں شہباز شریف کی قومی سیاست میں آمد نے ایک طرف اندازحکمرانی بدلے مگر دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی گھنائونی چالوں کے شکار ہمارے سیاسی کھلاڑیوں نے آپس کی کھینچا تانی اور سیاسی رقابتوں کو بنیاد بنا کر اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے عمل کو تیز کیا یہی وجہ ہے کہ 88ء سے 99ء تک کے مختصر عرصہ میں 4جمہوری قوتوں کے بستر گول کیے گئے۔ یہ وہ سیاسی قوتیں تھیں جو چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر میں دوتہائی اکثریت کا دعویٰ بھی کرتی تھیں۔ سیاست میں عدم برداشت کے فلسفہ سے جان چھڑانا ناممکن ہے کہ ’’ٹالرنس‘‘ کی پالیسی سے ہی ایک دوسرے کو برداشت اور صبرآزما مراحل کے بعد باری کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ملحوظ خاطر رکھنی پڑتی ہے کہ جمہوری یورپ میں جمہوریت کے ابتدائی ادوار میں قبل ازوقت الیکشن کے فلسفے کو فروغ ملا تاکہ جمہوریت کی پٹری پر رواں دواں نظام کو بچایا جا سکے۔ خود میرے ذاتی علم اور مشاہدے میں ہے، میں نے 28سال یورپ کے کلچر تاریخ اور فلسفہ کو یورپ میں رکھتے ہوئے پڑھا،دیکھا اور ان میں بیٹھ کر ان کی سوچوں کو جاننے کا موقع ملا جس سے مجھے ایک یک نکاتی نقطہ سمجھ میں آیا کہ آج یورپ کی سوشل سوسائٹی،کلچرل، سیاسی اقدار اور معاشی آسودگی کے پیچھے بس ایک ہی عمل کارفرما ہے وہ ہے ’’ٹالرنس‘‘، برداشت کا فلسفہ۔ یہ برداشت سماجی نظام میں ہو تو سماج میں تحفظ کا احساس دلاتا ہے۔ معیشت میں ہو تو اکنامکس ’’ٹالرنس‘‘ سے معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور سیاست میں یہی ٹالرنس کا فلسفہ کسی بھی ملک و معاشرے کے جمہوری نظام کو دوام بخشتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ سمیت یورپ کے اکثر ممالک میں ایک سے زائد جماعتیں ایک ہی وقت میں حکمرانی کے راہنما اصول پر عمل پیرا ہو کر عوامی خدمت اور جذبے سے سرشار معاشرے کی تکمیل کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں راتوں رات امیر بننے اور راتوں رات اقتدار کے مسندپر قبضہ کی خواہش ہمیں دو قدم آگے بڑھنے کی بجائے چارقدم پیچھے لے جاتی ہے۔ آمر مشرف کے آٹھ سالہ دور کے بعد عظیم تر شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجے میں آنے والی مرکز میں پیپلزپارٹی اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو اپنے تین سال پورے ہونے کو ہیں یہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی کا تسلسل ہے یا ان کی شہادت کے بعد تجدید میثاق جمہوریت کے ثمرات۔ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار چمٹنے رہنے میں اپنی عافیت سمجھتی ہیں اور کھیل کے مختلف پارٹس کی طرح کبھی اے این پی ناراض ہوتی ہے کبھی متحدہ قومی موومنٹ علیحدگی کا اعلان کرتی ہے کبھی جے یو آئی ’’آدھا تیتر آدھا بٹیر ‘‘ کے اصولوں پر جنگ کرتی نظر آتی ہے۔ کبھی بوقت ضرورت وفاقی گورنمنٹ کے وزراء استعفوں کی سیاست کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی مسلم لیگ ن الٹی میٹموں کی سیاست کرتی نظر آتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عوام کو ایک ایسے کھیل کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے جو یہ جمہوری قوتیں آپس میں نوراکشتی کی طرح کھیل رہی ہیں۔ طے شدہ باری کے انتظار میں مسلم لیگ ن بھی یہ بھول جاتی ہے کہ صرف 2سال قبل اس کی عوامی حمایت کا سروے 70فیصد سے بھی اوپر چلا گیا تھا جو اس مذموم کھیل کی وجہ سے 20فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے۔ پیپلز پارٹی تو 5سالہ اقتدار کے دن پورے کرنے کے بعد ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی بھی اپنے دیرینہ کارکنوں،جیالوں اور نظرانداز کی ہوئی سیاسی قیادت سے مسلسل چشم پوشی کر رہی ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی آئندہ الیکشن کے لیے سنجیدہ نہیں ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت بھی آنکھوں پر انتظار کی پٹی باندھے اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ مرکز میں اگلی باری اس کی ہو گی جبکہ حقیقت پسندانہ تجزیے کے مطابق مسلم لیگ ن کی قیادت کو امریکی تھینک ٹینک ان دنوں میں اقتدار پر دیکھنا کیسے گوارہ کریں گے جن دنوں یعنی 2014ء میں وہ افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی شروع کریں گے یقینا امریکی قیادت کوا س بات کا ادراک ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت جو کہ ذہنی طور پر ’’پرو اسلامک ‘‘ہے اور جس پر وقتاً فوقتاً عسکریت پسندوں سے رابطوں کا الزام بھی ہے۔ امریکن ’’پل آئوٹ‘‘ کے دوران خطے میں اقتدار پر مسلم لیگ ن کی موجودگی امریکی مفادات کے لیے خطرہ متصور ہو گی۔یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت ہر دو صورتوں میں کسی بھی ایگریمنٹ یا معاہدے کے تحت اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنے کے چکر میں ہے۔پیپلزپارٹی کی قیادت کو اس سے غرض نہیں کہ ان کے بعد زمام اقتدار کن ہاتھوں میں جاتا ہے خود اپنے ہاتھوں سے تو مسلم لیگ ن کو اقتدار منتقل کرنے سے رہی؟ مسلم لیگ ن سہانے سپنوں کی بنیاد پر اپنی عوامی طاقت و حمایت کھو رہی ہے اور یہی اس کھیل کا کلائمکس ہوگا۔ لیکن پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کر لینے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ق لیگ موجودہ اقتدار کے عرصہ کے دوران کسی بھی وقت ’’سیاسی اپ سیٹ‘‘ دے سکنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے فرار چاہتی ہیں کیونکہ مشرف دور میں دو دو دفعہ ناظمین اور لاکھوں کی تعداد میں کونسلر منتخب ہونے والا ایک بڑا طبقہ ق لیگ کے جھنڈے تلے کسی بھی وقت اکٹھے ہو سکتے ہیں اور مسلم لیگ آئندہ قومی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی سے مل کر مسلم لیگ ن کو پنجاب سمیت ملک بھر میں ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔ چوہدری برادران ’’انڈر ایسٹمیٹ ‘‘کرنے والے خواب خرگوش سے نہ جاگے تو چوہدری پرویز الٰہی جو اپنے مصمم ارادے سے وزیراعلیٰ اور بھائی کو وزیراعظم بنوایا کسی بھی وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کوحیرت میں ڈال دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لیے یہ ’’اوپن سیکرٹ‘ تجزیے مسلم لیگ ن کی سیاسی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہیں کہ وہ پھر سے اپنی سیاست کا رخ عوامی خواہشات کے مطابق کر لیں۔خصوصاًپنجاب کے عوام مسلم لیگ ن کو ایک جاندار رول میں اقتدار اور اپوزیشن کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus