×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاکستانیت کی ضرورت
Dated: 13-Aug-2008
لاہور جیسے بڑے شہر میں جہاں واپڈا کا ہیڈ آفس ہے، دو اور تین گھنٹے کے وقفے سے ایک ایک گھنٹے بجلی بند کرکے لوگوں کو لوڈشیڈنگ کے اسپ تازی پر سوار کیا جاتا ہے۔ مریضوں، کاروباری لوگوں، دفتروں میں کام کرنے والے اور گھریلوخواتین کو بجلی کی بندش کے دوران جولائی اگست کے حبس زدہ دنوں میں ایک قیامت کا سامنا ہوتا ہے۔ دیہات میں اس سے بھی بری صورتحال ہے، بعض دیہات میں شہروں میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کے دورانیے کے برابر بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ چوبیس گھنٹے میں اٹھارہ گھنٹے بجلی بند رہے تو لوگ چڑچڑے ہو کر ایک دوسرے کو کاٹنے کو نہ دوڑیں تو کیا کریں؟ دیہات میں سب سے زیادہ قتل غیرت کے بعد پانی کے تنازعات پر ہوتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس زرعی ملک میں بجلی کی کمی کی وجہ سے ٹیوب ویل اٹھارہ گھنٹے تک بند رہیں گے تو اس ملک کی زراعت کا کیا حال ہوگا؟ جو حال ہوگا فصلوں کی پیداوار میں کمی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔اناج کی قلت ہمیں قحط کی طرف گھسیٹ رہی ہے۔ ہمیں جس صورتحال کا سامنا ہے اس پر قابو پانا قطعاً…قطعاً مشکل نہیں، صرف مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔90کی دہائی میں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی اوپر نیچے حکومتیں برسراقتدار آتی رہیں، ان میں کوئی اور قدر مشترک ہو نہ ہو، بجلی کی وافر پیداوار ایک قدر مشترک تھی۔ حکومتی سطح پر بجلی کی بھارت کو برآمد کی باتیں ہو رہی تھیں، پھر مارشل لاء نے ترقی کو اگر ریورس گیئر نہیں بھی لگایا البتہ اس کی رفتار ضرور روک دی ایک جمود ضرور طاری کر دیا۔ گذشتہ آٹھ سال جہاں دیگراداروں کو برباد کیا گیا وہیں بجلی کی مزید پیداوار کے لیے اس کی کھپت میں اضافے کے باوجود کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ اب فوری طور پر بجلی ضروریات اور ’’فضولیات‘‘ کے مطابق تو پیدا نہیں کی جا سکتی اگر اسی چادر میں پائوں پھیلانے کی کوشش کی جائے تو مزید بجلی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مجھے اپنے معاملات کی خاطر بیرون ممالک جانا پڑتا ہے، اکثر ترقی یافتہ مالک میں ایک کا من چیز یہ دیکھی ہے کہ وہاں لوگ اپنا کاروبار صبح آٹھ بجے شروع کرکے شام چھ بجے بند کر دیتے ہیں۔ بازاروں میں خریدار بھی اس وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں دوپہر بارہ ایک بجے دکانیں کھل کر رات ایک ایک بجے تک بند ہوتی ہیں، دن کو اگر ایک بلب جلتا ہے تو رات کو دس کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر بازاروں کی سٹریٹ لائٹس الگ سے جلائی جاتی ہیں۔ہمارے ہاں بھی اگر کاروبار صبح آٹھ بجے سے شروع کرکے شام چھ بجے بند کر دیا جائے تو بجلی کی کچھ نہ کچھ بچت ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا میں کہیں بھی رات کی شادیوں کا رواج نہیں، ہمارے ہاں آدھی رات سے قبل بارات آ جائے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شادی اگر پارک میں بھی ہو تو لائٹوں کا بے مہا بااستعمال ہوتا ہے۔ شادی گھر میں ہو تو اس کا شمار نہیں۔ شادی ہالوں میں انرجی سیور کے استعمال کا تصور ہی نہیں۔ اندر فانوس اور قمقمے جگ مگ کرنے کے ساتھ ساتھ تپش بھی پیدا کرتے ہیں۔ درجہ حرارت نارمل رکھنے کے لیے سردیوں میں بھی اے سی چلانا پڑتے ہیں۔ شادی ہالوں کے باہر کئی سومیٹر تک لائٹنگ کی جاتی ہے۔ آج ایک اور رواج چل پڑا ہے، سی این جی سٹیشنوں اور پٹرول پمپوں کی زیبائش دیکھ کر کسی شادی ہال کا گماںہوتا ہے۔ پاکستان میں سی این جی، پٹرول پمپنوں اور شادی ہالوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جہاں سر شاملائٹوں سے اردگرد کا علاقہ بقعہ نور بن جاتا ہے۔ ماحول تو انتہائی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے لیکن دراصل یہ ان انسانوں کا خون جل رہا ہوتا ہے جو بجلی کی کمی کی وجہ سے پسینے سے شرابور ہوتے ہیں جن کے کاروبار تباہ ہو رہے ہوتے ہیں جن کی سونا اگلتی زمینیں بانجھ ہو گئی ہیں۔ کیا ہماری تاجر برادری کو اس با ت کا ادراک ہے کہ بین الاقوامی برادری میں آج ان کے ساتھ ہمیں چلناہوگا ہم وہ قوم ہیں جو تھوڑا سا بھی سیکریفائزکرنے کو تیار نہیں۔ مگر دعوے ہم کرتے ہیں جان کے نذرانے پیش کرنے کے۔ ہم گورنمنٹ کی رٹ کو چیلنج کرنے فخر سمجھتے ہیں۔ ہماری یہی تاجر برادری آج تک ایک متفقہ چھٹی کا تعین نہیں کر سکی۔ آدھے سے زیادہ ملک جو چھوٹے شہروں پر مشتمل ہے جمعے کی چھٹی کرتا ہے اور بڑے شہروں میں چھٹی اتوار کو ہوتی ہے۔ اس طرح ہم ایک بٹی ہوئی قوم کی طرح جس کو اپنی منزل کی بھی خبر نہیں۔میری تاجربرادری سے التماس ہے کہ وہ دکانیں کھولنے کے اوقات صبح8بجے سے شام 6بجے کرکے ایک طرف تو بجلی کی کمی پر قابو پا سکتے ہیں اوردوسری طرف اس ہی بجلی کے بل کا بوجھ نہ تو ان پر پڑے اور نہ ہی گاہک پر۔اور دوسرا یہ تاثر کہ خریدار صرف رات کو باہر نکلتا ہے بالکل غلط ہے دنیا بھر دو سو سے زیادہ ممالک میں شاپنگ، شادی بیاہ،سیمیناراور تقریبات دن کے وقت منعقد کی جاتی ہیں۔صرف پاکستان میں ہی راتوں کو جگا کر پوری قوم کو نفسیاتی بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ سرکاری و نیم سرکاری اور بڑے غیرسرکاری اداروں میں جہاں ایک اے سی سے کام چل سکتا ہے، وہاں دس دس چل رہے ہوتے ہیں۔ گھر میں بل میں اضاف کے خوف سے ایک ایک لائٹ بند رکھنے والے لوگ اپنے دفتر سے نکلتے وقت اے سی، پنکھے اور لائٹیں آن چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ پورا دن ادھر ادھر بھاگ دوڑ کرنے والے چپڑاسی اس ماحول میں اپنی تھکن اتارنے کے بعد سوئچ آف کرتے ہیں۔ شہروں میں سٹریٹ لائٹس عموماً دن کو بھی جل رہی ہوتی ہیں۔ بعض واپڈا اہلکار بڑے پیمانے پر بجلی چوری کرانے میں ملوث ہیں۔ میٹر ریورس کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بعض کو کچھ یونٹ معاف ہیں اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کئی گھروں کو بجلی فراہم کر دیتے ہیں، گرمیوں میں اس پر اسے سی کا اور سردیوں میں ہیٹر کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم ان بیماریوں پر قابو پا لیں تو یقین جانیے ہمیں موجودہ دور میں دستیاب بجلی ہی کافی رہے گی۔ اس کے لیے ہمیں ہر شہر کے اندر پاکستانیت پیدا کرنے اور خود کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم لوگ جب دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو نہ صرف بڑی خوش دلی سے ان ممالک کے قوانین پر عمل کرتے ہیں بلکہ ان کو سراہتے بھی ہیں، پھر جیسے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو میٹر وہیں سے چالو ہو جاتا ہے جہاں پر چھوڑ کر گئے تھے۔ اصلاح احوال سے قبل حکومت کو بھی اپناکردارادا کرنا چاہیے، ایک طرف جہاں ترغیب دلانے کی ضرورت ہے، وہیں حقے کی نالی میں رکھی گئی دُم کو سیدھاکرنے کے لیے سختی کی بھی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی موجودہ صورتحال میں فوری کرنے کا کام منصفانہ لوڈشیڈنگ ہے جو بلاامتیازہونی چاہیے۔ آدھے مسائل منصفانہ لوڈشیڈنگ سے اور باقی آدھے لوڈشیڈنگ کرپشن روکنے سے حال ہو جائیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus