×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سردار لطیف کھوسہ، میاں شہبازشریف۔ حقوقِ پنجاب کیلئے مفاہمت کا آغاز
Dated: 05-Feb-2011
مسند اقتدار پر بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو تخت اقتدار کے نیچے ہونے والی سازشوں اور وارداتوں کا علم نہیں ہوتا اور تب تک علم نہیں ہوتا جب تک اقتدار کا قالین ان کے پائوں کے نیچے سے کھسک نہ جائے پھر دھڑم کی آواز آتی ہے۔ سر، کولہے پہ لگی چوٹ کی ضربیں سردیوں کے موسم میں اور بھی تکلیف دہ ہو جاتی ہے تو بندے کو احساس ہوتا ہے اس وقت پھر انسان کو ہر گزرتی گاڑی اور خصوصی طور پر ہوٹر والی گاڑی بہت بُری لگتی ہے۔ وگرنہ دوران اقتدار جب وہ خود سڑکوں،شاہراہوں سے گزرتے ہیں تو 200میل کی رفتار سے چلتی بلٹ پروف گاڑی سے گھنٹوں چوراہوں پر رُکے انسان کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے علاقائی و معروضی حالات گھمبیر صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔ پنجاب کی دھرتی پہ بڑے بڑے سورما تخت نشین ہوئے۔ تخت لاہور نے بڑے بڑے سیاسی اتار چڑھائو دیکھے۔ رنجیت سنگھ کی حکمرانی کے قصے آج بھی زبان زدِ عام ہیں پھر گورنر پنجاب ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ کا ایوبی دور میں ڈنکا بجتا رہا۔ ملک غلام مصطفی کھر کے دور گورنری میں گورنر ہائوس لاہور کو ایک دفعہ پھر شہرت ملی۔ گورنر کھر کے پاس بے شمار اختیارات اور ان کو استعمال کرنے کا حوصلہ بھی تھا یہی وجہ تھی کہ جیالوں کے تعاون سے ملکی تاریخ کی پہلی پولیس ہڑتال کو ناکام بنا دیا گیا۔ اسی گورنر ہائوس لاہور نے آمروں کی چھتری تلے بھی لمبے عرصے اقتدار سے چمٹے رہنے کی روایت بھی ڈالی۔ مرحوم گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو جب گورنری سونپی گئی تو پنجاب کے جیالوں کے لیے گورنر ہائوس کے دروازے ایک لمبے عرصے کے بعد عام عوام کے لیے کھول دیئے گئے۔ جیالوں کے کام تو شاید ہمیشہ کی طرح اس دور میں بھی نہ ہوئے مگر احساس اقتدار جیالوں کے سینوں پہ نقش ہو گیا۔ دوسری طرف وزرائے اعلیٰ پنجاب کا ذکر کیا جائے تو نواب صادق قریشی،حنیف رامے اور غلام حیدروائیں جیسے درویش صفت وزرائے اعلیٰ اور تھانوں میں مجرموں کو چھڑانے بنفس نفیس پہنچ جانے والے سردار عارف نکئی جیسے وزیراعلیٰ بھی مسند اقتدار پر براجمان ہوئے۔ اسی طرح عوامی بل بوتے پر طاقت کا محور ہاتھوں میں تھامے میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف بھی اپنے اپنے اداوار میں ایک مضبوط حکمرانی اور خدمت کا تصور لے کر تخت لاہور پر مسند افروز ہوئے۔ میاں برادران کے ادوار میں اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی خوش نظر نہ آئی کہ انہیں عوامی خادم بننا قبول نہ تھا۔ جبکہ 2008ء میں سلمان تاثیر اور میاں شہبازشریف کی مضبوط جوڑی سے جیالوں اور متوالوں کو بڑی امیدیں تھی مگر اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دورانیوں اور عاقبت اندیش ساتھیوں اور مشیروں نے اپنا کھیل دکھانا شروع کر دیا۔ وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے گورنر سلمان تاثیر کی ہر میڈیا اسٹیٹمنٹ پر ریمارکس دینے کو اپنا فرض اولین گردانا، سیاست کو جگت بازی اور گالی گلوچ جیسے اندازحکمرانی میں بدل دیا گیا اور اس سیاسی نابالغ پن کی وجہ سے حکمرانوں کی نظریں اصل مسائل سے ہٹ کر ذاتیات پر حملوں کی طرف مبذول ہو گئیں۔ اسی دوران گورنر سلمان تاثیر کو اس کھیل کی قیمت اپنی جان کی صورت میں ادا کرنا پڑی اور یوں اس کھیل کا ایک عبرت ناک انجام ہوا۔ مجھے جاتی ہوئی اُن سردیوں کا وہ موسم یاد ہے جب 9مارچ کے سانحے کے بعد وکیلوں کے احتجاج کا پہلا دن تھا اور آمر کے حکم پر اس تحریک کو چلنے کے حکم صادر ہوئے تو اس تحریک کی سب سے پہلی لاٹھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانثار وفادار ساتھی سردار لطیف کھوسہ کے سر پر پڑی۔لہولہو پیشانی اور چہرے پر خون پنجاب کے اس جیالے کے لیے کسی تمغے سے کم نہیں تھا۔میں نے اس موقع پر سردار لطیف کھوسہ سے کہا کہ سردار صاحب یاد رکھیے گا آپ کی پیشانی پر لہو پیپلز پارٹی کے جیانوں کے لیے کسی میڈل سے کم نہیں ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ تحریک کو یہ پہلا لہو شہید محترمہ کے جانثار نے دیا ہے پھر اس خون سے شمعیں روشن ہوتی چلی گئیں پھر کراچی میں قتال ہوا،اسلام آباداور راولپنڈی میں جیالوں کی قربان گاہیں سج گئیں اور خون کی ندیاں بہنے لگی جس سے جمہوریت کے پودے کی آبیاری ممکن ہوئی۔ یہی پولیس کی لاٹھیاں ایک دفعہ لاہور اسٹیڈیم میں خاتونِ اول اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی والدہ بیگم نصرت بھٹو کو بھی پڑیں تھیں۔ جس کی وجہ سے آج بھی وہ معذوری اور اپاہج پن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مرحوم گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد جب سردار لطیف کھوسہ کو صدر مملکت اور وزیراعظم نے گورنر نامزد کیا تو اسے وفاقی حکومت کی مفاہمتی پالیسی کا تسلسل گردانا گیا اور اس فیصلے کو عوامی پذیرائی ملی۔ پنجاب کے عوام ان دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی آپس میں جنگ و جدل سے تنگ آئے ہوئے تھے یہی وجہ ہے کہ حلف اٹھانے کے بعد داتا صاحب،حضرت علامہ اقبال اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزارات پر حاضری کے بعد گورنر سردار لطیف کھوسہ سیدھے میاں محمد شریف مرحوم کی قبر پر پہنچے، حاضری دی، دعا مانگی اور میاں نوازشریف سے بغلگیر ہوئے۔ میاں شہبازشریف سے دل سے کدورتیں نکال کر آگے چلنے کی استدعا کی جس کی میاں برادران نے بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے حامی بھری۔ دراصل میاں برادران اور گورنر پنجاب کو یہ احساس شاید ہو چلا ہے کہ پنجاب کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ مرحوم سلمان تاثیر اوروزیراعلیٰ شہبازشریف جس کسی ایک نقطہ پر متفق تھے وہ یہ تھا کہ کالا باغ ڈیم پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کو پنجاب دشمن قوتیں وقتاً فوقتاً ضربیں لگا کر پنجاب کی زمینوں کو بنجر اور پنجاب کے کسانوں کے معاشی قتل عام کا اہتمام کر رہے ہیں۔ پنجاب جو ایک زرعی اورزرخیز رقبے پر پھیلا صوبہ ہے، پانی کی کمی اور ڈیموں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مردِ بیماربن کر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف اندرونی خلفشار کی وجہ سے بُلھے شاہ کی اس دھرتی کو شکاری تقسیم کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ دراصل ہوس اقتدار میں مبتلا کچھ طاقتیں تعصب کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہیں لیکن ایسے سیاسی دیوالیہ پن کا علاج تقسیم پنجاب نہیں۔ پنجاب اگر تقسیم ہوا تو بلوچستان کے بھی کئی صوبے بنیں گے۔ سرحد میں بھی ہزارہ اور فاٹا کے نام پر صوبے معرض وجود میں آئیں گے۔ سندھ بھی کم از کم تین صوبوں میں تقسیم ہوگا یہ وہ فنڈامینٹل فلسفہ ہے جس کو تقسیم پنجاب کا نعرہ لگانے والے بھول جاتے ہیں۔ اگر میاں شہبازشریف اور گورنر سردار لطیف کھوسہ پنجاب کو احساس تحفظ اور معاشی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں تو ماضی کے تلخ واقعات کو فراموش کرکے آگے بڑھیں۔ پنجاب کے 10کروڑ عوام ان کی راہیں تک رہے ہیں۔ اقتدار کے پارٹنر ان دونوں ایوانوں کو پنجاب کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنے والی گِدھوں کو پیغام دینا ہوگا کہ پنجاب پاکستان کا دل ہے اور دل کی تقسیم سے جسم ہڈیوں کے پنجر اور پنجاب کی لہلہاتی زمین سوڈان و صومالیہ کی طرح بنجر ہو جائیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ برصغیر کے اس سب سے زرخیز خطے کی آبیاری کی جائے اس کے زخموں سے چُور بدن پر پیار محبت کی مرہم رکھی جائے۔ اسی طرح گورنر سردار لطیف کھوسہ صاحب جاتی عمرہ اور منصورہ کے بعد ظہور الٰہی شہید روڈبھی جائیں اور پنجاب کی اس قوت کو بھی اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں۔ یہ تخت لاہور اور پنجاب کی دھرتی کا ہم پہ قرض ہے جس سے پہلوتہی خطرناک انجام کی طرف لے جائے گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus