×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زرداری صاحب ! آپ پرجیالوں کا قرض ہے
Dated: 09-Feb-2011
جلاوطنی کے ابتدائی ایام کی بات ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ دورانِ سفر روٹھے ہوئے ناراض جیالوں کی بات چھڑ گئی۔ میں نے محترمہ کو بتایا کہ میں جہاں کہیں بھی اور جس کسی سیمینار،جلسے میں جاتا ہوں تو وہاں پر میری ملاقاتیں پارٹی کے حقیقی اثاثہ اُن جیالوں سے ہوتی ہیں جو پارٹی اور پارٹی کی لیڈرشپ سے بہت زیادہ ناراض اور خفا ہیں۔ اور جب میں ان روٹھے ہوئے جیالوں سے پیپلزپارٹی کے سرکل میں واپسی کی درخواست کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ وہ قومی دھارے میں سیاست کرنے والی وفاقی پارٹی کے اندر واپس آ جائیں اور احساسات کو اپنے نظریات پر قربان مت کرو۔ ہمارے وہ دوست جو آج ہر چھوٹی موٹی NGO's بنا کر یا پھر لیفٹ کی چھوٹی جماعتوں میں شامل ہو کر خوش تو نہیں مگر اپنی سیاسی تسکین کے لیے اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ میری اس استدعا پر شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میرے ان سوالوں کا جواب کچھ اس طرح بیان کیا کہ جب کوئی سیاسی پارٹی قربانیوں کے بحرالکاہل عبور کرکے مسنداقتدار پر براجمان ہوتی ہے تو مرکزی لیڈرشپ ریڈبکس اور بلیو بکس کے اسٹیبلشمنٹ ہتھکنڈوں کا شکار ہو جاتی ہے اور یہ تمام آداب انہیں ان لوگوں سے دور لے جاتے ہیں جن کے کندھوں اور لاشوں پر پائوں رکھ کر وہ مسند اقتدار پر پہنچتے ہیں۔ اس دوران جب سیاسی پارٹی یا قیادت اقتدار میں آتی ہے تو یقینا کچھ ان سائڈر یا آئوٹ سائڈر موقع پرست جو کہ ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور وہ ایوانِ اقتدار کے گرد گِدھوں کی طرح منڈلاتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ وزیراعظم ہائوس اور ایوانِ صدر میں نئی آنے والی قیادت کے رفقاء کو مختلف حیلے، بہانوں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے گمراہ کر لیتے ہیں اور یقینا یہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی قیادت پہ لازم ہے کہ وہ انعامات کی بارش برسانے سے پہلے ان پرانے ساتھیوں اور اس سفر کے کاروان کے ساتھیوں جنہوں نے سخت حالات میں مصائب برداشت کیے ہوتے ہیں کی دلجوئی کے لیے کوئی ایسے انتظامات کرے جس سے جدوجہد کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد مستفید ہو سکے مگر بدنصیبی سے ہوتا یہ ہے کہ جب نئی براجمان قیادت تھال میں سجا کر اقتدار کی ٹافیاں بانٹ رہی ہوتی ہے تو جدوجہد کے ساتھی اور اصل حق دار ایوانِ اقتدار کے اس حصار کے اندر نہیں پہنچ پاتے اور یہی وجہ تقسیم اقتدار کی بندر بانٹ کا موجب بنتی ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مجھے یہ واقع بھی سنایا کہ جب وہ 1988ء میں پہلی دفعہ وزیراعظم بنی تو وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد انہیں یاد آیا کہ راولپنڈی سازش کیس اور ظہور الٰہی قتل کیس کے وہ چار نوجوان ادریس بیگ، عثمان غنی، ادریس طوطی اور عبدالرزاق جھرنا جن کو سزائے موت دی جا چکی تھی پتہ نہیں ان کے لواحقین کن حالات اور مسائل میں ہوں گے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے پرائم منسٹر ہائوس سے ہدایات جاری کیں اور متعلقہ کمشنر کو ہدایات دیں۔ عثمان غنی اور ادریس طوطی کا تعلق لاہور سے،ادریس بیگ کا تعلق راولپنڈی سے تھا اس لیے ان کے لواحقین سے جلدی رابطہ ہو گیا مگر عبدالرزاق جھرنا جس کا تعلق ضلع بھکر کے دورافتادہ گائوں سے تھا کے لواحقین کے پاس کمشنر بھکر کو بھیجا گیا۔عبدالرزاق جھرنا کے والد صاحب جو اس وقت اپنی زمینوں پر کام کر رہے تھے جب دور سے پولیس کی گاڑیاں آتی دیکھیں تو انہیں وہ پرانے پولیس کے چھاپے،گرفتاریاں،خاندانی اذیتیں،جھرنا کی شہادت،آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح گھوم گئیں اور وہ اب پولیس کو آتا دیکھ کر گندم کی توڑی(بھوسہ) میں چھپ گئے۔ خیر کمشنر صاحب نے ان کو باہر نکالا اور انہیں کہا کہ آپ نہا دھو کر تیار ہو جائیں آپ کو ہمارے ساتھ محترمہ بینظیر بھٹو کے پاس چلنا ہے۔ کمشنر صاحب جھرنا کے والد صاحب کو لے کر اسلام آباد آگئے جہاں ہم نے انہیں بڑی عزت اور احترام سے ٹھہرایا۔ ان کے بیٹے کی شہادت پر ان سے تعزیت کی اور ان سے کہا کہ اگر خاندان میں کوئی نوجوان ہے تو ہم ان کو ملازمتیں دیتے ہیں اور اہم نے ان کو اسلام آباد میں ایک پلاٹ الاٹ کرکے ان کو اس کے کاغذات دیئے اور عزت اور احترام سے ان کے واپسی کے سفر کا بندوبست کیا۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے بتایا کہ اس کے بعد وہ امورِ مملکت میں وہ کچھ اس قدر مصروف ہوئیں اور دھیان نہ رہا پھر ان کی حکومت توڑ دی گئی اور جب وہ دوبارہ 1993ء میں دوسری دفعہ وزیراعظم بنیں تو انہیں یاد آیا کہ وہ ذرہ یہ تو دیکھیں کہ شہید جھرنا کے والد صاحب نے اس پلاٹ کا کیا کیا، مکان بنایا کہ نہیں؟ اگر نہیں بنایا تو وہ ان کے والدین کو اس پلاٹ میں مکان بنانے کا بندوبست کرکے دیں۔ جب عبدالرزاق جھرنا کے والد کو پرائم منسٹر ہائوس بلایا گیا اور ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے ایک حیران کر دینے والا جواب دیا کہ محترمہ جب آپ نے مجھے پلاٹ کے کاغذات دیئے جنہیں میں لے کر اپنے گائوں واپس جا کر جھرنا کی والدہ کو وہ کاغذات دیئے تو اس نے وہ کاغذات پرے پھینک دیئے اور مجھے کہا کہ کہہ دو اپنی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو سے کہ میں اپنے بیٹے کی شہادت کو نہیں بیچوں گی میرے بیٹے نے جس کاز کے لیے جمہوریت اور سب سے بڑھ کر اپنے قائدذوالفقار علی بھٹو شہید کے لیے جان دی ہے میں بھلا ان مادی چیزوں کے عوض اپنے بیٹے کی عظیم شہادت کیسے بیچ دوں۔ عبدالرزاق جھرنا کے والد نے بتایا کہ ہم نے وہ کاغذات رجسٹرڈ پوسٹ آپ کے نام لکھوا کر واپس بھجوا دیئے تھے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے مجھے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ پیپلزپارٹی کے جیالے اس قدر خوددار ہوتے ہیں کہ وہ مادی آسائش کے لیے اپنی قربانیوں کے اثاثے کیش کروانے پر راضی بھی تو نہیں ہوتے۔ محترمہ کی زبان سے یہ واقعات سننے کے بعد میں نے تہیہ کر لیا کہ میں دنیا بھر میں موجود روٹھے ہوئے جیالوں کو منانے ضرور جائوں گا میں اپنی اس کاوش اور عزم میں کس حد تک کامیاب ہوا یہ ایک الگ داستان ہے مگر میں نے ہزاروں روٹھے ہوئے جیالوں تک محترمہ بینظیر بھٹو کے منہ سے ادا ہوئے یہ واقعات ضرور پہنچائے۔ اس دوران مجھے اکثر روٹھے ہوئے جیالوں کی طرف سے یہ طعنہ سننے کو ملتا کہ مطلوب وڑائچ صاحب جن دنوں ہم نے بھٹو کے لیے، وفاق کے لیے، جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں،کوڑے کھائے، قلعے کاٹے ان دنوں آپ طالب علم ہوں گے اور ہمیں ان قربانیوں کے صلے میں جس قدر ٹھکرایا گیا ہماری آرزوئوں،تمنائوں اور ہمارے خاندان کی خواہشوں کے گلے گھونٹے گئے آپ شاید اس کا اندازہ نہیں کر سکتے اس وقت تو میں نے اس شخص کی ان باتوں کو اس کے دل کی بھڑاس سمجھ کر غیر حقیقت پسندانہ نظروں سے دیکھا مگر آج محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ایک دفعہ پھر مکافاتِ عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ آج شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور جناب آصف علی زرداری کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر جیلوں کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ایک لمبا عرصہ اپنے قیمتی ایام کو جدوجہد جمہوریت کی نذر کرنے والے میں ایسے بیشمار جیالوں کو جانتا ہوں جو اپنے احباب اور دوستوں کو جھوٹی داستانیں،قصے سنا کر خود کو طِفل تسلیاں دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔وسط 2008ء کی بات ہے میرے ایک دوست شعیب بن عزیز جو کہ پنجاب کے سابق انفارمیشن سیکرٹری تھے میاں شہبازشریف کی نئی آنے والی حکومت نے کھڈے لائن لگایاہوا تھا اور انہیں رکن الیکشن کمیشن بنایا ہوا تھا اور ابھی ان کی دوبارہ انفارمیشن سیکرٹری کی پوسٹ پر تعیناتی نہیں ہوئی تھی نے ایک دن مجھے فون کیا اور کہا مطلوب کیسے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ بھئی اب تو آپ کی حکومت آ گئی ہے۔ میں نے شعیب بن عزیز کی اس بات کے جواب میں کہا شعیب بھائی اللہ کا بڑا کرم ہے مزے کر رہا ہوں میری پارٹی کی مرکز میں حکومت ہے ہم چاروں صوبوں میں کولیشن پارٹرنر ہیں۔ موج ہی موج ہے اور اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں، میرے اس جواب پر شعیب بن عزیز نے قہقہہ لگایا اور بولے کہ ’’میں بھی لوگوں سے یہی کہتا ہوں۔‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus