×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نوائے وقت۔ حمید نظامی کی نشانی اور پاکستان کی پہچان
Dated: 25-Feb-2011
مجید نظامی صاحب لندن میں تعلیم کے ساتھ ساتھ نوائے وقت کے معاملات بھی دیکھ رہے تھے یہ 1962ء کی بات ہے شورش کاشمیری صاحب جو حمید نظامی صاحب کے دوست تھے انہوں نے مجید نظامی صاحب کو لندن میں ان کے بڑے بھائی حمید نظامی کا پیغام دیا کہ اب میری صحت جواب دے رہی ہے آپ وطن واپس آ جائو۔ سعادت مند بھائی نے اس کو حکم سمجھا اور پاکستان واپس چلے آئے۔ بھائی سے ملاقات ہوئی تو بھائی نے الوداعی جملہ کہا ’’مجید تم نے اچھا کیا چلے آئے۔‘‘ حمید نظامی صاحب کوان کے ایک عزیز دوست نے جو انتظامی معاملات دیکھتے تھے چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے اور آمر وقت ایوب خاں سے لڑتے لڑتے بستر علالت پر پہنچ گئے تھے۔ حمید نظامی مرحوم کی رحلت کے بعد اخبار کو چلانا بچوں کا کام نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے اخبار کو جو ان دنوں ہاتھ سے مینوئل طریقے سے چھپتا تھا اور اشتہارات کی بندش کی وجہ سے مالی حالات دگرگوں تھے چلانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ مجید نظامی صاحب نے شب و روز کی محنت کے بعد اخبار کو دوسرے معاصر اخبارات کے مقابل لا کھڑا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک دن مجید نظامی صاحب کی بھابھی حمید نظامی صاحب کی بیوہ نے مجید نظامی صاحب سے کہا کہ اب میں دفتر بیٹھا کروں گی جس پر مجید نظامی صاحب کو دکھ ہوا، طرح طرح کے خیالات ذہن میں آ گھسے تو بھابھی سے کہا آپ کو اگر کوئی شک ہے تو آپ سب سے پہلے اخبار کا آڈٹ کروا لیں جس پر بھابھی نے اخبار کے آڈٹ کا حکم دیا۔ آڈٹ رپورٹ بڑی واضح اور صاف تھی کہ مجید نظامی صاحب نے خون جگر سے ادارے کو سنبھالا دیا ہوا ہے، مگر اس آڈٹ رپورٹ کے آنے کے بعد بھی بھابھی نے جب آفس آنے کا اصرار کیا اور مجید صاحب کے مدمقابل آفس بنا کر بیٹھ گئیں تو مجید نظامی صاحب کو دھچکا لگا انہوں نے ’’ندائے ملت‘‘ کے نام سے ایک روزنامہ نکالنا شروع کر دیا اور خود کو نوائے وقت سے دور تو نہیں مگر الگ کر لیا مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد جب نوائے وقت اخبار کے مالی و انتظامی معاملات بیوہ بھابھی سے مزید نہ سنبھالے گئے تو انہوں نے مجید نظامی صاحب کو پیغام پہنچایا کہ آپ خاندان کے نام کی لاج رکھ لیں اور ادارے کو تباہ ہونے سے بچا لیں جس پر مجید نظامی صاحب نے جواب دیا۔ بھابھی اب اس طرح معاملات نہیں طے پائیں گے بلکہ آپ میرے ساتھ نوائے وقت کے ڈیکلریشن کی بات کر لیں جس پر خاندان کے اندر میٹنگز ہوئیں اور بالآخر 3لاکھ تیس ہزار روپے کے عوض باقاعدہ تحریری طور پر اخبار کا ڈیکلریشن مجید نظامی صاحب کے سپرد کر دیا گیا جبکہ اخبار کا پریس بدستور حمید نظامی صاحب کی بیوہ اور بچوں کے پاس رہا جو کہ آج بھی حمید نطامی کے بچوں کے پاس ہے اور نوائے وقت روزانہ لاکھوں روپے پرنٹنگ کی مد میں پریس کو ادا کر رہا ہے حالانکہ مجید نظامی نظامی چاہتے تو بعدازاں یا تو اس پریس کو خرید سکتے تھے یا پھر اپنا نیا پریس لگا سکتے تھے مگر انہوں نے مرحوم بھائی کے بیٹوں کی ’’روٹیاں‘‘ چھیننے کی بجائے ان کو اپنے بیٹے مانتے ہوئے ادارہ نوائے وقت کے تمام پرنٹنگ معاملات کا ذمہ دیئے رکھا تاکہ مرحوم بھائی کے گھر جلنے والا چولہا ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔ حالات اسی طرح آگے بڑھتے رہے اور ادارہ نوائے وقت وقت کی لہروں اور آمروں کے تھپیڑوں سے لڑتا لڑتا اس ملک کا سب سے مضبوط میڈیا گروپ بن گیا جو بچوں کے ’’پھول‘‘ ہفتہ روزہ ’’ندائے ملت‘‘ اور ’’فیملی میگزین‘‘ اور انگریزی اخبار ’’دی نیشن‘‘ اور الیکٹرانک میڈیامیں ’’وقت‘‘ چینل کی صورت میں آج اپنے نقادوں،خیرخواہوں اور بدخواہوں کی نظروں کے سامنے کھڑا ہے۔ آج ملک کے طول و عرض میں کم از کم ان الفاظ پر یقین کیا جا سکتا ہے کہ جو لوگ خبر،اداریئے اور کالم پڑھنا پسند کرتے ہیں وہ لوگ نوائے وقت کے ’’لوگو‘‘ سے لے کر بیک پیج پر ٹیلی فون اور ایڈریس تک پڑھتے ہیں۔ چند سالوں سے مجید نظامی صاحب نے جناب عارف نظامی صاحب کو’’دی نیشن‘‘ کا ایڈیٹر مقرر کیا ہوا تھا اور جناب عارف نظامی صاحب کو CPNE اور APNS کا متعدد دفعہ صدر منتخب کروایا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جناب مجید نظامی صاحب کے دل میں اپنے بھتیجوں کے لیے ایک مقام ہے۔ حمید نظامی صاحب جنہوں نے ایک آمر سے لڑتے لڑتے اپنی جان دی ان کے بھائی مجید نظامی صاحب نے چار آمروں سے لڑ کر بھی ہار نہ مانی۔ اشتہارات کی بندش مالی مسائل بھی مجید نظامی صاحب کے پائے استقلال میں لغزش نہ لا سکے جب دو دفعہ ہارٹ اٹیک ہوا تو بھتیجے جناب عارف نظامی صاحب سے کہا کہ بیٹے اب میری صحت ساتھ نہیں دے رہی میں اسّی سال سے اوپر کا ہو گیا ہوں آپکی بہن رمیضہ مجید نظامی اب آپ کے ساتھ آفس بیٹھا کرے گی جو کہ لندن سے اعلیٰ تعلیم اور میڈیا سے متعلق پروفیشنل ڈپلومہ حاصل کرکے وطن واپس لوٹی ہے۔ آپ دونوں ادارہ نوائے وقت اور ٹیلی ویژن چینل چلائو(اور بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ محترمہ رمیضہ مجید نظامی صاحبہ نے اپنے ویژن اور علم سے ڈگمگائے ہوئے وقت نیوزچینل کو نہ صرف پائوں پر کھڑا کر دیا بلکہ اب یہ چینل قومی چینل کی لسٹ پر بہتر ریٹنگ پرہے) جناب عارف نظامی صاحب جناب مجید نظامی صاحب کی بات سن کر اٹھے اور زور سے دروازہ بند کیا اور چلے گئے اور شاید ہمیشہ کے لیے مجید نظامی کے دل میں اپنا دروازہ بند کر لیا اوربعدازاں پچیس کروڑ روپے کا تقاضا کیا جس پر جناب مجید نظامی صاحب نے جناب شہبازشریف صاحب کو مصالحت کے لیے کہا تاکہ خاندان اور ادارے کی حرمت پر حرف نہ آئے۔ میاں شہبازشریف نے یہاں اپنا تاریخی رول ادا کیا۔ میاں صاحب نہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے نظریہ کے محافظ اس ادارہ اور خاندان کی بات گھر باہر نکلے اور انہوں نے جناب مجید نظامی صاحب کو راضی کر لیا کہ وہ ڈیڑھ کروڑ روپے عارف نظامی صاحب کو دے دیں۔ میاں شہباز شریف کی اس مصالحتی پیش کش کا عارف نظامی صاحب نے جواب نہ دیا اور معاملے کو غیروں کی ایما پر عدالت لے گئے۔ ان سب چیزوں کے رونما ہونے کے باوجود نظامی صاحب نے پرنٹنگ پریس کو اپنے ادارے سے علیحدہ نہ کیا۔ مجید نظامی صاحب کو ایک دن پتہ چلا کہ عارف نظامی صاحب نے لاہور کے پوش ایریا میں کروڑوں کا گھر خریدا ہے تو بلوا کر بھتیجے کو 25لاکھ روپے دیئے کہ تمہیں پیسوں کی اور ضرورت ہو گی جب ہوئے دے دینا جبکہ خود جناب مجید نظامی صاحب نے گھر بنانے کے لیے جو دو کنال جگہ خریدی تھی اس میں سے ایک کنال بیچ کر اپنے گھر کی تعمیر مکمل کروائی۔جبکہ آج چھوٹے چھوٹے اخبارات کے مالکان لاہور میں کروڑوں اور اربوں روپے کی جائیداد اور فارم ہائوسز کے مالک ہیں۔ وہ گاڑی جوجناب عارف نظامی صاحب کو آفس سے ملی تھی آج تک واپس نہیں کی۔ گذشتہ روز الحمراء ہال میں یوم حمید نظامی کے موقع پر ادارہ نوائے وقت اور خاندان کی ناموس کا جو جنازہ نکالا گیا وہ وقت لاہور کے باسیوں نے دیکھا اور پڑھا تو اہل دل کو دکھ ہوا کہ اس معاصر اخبار جس میں جناب عارف نظامی صاحب ملازمت کرتے رہے ہیں اور شاید آج بھی کر رہے ہیں نے ان کے والد جناب حمید نظامی اور چچا مجید نظامی کو دھمکیاں دیں تھیں کہ ہم نوائے وقت کا ’’بی‘‘ مار دیں گے۔ جناب عارف نظامی صاحب نے جو کیچڑ جناب مجید نظامی صاحب کی ذات پر اچالنے کی کوشش کی ہے کیا بھول گئے ہیں کہ خود اس معاصر اخبار کے مالکان پاکستان کے میڈیا ’’مغل‘‘ کہلواتے ہیں اور میڈیا میں کنگ میکرز کی اصلاح انہوں نے ایجاد کی۔ اس جنونی میڈیا گروپ اور امن کی آشائوں نے جو جنگ صحافتی میدان میں نوائے وقت سے ہاری ہے اسے گھر کے ایک بھیدی کو ورغلا کر وہی جنگ عدالتوں میں جیتنا چاہتے ہیں جبکہ جناب عارف نظامی صاحب ذرا خواب خرگوش سے جاگیں تو انہیں احساس ہوگا کہ جس دن انہوں نے اپنے انگریزی اخبار کی ’’لاچنگ‘‘ کی تو اداریئے میں اپنے باپ کی نشانی ادارہ نوائے وقت اور اپنے خاندان کے خلاف اتنا زہر اگلا کہ پڑھنے والے دنگ رہ گئے جبکہ اسی دن کے نوائے وقت میں جناب مجید نظامی صاحب نے اپنی اور ادارہ نوائے وقت کی طرف سے اشتہار لگو اکر انہیں مبارک باد دی اور ان کے انگریزی اخبار کے لیے تہہ دل سے دعائیں دیں۔ جناب عارف نظامی صاحب یہ ہوتا ہے فرق اپنوں اور غیروں میں۔ آج آپ جن لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں وہ لوگ آپ کے والد کی نشانی نوائے وقت اور آپ کے خاندان کی عزت کے رکھوالے نہیںہو سکتے۔ خاندانوں کے اندر بیشتر اوقات اونچی نیچی بات ہو جاتی ہے۔ آپ بڑے باپ کے بیٹے ہو یقینا یہ آپ کے گھر کا معاملہ ہے اس پر مجھ سمیت کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ ہم لب کشائی یا قلم آزمائی کریں یہ آپ کے گھر آپ کے خاندان کا معاملہ ہے۔یقینا غیروں کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے لیکن بے شمار اپنوں کے دل رنجیدہ کرکے۔ جناب عارف نظامی صاحب آپ کی چچی جناب مجید نظامی صاحب کی اہلیہ کی وفات کے بعد رسم قل کے موقع پر آپ کے جذبات آپ کے چہرے سے عیاں تھے۔ آپ تعزیت کرنے والوں سے اپنے چہرے پر عیاں جذبات نہ چھپا سکے۔ مگر سوچیئے یہ ادارہ نوائے وقت پاکستان کی پہچان کا نام ہے،اس کی ناموس پاکستان کی ناموس ہے، صرف چند ٹکوں کی خاطر اپنی عزت اورادارے کی ناموس کو دائو پر نہ لگائیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus