×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھٹو کی زندگی کی آخری رات
Dated: 04-Apr-2011
آج قائدعوام شہید ذوالفقارعلی بھٹوکی 32واںیوم شہادت ہے اور ہر سال اس موقع پر پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے عوام کو مژدہ سنایا جاتا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ری اوپن کرکے اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ ایسا ہی طریقہ واردات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی یوم شہادت یا ان کی سالگرہ کے موقع پر پچھلے تین سالوں سے کیا جا رہا ہے کہ قاتل پکڑ لیے گئے ہیں،کیس حل ہو چکا ہے مگر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام بھٹوز کی چاہت کے دیوانے یقینا یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر کب تک تم جیالوں کے ارمانوں سے کھیلوں گے۔ ’’تم کتنے بھٹو مارو گے۔ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔‘‘میں قارئین نوائے وقت کے ساتھ شہید قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کی آخری رات کے کچھ ایسے خصوصی پہلو ئوں پر روشنی ڈالوں گا جو شاید ابھی تک پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا نہ دکھائے اور پرنٹ کیے گئے ہوں گے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹوکو 3 اور 4 اپریل کی درمیانی شب 2 بجے تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ دو بجے پھانسی دینا جیل قوانین کے منافی ہے اور عام طور پر موت کی سزا پانے والوں کو صبح طلوع ہونے سے کچھ وقت پہلے پھانسی دی جاتی ہے لیکن جنرل ضیاء اور ان کے حواریوں نے یہی بہتر جانا کہ بھٹو کو رات کے اندھیرے میں پھانسی دی جائے تاکہ راتوں رات ان کی میت کو لاڑکانہ پہنچا دیا جائے اور عوام تک اس پھانسی کی خبر پہنچنے سے پہلے انہیں دفن بھی کر دیا جائے۔ جناب بھٹو کو چونکہ رات کے اندھیرے میں موت کے گھاٹ اتارا گیا اور اس سے قبل سینٹرل جیل راولپنڈی کو اس طرح سیل کر دیا گیا تھا کہ نہ کوئی چیز جیل کے اندر جا سکتی تھی اور نہ جیل سے باہر لائی جا سکتی تھی جیل کے تمام ٹیلی فون کنکشن کاٹ دیئے گئے تاکہ جیل کے اندر کسی قسم کے رابطہ کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔اس وحشت ناک ماحول میں جناب بھٹو پر پھانسی سے پہلے اور پھانسی کے وقت کیا گزری اس کے بارے میں حتمی طورپر تو کچھ نہیں کہا جا سکتامگر اکثر لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ پھانسی سے قبل جناب بھٹو پر تشدد کیا گیا اور اسی تشدد سے ان کی موت واقع ہو گئی تاہم اس بات کی تصدیق یا تردید تو صرف وہ چند افراد ہی کر سکتے ہیں۔ جوپھانسی کی رات جناب بھٹو کے اردگرد موجود تھے اور ظاہرہے یہ وہ لوگ تھے جو کسی بھی صورت میں جناب بھٹو کے حامی نہیں تھے ان افراد میں مارشل لاء انتظامیہ کی طرف سے مقررہ کردہ سپیشل سیکورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین بھی شامل تھے جن کے متعلق یہ اطلاع بھی بعض ذرائع ابلاغ تک پہنچی کہ انہوںنے جناب بھٹو پر تشدد کیا۔ کہا جاتا ہے کرنل رفیع اپنے چند ساتھیوں سمیت بھٹو صاحب کے پاس آئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک دستاویز تھی جس پر انہوں نے بھٹو صاحب کو دستخط کرنے کے لیے کہا بھٹو صاحب نے مبینہ طور پر اس دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت بھٹو صاحب کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ صحت متاثر ہو چکی تھی جناب بھٹو اس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ کرنل کے بار بار اصرار کے باوجود جب بھٹو صاحب نے انکار جاری رکھا تو کرنل نے انہیں اٹھنے کا حکم دیا۔ بھٹو نے یہ حکم اَن سنا کر دیا جس پر کرنل نے زبردستی انہیں اٹھا لیا اور زور سے دھکا دیا۔ بھٹو دیوار سے جا ٹکرائے اس کے ساتھ ہی کرنل نے ان پر لاتوں اور گھونسوں کی بوچھاڑ شروع کر دی اسی مار پیٹ میں بھٹو صاحب کے ہاتھ سے سونے کی انگوٹھی بھی نکل کر گر گئی اور چھوٹی میز پر پانی کا رکھا ہوا گلاس بھی ٹوٹ گیا اس تشدد کے باوجود بھٹو صاحب نے تحریر پر دستخط کرنے سے انکار جاری رکھا تو تھک کر کرنل نے جناب بھٹو کو زخمی حالت میں وہیں چھوڑا اور چلا گیا ان کی پسلیوں میں شدید چوٹیں آئیں۔ آخری رات جناب بھٹو کے پاس موجود انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب چودھری نذیر اختر، جیل سپرنٹنڈنٹ چودھری یار محمد، سپیشل سیکورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین، جیل کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اصغر علی شاہ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل مسٹر مجید قریشی، مجسٹریٹ بشیر احمد خان اور جلاد تارا مسیح کے مختلف انٹرویوز جو جناب بھٹو کی پھانسی کے کچھ عرصہ بعد مختلف اخبارات و جرائد اور کتابوں میں شائع ہوئے ان کے مطابق بیگم نصرت بھٹو اور مس بے نظیر بھٹو سے آخری ملاقات کے بعد جناب بھٹو ذہنی طور پر پھانسی کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے بتایا کہ پھانسی کی رات جب ایک بجے کاظم بلوچ اور مجید قریشی نے بھٹو کو گہری نیند میں سوئے ہوئے پا کر اور یہ سوچ کر شاید وہ زندہ نہیں رہے تھے، پریشانی کے عالم میں مجھے آ کر بھٹو کے متعلق یہ اطلاع دی کہ انہیں نہ معلوم کیا ہو گیا ہے تو میں نے اپنا میڈیکل بکس اٹھایا اور بھاگم بھاگ بھٹو کی کال کوٹھڑی میں پہنچ گیا۔ میں نے کال کوٹھڑی میں جا کر دیکھا، سابق وزیراعظم بلاشبہ بے حس پڑے تھے، وہ انتہائی گہری اور پرسکون نیند سو رہے تھے۔ میںنے اسٹیتھواسکوپ ان کے سینے پر رکھی اوران کو زندہ سلامت محسوس کرکے مجھے اندر ہی اندر بے پناہ خوشی۔ محسوس ہوئی میں نے انہیں اوپر تلے دو تین آوازیں دیں، وہ بیدار تو نہیں ہوئے البتہ اس دوران انہوں نے نیند میں خراٹے لینے شروع کر دیئے، اس دوران سپرنٹنڈنٹ جیل اور بعض دیگر حکام بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ بھٹو کو خراٹے لیتے دیکھ کر وہ لوگ اطمینان سے واپس ہو گئے۔ جبکہ مجید قریشی کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ بھٹو صاحب کو نیند سے بیدار کرکے،پھانسی کی آخری رسومات کے لیے تیار کریں، ایک گھنٹہ بعد انہیں تختہ دار پر کھینچا جانے والا تھا۔ انہیں یہ بات معلوم تھی کہ وہ 5 اپریل کا طلوع آفتاب اپنی زندگی میں نہیں دیکھ سکیں گے۔ موت کا تصور، بہت جی دار لوگوں پر خوف اور لرزہ طاری کر دیتا ہے اور پھانسی کے منتظر اکثر لوگ اپنی بہت سی راتیں جاگ کر گزارتے ہیں وہ سونا چاہتے ہیں مگر ان کے اعصاب پر موت کا خوف کچھ طرح طاری ہوتا ہے کہ انہیں کوشش کے باوجود نیند نہیں آتی ایک یہ شخص تھا، بظاہر انتہائی کمزور اور ناتواں کہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں اس کی موت کا چرچا تھا گھر گھر اس کی متوقع پھانسی کا ذکر تھا۔وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی شام زندگی سے بہت زیادہ قریب ہو چکاہے مگر موت سے صرف ایک گھنٹہ پہلے وہ انتہائی پرسکون نیند سویا ہوا تھا۔ جب جیل حکام کی طرف سے بھٹو کو آگاہ کر دیا گیا کہ بیگم نصرت بھٹو اور مس بے نظیر سے ان کی آخری ملاقات ہے یہ سب کچھ جان لینے کے بعد بھی جس سکون اور اطمینان کی نیند وہ سو رہے تھے، یہ ان کے غیر معمولی اور بڑا آدمی ہونے کا ثبوت تھا۔ ڈاکٹر اصغر علی شاہ کے مطابق، انہوں نے جب بھٹو کو پھانسی سے ایک گھنٹہ پہلے سکون اور اطمینان کی نیند سوتے ہوئے دیکھا تو انہیں گمان گزرا کہ جیسے بھٹو نے اپنی متوقع پھانسی پر یقین نہیں کیا تھا۔ ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے بتایا کہ جب مجید قریشی بھٹو کو نیند سے بیدار کرنے میں ناکام رہا تو اس نے نبض دیکھنے کے بہانے بھٹو کی کلائی پکڑ کر انہیں جھٹکا دیا بھٹو نے نیم غنودہ کیفیت میں پوچھا ’’کون ہے؟‘‘ میں نے بتایا کہ میں ڈاکٹر اصغر ہوں اور مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے،بھٹو نے کہا ’’مجھے کچھ نہیں ہوا ڈاکٹر میں بالکل تندرست ہوں، جائو مجھے آرام کرنے دو‘‘ اس موقع پر مجید قریشی نے کہا سر! آپ کا آخری وقت قریب آ چکا ہے۔بھٹو مجید قریشی کی اس بات پر اٹھ کر بیٹھ گئے۔ میں نے کہا سر! قریشی ٹھیک کہتاہے، آپ اٹھ کر غسل کر لیں ایک بج چکا ہے، آپ کو دو بجے پھانسی دے دی جائے گی۔ مجید قریشی نے کہا سر! گرم پانی کا انتظام موجود ہے اور پھانسی کے مرحلے کی طرف بڑھنے سے پہلے آپ کا غسل کرنا ضروری ہے، بھٹو نے جواب دیا، میں پاک صاف ہوں، مجھے غسل کی ضرورت نہیں ہے البتہ اس وقت مجھے کافی کی طلب ہو رہی ہے اس دوران سیکورٹی فوج کے بعض افسران سمیت جیل کے تمام اعلیٰ افسران بھٹو کی کوٹھڑی میں پہنچ گئے۔ بھٹو نے ان سب کے چہروں کو دیکھا۔ بشیر احمد خان مجسٹریٹ نے ان سے کہا ’’سر آپ نے کوئی وصیت لکھی ہو تو میں اس پر تصدیق ڈال دوں، بھٹو مسکرائے اوربولے ’’کیا بھٹو کے قلم سے لکھی گئی وصیت کوکسی چوہے افسر کی تصدیق کی ضرورت ہے۔‘‘ سیکورٹی کے انچارج افسر بولے اب وصیت لکھنے کا وقت گزر چکا ہے، یا رمحمد بلیک وارنٹ کی عبارت پڑھ کر سنائو۔‘‘جیل سپرنٹنڈنٹ نے بلیک وارنٹ پڑھ کر سنایا اور بھٹو سے پوچھا۔ ’’سر! آپ نے یہ سب سن لیا ہے۔‘‘ بھٹو نے یار محمد کی بات کو نظرانداز کرکے کہا۔’’مسٹر مجید قریشی میں نے تمہیں کافی کے لیے کہاتھا۔ سیکورٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ افسر نے اپنی کلائی گھڑی پر سے وقت دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اب شاید بھٹو صاحب کی اس خواہش کو پورا کرنے کا وقت بھی باقی نہیں رہا ہے۔‘‘بھٹو صاحب بولے تم سب جلاد ہو، مجھے پھانسی دینے کے لیے بائولے ہو رہے ہو نہ وصیت لکھنے دیتے ہو اور نہ ہی ایک کپ کافی کا دے رہے ہو، جو جی میں آتا ہے کرو میں تعاون نہیں کرتا یہ کہہ کر بھٹو دوبارہ لیٹ گئے۔یار محمد نے کہا۔ ’’سر! آپ کے لیے اسٹریچر منگوایا جائے یا آپ پھانسی گھاٹ تک چل کر جانا پسند کریں گے۔‘‘بھٹو نے کوئی جواب نہیں دیا، انہوں نے آنکھیں موندھ لیں اور کروٹ بدل کر یہ ظاہر کیا کہ انہیں کسی کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے، چودھری نذیر اختر نے بھٹو کو مخاطب کرکے کہا۔ ’’سر! ہم حکم کے بندے ہیں، ہماری مجبوریوں کا خیال کریں۔‘‘بھٹو نے آنکھیں کھول دیں اور اٹھ کر بیٹھ گئے اور بولے، ’’تم لوگ یہ تو کر سکتے ہو کہ ٹیلی فون پر میری وائف سے میری گفتگو کرادو۔‘‘چودھری نذیر اختر نے کرنل رفیع کی طرف دیکھا، کرنل رفیع نے برہم ہو کر کہاچودھری صاحب آپ جانتے ہیں کہ اس و قت ہمارے پاس ٹیلی فون کا رابطہ نہیں ہے،پلیز اسٹریچر منگوائو اور جلدی کرو۔ کرنل رفیع کی اس بات پر بھٹو نے کہا اوہ! آئی سی۔ کرنل رفیع کی بات کوٹھڑی سے باہر کاریڈور میں کھڑے سپاہیوں نے سن لی تھی جیل پولیس کے چند سپاہی اسٹریچر لے کر کوٹھڑی میں آگئے، دو سپاہیوں نے سپرنٹندنٹ جیل کے اشارے پر بھٹو کو اٹھا کر اسٹریچر پر بٹھا دیا اور ایک تیسرے سپاہی نے ان کے بازو آگے کرکے ہتھکڑی لگا دی، اس وقت بھٹو اسٹریچر پر اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور حسرت بھری نظروں سے اس کال کوٹھڑی کو دیکھ رہے تھے شاید وہ ان دیواروں سے مانوس ہو گئے تھے۔شاید اس کوٹھڑی کی فضاء سے فرقت کا احساس انہیں گھائل کر رہا تھا، ممکن ہے انہیں اس وقت اپنے وہ پیارے یاد آ رہے ہیں، جو ان سے ملنے کے لیے اس کوٹھڑی تک آتے رہے تھے۔ شاید بیگم نصرت بھٹو کی سانسوں کا ارتعاش اور مس بے نظیر بھٹو کی سرگوشیاں ان کے احساس کو چھیڑ رہی ہوں،جب وہ اسٹریچر کو اٹھانے لگے تو بھٹو صاحب نے کہا ’’میں خود چل کر سوئے دار پہنچوں گا۔‘‘ انہوں نے کسی کے جواب کا انتظار نہیں کیا اور اٹھ کر اپنی کال کوٹھڑی سے کاریڈور میںچلے آئے، سیل کا گیٹ عبور کرتے وقت ان کا سر آہنی گیٹ سے ٹکرا گیا اور وہ گرتے گرتے بچے انہوں نے ابھی چند قدم ہی اٹھائے ہوں گے کہ انہیں ایک ٹھوکر لگ گئی، یار محمد نے کہاسر! بہتر ہے، اسٹریچر پر بیٹھ جایئے پھانسی گھاٹ خاصا دور ہے، بھٹو نے کوئی جواب نہیں دیا جیل کے دو سپاہیوں نے اسٹریچر ان کے آگے پھیلا دیا، وہ اسٹریچر پہ ایک مرتبہ پھر بیٹھ گئے چار سپاہیوں نے اسٹریچر اٹھایا اور یہ قافلہ کال کوٹھڑی سے پھانسی گھاٹ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ایک روز پہلے بارش کی وجہ سے راستہ خاصا خراب تھا، سب لوگ آگے پیچھے مختلف ٹولیوں میں بٹ کر پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھ رہے تھے، جن سپاہیوں نے اسٹریچر اٹھا رکھا تھا، وہ چاروںآبدیدہ تھے۔ اسٹریچر کو پیچھے سے جن سپاہیوں نے اٹھایا ہوا تھا ان میں سے ایک تو باقاعدہ سسکیاں بھر رہا تھا، بھٹو نے چہرہ گھما کر دیکھے بغیر کہا ’’تم کیوں روتے ہو جوان، پھانسی تو مجھے دی جا رہی ہے۔‘‘جیل کے اس سپاہی کی سسکیاں پھر بھی جاری رہیں، حتیٰ کہ پھانسی گھاٹ آ گیا اور پھانسی گھاٹ کے چبوترے سے کچھ فاصلے پر اسٹریچر رکھا جا چکا تھا تو مجید قریشی نے اسٹریچر پر بیٹھے ملک کے سابق وزیراعظم کے کان میں سرگوشی کی کہ سرتاریخ آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔بھٹو نے آنکھ اٹھا کر مجید قریشی کی طرف دیکھا اور بولے ’’تاریخ تم سب کو بھی دیکھ رہی ہے۔‘‘ اور وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے، انہوں نے انگریزی زبان میںکچھ کہا جیل کے بعض افسران کہتے ہیں انہوںنے اپنے ملک کے لیے یہ کہا تھا کہ ملک کا لیڈر اس سے چھینا جا رہاہے۔ اس دوران ان کی ہتھکڑی کھول کر ان کے ہاتھوں کو پیچھے لے جا کر دوبارہ ہتھکڑی لگا دی گئی ان سے پوچھا گیا کہ وہ خود پھانسی کے چبوترے پر چڑھ سکیں گے، انہوںنے جواب دیئے بغیر چبوترے کی طرف قدم بڑھا دیئے اور خود کلامی کے سے انداز میں بولے۔’’یہ مجھے تکلیف دیتا ہے‘‘ان کا اشارہ غالباً ہاتھوں کے باندھے جانے کی طرف تھا، جب وہ پھانسی کے چبوترے کی طرف بڑھ رہے تھے بظاہر کسی کو بھی یہ یقین نہیں تھا کہ وہ آٹھوں زینے چڑھ سکیں گے کیونکہ ان کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں، وہ انتہائی کمزور اور لاغر دکھائی دے رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں اس طرح لگتی تھیں جیسے کسی بچے کی نحیف ٹانگیں ہوں یہ ٹانگیں عام آدمی کے بازوئوں سے مشابہ تھیں جب انہیں 70 کلفٹن سے گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل میں بند کیا گیا تھا اس وقت ان کا وزن ایک سو ساٹھ پونڈ تھا اور آج جب وہ تختہ دار کی طرف قدم اٹھا رہے تھے، وہ صرف 80 پونڈ کے رہ گئے تھے۔ پھانسی کے چبوترے پر کھڑے ہو کر ملک کے سابق وزیراعظم نے گیس لیمپوں کی روشنی میں اور چاندنی میں دکھائی دینے والے آس پاس کے چہروں پر نظر ڈالی بہت سے شناسا چہروں میں چند چہرے بالکل اجنبی تھے، انہوں نے گردوپیش پرنظر ڈالی اور بولے ’’وہ دوسرے کدھرہیں۔‘‘ شاید انہوں نے پوچھا تھا کہ نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل میں سزا پانے والے دوسرے لوگ کہاں ہیں۔ بہت سے سننے والوں کو یہ بات سمجھ نہیںآئی کہ انہوں نے کیا پوچھا تھا۔ بھٹو نے اپنے شناسا چہروں کی طرف دیکھا اور آٹھویں چبوترے پر کھڑے ہو کر اپنا دایاں پائوں اوپر اٹھایا اور زور سے چبوترے پر دے مارا۔تارا مسیح نے ان کے چہرے پرنقاب چڑھائی تو انہوں نے اس پر احتجاج کیا اور کہا ’’اتار دو، اس کی ضرورت نہیںہے۔‘‘تارا مسیح نے نقاب چڑھانے کے بعد ان کے گلے میں رسی ڈال کر گرہ لگا دی، ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے کہا ’’سر! اپنا سانس اوپر کھینچ لیں‘‘ جب ڈاکٹر ان سے یہ کہہ رہا تھا، بھٹوصاحب بھی اپنے منہ میں کچھ کہہ رہے تھے، انہوں نے زندگی کے آخری لمحات میں خدا کو یاد کیا تھا۔ ابھی پھانسی کا لیور نہیںکھینچا گیا تھاکہ انہوں نے تقریباًچیختے ہوئے کہا ’’ فنِش اِٹ‘‘ تاہم بی بی سی پر بھٹو کی پھانسی کی خبر نشر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ پھانسی چڑھتے وقت بھٹو کے آخری الفاظ تھے___ اے خدا میری مدد فرما…اے خدا میرے پاکستان کی مدد فرما۔ اے خدا میں بے گناہ ہوں۔ یہ وہ آخری الفاظ تھے جو انہوں نے کہے، اس وقت دو بج کر پانچ منٹ ہو چکے تھے، سپرنٹنڈنٹ جیل کے اشارے پر پھانسی کا لیور گرا دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر گیارہ فٹ گہرے گڑھے میں معلق ہو گیا۔پھانسی کے بعد لاش کو عام طور پر آدھ گھنٹہ سے پون گھنٹہ تک لٹکتے رہنے دیا جاتا ہے، مگر اس پھانسی کے بعد بعض افسروں کو اس قدر بے چینی تھی کہ ڈاکٹر کو صرف چند منٹ بعد پھانسی گھاٹ کے اندر جا کر چیک کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے پھانسی گھاٹ کے اندر ملک کے سابق وزیراعظم کو لٹکتے دیکھ کر ان کی نبض دیکھی، انہیں لمحہ بھر کو یوں لگا، جیسے وہ ابھی زندہ ہوں اورپھر اگلے لمحے انہیں یوں محسوس ہوا جیسے انہوں نے بھٹو کی روح کو اپنی آنکھوں کے سامنے ان کے قفس عنصری سے نکل کر خلا میں تیرتے ہوئے دیکھا ہو، ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے بتایا کہ پھانسی گھاٹ میں بھٹو کی لاش لٹکتے دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئے تھے، حالانکہ اس وقت تک پھانسی گھاٹ میں ان کے علاوہ جیل کے چند افسر بھی آ چکے تھے، ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے اسٹیتھواسکوپ سے سابق وزیراعظم کے سینے میں حرارت کا معائنہ کیا، حرکت قلب بند ہو چکی تھی، ڈاکٹر نے باہر نکل کر سابق وزیراعظم کی موت کی تصدیق کے لیے بعض کاغذات پر دستخط کیے، بشیر احمد خان مجسٹریٹ نے ان کاغذات پر تصدیق ڈالی۔ سپرنٹنڈنٹ جیل یار محمد نے بلیک وارنٹ پر لکھا کہ مجرم کو پھانسی پر لٹکا کر مار دیا گیا ہے اور اس کے نیچے اپنے دستخط کر دیئے۔ دستخطوں کی اس کارروائی میں دس پندرہ منٹ اور گزر گئے آدھ گھنٹہ کے بعد جیل کے دو افسر، جلاد تارا مسیح کے بھانجے سمیت پھانسی گھاٹ کے اندر شہید بھٹو کی لاش کو اتارنے کے لیے چلے گئے، لاش کے گلے سے پھندا اتار کر لاش کو اسٹریچر پر ڈال کر پھانسی گھاٹ سے باہر نکالا گیا مجید قریشی نے بتایا کہ جب وہ پھانسی گھاٹ کے اندر پہنچا اور اس نے صادق مسیح کی مدد سے لاش کو اسٹریچر پر ڈالا تو اسے ایک دم یہ خیال آیا کہ پھانسی پر لٹکنے سے پہلے شہید بھٹو نے ایک طلائی انگوٹھی پہن رکھی تھی مجید قریشی نے صادق مسیح سے انگوٹھی کے بارے میں استفسار کیا۔ صادق مسیح انگوٹھی کو ابھی تک اپنی مٹھی میں دبائے ہوئے تھا۔ اس نے بوکھلاہٹ میں اپنی ہتھیلی کھول دی، طلائی انگوٹھی فرش پر گر گئی مجید قریشی نے یہ انگوٹھی اٹھا لی ا ور اسے امانت کے طور پر اپنے پاس محفوظ کر لیا، بعد میں مجید قریشی نے سہالہ کیمپ جیل میں جا کر یہ انگوٹھی مس بے نظیر بھٹو کے سپرد کر دی۔یہ شہید بھٹو کی شادی کی انگوٹھی تھی، بیگم نصرت بھٹو کی طرف سے شہید بھٹو کے لیے پیار کا سب سے پہلا تحفہ تھا، جب یہ انگوٹھی مس بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ تک پہنچائی تو اس انگوٹھی کو دیکھ کر بیگم نصرت بھٹو زاروقطار رو پڑیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسوئوں کا دریا پھوٹ نکلا، وہ کچھ لمحے اونچی اونچی بے اختیار سسکیاں لیتی رہی شاید انہیں اپنے محبوب شوہر کی رفاقتیں، محبتیں اور ان کے عروج و زوال کے گزرے ہوئے لمحے یاد آ گئے تھے۔ بھٹو کی لاش کو پھانسی گھاٹ میں سے نکال کر کچھ فاصلے پر ایک کونے میں غسل کے لیے لے جایا گیا، غسل کا انتظام پہلے سے کیا جا چکا تھا۔ مولوی محمد حیات نامی ایک شخص کو پولیس ایک روز پہلے سے غسل کے لیے پکڑ لائی تھی، مولوی محمد حیات نے بھٹو کی میت کو غسل دیا۔ اس وقت بھٹو جیل کے لباس میں نہیں تھے انہوں نے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ بقول مولوی حیات محمد کے انہوں نے سینکڑوں مردوں کوغسل دیا تھامگر جس قدر عقیدت کے ساتھ اس نے بھٹو کی میت کو غسل دیا وہ شاید ہی اتنی عقیدت سے کسی دوسرے کو غسل دے سکے۔ بھٹو کی میت انتہائی ہلکی پھلکی تھی، بالکل کسی بچے کی طرح یہ غسل د وگیس لیمپوں کی روشنی میں دیا گیا تھا۔ غسل کے بعد اس نے بھٹو مرحوم کی میت کو چار پائی پر ڈالا اور جیل حکام کی طرف سے مہیا کیا گیا کفن اوڑھا دیا۔ بھٹو کا چہرہ انتہائی معصوم اور پروقار تھا، یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی معصوم بچہ ہو، جیسے کسی فرشتے کا چہرہ ہو، چہرے سے روشنی کی لہریں پھوٹ رہی تھیں، جس وقت بھٹو کو غسل دیا گیا۔ جیل کے احاطے میں بہت سے لوگ کھڑے تھے مگر ہر سو سکوت طاری تھا، سناٹا اور خاموشی تھی جیسے سارا ماحول سوگوار ہو گیا ہو، کسی مدھر اور بے کیف نغمے کی طرح۔ مولوی حیات محمد نے بتایا کہ بھٹو کی میت اس قدر ہلکی تھی کہ وہ آسانی کے ساتھ اکیلا اس میت کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا سکتا تھا۔مولوی حیات محمد نے بتایا کہ غسل سے پہلے اور بعد میں ایک فوٹوگرافر نے بھٹو کی میت کی تصویریں بنائی تھیں وہ لمحے انتہائی ستم ظریف تھے کہ پاکستان کا ایک ’’بادشاہ‘‘ اگلے جہان جا رہا تھا مگر اس کی میت کو غسل دیئے جانے کے وقت جیل میں کوئی بھی فاتحہ پڑھنے والا موجود نہیں تھا۔ شاید وہ اکیلا شخص تھا جس نے جیل میں بھٹو شہید کی میت پر فاتحہ پڑھی تھی، مولوی حیات محمد نے بتایا کہ جیل والوں نے اگلے روز اسے رخصت کرتے وقت 30 روپے معاوضہ دینا چاہا تھا مگر اس نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔مولوی حیات محمد بھٹو کی میت کو غسل دے کر کفن اوڑھا چکے تو میت پر مختلف خوشبوئوں کا چھڑکائو کیا گیا، یہ خوشبوئیں پھانسی کی نگرانی کرنے والے فوجی ہی لائے تھے،بھٹو کی میت کو تابوت میں رکھ کر راولپنڈی سنٹرل جیل کے مین گیٹ کے بجائے عقبی دیوار توڑ کر باہر نکالا گیا اور ایک ویگن میں رکھ کر ایئر پورٹ تک لے جایا گیا۔ جیل کے مین گیٹ کی طرف سے تابوت کو محض اس لیے نہیں نکالا گیا کہ اس طرف سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جیل کا گھیرائو کر رکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کی میت کوجس خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے سکھر لے جایا جا رہا تھا، اس کے پائلٹ کو اس بات کا علم تک نہیں تھا کہ وہ کس مشن پر جا رہا ہے پرواز کے دوران اسے سیکنڈ پائلٹ نے جب یہ بتایا کہ طیارے میں بھٹو کی میت کو لے جایا جا رہا ہے تووہ اس قدر آزردہ خاطرہوا کہ طیارے پر کنٹرول نہیں رکھ سکا اور اسے اپنے حوا س پر قابو پانے کے لیے طیارے کو راستے میں کچھ دیر کے لیے سرگودھا ایئر پورٹ پر اتارنا پڑا، طیارے کا پائلٹ سابق وزیراعظم کی پھانسی اور ان کی معیت کے طیارے میں موجود ہونے کی خبر پر حواس باختہ ہو گیا تھا اور شاید یہ بہت حد تک ایک فطری رویہ بھی تھا۔ اس طیارے کی اسلام آباد سے پرواز کے ساتھ، ایک عظیم سیاست دان اور کروڑوں عوام کے محبوب ترین قائد کے عروج و زوال کی کہانی بظاہر مشکل ہو گئی تھی مگر یہ سفر ابھی باقی تھا، بھٹو کے عروج اور اقتدار کا سفر ابھی باقی تھا، بھٹونے ایک زمانے میں مس بے نظیر بھٹو کو کہا تھا۔ ’’میں قبر میں لیٹ کر اس ملک پر حکومت کروں گا۔‘‘ اور اس وقت کو واپس لانے کے لیے سابق وزیراعظم نے اپنی نوجوان بیٹی کو اپنی وارث قرار دیا تھا، اسے تلقین کی گئی تھی، کہ وہ اپنے پاپا کی کھوئی ہوئی کرسی حاصل کیے بغیر اپنے لیے شہنائیوں کی بزم نہیں سجائے گی، سعادت مند بیٹی نے اپنے عظیم باپ کے اس حکم کو دل و جان سے قبول کر لیا اور وہ اپنے باپ کی طرح خود بھی امر ہو گئی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus