×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جمہوریت کے ثمرات۔سستا خون مہنگا تیل
Dated: 06-Apr-2011
پاکستان غیروں کی جنگ کو اپنی دہلیز تک کھینچ کے لے آیا ہے اسی جنگ میں اب تک ہمارے ہزاروں شہری اور پاک فوج کے سینکڑوں جوان اور افسران جام شہادت نوش کر چکے ہیں، ہماری معیشت زمین بوس ہو گئی ہے۔ ہمارا زمینی انفراسٹکچر تباہ ہو گیا ہے۔ ہمارے ملک میں غیرملکی انویسٹمنٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ قرضوں کا بوجھ 63ارب ڈالر سے اوپر ہو گیا ہے جبکہ امریکہ کی طرف سے ہمیں ملنے والا ’’لالی پوپ‘‘ہمارے زخموں پر مرہم کے بھی برابر نہیں۔ اور جو امداد پچھلے دس سالوں میں پاکستان کو دی گئی ہے وہ سابق آمر جنرل مشرف اور اس کے حواریوں نے آپس میں بانٹ کر پھر امریکی و برطانوی بنکوں میں ڈیپازِٹ کروارکھی ہے۔ جبکہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا انسانی قیمتی جانوں کا جو ہوا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کیمطابق 40ارب ڈالر کا نقصان غیروں کی جنگ میں کودنے کی صورت میں قوم کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ہر پاکستانی شہری کا ایک ایک بال قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور پوری معیشت لولی لنگڑی ہو گئی ہے اور ہم ان زمینی حقائق کی موجودگی کا اعتراف بھی نہیں کر رہے۔ عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھا جا رہا ہے،آج سیاست کی ترجیہات بدل گئی ہیں۔ عوام کو اعتماد میں لینے کی بجائے سامراجی آقائوں کی خوشنودی ہماری منزل ہے۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے جب بھی خطے میں اپنے مقاصد کی تکمیل چاہی ہمیشہ پاکستان پر تب ہی ایک نیا آمر مسلط کر دیا۔ 70ء کے آخری عشرے میں جنرل ضیاء الحق کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور آمر ضیاء نے اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے امریکی جنگ کو پاکستان اور گرم پانیوں کی جنگ بنا کر ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر سے متعارف کروایا اور جہیز کے طور پر 50لاکھ مہاجرین بمعہ اسلحہ وسازوسامان کے ہماری سرزمین پر دھکیل دیئے جو اس لڑکھڑاتی قوم پر ایسا بوجھ بن گئے جس کے نیچے سے ہم آج تک باہر نہیں آ سکے۔ پھر امریکہ نے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے خلاف نائن الیون کا ڈرامہ رچایا اور خوفزدہ کرکے مسلم اور عرب ممالک کو کھربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا اور لاکھوں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی۔ تب بھی ایک آمر جنرل مشرف نے آدھی رات کے اندھیرے میں ایک سیاہ فیصلہ لیا اور قوم کولائن کے اس پار کھڑا کر دیا۔ جس کا اب تک بھاری بھرکم خمیازہ ادا کرکے بھی قوم یہ لائن واپسی کراس نہ کر سکی ہے۔ آج گولے، بارود اور دھماکوں کی آوازوں سے پورا ملک سکتے کی حالت میں ہے۔ ہم نے اس جنگ میں اپنے قیمتی جرنیل کھوئے،شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی صورت میں سیاسی قیادت کھوئی، ہماری سیاہ تارکول کی سڑکیں سرخ خون میں نہا گئیں۔ بحرانوں کے دوران روٹی، کپڑا، مکان تو کیا ہم سے سوکھا نوالہ بھی چھین لیا گیا۔ انسان کی بنیادی ضروریات اس قوم کے لیے ایک سرآب بنا دی گئیں۔ سات ارب کی آبادی کی اس دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہوگا جہاں لوگ آٹے، چینی، دودھ اور تیل کے لیے پریشان پھرتے ہوں گے۔ پچھلے تین سالوں میں مہنگائی کا اژدھا اپنا منہ کھولے ارض پاک کے ہر فرد کو اپنے زیریلے پھن سے ڈس چکا ہے۔ ایک انداز ے کے مطابق ضروریات زندگی کی تمام اشیاء 400فیصد مہنگی ہو گئی ہیں جو دہشت گردی اور بم دھماکوں سے بچ جاتے ہیں وہ خودکشی کرنے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔ ڈرون حملے ہماری سلامتی کے منہ پر کسی طمانچے سے کم نہیں۔ امن کے نام پر ہمارا دشمن بھارت ہماری سرحدوں کو پامال کر رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پی کے میں کھلم کھلا دراندازی ہماری قومی غیرت کے لیے ایک سوال بن چکا ہے؟ صاحب حیثیت لوگ دھڑا دھڑ وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک میں امیگریشن کے حصول کے لیے کوشاں ہیں اور جو باہر جانا ایفورڈ نہیں کر سکتے وہ اس ملک میں اسی دھرتی پر موت کے انتظار میں جان ہتھیلیوں پر لے کر سسکتے پھر رہے ہیں۔ کوئی شہر، کوئی قصبہ، کوئی گائوں، کوئی گلی محفوظ نہیں۔ سیاست دانوں کو آپس میں لڑا کر سیاست کو شجرِ ممنوعہ بنایا جا رہا ہے اور غیرملکی جاسوس اس ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں، جو موت کے سوداگروں کی طرح موت بانٹتے پھر رہے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس جیسے 935جاسوس صرف ایک امریکی خفیہ ادارے کی سرپرستی میں اپنے اس گھنائونے کھیل میں مصروف ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کو بغیر پاسپورٹ بھگا دیا جاتاہے اور پھر اس کے صِلے میں فلوریڈامیں ملعون ٹیری جونز نامی نام نہاد پادری نے کتاب اللہ کو شہید کرکے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی غیرت کو للکارتا ہے جبکہ پوری قوم کرکٹ کے نشے میں دھت اور ہمارے حکمران اقتدار کے نشے کی بھنگ پی کر بدمستی کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔ پچھلے تین سالوں میں تیل کی قیمتیں خون کے برابر آ گئی ہیں ایک لیٹر تیل کی قیمت ایک لیٹر خون کے برابر ہو گئی ہے۔ ہر سال سالانہ بجٹ کی دھجیاں ہر ماہ قیمتوں میں اضافہ کرکے اڑائی جا رہی ہیں۔ شاید حکمران اس عمل میں مصروف ہیں کہ انسانی ڈھانچوںاور ہڈیوں کے پنجروں سے تیل نکالا جائے۔ ہماری فی کس آمدنی کسی ’’بنانا اسٹیٹس‘‘ ملک سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے جبکہ اشیاء صرف کی بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں سوئٹزرلینڈ اور جاپان کی مہنگی ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ آج ایک عزیز کا جاپان سے فون آیا وہ بتا رہے تھے کہ زلزلے اور سونامی اور ایٹمی تابکاری کی تباہ کاریوں کے بعد جس میں ہزاروں جاپانی لقمہ اجل بن گئے۔ جاپان کی حکومت اور سرمایہ داروں نے قیمتوں کو 50%کم کر دیا ہے۔ یہ ہوتی ہیں ایک قوم ہونے کی نشانیاں؟ لاء اینڈ آرڈر کا یہ حال ہے کہ دس بیس قتل اور درجنوں ڈکیٹی کی وارداتیں روزانہ ہر شہر میں ہونا فیشن بن چکا ہے اور عوام بے حسی سے ایک نئی ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے انتظار میں رہنے لگے ہیں۔ گیس، بجلی کے ناپید ہونے کی وجہ سے کارخانے بند اور مزدور اور آجر اجتماعی خودکشیوں کی تیاری میں ہیں جبکہ نقارہ اور بیکار وزیروں کو بجائے اس کے کہ نشانِ عبرت بنایا جاتا اور ان کا بے رحمانہ احتساب کیا جاتا انہیں بس اپنے عہدوں سے فارغ کرکے لوٹا ہوا مالِ غنیمت سمیٹنے اور ٹھکانے لگانے کے مواقعے فراہم کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور حالت یہ ہے کہ جو جتنا بڑا جھوٹ بولنے والا فنکار ہو اسے اتنا ہی بڑا سیاسی رتبہ دے دیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی آقائوں کے غیرملکی اکائونٹ تو لبریز ہو ہی چکے ہیں جبکہ عوام کے صبر کا پیمانہ ’’لو‘‘(Low) بلڈ پریشر کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اٹھارہ کروڑ عوام اپنی خاموش نگاہوں سے ایک دوسرے کی طرف حیرت اور حسرت سے دیکھ رہے ہیں۔ کنگ نگاہوں اور سُن جسموں سے یہ قوم اس وقت مفلوج ہو چکی ہے جس ملک میں خون سستا اور تیل و پانی مہنگا ہو جائے تو وہاں ہر شخص اپنا خون بیچنے کو تیار ہو جائے گا مگر حکمرانوں کو یاد رکھنا ہوگا جب یہ ہڈیوں کے پنجر اٹھارہ کروڑ عوام ایک کروٹ بدلیں گے تو پھر انقلاب آئے گا۔ تب حکمرانوں کے پاس وقت نہیں بچے گا کہ وہ بھاگ سکیں۔ اب کی بار عوام ان خون چوسنے والی مشینوں کو عوامی غیض و غضب سے جلا کر راکھ کر دیں گے۔ شاید اسی موقع کے لیے اقبالؒ نے کہا تھا: جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus