×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قومی سلامتی پر سمجھوتہ ممکن نہیں
Dated: 22-Apr-2011
قوموں کی تاریخ کبھی دنوں میں نہیں بنتی۔ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ قوموں کے ارتقاء کے عمل کے دوران اکثر شدید مزاحمت اور حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی دنیا خصوصاً یورپ افراتفری کا شکار تھا، سرحدیں تو تھیں مگر افواج موجود نہیں تھیں۔ ترقی کی راہ پر سفر کا آغاز کرنے والوں میں جرمن اور فرانس سرفہرست تھے جو ماضی کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کر چکے تھے۔ اسی طرح انگلینڈ جس کے اقتدار کا سورج آدھی دنیا پر چمکتا تھا اور فرانس جس نے افریقہ سمیت ایک پورے خطے پر اپنی کالونیاں بنا رکھی تھیں۔جب لڑکھڑاتے ہوئے یورپ کے پائوں کے نیچے سے زمین کھسکتی جا رہی تھی تو انہوں نے انسانوں کو محکوم بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے نام سے ایک ایسا ادارہ تشکیل دیا جو ان کی کالونی ازم کو تحفظ دے سکے جس کے وہ ’’ویٹوپاور‘‘ کے ساتھ مالک ہوں اور محکوم اقوام کو اپنے زیر تسلط رکھ سکیں مگر اس دوران زندہ قوموں نے تاریخ کے کئی نئے ابواب رقم کیے اور دنیا کے نقشہ پر پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ ایک ایسا خطہ جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ایک تہائی نفوس پر مشتمل تھا جہاں لسانی،مذہبی اور قبائلی بنیادوں پر بے شمار طبقات موجود تھے اور ان کے درمیان دوقومی نظریہ پر ایک ایسی مملکت کا ظہورپذیر ہونا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔جب ہندوستان میں بسنے والے ان پسے محکوم طبقے کو موقع ملا تو انہوں نے نوزائیدہ مسلم لیگ کے پلڑے میں اپنا سارا وزن ڈال کر دوقومی نظریہ کی بنیاد رکھی۔ تشکیل پاکستان کے عمل کے دوران دنیا بھر کے سامراج کو احساس ہوا کہ جیسے ان کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قیام پاکستان کے بعد تک بھی ان قوتوں کو تب تک اطمینان نہ ہوا جب تک اس مملکت خداداد کے ایک بازو کو تن سے جدا نہ کر دیا گیا۔ یقینا قوموں کو اپنے ارتقائی عمل میں بڑی بڑی قربانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما کو تباہ کر دیا گیا، لاکھوں جاپانی لقمہ ایٹم بنے۔اسی طرح جنگ بندی سے پہلے جرمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ فرانس نے اپنی ’’میٹرو‘‘تباہ نہ کرنے کے معاہدے پر خود کو جرمن افواج کے ساتھ کھڑا کر لیا۔ اسی جنگ کے دوران جب جرمن ایک بڑا حملہ برطانیہ پر کرنے والے تھے تو وزیراعظم چرچل نے اپنے وزراء اور رفقاء کو بلوا کر پوچھا کہ کیا برطانیہ کی عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو جواب ملا ہاں تو چرچل نے کہا بس پھر ہمیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم جرمنوں کا مقابلہ کریں گے۔ مگر آج کے معروضی حالات میں آزادی کے 63سال تک گزر جانے کے بعد ہم ایک قوم بننے کے عمل میں دو قومی نظریہ سے دور ہوتے چلے گئے۔ آزادی کے بعد بھی بدقسمتی سے مغربی پاکستان کے اس حصہ میں ہمیں مخدوموں، نوابوں کے چنگل میں دھکیل دیا گیا۔ خصوصاً جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرداروں نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے دو قومی نظریہ کو کمزور کیا۔ اس دوران تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشرتی تبدیلیاں اپنا رنگ دکھانے لگیں جنہوں نے ہماری اساس کو مزید کمزور کیا کیونکہ جب آپ ترقی کی رفتار اور جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکتے تو پھر اپنے اطراف آنے والی معاشرتی تبدیلیوں کے اثرات سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ہمیں منزل کا تعین نہیں جو قوم پچھلے 63سالوں سے ہر دو سال بعد سڑکیں، نالیاں، سیوریج اور بجلی کے کھمبوںجیسے مسائل سے نجات نہ پا سکے اور انگریز دور کی بچھائی ہوئی ریلوے لائن تو کیا پورے پورے ریلوے اسٹیشن غائب کر دے،پُلوں کے جنگلے اتار کر بیچ دے، جس قوم کے پاس بنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء ناپید ہوں آج کے جدید دور میں جب دو ہاتھوں کی تالی بجانے سے برقی قمقمے روشن ہو جاتے ہیں اس ملک کے عوام کو اس ہائی ٹیک دور میں بھی موم بتیاں ڈھونڈنا پڑ رہی ہیں۔ جس زرعی مملکت میں جہاں چند عشرے پہلے زمین آٹھ من گندم کی پیداوار دے رہی ہو آج وہی زمین فی ایکٹر 50من سے زائد گندم کا جھاڑ دے رہی ہو وہاں کے عوام دو روپے کی روٹی کے حصول کے لیے لائنوں میں لگیں۔ پوری دنیا کی شوگر ملیں بند بھی ہو جائیں تو پاکستان کی شوگر انڈسٹری یہ کمی پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے مگر اس کے باوجود اس ملک سے چینی غائب ہو جائے۔ مشرقی پنجاب رقبے کے لحاظ سے بھارت کا چھوٹا صوبہ ہے مگر وہ بھارت کے 26صوبوں اور 140کروڑ کی آبادی کو اناج، سبزیاں سپلائی کر رہا ہے جبکہ ہمارا سرسبزشاداب پنجاب بھارتی پنجاب سے چار گنا بڑا ہونے کے باوجود چار گنازائد قیمتوں پر سبزیاں پیدا کرے۔ تیزی سے بڑھتی معاشرتی ناہمواری نے اس ملک کے غریب عوام کو چڑچڑا بنا دیا ہے، بات بات پر بندوق اٹھا لی جاتی ہے،عدم برداشت کے اس رویے نے قوم کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں؟ ہماری اجتماعی حیثیت آج اس قوم کی طرح ہے جو ابھی محکوم ہو جو لیبر اور سکیلڈلیبر بنا بنا کر یورپ،متحدہ عرب امارات، سعودیہ، گلف،امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کو سپلائی کر رہے ہوں۔ صرف اس سال دس ہزار ڈاکٹرز ڈالر اور ریال کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں جبکہ ان لوگوں کی تعلیم و تربیت پر مملکت خداد اد پاکستان نے کروڑوں روپے فی کس خرچ کیے اور وہ پڑھے لکھے ڈاکو قوم کا قرض لے کر بھاگ گئے۔جس ملک کے سیاست دان، جج اور جرنیل ان غریب عوام کا خون پسینہ نچوڑ کر اپنا بینک اکائونٹ یورپی ممالک میں کھلوائیں اور ان کی اولادیں لوٹی ہوئی دولت پر عیاشیاں کریں گے توہمارے حکمرانوں کو غیرملکی آقا و وائسرائے جھاڑیں نہیں پلائیں گے تو کیا سیلوٹ کریں گے؟ جو قوم اپنے لیڈروں کو پھانسیاں دے کر اورسڑکوں پر مار دے اور پھر بھی اعلیٰ و ارفع لیڈر شپ کا تقاضا کرے ؟ جو قوم چند ٹَکوں کی خاطر اپنے گھر کو دشمن کا ٹھکانہ بنا دے، جو قوم پیسوں کی خاطر خودکش بن کر اپنے ہی درو دیوار کو بارود کی نذر کر دے، جہاں امارت ہی سب کا قبلہ ٹھہرے تو پھر ایسی سرزمین سے نفرت کے ہی پھول اُگیں گے۔ امریکہ،برطانیہ،سعودی عرب، ایران،متحدہ عرب امارت نے ہمارے گلشن میں بارود کے ڈھیر لگا دیئے ہیں۔ جس ملک میں بانی حضرت قائداعظم کی مسلم لیگ قیام پاکستان سے لے کر آج تک درجنوں لیگوں میں تقسیم ہو چکی ہو،جس ملک کے سیاست دان اپنا تعمیری رول ادا کرنے سے قاصر ہوں، جس ملک میں لوٹنا ہی فتح و جمہوریت ٹھہرے۔لیکن اب سیاسی رہنمائوں کو راہزنوں کا نہیں راہبروں کا کردار ادا کرنا ہوگا۔جب تک ہم قومی سلامتی پر مضبوط پالیسی نہیں اپنائیں گے، ہماری خارجہ پالیسی ’’پرو پاکستان‘‘ نہیں ہو گی، ہماری داخلی سلامتی ’’پروپاکستان‘‘ نہیں ہو گی اور ہم خود ’’پروپاکستان‘‘ نہیں ہوں گے۔ تب تک ہمارے اوپر جھپٹتے ہوئے یہ خونخوار بھیڑیئے ہماری جان نہ چھوڑیں گے۔ یہ ماس نوچنے والی گدھیں ہماری طرف للچائی نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔ ہمیں نظریہ پاکستان کے پرچم کی حفاظت کرنا ہوگی، ہمیں پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کو منزل کی نشاندہی کرنا ہو گی۔ یاد رکھیے قومی سلامتی پر سمجھوتہ ممکن نہیں، سمجھوتوں کی دیواروں کو دیوار برلن کی طرح پاش پاش کرنا ہوگا اور ارادوں اور عزم کی دیوار کو دیوار چین بنانا ہوگا۔بس اسی فلسفہ میں ہماری بقاء اور جیت پوشیدہ ہے۔ اب ہمیں مکاری اور فریب کے نقاب الٹنا ہوں گے۔ یاد رکھیے حوصلے جواں ہوں تو منزل خود قریب آ جاتی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus