×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آئی ایس آئی ملکی بقاء کی ضمانت
Dated: 18-May-2011
ریمنڈ ڈیوس کے سانحہ کے بعد لگ یہ رہا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے ملک کے معاملات کو بگاڑنے کے لیے کچھ قوتیں اپنے مخصوص مذموم مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہیں اور یہی وہ قوتیں ہیں جو کسی ایسے ہی مواقع کی تلاش میں رہتی ہیں۔ ذہنی نابالغ یہ سیاسی و غیر سیاسی گروپس یہ نہیں جانتے کہ اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے یہ اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر وہ خود بھی بیٹھے ہیں۔ دنیا بھر کے انٹیلی جنس ادارے ہماری بقاء کے درپے تھے اور تو اور ہمارے برادراسلامی ممالک بھی پاکستان کی ترقی اور جمہوریت کی پٹڑی پر رواں دواں پاکستان انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ پاکستان کی بہادر افواج نے اندرونی خلفشار کے باوجود سرحدی محاذوں پر جو کارنامہ ہائے درخشاں رقم کیے ہیں ان کی تفاصیل جاننے کے لیے ’’اینکرز‘‘ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر ایئرکنڈیشنر کی ٹھنڈی مخمور ہوائوں میں صرف ہوائی باتیں ہی کی جا سکتی ہیں اور اس ملک کے ایک ایسے طبقہ کو جسے ’’اقتدار فوبیا‘‘ ہو گیا ہے۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ان کے علاوہ بھی اس ملک میں اٹھارہ کروڑ عوام رہتے ہیں اور تھورا ہی سہی مگر کچھ حق ان کا بھی ہے اور ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ چاہے ان کی تعلیمی قابلیت واجبی سی ہی کیوں نہ ہو مگر بندر کے ہاتھ تلوار آ جانے کے مصداق یہ لوگ بلیک میلنگ کے زور پر خود کو ریاست کا چوتھا ستون منوانے پر اپنا سارا زور صرف کررہے ہیں۔ جب مشرف کے دور حکومت میں ٹی وی چینلز کے لائسنس بانٹے گئے تو اس بات کا کماحقہ خیال نہ رکھا گیا کہ ہم ایک ایسے ’’جن‘‘ کو پال رہے ہیں کہ اگر یہ ’’جن‘‘ بوتل سے باہر آ گیا تو پھر چمن اور اہلِ چمن کی خیر نہیں۔ مشرف حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پیمبرا قوانین بناتے، کچھ ضابطہ اخلاق بھی بنالیتے۔ کیا بھارت میں ’’را‘‘، روس میں ’’کے جی بی‘‘، امریکہ میں ’’سی آئی اے‘‘، اسرائیل میں ’’موساد‘‘ اور برطانیہ کی’’ایم آئی 6‘‘نے اپنے ممالک کے ٹی وی چینلز کے خلاف کبھی اس طرح زہر اگلا ہے؟ بلکہ ان تمام ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں خفیہ اداروں کی کاکردگی ان ممالک کے سیاسی و معاشی استحکام کی ضمانت ہوتی ہے جبکہ قیام پاکستان کو ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ ہمارے اوپر جنگ تھوپ دی گئی اور اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کو پھر مسلسل جنگوں میں الجھا کر خطے کی قوتیں اپنے مقاصد حاصل کرتی رہیں۔ ہمارے خفیہ ادارے جیسے آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس نے وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ان خفیہ اداروں کی بدولت ہی ہم اپنے سے 10گنا بڑے دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اسے ہر وقت للکار سکتے ہیں۔ کیا بھارت ہم سے بموں میں کم طاقتور ہے؟ کیابھارت کی افواج کی تعداد ہم سے کم ہے؟کیا جنگی جہازوں، ٹینکوں، راکٹوں کی دوڑ میں وہ ہم سے پیچھے ہے؟اگر ایسا نہیں تو پھر بھارت ہم سے ان سب میدانوں میں 10گناہ قوی اور مضبوط ہونے کے باوجود ہم سے خوفزدہ کیوں ہے؟سب سے بڑی بات پاکستان کے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں کی دعائوں کے مقابلے میں بھارت کی افواج کو 35کروڑ بھارتی مسلمانوں کی دعائیں ہر لمحہ حاصل ہیں۔ اگر کوئی دانشور یہ سمجھتا ہے کہ 35کروڑ بھارتی مسلمان بھارت کی بجائے پاکستان کی خیر مانگتے ہیں تو اس سے بڑی بے خبر اور خوش فہمی ہو ہی نہیں سکتی۔ روس، امریکہ،برطانیہ اور نیٹو افواج کسی قوت سے کانپتے ہیں تو وہ ہے اس ملک کی پاک فوج اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس۔ جنہوں نے ناگوں حالات، محدود وسائل کے باوجود ہم وطنو کی پکار پر ہمیشہ لبیک کہا۔ دنیا کا وہ کونسا سیکورٹی ادارہ ہے جس کے ملازمین چند ہزار روپے ماہانہ کی خاطر اپنے سینوں پر گولی کھانے کو تیار رہتے ہوں؟ یہ ساری ناعاقبت اندیشیاں،یہ سارے جھگڑے، یہ فساد، یہ کرپشن کے سرگرم بازار،یہ عیش و عشرت،یہ بہاریں تو سب ہمیں مبارک اور اس قوم کے ایفورڈ کرنے والے طبقے کے لیے یہ ملک کسی جنت سے کم نہیں۔ مگر ہم خواب غفلت میں خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں اور ہمارے یہ ’’محافظ ‘‘ اپنے سینوں پر شہادتوں کے تمغے سجاتے رہیں۔ ہم یہاں لاہور، کراچی، فیصل آباد، سیالکوٹ،راولپنڈی، گوجرانوالہ، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد میں اپنے پیاروں کے درمیان زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتے رہیں اور ہمارے یہ محافظ گارگل اور سیاچن پر شہادتوں کی داستانیں رقم کر نے میں مصروف رہتے ہیں۔ کارگل اور سیاچن کی برفیلی برف اس بات کی گواہ ہے کہ فوجی جوانوں سے جب کبھی مانگا گیاتو انہوں نے کارگل، سیاچن اور کشمیر کے برف سے لدھے سفید پہاڑوں کو اپنے خون سے سرخ کر دیا اور ہمارے جوان یہ جنگ پچھلے 63سالوں سے لڑ رہے ہیں۔ اچھے بُرے لوگ ہر معاشرے میں،ہر ملک میں، ہر شہر میں، ہر گلی میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح کچھ طالع آزمائوں کی ذاتی خواہشوں کی بھینٹ چڑھ کر پاک فوج کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ایوب،یحییٰ، ضیاء اور مشرف کے چند ایڈوانچر پسند ساتھیوں کی غلطیوں کی سزا پوری پاک فوج کو نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح چند عاقبت نااندیش سیاست دانوں نے ہمیشہ آمروں کا ساتھ دیا بلکہ پاکستان میں ایسے کئی درجن گھرانے ہمیشہ اقتدار کی راہداریوں میں موجود پائے جاتے ہیں ان کی نظر میں ان کا ’’باس‘‘ فوجی ہو یا غیر فوجی یہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ تو کیا ایسے لوٹے ازم کے حواریوں کی غلطیوں کی سزا اس ملک کے محب وطن سیاست دانوں کو دی جا سکتی ہے؟ وطن عزیز کے دلیر بہادر عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دشمن جو جنگیں ہم سے لڑکر نہیں جیت سکا وہ اب ہمارے درمیان ناچاکی اور نفرت کی دیواریں چن کر جیتنا چاہتا ہے۔آئی ایس آئی کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد اپنے زخموں کو چاٹتے ہوئے ہمارے دشمن ہلکان ہو رہے ہیں وہ ہماری پاک فوج اور عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری بہادر پاک فوج نے اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر فرنٹ محاذوں پر بموں کے ٹکڑوں کے ساتھ شہیدوں کے جسموں کے ٹکڑے بھی جہاں فضا میں اڑتے رہے۔ہم سوتے رہے اور ہمارے محافظ جاگتے رہے اور وہ اپنے بچوں، اپنی مائوں، اپنی بہنوں، اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں سے دور سنگلاخ پہاڑوں پر،برفیلی چٹانوں پر،چونڈے کے میدانی محاذ پر اپنے سینے سے بم باندھ کر دنیا کے سب سے بڑے ٹینکوں کے حملے نہ صرف پسپا کیا بلکہ شہادتوں کی قربانیاں دے کر دشمن کے عزائم کو خاک میں بھی ملاتے رہے۔ میرے وطن کے دانشوروں،اینکرز، کالم نویس، ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ، پروفیسرز، طالب علموں، کسانوں، مزدوروں،ریڑھی بانوں سیاست دانوں اور سیاسی کارکنوں اٹھ کھڑے ہو جائو آج اس ملک کی فوج کو تمہاری محبت،تمہاری وفائوں، تمہاری دعائوں کی ضرورت ہے وگرنہ سفاک قاتلوں کا ٹولہ سرحدکے اس پار کسی ’’گِدھ‘‘ کی طرح ہماری آپس کی لڑائیوں کے انجام کی تاک میں ہے اور بقول شاعر: یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو میرے ہم وطنو اٹھو اور اپنے دشمن اور دوست کو پہچانو !ہمارے سہانے سپنوں کی خاطر، ہمارے مستقبل کی خاطر، ہماری انا کی خاطر، ہماری بہو بیٹیوں کی عزتیں بچانے والے اپنے سینوں پہ بم اور گولیاں کھانے والے پاک فوج کے جوانو یہ قوم تمہارے ساتھ ہے اپنے خون کے آخری قطرہ اور آخری ہچکی تک۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus