×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اختتام کا آغاز
Dated: 26-May-2011
جب ہم تاریخ کے اوراق پرنظر دوڑاتے ہیں تو عالمی معاہدوں کی صورت میں ہوئے حالات وواقعات ایک تواتر سے ہماری نظروں سے گزرتے ہیں۔نوزائیدہ مملکت پاکستان میں شروع ہی میں کئی ایک سیاسی اتحاد بنے۔ سب سے مقبول اتحاد ایوبی صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کا تھا جس میں محترمہ فاطمہ جناح کو ملک کے تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے بعد مختلف اتحاد 70ء کے الیکشن میں بھی تشکیل پائے اور پھر 77ء میں پیپلزپارٹی کے خلاف قومی اتحادجو 9جماعتوں پر مشتمل تھا جس نے بھٹو شہید کو اقتدار سے علیحدہ کیا اور بالآخر ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا اور جنرل ضیاء نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کرہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ بعد میں اس اتحاد میں شامل نظام مصطفی ؐکی دعویدار جماعتیں اقتدار کی بندر بانٹ میں اپنا اپنا حصہ لے کر اقتدار کو انجوائے کرتی رہیں۔ گذشتہ دنوں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی نے عوام سے اپنے حصے کی معافی مانگ کر خود کو قومی اتحاد کے نام پر بننے والی جماعتوں کے گناہوں سے آزاد کر لیا ہے۔جبکہ ضیاء الحق کے دورمیں 1982ء میں ایم آر ڈی کے نام سے ایک اتحاد وجود میں آیا۔اسی طرح محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے انتخابات 1988 اور 1990ء آئی جے آئی کے نام سے اسٹیبلشمنٹ نے اپنی کمان کے زیر اثر اتحاد بنوائے۔ جس کا کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ نے خود بھی متعدد مواقع پر اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح 88ء،90ء،93ء،97ء2002ء،2008ء میں بننے والی تمام حکومتیں نہ صرف کولیشن گورنمنٹ تھی بلکہ وہ کسی نہ کسی سیاسی اتحاد کی وجہ سے بنی تھیں۔اور جب آمر مشرف نے میاں محمد نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو یکے بعد دیگرے جلاوطنی پر بھیجا تو ہزاروں جتن کرکے بھی 2002ء کے کنٹرولڈ الیکشن میں بھی اس کے اتحادیوں کو فتح نصیب نہ ہوئی تو مسلم لیگ ن اور دوسری کچھ جماعتوں سمیت پیپلزپارٹی کے ایک چوتھائی اراکین کو پیٹریاٹ بنا کر وہ صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے میر ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم منتخب کروا سکے۔اسی دوران اے آر ڈی کے نام سے درجن بھر سیاسی جماعتوں کا ایک کامیاب اتحاد تشکیل پایا جبکہ 2006ء کے بعد میثاق جمہوریت کے نام سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا اتحاد تشکیل پایا۔جبکہ 2008ء کے نتائج بھی پیپلزپارٹی کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہ تھے بس ایک سادہ سی اکثریت کے بل بوتے پر اتحادیوں سے مل کر پیپلزپارٹی نہ صرف ڈپٹی سپیکر، سپیکر، وزیراعظم منتخب کروانے میں کامیاب ہو گئی بلکہ صدر مملکت کا اگست 2008میں انتخاب بھی کولیشن پارٹنر کی حمایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ 2008ء کے الیکشن کے فوری بعد مسلم لیگ ن جو کہ میجر کولیشن پارٹنر تھی اقتدار سے علیحدہ ہو گئی۔ گذشتہ تین سالوں کے دوران اپوزیشن اور فرینڈلی اپوزیشن کی بحث کے دوران قربانیاں تو صرف غریب عوام نے ہی دیں اور اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام جن کو کبھی پانی، بجلی،کھاد، گیس، پٹرول،چینی، زرعی ادویات، چاول اور گندم کے نام پر بلیک میل کیا جاتا رہا ہے ہر دو ہفتہ بعد ایک نیا منی بجٹ لا کر عوام کی غیرت کا پیمانہ چیک کیا جاتا رہا۔ مہنگائی کا یہ حال ہے کہ غریب عوام تو درکنار مڈل کلاس سفید پوش بھی اپنی عزتیں بچانے کے چکر میں ملک سے رفوچکر ہونے کے چکر میں ہیں۔ پچھلے تین سالوں کے دوران آزاد عدلیہ نے درجنوں فیصلے ایسے دیئے جن پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا حکومت اور عدلیہ کے دوران ’’چورسپاہی ‘‘کا کھیل جاری ہے۔ عدلیہ کسی افسر کو برخاست کے آرڈر جاری کرتی ہے حکومت اسے کسی دوسرے محکمے کا سربراہ بنا دیتی ہے۔ اسی طرح ہر حکومتی عمل کو عدلیہ سپوتاژ کرنے کا اپنا ’’استحقاق‘‘ استعمال کرتی ہے۔ آئی ایس آئی کو محکمہ داخلہ کے زیر اثر کرنے کا نوٹیفکیشن تاحکم ثانی کینسل نہیں ہوا اکثر جگہوں پر ’’آئی ایس پی آر‘‘ کو وضاحت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ایک طرف صدر مملکت ق لیگ کے ساتھ رات کو مذاکرات کی میز سجا لیتے ہیں، دوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کو اسلام آباد بلوا لیتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت ملٹری انٹیلی جنس اور سیاست دان پچھلے دس سال سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ اسامہ اور دوسرے دہشت گرد پاکستان میں موجود نہیں مگر اسلام آباد میں ق لیگ کے ساتھ حتمی مذاکرات والی رات کاکول ملٹری اکیڈمی کی ناک تلے 6کنال کے غیرمعمولی بڑے گھر میں سالوں تک اسامہ بن لادن کی موجودگی ہماری ناکام داخلہ و خارجہ پالیسی اور ایجنسیوں کی شکست کی علامت نہیں تو کیا ہے؟جب تک ہمارے حکمران،ہماری اسٹیبلشمنٹ، ہمارے سیاستدان منافقت کی سیاست سے توبہ نہیں کر لیتے اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور دنیا بھر میں ہمارا امیج دہشت گرد پیدا کرنے والے فیکٹری کے طور پر پہچانا جاتا رہے گا۔لوگ سوال کرتے ہیں کہ ق لیگ کو 14وزارتیں دے دی گئیں ہیں ابھی کسی دن مولانا فضل الرحمن اور ایم کیو ایم کا بھی ’’کم بیک‘‘ ہوگا تو پھر اسی طرح وزیروں کی تعداد 100سے تجاوز کر جائے گی۔حکومت پہلے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے پھر عوامی دبائو پر واپس لاتی ہے لیکن پھر چند دنوں بعد ہی تھوڑا تھوڑا کرکے واپس لائی گئی قیمتیں اپنی پہلی سطح پر پہنچ جاتی ہیں۔اسی طرح پہلے وزیروں کی تعداد کم کرکے تاثر یہ دیا گیا کہ حکومت اخراجات میں کمی کر رہی ہے جبکہ اصل وجہ کرپٹ اور نااہل سابق وزیروں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔دراصل چوہے اور بلی کا یہ کھیل جاری ہے اور حالات اس حد تک جا چکے ہیں کہ لوگ قبروں سے مردے نکال کر کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ہمارا یہ موجودہ سسٹم بہت جلد اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اب فوج و اسٹیبلشمنٹ نہیں آئے گی تو دراصل وہ لوگ حقائق سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کے ساتھ اس ملک کی تقریباً تمام ہی سیاسی جماعتوں نے کولیشن پارٹنر شپ کرکے اقتدار کی بہتی ’’گنگا ‘‘میں اپنا اپنا حصہ وصول کیا۔اب ق لیگ بھی اپنے حصے کی وصولی کے لیے میدان میں کود پڑی ہے۔اور آنے والے دنوں میں ’’مہربانوں‘‘ کے پاس معقول جواز ہوگا کہ اس ملک کی نہ صرف تمام سیاسی جماعتیں بلکہ عدلیہ بھی ذاتی عناد اور لڑائیوں میں مصروف رہتی ہیں جس سے عوام کا استحصال ہوتا ہے اور پیارے ہم وطنوآج پھر وہ حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ مملکت عزیز پاکستان کو بچانے کی خاطر ہمیں ناچاہتے ہوئے بھی یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔یہی وجہ ہے کہ اس ملک کے اہل علم و دانش موجودہ صورت حال میں اس سے بہتر تجزیہ نہیں کر سکتے کہ پیپلزپارٹی کا مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد ا’’ختتام کا آغاز‘‘ ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus