×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا قومی سوچ بٹ چکی ہے
Dated: 31-May-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آمر مشرف نے جب اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ لائن کے اُس طرف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا تو یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس بزدلانہ فیصلے کے نتائج اس قدر بھیانک ہوں گے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ قومیں ایک دن میں نہیں بنتی مگر قومیں ایک دن میں ٹوٹ اور بکھر جانے کا فیصلہ اگر کر لیں تو پھر ایسا کوئی فلسفہ نہیں کہ جو ان کو جوڑ سکے۔ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشکل ترین فیصلے بھی اگر عوامی حمایت سے کیے جائیں تو پھر قوم اپنے لیڈر کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے چاہے نتائج کچھ بھی ہوں۔ گذشتہ گیارہ سالوں میں صرف ایک غلط فیصلے سے نہ صرف سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل نے جنم لیا ہے بلکہ قوم مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں گھِر چکی ہے۔ 55ہزار سویلین بچے، بوڑھے،جوان، خواتین اس ایک ایسی جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں جس کو ابھی تک ہم جنگ ہی نہیں مانتے۔ 5ہزار فوجی جوان اور آفیسر، کچھ کہتے ہیں شہید ہو چکے ہیں جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ وہ جاں بحق ہو چکے ہیں۔ قوم کے ایک حصہ کا خیال ہے کہ ہمارا ملکی انفراسٹکچردہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکا ہے ۔ ہماری معیشت اپنی زندگی کی آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 60ارب ڈالر اس جنگ کی نذر ہو چکے ہیں۔ جس جنگ کا ابھی طے ہونا باقی ہے کہ یہ ہماری ہے بھی یا نہیں؟ گیارہ سالہ اس جنگ کے دوران وطن عزیز بارود کے ڈھیر کی طرح بن گیا ہے ، ایک چھوٹی سی چنگاری بھی اسے بھڑکانے کے لیے کافی ہے۔ پاکستان کے گلی کوچوں اور بازاروں میں ہزاروں گھر، دکانیں، پلازے، دفاتر زمین بوس ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں پُل تباہ کر دیئے گئے، ہزاروں بسوں، ویگنوں، ٹرکوںاور ٹینکروں کو جلا کر بھسم کیا جا چکا ہے مگر یہ طے نہیں ہوا کہ یہ بس کھیل ہی کھیل میں ہے یا یہ ہماری بقاء کی جنگ ہے؟ ابھی ایک ایسی بحث چھیڑ دی گئی ہے جس کا انجام بھی تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ کچھ کہہ رہے ہیں اسامہ شہید ہے، کچھ کہہ رہے ہیں اسامہ مارا گیا مگر ہمارا سوال یہ ہے کہ جن سب کو اسامہ نے مارا ،القاعدہ نے مارا، تحریک طالبان نے مارا جو پاکستانی سویلین تھے، جو پاکستانی سپاہی جوان تھے ،کیا وہ شہید تھے ،کیا وہ جاں بحق تو نہیں تھے، ہلاک شدگان تو نہیں تھے؟ایک طبقہ کہہ رہا ہے کہ افغانستان ،عراق میں جہاد ہو رہا ہے ۔ اسلام اور فکر کی جنگ جاری ہے جبکہ دوسرا طبقہ کہہ رہا ہے کہ جہاد کا اعلان اسلامی مملکت کا سربراہ کرتا ہے۔ سوچوں کے اس تصادم نے عام انسان کی زندگی کنفیوژن بنا کر رکھ دی ہے۔ یہاں مرنے والا بھی شہید اور مارنے والا بھی شہید۔ یہاں مقتول بھی شہید، قاتل بھی شہید۔ بھارت کے ساتھ ہماری 5جنگیں ہو چکی ہیں ہم نعرہ تکبیر پر لبیک کہتے ہوئے بھارت دشمن کے خلاف لڑنا جہاد اور مرنا شہادت سمجھتے تھے مگر آج موجودہ صورت احوال میں قوم کو راستہ دکھانے والے لیڈر موجود نہیں۔ قوم کی رہنمائی کے لیے رہنما موجود نہیں ایک ایسی لیڈرشپ مسلط کر دی گئی ہے جو قوم کی رہنمائی کی بجائے اپنی جیبوں کو توانا اور مضبوط کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ہر پلازہ میں ،ایف سیکٹر کی ہر عمارت میں، فلیٹوں میں دکان داریاں کھلی ہوئی ہیں۔ اتنے گاہک نہیں جتنی اسلام آباد میں دکانیں کھل گئی ہیں۔ جس طرح منڈیوں میں اجناس کی بولی لگتی ہے اسی طرح ’’تھرڈمین‘‘ چیخ چیخ کر گاہکوں کو پکار رہے ہیں کہ بھئی اب گئی تب گئی والی بات ہے آئو اور اپنا کام کروالو۔ اپوزیشن بھی خوب جانتی ہے کہ اب ان کی باری آنے والی نہیں ہے اس لیے ایک ہی انسٹرومنٹ سے طرح طرح کے ساز بجائے جا رہے ہیں۔ ذمہ دار کون ہے؟ سیاسی جماعتیں ،مذہبی جماعتیں ،اپوزیشن یا حکمران جماعت اور اتحادی یا اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ، اس ملک کی بیوروکریسی؟ آخر کوئی تو بتائے راولپنڈی کی سڑکوں پر خودکش حملے کی نذر ہونے والا جرنیل شہید تھا یا وہ بس مارا گیا؟ راولپنڈی کے جی ایچ کیو کے بزدلانہ حملے میں مارے گئے ہمارے افسران اور جوان شہید تھے ۔ وانا ،وزیرستان،سوات میں مارے جانے والے اہلکار شہید تھے یا وہ بے موت مارے گئے سپاہی تھے؟ اسامہ کی موت کے بعد بجھتی ہوئی چنگاری کی نذر ہونے والے نیول بیس کے جوان نشان حیدر کے حق دار ہیں بھی کہ نہیں؟ قوم کو بتایا جائے صحیح سمت کیا ہے۔ اسامہ کی موت کے بعد کراچی میں نیوی کی بسوں کو نشانہ بنایا گیا پھر کافی دن بیت جانے کے بعد نیول بیس کو یرغمال بنایا گیا۔ قوم پوچھتی ہے کہ اس جنگ کے پیچھے کونسے ہاتھ کارفرما ہے ؟ بھارت میں کبھی اس نوعیت کا واقعہ ہو جاتا ہے تو بین الاقوامی برادری آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے۔ پاکستان میں نیول بیس پر کھڑے اربوں روپے کے بحریہ کے اثاثہ جات دو طیارے تباہ کر دیئے جاتے ہیں مگر حکمران خاموش ہیں اگر بھارت ملوث ہے تو پھر بین الاقوامی برادری کو جھنجھوڑا کیوں نہیں گیا؟ ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی اس قدر ناکام کیوں ہے کیا ذاتی پسند ناپسند پر ملک کی ساکھ قربان کی جا سکتی ہے؟ پاکستان جیسے ملک کو جس کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بیک وقت جنگ کرنا پڑ رہی ہو اس کے پاس ہمہ وقت وزیرخارجہ موجود نہیں۔ کیا ان حالات میں ہم ایسی مجرمانہ خاموشی برداشت کر سکتے ہیں؟ ہمارے ملک میں دراصل کرنسیوں کی حکمرانی ہے کہیں ریال اپنا کام دکھا رہے ہیں اور کہیں ایرانی ’’تُمن‘‘ ،کہیں سبز ڈالر اور کہیں بھارتی روپیہ اپنا کرشمہ دکھا رہا ہے۔ اس وطن عزیز میں تقریبا ہر شخص بِکنے کو تیار ہے بس خریدار کی اپروچ کی ضرورت ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ 21ویں صدی میں لوڈشیڈنگ کا عذاب صرف پاکستان کے لیے ہی کیوں؟ کبھی گندم کا بحران ،کبھی چینی غائب، کبھی کھاد نایاب،کیا وطن عزیز میں کوئی پالیسی کام بھی کر رہی ہے کہ نہیں؟ لیکن نظر تو یہ صرف آتا ہے کہ بس ایک ہی پالیسی کام کر رہی ہے اور وہ ہے مال بنائو، خوب کمائو اور پھر بھاگ جائو۔ تو یہ پالیسی یہ پیکیج اس قدر کامیاب ’’ڈیل‘‘ ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے دھیان میں مال بنانے کے چکر میں مصروف ہے۔ قومی سوچ دو حصوں میں بھٹ جائے یا پھر ملک حصوں میں بھٹ جائے اپنی لنکا ڈھانے والوں کو ہوش نہیں آئے گا۔ آج ملک اور قوم کی خاطر پریشان ہونے والوں کو طعنے دیئے جاتے ہیں کہ وہ دقیانوسی سوچ کے مالک ہیں جبکہ لوٹنے والے فنکار تالیوں کی گونج میں مال بھی سمیٹے ہیں اور داد بھی۔ مگر لوٹنے والو یاد رکھو وقت حساب آنے والا ہے تم کو ہوش نہ کوئی ہوتو ہوش میں لانے والے بے تاب بیٹھے ہیں۔ تمہارے جرائم کی بس فائلیں تیار ہو رہی ہیں اوراب کی بار کوئی جلاوطنی ہو گی نہ این آر او ۔ اب کی بار بس یومِ حساب ہوگا 63سالوں سے لوٹی جانے والی قوم اپنا حساب مانگے گی اور سزا اور جزا عوام کے ہاتھ ہوگی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus